فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
54 - 135
باب القسم
(قسم کابیان)
مسئلہ ۱۰۲ : ازمحلہ بہاری پوربریلی مرسلہ ریاض الدین احمد ۲۹رجب ۱۳۳۸ھ
کسی سچی بات کے لئے قرآن پاک کی قسم کھانا یا اس کااٹھا لیناگناہ ہے یانہیں؟ آپ کوتکلیف دینے کی اس وجہ سے ضرورت ہوئی کہ ایک شخص سے کہاگیا کہ اگرتوسچاہے توقرآن شریف کواُٹھالے۔ اس کا اس نے یہ جواب دیا کہ میں سچائی میں ہوں لیکن میں قرآن شریف نہیں اُٹھاسکتاکیونکہ قرآن شریف اٹھانا ہرحالت میں گناہ ہے، دوسرا فریق کہتا ہے کہ سچا قرآن شریف اٹھانا گناہ نہیں ہے البتہ جھوٹا قرآن شریف اٹھانا گناہ ہے، مہربانی فرماکر مطلع فرمائیے کہ ان دونوں باتوں میں کونسی بات سچی ہے؟
الجواب : جھوٹی بات پرقرآن مجید کی قسم کھانا یااٹھانا سخت عظیم گناہ کبیرہ ہے، اورسچی بات پر قرآن عظیم کی قسم کھانے میں حرج نہیں اورضرورت ہوتو اٹھابھی سکتاہے مگریہ قسم بہت سخت کرناہے بلاضرورت خاصہ نہ چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب الوصایا
(وصیتوں کابیان)
مسئلہ۱۰۳: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سیدناسیدابوالحسین احمدنوری میاں صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۱۲۹۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین قدس اﷲ تعالٰی اسرارھم العزیزہ سے ایک بزرگ نے اپنے آباء کرام کے سجادہ نشین اورجائداد وقضیہ در گاہ وخانقاہ وقف کردہ امراء اسلام کے متولی تھے بنام اپنے صاحبزادہ حامد اوراپنے نبیرہ احمدبن محمد کے لئے وصیت فرمائی یہ دونوں بعد میرے متولی تمام جائداد ومصارف درگاہ خانقاہ اورجملہ امور متعلقہ ریاست درگاہی وخانقاہی میں شریک مساوی رہیں اورمیری جائداد مملوکہ سے احمدبن محمدنبیرہ میراثلث حصہ بموجب وصیت شرعیہ پائے اور اس وصیت کو ایک کاغذپرتحریرفرمایا اورجناب ممدوح نے اپنی صاحبزادی کو اس قدرحصہ کہ بعد وفات انہیں پہنچناتصورکیاجاتاخواہ اس سے کم اپنی حیات میں اس شرط پر دے کر قبض ودخل کرادیا کہ اب ان کے لئے میراث میں حق نہ ہوا اوریہ تخارج برضامندی ان کی واقع ہوااورصاحبزادی صاحبہ کی طرف سے حکام کے یہاں تصدیق اس مضمون کی گزرگئی کہ میں نے اپنا حصہ پالیا اب مجھے بعدانتقال حضرت مورث کچھ دعوی ترکہ میں نہ رہا جناب ممدوح نے یہ مضمون بھی اسی وصیت نامہ میں ذکرفرمایا آیا اس صورت میں وہ وصیت کہ حضرت موصوف نے دربارہ تولیت فرمائی اوروصیت ثلث مال مملوک نسبت احمدبن محمدشرعاً جائزاورنافذ ہے یانہیں اوریہ تخارج کہ حضرت ممدوح اورصاحبزادی صاحبہ میں و اقع ہوا شرعاً معتبرہے یانہیں اگرنامعتبرہوتووصیت نامہ مذکورہ میں اس کاذکر آجانا کل وصیت نامہ کوباطل کردے گا یاصرف اسی قدر نامعتبراورباقی وصایائے مذکورہ صحیح اورمقبول رہیں گے اسی طرح اس کاغذ میں یہ بھی ذکرفرمایاتھا کہ بعد میرے اگراہل خانہ میری زندہ رہیں توخبرگیری ان کی جائداد اوراحمد بن محمدبقدرمعتدبہ کرتے رہیں یہ امران دونوں کے ذمہ ہے مگربی بی صاحبہ مورث کے سامنے ہی گزرگئیں آیایہ کلمات بھی کچھ منافی صحت وصایائے مذکورہ ہیں یا نہیں اوربی بی صاحبہ اگربعد کوزندہ رہتیں توعام اس سے کہ یہ فقرہ ان کی رضا سے تحریرہے یابے رضا بہرتقدیر وہ اس تحریر کی بناء پر ترکہ سے محروم رہتیں یانہیں اگرنہ رہتیں تو دعوٰی ان کاحامدپرتھا کہ بعدا خراج ثلث وصیت کل جائداد متروکہ پروہی قابض ہوا یا احمدموصٰی لہ پربھی کہ ثلث بحکم وصیت اس نے پایا بعد وصال حضرت ممدوح کے حامد اوراحمددونوں نے اس وصیت نامہ کو معتبراورمقبول رکھا اورباہم بطریق مصالحت یہ امرقرارپایا کہ جس طرح جائداد مملوکہ میں احمدبن محمد کے لئے ثلث ہے یونہی تولیت اوقاف بھی اثلاثا رہے کہ دوثلث میں حامد اورایک میں احمدمتولی اورمتصرف ہوں آیا برتقدیر وفرض بطلان کلی وصیت نامہ مذکورہ یہ مصالحہ کہ باہم حامد اوراحمدمیں واقع ہوامعتبر ہے یانہیں اوردرصورت صحت وصیت نامہ اس صلحنامہ کاکیاحکم ہے اوراگرمتولی دربارہ اوقاف دوامرکی وصیت کرے کہ ایک اُن میں سے مطابق تعامل قدیم ہے اوردوسرا مخالف تو اس مخالف کے بطلان سے کل وصیت باطل قرارپائے گی یاصرف یہی امرمخالف اوراگرمتولی وقف کسی شخص کے نام تولیت کرے تویہ وصیت اس کی مطلقاً معتبررہے گی یا متولیان سابق کا تعامل یہاں بھی دیکھاجائے گا اوراگران میں آج تک وصیت تولیت کارواج نہ تھا تومتولی حال کی وصیت بسبب مخالفت تعامل باطل ہوجائے گی۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب: دربارہ تولیت اوقاف مذکورہ حامداوراحمدکے نام بزرگ ممدوح کی وصیت کہ دونوں شریک مساوی ہوں صحیح ونافذ ہے اورتولیت محل جریان ارث نہیں جس میں حق وارث کالحاظ ہوکہ ثلث سے زائد میں وصیت بے اذن ورثاء نفاذنہ پائے۔
فی الوجیز، ان مات القیم و قداوصی الی احد فوصی القیم بمنزلۃ القیم۱؎۔
وجیزمیں ہے اگرمتولی مرجائے اوروہ کسی کے لئے وصیت کرے تو اس متولی کا وصی متولی کے حکم میں ہوتاہے۔
(۱؎ فتاوٰی بزازیۃ علٰی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوقف النوع الثانی نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۵۲۔۲۵۱)
وفی وقف العٰلمگیریۃ عن الحاوی ان مات احدالوصین واوصی الی جماعۃ لم یتفرد واحد بالتصرف ویجعل نصف الغلۃ فی یدالجماعۃ الذین قاموامقام الوصی الھالک۱؎
عالمگیریہ کے باب الوقف میں حاوی سے منقول ہے اگردوصیوں میں سے ایک مرگیا اوروہ ایک جماعت کے بارے میں وصیت کرگیا تواکیلے تصرف میں مستقل نہ ہوگا، اوروقف غلہ میں سے نصف اس جماعت کے ہاتھ میں دے دیاجائے گا جومرنے والے کے قائمقام ہوئی۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوقف الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۱۰)
پس دونوں صاحب شرعاً متولی اوقاف مذکورہ ہوئے اورایسے ہوئے کہ ایک بے دوسرے کے تصرفات قوامت میں مستقل نہیں ہوسکتا۔
فقد صرحوا فی الوقف والوصایا ان القوامۃ والوصایاۃ اذاکانت الی اثنین لم یجز ان ینفرد احدھما عن الاٰخر۔
تحقیق مشائخ نے وقف ووصایا کے بارے میں تصریح کی کہ تولیت اوروصیت جب دوشخصوں کے لئے ہوتوان میں سے کسی ایک کا دوسرے سے منفردہوناجائزنہیں۔(ت)
اوراحمدبن محمدکے نام جائداد مملوک میں ثلث کی وصیت توبدیہی الصحت والنفاذہے۔
فلقد قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ تعالٰی تصدق علیکم بثلث اموالکم فی اٰخراعمارکم۲؎ اوکماقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
تحقیق نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اشاد فرمایابیشک اﷲ تعالٰی نے تمہاری عمروں کے آخرمیں تمہارے تہائی مال کے ساتھ تم پر صدقہ فرمایا یاجیساآپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔(ت)
(۲؎ مجمع الزوائد باب الوصیۃ بالثلث دارالکتاب العلمیۃ بیروت ۴/ ۲۱۲)
نہ احمد بن محمدباوجود حامدوارث نہ وصیت قدرثلث سے متجاوزکہ کل یامقدار زائدمیں اجازت ورثاء کی احتیاج ہوتی۔
فی تنویرالابصار، ویجوز بالثلث للاجنبی وان لم یجزالوارث ذٰلک۳؎الخ۔
تنویرالابصار میں ہے کہ اجنبی کے لئے ایک تہائی کی وصیت جائزہے اگرچہ وارث اس کوجائزنہ رکھیں الخ۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷)
رہامسئلہ تخارج بحالت مورث کہ بزرگ موصوف نے اپنی حیات میں صاحبزادی صاحبہ کو کچھ عطافرماکر میراث سے علیحدہ کردیا اوروہ بھی راضی ہوگئیں کہ میں نے اپناحصہ پالیا اوربعدانتقال مورث کے ترکہ میں میراحق نہیں، اشباہ میں طبقات علامہ شیخ عبدالقادر سے اس صورت کاجوازنقل کیا اوراسے علامہ ابوالعباس ناطفی پھرجرجانی صاحب خزانہ پھرشیخ عبدالقادر پھرفاضل زین الدین صاحب اشباہ پھرعلامہ سیداحمدحموی نے مقررومسلم رکھااورفقیہ ابوجعفر محمدبن یمانی نے اس پرفتوٰی دیااورایساہی فقیہ محدّث ابوعمرو طبری اوراصحاب احمدبن ابی الحارث نے روایت کیا۔
کماقال العلامۃ زین قال الشیخ عبدالقادر فی الطبقات فی باب الھمزۃ فی احمد، قال الجرجانی فی الخزانۃ، قال ابوالعباس الناطفی رأیت بخط بعض مشائخنارحمھم اﷲ، فی رجل جعل لاحدبنیہ دارا بنصیبہ علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث جازوافتی بہ الفقیہ ابوجعفر محمد بن الیمانی احد اصحاب محمد بن شجاع البلخی وحکی ذٰلک اصحاب احمد بن ابی الحارث وابوعمروالطبری انتھٰی۔۱؎
جیساکہ علامہ زین نے کہا شیخ عبدالقادرنے طبقات کے باب الہمزہ میں احمدکے ذکرمیں کہا، جرجانی نے خزانہ میں کہا، ابوالعباس ناطفی نے کہاکہ میں نے بعض مشائخ رحمۃ اﷲ علیہم کے خط سے اس شخص کے بارے میں دیکھا جس نے اپناکوئی مکان اپنے ایک بیٹے کو حصہ کے طورپردے دیا اس شرط پرکہ وہ باپ کی موت کے بعد وارث نہیں بنے گا تویہ جائزہے، اسی کے ساتھ فتوٰی دیا فقیہ ابوجعفر محمد بن یمانی نے جومحمد بن شجاع بلخی کے اصحاب میں سے ہیں۔ اوراسی کی حکایت کی احمدبن ابوالحارث اورابوعمروطبری کے اصحاب نے، انتہٰی۔
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۳۲)
قال الفقیرالمجیب غفراﷲ تعالٰی لہ مستند ذٰلک الٰی خط بعض المشائخ وھذا وان لم یرد علیہ ان الخط لایعمل بہ الا فی بعض صور مستثناۃ کما فی عامۃ الکتب وذٰلک لان خط المفتی من الصور المستثناہ فقد قال العلامۃ الحموی فی شرح احکام الکتابۃ من غمز العیون والبصائر، یجوزالاعتماد علی خط المفتی اخذا من قولھم یجوز الاعتماد علی اشارتہ فالکتابۃ اولی ۱؎انتھی، لکن فیہ جھالۃ الا ان یقال ان المشائخ کلھم ممن یستند بقولہ فلاتضرجھالتہ کما یقال فی کثیر من المسائل قال بعضھم یجوز وبعضھم لاوان سلم فمعتمدنا تقریر تلک الفحول التحاریر اما قول العلامۃ الحموی فی شرح مانحن فیہ، قولہ علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث جاز ای صح اقول: یتأمل فی وجہ صحّۃ ذٰلک فانہ خفی ۲؎ انتھی فاقول: ھذا کما تری صریح فی القبول اذا ذعن رحمہ اﷲ ان لہ وجھًا صحیحًا ولکنہ خفی حری التامل ولولاذٰلک لقال ھذا مما لاوجہ لہ فلایعول علیہ، وھذا مما لایخفی علی العارف باسالیب الکلام۔
فقیر مجیب غفراﷲتعالٰی لہ کہتاہے کہ اس کوبعض مشائخ کے خط کی طرف منسوب کرنے پر اگریہ اعتراض واردنہیں ہوتاکہ خط بعض استثنائی صورتوں کے سواقابل عمل نہیں ہوتا جیساکہ عام کتابوں میں ہے کیونکہ مفتی کاخط انہی استثنائی صورتوں میں سے ہے۔ تحقیق علامہ حموی نے شرح احکام الکتابۃ میں بحوالہ غمزالعیون والبصائر کہامفتی کے خط پراعتماد جائزہے مشائخ کے اس قول کااعتبار کرتے ہوئے کہ مفتی کے اشارہ پر اعتماد جائزہے کیونکہ کتابت اشارہ سے اولٰی ہوتی ہے انتہٰی، لیکن اس میں جہالت ہے مگریہ کہ یوں کہاجائے کہ تمام مشائخ وہ ہیں جن کے قول سے استناد کیاجاتاہے تواب جہالت مضرنہ ہوگی جیساکہ بہت سے مسائل میں کہاجاتاہے ان میں سے بعض نے کہاکہ جائزہے اوربعض نے کہاکہ نہیں جائزہے، اگراس کوتسلیم کربھی لیاجائے توہمارا معتمدان جیّد متبحرعلماء کی تقریرہے۔ رہاہمارے زیربحث مسئلہ کی شرح میں علامہ حموی کافرمان کہ مرنے والے کایہ کہناکہ یہ اس شرط پرہے کہ باپ کی موت کے بعد اس بیٹے کے لئے کوئی میراث نہ ہوگی یہ جائزاورصحیح ہے، تومیں کہتاہوں اس کی وجہ صحت میں تامل کرناچاہئے کیونکہ یہ خفی ہے انتہٰی۔ میں کہتاہوں جیساکہ تودیکھ رہاہے یہ قبول میں صریح ہے کیونکہ علامہ حموی رحمۃ اﷲ علیہ نے اذعان فرمایا کہ اس کے لئے وجہ صحیح ہے لیکن وہ خفی ہے جوتامل کے لائق ہے، اگرایسانہ ہوتاتوحضرت علامہ یوں فرماتے کہ اس کے لئے کوئی وجہ نہیں لہٰذا اس پراعتماد نہ کیاجائے اوریہ بات کلام کے اسلوبوں کو جاننے والے پرپوشیدہ نہیں۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۹۸)
(۲؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۳۲)