Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
56 - 135
تقریر علماء سے واضح کہ اگرشروط واقف اس کے ذکرسے عاری ہوں تاہم یہ اختیارقیم کوحاصل، پھر عدم تعامل کیامضرہوسکتاہے،
لان التعامل لایعتمد علیہ الا لکونہ مظن شرط الواقف کما صرح بہ فی الذخیرۃ والخیریۃ وردالمحتار وغیرھا من الاسفار۔
اس لئے کہ تعامل پر اعتمادنہیں کیاجاتا مگراس کے لئے کہ وہاں شرط واقف پائے جانے کاگمان ہوتاہے جیساکہ ذخیرہ، خیریہ اورردالمحتار وغیرہ کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔(ت)بلکہ کلمات علماء موضح کہ یہ اختیار دلالۃً مشروط ہے گوصراحۃً مذکورنہ ہوپھرتعامل وعدم تعامل کی کیاحاجت ہے
قال العلّامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ علی الدرالمختار، وجہ الاستحسان ان الاول لما اوصی الیہ فقد علم ان الوصی لایعیش ابداولم یحب ان تکون امورۃ ضائعۃ فصار کانہ اذن لہ بان یوصی الٰی غیرہ بطریق الدلالۃ وان لم یاذن لہ بالافصاح ولوکان اذن لہ  بالافصاح جاز لہ ان یوصی الٰی غیرہ فکذٰلک اذا اذن لہ بالدلالۃ۲؎ الخ قلت ومعلوم ان المتولی کالوصی کما فی جامع الفصولین والاشباہ وکذا بالعکس کما فی العقود الدریۃ والوقف والوصیۃ اخوان یستقیان من مورد واحد وینزع مسائل احدھما من الاٰخر کما فی عدۃ مواضع من الخیریۃ والعقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ۔
علامہ سیدطحطاوی نے درمختارکے حاشیہ میں فرمایا استحسان کی وجہ یہ ہے کہ جب پہلے وصی نے دوسرے کووصیت کی تو اسے یقین ہوگیاکہ وصی ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا اوراس نے اس بات کو پسندنہ کیا کہ وقف کے معاملات ضائع ہوجائیں توگویا اس کی طرف سے بطور دلالت غیر کووصی بنانے کی اجازت ہوگئی اگرچہ اس نے صراحۃً اس کی اجازت نہیں دی۔ اگروہ صراحۃً اجازت دیتاہے تو اس کے لئے غیرکو وصی بناناجائزہوتا، پس یہی حکم بطوردلالت اجازت کی صورت میں بھی ہوگا الخ میں کہتاہوں یہ بات معلوم ہے کہ متولی وصی کی مثل ہے جیساکہ جامع الفصولین اوراشباہ میں ہے۔ اسی طرح اس کاعکس ہے جیساکہ عقودالدریہ میں ہے اوراسی طرح وقف اوروصیت ایک دوسرے کے مُشابہ ہیں ایک ہی گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں اور ایک کے مسائل دوسرے سے اخذ کئے جاتے ہیں جیساکہ خیریہ اور عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کے متعدد مقامات پرمذکورہے۔(ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الوصایا    باب الوصی     المکتبۃ العربیہ کانسی روڈ کوئٹہ     ۴/ ۳۴۰)
اورنظر دقیق حاکم کہ اس نفس وصیت کو مخالف تعامل سمجھنا ہی محض باطل کہ منافات فعل اور کف میں ہے نہ فعل وترک بمعنی عدم وقوع فعل میں، کما ھو المقرر فی اصولنا معشر اھل السنۃ و الجماعۃ (جیساکہ ہمارے یعنی اہل سنت وجماعت کے اصول میں مقررہے۔ت) یہاں تک کہ ہمارے ائمہ کالعلامۃ المحقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدّین محمد بن الھمام والفاضل الشیخ زین بن نجیم المصری وغیرھما(جیسا کہ علامہ محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمدبن ہمام اور عظیم فاضل شیخ زین بن نجیم مصری اوران دونوں کے علاوہ دیگرعلماء۔ت) تصریح فرماتے ہیں کہ ترک بمعنی مذکور زیرقدرت عبدداخل نہیں۔
وھذا نص الاشباہ فی المبحث الاول فی حد النیۃ من القاعدۃ الثانیۃ بعد ذکر معناھا اللغوی وفی الشرع کما فی التلویح قصدالطاعۃ والتقرب الی اﷲ تعالٰی فی ایجاد الفعل انتھی ولایرد علیہ النیۃ فی التروک لانہ کما قدمناہ لایتقرب بھا الااذاصار الترک کفا وھو فعل وھو المکلف بہ فی النھی لاالترک بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر۱؎انتھی۔
یہ نص ہے اشباہ کی جومبحث اول میں نیت کی تعریف کی تعریف کے بارے میں ہے، قاعدہ ثانیہ میں نیت کالغوی معنی بیان کرنے کے بعد مذکور ہے، اوراصطلاح شرع میں جیساکہ تلویح میں ہے نیت کہتے ہیں ایجاد فعل میں طاعت اور اﷲ تعالٰی کاتقرب حاصل کرنے کاقصد کرنا، اور اس تعریف پرترکِ فعل کی نیت کے ساتھ اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ اس کے ساتھ تقرب حاصل نہیں کیاجاسکتا مگراس وقت جب ترک بمعنی کف یعنی رکناہو اوروہ فعل ہے اورنہی میں بندے کو اسی کے ساتھ مکلف بنایاجاتاہے نہ کہ ترک بمعنی عدم اس لئے کہ وہ بندے کی قدرت میں داخل نہیں جیساکہ تحریرمیں ہے انتہٰی۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول     القاعدۃ الثانیہ     ادارۃ القرآن کراچی     ۱/ ۴۶)
اورجب ایساہو تو اس میں اتباع غیرمقدوراورجہاں اتباع ناممکن مخالفت کاکیامحل ،
قلت وبھذا لم یحرم علینا فعل کل مالم یفعلہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولاالاصحاب ولاالتابعون اذ لیس کل ترک کفا وانما التاسی فی الکف فالمعیار ھوالغرض علی قواعد الشرع فما حسّنہ فھو حسن وماقبحہ فھو قبیح ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔
میں کہتاہوں اس سے ثابت ہواکہ ہم پر ہروہ فعل حرام نہیں جس کو نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، آپ کے صحابہ اورتابعین نے نہ کیا ہو کیونکہ ہرترک کف نہیں اوربیشک اقتداء توکف یعنی منع کرنے میں ہے۔ چنانچہ معیار قواعدشرع پرانحصارہے جس چیزکوشرع نے حسن قراردے دیاوہ حسن اورجس کو قبیح قراردے دیا وہ قبیح ہے۔ ایسے ہی تحقیق چاہئے اوراﷲ تعالٰی توفیق کامالک ہے۔(ت)
ہاں اگرشرط واقف میں تصریح منع ہے کہ متولیوں کواختیاروصیت نہیں توبیشک اب وصیت روا نہ رہے گی
لان الصریح یفوق الدلالۃ۱؎ کما مر عن الخانیۃ والظھیریۃ وغیرھما قلت یعنی اذا کان الوقف صحیحا شرعیا بحسب مراعاۃ شروطہ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰینا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
اس لئے کہ صریح دلالت سے برترہے جیساکہ خانیہ، ظہیریہ وغیرہ سے گزرچکا۔ میں کہتاہوں مراد اس سے یہ ہے کہ جب وقف شرعی طورپر صحیح ہو اس کی شرطوں کی رعایت کرنے کے اعتبار سے، اﷲ پاک اوربلندوبرترخوب جانتاہے اس کاعلم اتم اوراس کاحکم مستحکم ہے۔ اﷲ تعالٰی درودنازل فرمائے ہمارے سرداراورآقا محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر اورآپ کی آل اوراصحاب پراوربرکت وسلام نازل فرمائے(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب النکاح     باب المہر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۵۷)
Flag Counter