فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
53 - 135
مسئلہ ۹۲: ۱۶/رجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زمین علٰی وجہ الرہن خریدنا جائزہے یانہ؟
الجوا ب : علٰی وجہ الرہن خریدنا بعینہٖ رہن لیناہے اس پرتمام احکام رہن کے ہوں گے، خریدار کو اس سے نفع اٹھانا حرام، دَین اگرچہ بعد میعاد ملے زمین واپس نہ دیناحرام،واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳ : ازشہر محلہ روہیلی ٹولہ متصل مسجدجہان خاں مسئولہ طالب علم بنگالی ۱۳شوال ۱۳۳۸ھ
زیدنے بکر سے ایک بیگہ زمین مبلغ ایک صدروپیہ دے کرلے لی اس شرط پر کہ جب تک روپیہ ادانہیں کریں گے زمین ان کے قبضہ میں رہے گی اورنفع بھی اٹھائیں گے اوراصل روپے میں سے مبلغ (عہ) ہرسال میں کم ہوتاجائے یہ شرعاً جائزہے یانہیں؟
الجواب : یہ صورت رہن واجارہ جمع کرنے کی ہے اور وہ جمع نہیں ہوسکتے رہن یوں باطل ہواکہ دوروپے سال اُجرت منافع زمین رہن ٹھہرے، اجارہ یوں فاسد ہواکہ مدت مجہول رہی کہ جب تک روپیہ اداہو، لہٰذایہ شرعاً جائزنہیں گناہ ہے، اس کافوراً فسخ کرنا دونوں پرواجب ہے زمین فوراً واپس کردے یا اس اجارہ فاسدہ کو فسخ کرکے ازسرنوصحیح اجارہ متعین مدت کرلے جس میں یہ شرط نہ ہو کہ تاادائے قرض زمین پرقبضہ رہے گا، رہا، اس کاقرض ہے اسے اختیارہے کہ اب وصول کرے یاجب چاہے، قرض کے لئے کوئی میعاد لازم نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۴: اظہارالحق ساکن چندوسی محلہ کاغذی مکان شیخ عبدالحق صاحب ۱۰محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زیدایک مکان کا مرتہن ہے اگر وہ اس مکان کو راہن سے عاریۃً لے کر اس میں سکونت اختیارکرے یا اس کو کرائے پر اٹھائے تو یہ فعل اس کاجائزہے یانہیں؟ بحوالہ کتب تحریرفرمائیے۔
الجواب : بہ اجازت راہن عاریۃً رہے کہ جس وقت راہن منع کرے فوراً سکونت چھوڑدے مقفل کرکے صرف قبضہ رہن رکھے جائزہے اورکرایہ پرچلانا بے اجازت راہن ہوتوحرام ہے اورباجازت ہوتورہن جاتارہا کرایہ کامالک راہن ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۵ : ازمیران پورکٹرہ ضلع شاہ جہان پور مسئولہ محمدصدیق بیگ صاحب ۲۵/محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی اہل ہنود سے زمین دخلی رکھ کرپانچ برس کے واسطے اس میں زراعت خودکرے یاان کوبونے پرکسی دوسرے کودے دے کیسا ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب : ہنود سے اس عقد کے کرنے میں کوئی حرج نہیں
لجواز العقود الفاسدۃ مع من لیس ذمیّا ولامستامنا
(کیونکہ فاسد عقود ایسے کافروں کے ساتھ جائزہیں جوذمّی اورمستامن نہ ہوں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۶ و ۹۷ : ازالٰہ آباد مسئولہ سیدسبحٰن الحسن صاحب۷ربیع الآخر۱۳۳۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایک فٹن گاڑی مبلغ ۲۰۰روپیہ میں دخلی رہن رکھی راہن نے ہرقسم کی مالکانہ اجازت بخوشی دی راہن نے اس کوکرایہ مبلغ ۷روپیہ ماہوار پردے دیایہ کرایہ جائزہے یانہیں؟
(۲) دوسری یہ کہ زیدنے ایک گھوڑا اپنا اس میں لے کر ڈالا اورکرایہ پر اس شخص کو جس سے دخلی رہن رکھی ہے مبلغ سَوروپیہ ماہواردے دی۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب
(۱) یہ حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث ہے:
(۲) یہ بھی حرام ہے، مالک کو اس کی شے کرایہ پردینا اوربھی بے معنی ہے، ہاں اگررہن سے بازآئے اوراس کی گاڑی اسے واپس دے اوراپنا گھوڑا سات روپے مہینے کرایہ پردے توجائزہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۸: ازضلع رنگپور ڈاک خانہ مہی پور موضع کلقند مدرسہ ملک بنگال مسئولہ فصل علی صاحب ۴/رمضان ۱۳۳۹ھ
چہ می فرمایند علمائے شرع متین ومفتیان دین مبین اندریں مسئلہ کہ شخصی چندبیگہ اراضی خود نزد کسے رہن داشتہ بعوضش یک صد روپیہ قرض گرفت ومرتہن بایں شرط کہ تامدّت ایفائے زرمقروض اززمین مرہونہ بادائے خراج زمینداران بکاشتکاری خودخواہد داشت، قرض دادپس ایں چنیں قرض دادن جائزست یانہ؟بیّنواتوجروا۔
کیافرماتے ہیں علمائے شرع متین ومفتیان دین متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی چندبیگھہ زمین کسی شخص کے پاس رہن رکھی اوراس کے بدلے ایک سوروپیہ قرض لیامرتہن نے اس شرط پرقرض دیاکہ مقروض سے قرض کی وصولی تک مرہون زمین کاخراج زمینداروں کودینے کے عوض اس زمین میں کاشتکاری کرے گا توکیاایساقرض دیناجائزہے یانہیں؟ بیان کرواجرپاؤگے(ت)
الجواب : قرض دادن رواست وآں شرط فاسد وبیجاست وآں رہن باطل وبے معنی ست دردرمختار ست کل ماکان مبادلۃ مال بمال یفسد بالشرط الفاسد کالبیع ومالافلا کالقرض۱؎راہن مالک زمین نبود ونہ ازمالک برائے رہن استعارہ نمود کاشتکاری برائے اوگزاشت وخراج زمیندارہم بسرش داشت چوں زمیندارایں معنی رضا داد وخراج ازیں مُقرِضْ گرفت ایں عقد اجارہ میان زمین دارومقرض شدوراہن برکراں ماند وذٰلک انّ الراھن والاجارۃ عقد ان متنافیان لایجتمعان، واﷲ تعالٰی اعلم۔
قرض دینا جائزہے اوروہ شرط فاسد وبے جا ہے اوررہن باطل وبے معنی ہے، درمختارمیں ہے: جس عقد میں مال کامبادلہ مال سے ہو وہ شرط فاسد کے ساتھ فاسد ہوجاتاہے جیسا کہ بیع، اورجوعقدایسانہ ہو وہ فاسد نہیں ہوتا جیساکہ قرض۔ راہن زمین کامالک نہیں تھا اورنہ اس نے مالک سے رہن کے لئے زمین عاریت پرلی، اس نے مرتہن کے لئے کاشتکاری چھوڑی اورزمیندار کاخراج بھی مرتہن کے سرپررکھ دیاجب زمیندار نے اس پررضامندی ظاہرکردی اورزمین کاخراج قرض دہندہ سے لے لیاتویہ عقد اجارہ زمیندار اورقرض دہندہ کے درمیان ہوااورراہن ایک طرف رہ گیا۔ اوریہ اس لئے کہ رہن واجارہ دومتنافی عقدہیں جو جمع نہیں ہوسکتے۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب البیوع باب المتفرقات مایبطل بالشرط مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳)
مسئلہ ۹۹: ازرنگون سکی منٹولی سربرٹ مکان ۲۱کمرہ ۱۳مسئولہ محمدابراہیم خطیب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زیدنے اپنی جائداد عمروکے پاس رہن رکھی عمرونے زیدکی موجودگی میں مدت رہن ختم ہونے سے پیشترہی کوٹ سے اجازت لے کر بے اطلاع اس کی جائداد مرہونہ کو بیع کردیا، اب زید اس بیع کوفسخ کرے گایانہیں؟ اور ثمن بیع اداکرکے اپنی جائداد واپس لے سکتاہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب : زیدبے شک اس بیع کو فسخ کرسکتاہے اورزرثمن اداکرنا اس کے ذمہ نہیں، زرثمن کامطالبہ مشتری اس مرتہن سے کرے گا زیدکے ذمہ صرف زرِرہن ہے۔
ردالمحتارمیں ہے:
توقف علٰی اجازۃ الراھن بیع المرتھن فان اجازہ جاز والافلاولہ ان یبطلہ ویعیدہ رھنا۔۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مرتہن کی بیع راہن کی اجازت پرموقوف ہوگی اگر اس نے اجازت دی توجائزورنہ جائزنہیں ہوگی راہن کواختیارہے کہ وہ بیع کو باطل کردے اوراسے رہن کی طرف لوٹادے واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۲۷)
مسئلہ ۱۰۰ : ازآول ضلع رہتک مسئولہ محمدجمال مہتمم مدرسہ رونق الاسلام ۴/شوال ۱۳۴۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع رہن جائزہے یانہیں ؟ زیدکہتا ہے کہ جائزہے اور اس کے لئے کتاب درمختار مطبع منشی نولکشور ص۵۵۴ کی عبارت پیش کرتاہے جس کاترجمہ یہ ہے کہ مرہون شیئ کانفع باجازت راہن جائزہے۔ کیازیدکی دلیل صحیح ہے؟ مگرقول ثانی درمختار کہ متقی کے لئے جائزنہیں یہ بھی سودہے۔ زیدکہتاہے کہ اتقانہایت مشکل ہے اوریہ متقی کے لئے ہے مگرعمروکاجواب ہے کہ ہرمسلمان متقی ہے توکیاعمروکاجواب صحیح ہے اور کیاہرمسلمان متقی ہے؟ اورتقوٰی اورفتوٰی میں کچھ فرق ہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : تحقیق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ مرتہن کورہن سے انتفاع جس طرح رائج ہے قطعاً مطلقاً اجماعاً حرام ہے اول تو وہ شرط سے ہوتاہے رہن نامہ میں لکھاجاتاہے اورپھراذن بھی حقیقتاً اذن نہیں۔ (عہ)
عہ: یہ فتوٰی ناتمام ہے۔عبدالمبین نعمانی
مسئلہ ۱۰۱: مدرسہ منظراسلام مرسلہ محمداحمدطالب علم بنگالی مورخہ ۲۴رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے بکر سے ہزارروپیہ لیااور اپنامکان بکرکے پاس دخلی رہن چھوڑا یعنی جب تک زید وہ روپیہ نہ دے سکے اتنے روز بکرکواختیارخاص ہے چاہے وہ خود اس مکان میں رہے بسے یادوسرے شخص کے پاس کرایہ پردے کرروپیہ لے، آیااس صورت میں بکرکے لئے ملکیت ثابت ہے اوربکرکامکان سے کرایہ وصول کرنا مطابق شرع شریف سُودہے یانہیں؟
الجواب : خودرہنا بھی حرام اورکرایہ لینابھی سُود۔ اگرکرایہ پردیاتوازآنجاکہ اجازت زید سے تھا کرایہ کامالک زیدہوا اوراب مکان رہن سے نکل گیا۔واﷲ تعالٰی اعلم