Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
55 - 135
پس اس روایت اورائمہ کی تقریر وافتاء وحکایت کی بناپر یہ تخارج بھی صحیح اورجائزواقع ہوااور صاحبزادی صاحبہ کو بعدانتقال مورث کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا اوراگریہ روایت بوجہ قلت شہرت یا عدم ظہورعلت پایہ اعتبارسے ساقط مانی جائے توضرور یہ تخارج باطل قرارپائے گا مگر اس کے کاغذوصیت میں مذکور ہونے سے وصایائے مذکورکیوں باطل ہونے لگیں ھذا باطل صریح (یہ واضح طورپرباطل ہے۔ت) علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر ایک شیئ کی وارث اوراجنبی کے لئے بالمناصفۃ وصیت کی وہ وصیت وارث کے حق میں باطل اوراجنبی کے نصف میں صحیح اورنافذ رہے گی۔
ففی تنویرالابصار، ولاجنبی ووارثہ اوقاتلہ لہ نصف الوصیۃ وبطل وصیتہ للوارث والقاتل ۱؎ انتھی ومثلہ فی عامۃ الکتب۔
تنویرالابصارمیں ہے کہ اجنبی اوروارث یا اجنبی اورقاتل کے لئے وصیت کی تواجنبی کووصیت کانصف ملے گا جبکہ وارث اورقاتل کے بارے میں اس کی وصیت باطل ہوگی انتہی، اور اسی کی مثل عام کتابوں میں ہے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار    کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۲۶)
سبحان اﷲ! جب عقد واحد ولفظ واحد میں شیئ واحد کہ دوشخصوں کے نام وصیت کی اورایک کے لئے شرع نے اجازت نہ دی صرف اسی کے حق میں باطل ہوئی اور اس بطلان نے نصف باقی تک سرایت نہ کی، توجہاں عقد متعدد لفظ متعدد معقود علیہ متعدد اورایک عقد ان میں سے باطل ہو ان دونوں کے ایک کاغذ میں ذکر کردینے سے کیونکراس کابطلان اس تک ساری ونافذہوجائے گا، ایسی بے اصل وجہ سے وصایائے مذکور کاابطال کوئی عاقل تجویز نہیں کرسکتا اوریہیں سے ظاہرہوگیاسوال اخیرکاجواب کہ اوقاف صحیحہ شرعیہ میں جب بوجہ جہالت شرط واقف معمول قدیم پرمستقر اعتبار رہے توجو وصیت اس کے مطابق ہوگی جائزاورجومخالف ہوگی باطل، اورباطل کابطلان جائزتک سرایت نہ کرے گا کما اوضحناہ مع انہ کان واضحا (جیساکہ ہم نے اس کی وضاحت کردی باوجودیکہ یہ واضح تھا۔ت) اورانہیں وجوہ سے وہ فقرہ کہ وصیت نامہ میں جناب بی بی صاحبہ کی نسبت تحریرہوا صحت وصایائے سابقہ میں خلل اندازنہیں ہوسکتا اگرچہ اس کی تحریربی بی صاحبہ کو برتقدیر حیات بعد مورث ترکہ سے حاجب نہ تھی گویہ تحریر ان کی رضا سے واقع ہوئی،
فان الارث سبب ضروری للملک حتی ان الوارث یرث ویملک سھمہ ولوقال الف مرۃ انی ترکت حقی والمسئلۃ فی الاشباہ۱؎ وغیرھا۔
اس لئے کہ وارث ہونامِلک کے لئے سبب ضروری ہے یہاں تک کہ وارث اپنے حصے کاوارث ومالک بن جاتاہے اگرچہ ہزار بارکہے کہ میں نے اپنا حق چھوڑدیاہے اور یہ مسئلہ اشباہ وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث     احکام النقد     ادارۃ القرآن کراچی     ۲/ ۱۶۰)
ہاں اگر وہ زندہ رہتیں توان کادعوٰی حامد پرتھا جس نے بعد اخراج وصیت کل متروکہ پرقبضہ کیاکہ حق ورثہ صرف انہیں دوثلث میں تھا ثلث وصیت ان کے حق سے جداہے تواحمدبن محمد جس نے بحکم وصیت ثلث پایا برتقدیر حیات بی بی صاحبہ اورپرتقدیر بطلان تخارج صاحبزادی صاحبہ دونوں کے دعوے سے بایں معنی بری ہے کہ ان کے ظہور حصص سے اس کے ثلث میں کمی نہیں آسکتی بلکہ بحکم وصیت کل جائداد سے ثلث کامل اسے دیں گے اوردوثلث باقی ماندہ ورثہ بحصص شرعیہ تقسیم کرلیں گے،
وذٰلک لان الوصیۃ مقدمۃ علی الارث ومعلوم انہ لایزاحم شیئ شیئا الا اذا کانا فی مرتبۃ واحدۃ ولوسلمت مزاحمۃ المتاخر للمقدم لم یبق المتقدم مقدما والمتاخر متاخرا ھذا خلف، فثبت ان الموصی لہ ملک الثلث من دون المزاحم الاتری ان الوصیۃ لاتزاحم الدیون لتقدم الدیون علیھا فکذٰلک المیراث لایزاحم الوصیۃ بعین ذٰلک الوجہ وھذا ظاھر جدّا۔
اوریہ اس لئے کہ وصیت میراث پرمقدم ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ کوئی شیئ کی مزاحمت نہیں کرسکتی جب تک وہ دونوں ایک ہی مرتبہ میں نہ ہوں۔ اگرمتاخر کی مقدم کے لئے مزاحمت تسلیم کرلی جائے تومقدم مقدم نہ رہے گا اورمتأخر متأخر نہ رہے گا۔ یہ خلاف مفروض ہے۔ لہٰذا ثابت ہوگیا کہ جس کے حق میں وصیت کی گئی وہ بغیرکسی مزاحم کے تہائی مال کامالک ہوگیا۔ کیاتم نہیں دیکھتے کہ وصیت قرضوں کی مزاحمت نہیں کرتی کیونکہ قرضے اس پرمقدم ہیں۔ یوں ہی بعینہٖ اسی وجہ سے میراث وصیّت کی مزاحمت نہیں کرتی اوریہ خوب ظاہرہے۔(ت)
اب باقی رہامسئلہ صلحنامہ پرکلام جب وصیت بزرگ موصوف دربارہ تولیت بھی صحیح قرارپائی اورحامداوراحمددونوں نصف نصف جائداد کے قسیم ٹھہرے تونظرفقہی اسے مقتضی ہے اگراحمد کے لئے تفویض عام اور نقل تولیت کامطلقاً اختیارشرط واقف خواہ تعامل قدیم سے ثابت نہ ہو تو یہ صلحنامہ وجہ صحت نہیں رکھتا اوراحمد اگرلاکھ بارثلث خواہ ربع خواہ سدس پر مصالحہ کرے شرع ہرگزقبول نہ فرمائے گی، اور اسے نصف کامل کامتولی رکھے گی کہ احمد کی طرف سے یہ صلح اور نصف چھوڑ کر ثلث پرراضی ہونادرحقیقت تولیت سدس سے اپنے نفس کو عزل کرناہے اور متولی کو بے علم واطلاع قاضی، عزل نفس کااختیارنہیں اوراگر ہزاربارعزل کرے گا معزول نہ ہوسکے گا واین القاضی واین العلم (اورکہاں ہے قاضی اورکہاں ہے علم۔ت)
بحرالرائق میں ہے:
اذا عزل نفسہ عند القاضی فانہ ینصب غیرہ ولاینعزل بعزل نفسہ مالم یبلغ القاضی۱؎ وبمثلہ فی اسفار اٰخر۔
جب متولی قاضی کے پاس خود کو معزول کرے تو قاضی اس کی جگہ کسی اور کومقررکردے گا اور جب تک متولی قاضی تک اطلاع نہ پہنچائے وہ خود کو معزول کرلینے سے معزول نہیں ہوگا، اوراسی کی مثل دوسری کتابوں می مذکورہے۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق        کتاب الوقف     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۵/ ۲۳۴)

(ردالمحتاربحوالہ بحرالرائق      کتاب الوقف   داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۱۲)
اگربغرض باطل وتقدیر غلط وصیت نامہ کومہمل وکان لم یکن، ٹھہرایاجائے تاہم یہ اجازت شرع حامد اوراحمد بن محمد سے جومتولی قرارپائے گا اسے ترک تولیت بعض برمصالحہ صرف بشرائط مذکورہ جائزٹھہرے گا والالا، بالجملہ وصیت نامہ صحیح ہو کماھو الحق یاباطل کما فرض، بہرطور صحت صلحنامہ وترک تولیت بعض اسی تفویض عام اوراختیار تام کے ثبوت پرمتوقف،
لما تقرر من ان النظار اذا لم یکونوا مرضی بمرض الموت فھم کمثل الوکلاء لیس لھم ان یعزلوا انفسھم الابخیرۃ من الواقف اوالقاضی اوثبوت التفویض العام الیھم کماصرح بہ فی الدرالمختارو ردالمحتار وغیرھما من الاسفار وھذا کلہ واضح عند من لہ اجالۃ نظر فی کلمات القوم۔
بسبب اس کے جوثابت ہوچکاہے کہ متولی جب تک مرض الموت میں مبتلا نہ ہوں وہ وکیلوں کی طرح ہیں انہیں یہ اختیار نہیں کہ وہ خود کو معزول کرلیں جب تک واقف یاقاضی کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کااختیارنہ ہو یا جب تک انہیں تولیت کی تفویض عام نہ ہو۔ جیساکہ درمختار اورردالمحتار وغیرہ ضخیم کتب میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ اوریہ تمام ہراس شخص پرروشن وواضح ہے جس کی نظرقوم کے کلام کے نتائج پرہے۔(ت)
اورمتولی وقف کو وصیت تولیت کامطلقاً اختیارہے خواہ نظارپیشیں میں ایسی وصیت کارواج ہویانہ ہو حتی کہ یکے بعد دیگرے ہزارمتولی گزرے اورا ن میں کسی نے تولیت کی وصیت نہ کی تاہم متولی حال کواختیاروصیت حاصل ہے۔ فتح القدیر وبزازیہ ووالولجیہ ومجتبٰی وسراجیہ وخانیہ وتاتارخانیہ وذخیرہ برہانیہ واشباہ النظائر وشروح حموی وبیری ودرمختاروحواشی طحطاوی وشامی وعقوددریہ وفتاوٰی خیریہ وہندیہ وغیرذٰلک عامہ کتب میں اس مسئلہ کی تصریح اوراس سے بحث کرتے ہیں کوئی تحقیق تعامل کی قیدنہیں لگاتا۔
والفتاوی الخیریۃ افصح بیانا واوضح تبیانا لذٰلک، حیث قال بعد نقل المسئلۃ عن التتارخانیۃ والبزازیۃ وعزوہ الٰی کثیر من الکتب حتی قال فی الخانیۃ والظھیریۃ وغیرھما والعبارۃ للخانیۃ ولو ان الواقف جعل رجلا متولیا و شرط انہ ان مات ھذا المتولی لیس لہ ان یوصی الٰی غیرہ جازھذا الشرط انتھٰی، والفقیہ یفھم من ھذہ العبارۃ الابلغیۃ فی اثبات الولایۃ لوصی الناظر المذکور اذ التنصیص علٰی جواز الشرط لدفع توھم یطرأ علیہ بعدم الجواز کما یدریہ من اکثر من معاشرۃ نفائس ابکار عباراتھم، اذ مثل ذٰلک یقال فی مثل ھذہ المسائل التی کثر نقلھا ودورانھا بینھم، حتی کانھا مقررۃ فی علم کل فقیہ فیستغنی عن ذکرھا بذکر مایتفرع علیھا ویتشعب منھا و ھٰذہ المسئلۃ کذٰلک فان کتب المذھب طافحۃ بھا۱؎ الخ۔
فتاوٰی خیریہ اس مسئلہ میں زیادہ فصیح بیان اور واضح تفصیل والاہے، جہاں اس نے تاتارخانیہ اوربزازیہ سے مسئلہ نقل کرنے کے بعد کہا اور اس کو علماء نے بہت سی کتابوں کی طرف منسوب کیاہے یہاں تک کہ خانیہ اورظہیریہ وغیرہ میں جبکہ عبارت خانیہ کی ہے اگرواقف نے کسی شخص کو متولی بناتے ہوئے شرط لگائی کہ یہ متولی مرتے وقت غیرکے لئے ولایت کی وصیّت نہیں کرسکتا تویہ شرط جائزہے،ا نتہٰی۔ اورفقیہ اس عبارت سے متولی مذکورکے وصی کے لئے اثبات ولایت میں مبالغہ سمجھتاہے اس لئے کہ جواز شرط پرنص کرنا اس وہم کے ازالہ کے لئے ہے جو اس کے عدم جواز پرطاری ہوتاہے جیساکہ عمدہ ونفیس عبارات علماء سے زیادہ ممارست رکھنے والاشخص اس کوجانتاہے، اوریونہی کہاجاتاہے اس قسم کے مسائل میں جوعلماء کے درمیان بکثرت منقول اوردائرہیں، یہاں تک کہ ہرفقیہ کے علم میں وہ اس طرح پختہ ہوگئے ہیں ان کو ذکرکرنے کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ ان اصول کوذکر کردیاجائے جن سے یہ مسائل متفرع ومستنبط ہوتے ہیں، اوریہ مسئلہ بھی ایساہی ہے  کیونکہ ان سے کتابیں بھری پڑی ہیں الخ۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الخیریۃ         کتاب الوقف     دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۰۲)
Flag Counter