Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
52 - 135
مسئلہ ۸۵: ازہوڑہ محلہ کوکربھوکا     مکان مداربخش گنیر    مرسلہ جان محمدصاحب ۲۸/شوال ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھیت رہن لیناجائزہے یانہیں؟
الجواب کھیت کہ زمین دار کی مِلک ہو وہ بے اس کی اجازت کے رہن نہیں ہوسکتا اوراگر اس کی اجازت سے ہو یایہ رہن رکھنے والا خود اس زمین کامالک ہے تورہن صحیح ہوجائے گا مگر اس میں کھیتی کرنی ناجائزہوگی۔
حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہوربا۔۱؎
جوقرض نفع کوکھینچ لائے وہ سود ہے(ت)واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
مسئلہ ۸۶: ازقصبہ نگرام ضلع لکھنؤ مرسلہ خضرمحمد۱۱/صفر۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس ملک میں عملداری غیرمسلم کی ہو اور ہرطرح سے انہیں استیلاہو اورمسلمان باشندے مغلوب ہوں وہاں اگر کوئی غیرمسلم جائداد کسی مسلمان کے یہاں رکھے اوربخوشی خاطرجائداد کے منافع کو اس مسلمان کے لئے حلال کردے توبقول حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ یہ منافع مسلمان کے لئے سُود تونہ ہوں گے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : صورت مستفسرہ میں سُود نہیں، ہاں یہ سُود کی نیت سے لے تو اپنی نیت پرگنہگار ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۷: ازشہربریلی مدرسہ منظراسلام     مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب بنگالی ۱۶صفر۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی زمین کو عمر کے پاس رہن رکھا مدت پانچ سال کی عمر اس زمین کو خرچ دے کرتصرف کرسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب : کاشتکار بے اجازت زمیندار زمین کورہن نہیں رکھ سکتا اوربااجازت زمیندار ہوتو وہ اجارے پر نہ رہے گی اجارہ رکھیں گے کہ خراج دے اورکاشت کرے، تو رہن نہ رہے گا نہ زید کو زمین سے تعلق رہے گا عمرکاشتکار مستقل ہوجائے گا، روپیہ زیدپر قرض رہا وہ اداکرے اور اس کے بعد زمین واپس لینے کا اسے اختیارنہ ہوگا، ہاں اگر عمرخود چھوڑدے چھوڑدے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۸: ۲۰/ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص کسی کے پاس کوئی چیزرہن رکھے اوروہ مرتہن اس چیزپر برابرسُودلیتا رہے، اور فرض کرو کہ اس نے دوسوروپیہ کاسُود لیااب وہ شخص جس کی وہ چیزہے رہن چھٹانا چاہتا ہے تو وہ مرتہن یہ کہتاہے کہ دوسوروپیہ میں سے میں تم کو پانچ روپیہ واپس دیتاہوں اس شرط پرکہ تم شریعت کی رُوسے جوسُود کہ تم نے دیا ہے معاف کرو لیکن مالک چیزاس خوف سے کہ یہ پانچ روپیہ بھی ہاتھ سے جاتے ہیں معاف کرنے پر راضی ہوجائے تویہ معافی جائزہوگی یاناجائز؟اگرناجائز ہے تو اس کی کیاصورت ہوگی؟ اور ایسی صورت میں مرتہن کو اپنے سُود کاکتناحصہ دیناچاہئے؟
الجواب: مرتہن پرفرض ہے کہ جتنا سُودلیاہے سب راہن کوواپس دے اور یہ اولٰی ہے یا فقرائے مسلمین پرتصدق کرے اس میں سے اپنے صرف میں ایک حبّہ لانا اسے حرام ہے اوراگر صرف کرچکاہے اس کامعاوضہ راہن یافقیروں کودینافرض ہے، راہن کے معاف کئے سے معاف نہ ہوگا کہ یہ اس کا آتاہوانہیں جو اُس کے چھوڑے سے چھوٹ جائے،
الاتری انہ لایجب علی الآخذ ردّہ الیہ انما حکموا علیہ بالاولویہ۔
کیاتُونہیں دیکھتاکہ لینے والے پرواجب نہیں کہ وہ راہن کو واپس کرے۔ مشائخ نے اس کے اولٰی ہونے کافیصلہ دیا ہے (ت)

بلکہ وہ اﷲ واحدقہار کے غضب کاخبیث مال ہے کسی حال میں مرتہن کے لئے حلال نہیں ہوسکتااگرتوبہ بھی کرے گا تومقبول نہیں جب تک وہ سارالیاہواراہن یافقراء کونہ دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۹ تا ۹۱ : مرسلہ نیازالدین احمد ۱۶جمادی الاخرٰی ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان صورتوں میں کہ:

(۱) شیئ مرہون میں تصرف جائزہے یانہیں؟

(۲) ہمارے اطراف میں ایک قطعہ زمین اس طورپرلیتے ہیں کہ مثلاً صاحب زمین کو سوروپے اس عہدوپیمان وقول پردیتے ہیں کہ صاحب زمین روپیہ اداکرسکے تو زمین مرتہن کے قبضہ سے چھوٹ کرراہن کے قبضہ میں آجاتی ہے اس میں بات اتنی ہے کہ مرتہن زمین کاخراج اداکرتے ہیں اورپیداوارزمین کوخودلیتے ہیں اورجس وقت وہ دئیے ہوئے روپے لے گا وہ سو روپے پورپورا لے گا۔

(۳) یہ صورت بعینہٖ دوسری ہے مگر ذرابیش وکم یہ ہے کہ دلیل اس طورپرلکھتے ہیں کہ اگر راہن مدت معہودہ میں روپیہ ادانہ کرے توزمین فروخت کرکے مرتہن کے قبضہ میں ہمیشہ کے لئے آجاتی ہے۔
الجواب : مرتہن کومرہون سے انتفاع حرام ہے۔ حدیث میں ہے:کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۔۱؎ جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔(ت)
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
زمین رہن رکھنے والا اگرخود مالک زمین ہے جیسے زمین دار معافیدار اگرچہ خراج گورنمنٹی بطورمالگزاری یاابواب اس پرہوجب تویہ وہی صورت مرہون سے انتفاع کی ہے اور حرام ہے، اوراگررہن رکھنے والا کاشتکار ہے اورخراج وہ لگان ہے کہ زمین دارکودیاجاتاہے تو اسے بے اجازت زمیندارنہ رہن رکھنے کااختیارنہ اسے رہن لینے کا۔ اب کہ رہن رکھ دی اورمرتہن نے زمیندار کو لگان دی اوراس نے قبول کیایہ عقد اجارہ زمیندار ومرتہن میں ہوارہن باطل ہوگیا اورپہلا کاشتکارزمین سے بے تعلق ہوگیایہ مرتہن ہی کاشتکار ہوگیا زراعت اسے جائزہے اوراس کاروپیہ پہلے کاشتکار پرفرض ہے جب وہ روپیہ دے اس پرزمین چھوڑنا لازم نہیں جب تک سال تمام پرزمین دار اس سے نہ چھڑائے اوردوسری صورت جس میں میعاد گزرجانے پرزمین کا فروخت ہوجانا ہے اگرمالک زمین نے زمین رکھی تو رہی ہے اوریہ شرط مردود اوراگرکاشتکار نے رہن رکھی توزمین فروخت ہوجانے کابطلان اوربھی ظاہر، اسے پرائی زمین بیع کردینے کاکیااختیار؟ غرض یہ سب جاہلانہ طریقے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter