فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
51 - 135
تبیین الحقائق میں ہے:
(جواز العقد لیس باعتبار أن المعدوم جعل موجودا حکما وکیف یقال ذٰلک والموجود من المنفعۃ لایقبل العقد لانہ عرض لایبقی زمانین فلایتصور فیہ التسلیم بحکم العقد والقدرۃ علی التسلیم شرط لجواز العقد وما لایتصور فیہ التسلیم لایکون محلا للعقد بل باعتبار ان العین التی ھی سب وجود المنفعۃ اقیمت مقام المنفعۃ فی حق صحۃ الایجاب والقبول وفی حق وجوب التسلیم اذ العین ھی التی یمکن تسلیمھا دون العرض فانعقد فی حقھا فی الحال فوجب علیہ تسلیمھا وصار العقد مضافا غیر منعقد للحال فی حق المنفعۃ لأن اقصی مایتصور العقد علی المنفعۃ ان یکون العقد مضافا الی وقت حدوثھا فینعقد العقد فی کل جزءٍ من المنفعۃ علٰی حسب وجودھا شیئاً فشیئاً وھو معنٰی قولنا ان عقد الاجارۃ فی حکم عقود متفرقۃ یتجدد انعقادھا علٰی حسب حدوث المنافع وانما قامت العین مقام المنفعۃ تصحیحا للعقد فی حق الانعقاد والتسلیم ضرورۃ عدم تصورھما فی المنفعۃ ولاضرورۃ فیحق الملک فی البدل اذا ماثبت للضرورۃ یثبت بقدرھا فلا یظھر فی حق ملک البدل کما لایظھر فی حق ملک المنفعۃ فیکون العقد مضافا الٰی وقت حدوثھا غیر منعقد للحال فی حقھما۱؎اھ وانما سقناہ لما فیہ من الفوائد ولایکفینا بعضہ کما لایخفٰی۔
اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبارسے نہیں کہ معدوم کو حکمی طور پر موجود بنادیاگیاہے، اور یہ کیسے کہاجاسکتاہے حالانکہ جو منفعت موجود ہو وہ عقد کوقبول نہیں کرتی اس لئے کہ وہ عرض ہے جودوزمانوں میں باقی نہیں رہتی، لہٰذا اس میں عقد کے حکم سے سپردگی متصورنہیں جبکہ سپردگی پرقادر ہونا عقد کے لئے شرط جواز ہے، اور جس میں سپردگی متصورنہیں وہ عقد کا محل نہیں ہوسکتابلکہ اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبار سے ہے کہ عین شیئ جو کہ وجود منفعت کا سبب ہے اس کو ایجاب وقبول کی صحت اورسپردگی کے وجوب کے حق میں منفعت کے قائمقام کردیاگیاہے اس لئے کہ اس عین ہی کی سپردگی ممکن ہے نہ کہ عرض کی، لہٰذا اس عین کے حق میں فی الحال عقد منعقدہوجائے گا اورآجر پر اس کی سپردگی واجب ہوگی اور منفعت کے حق میں کہ عقد مضاف ہوگا فی الحال منعقدنہیں ہوگا کیونکہ منفعت پرعقد میں انتہائی تصوریہ ہے کہ عقدمنفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہو۔ چنانچہ عقد منفعت کی ہرجز میں اس کے تدریجاً موجودہونے کے مطابق منعقدہوگا۔ اوریہی معنی ہے ہمارے اس قول کاکہ ''اجارہ کا عقد متفرق عقود کے حکم میں ہے جن کاانعقاد منافع کے پیداہونے کے مطابق متجدد ہوتارہتاہے۔ انعقاد اورسپردگی کے حق میں ان دونوں کاتصور معدوم ہے اوربدل کے اندرملک کے حق میں کوئی مجبوری نہیں اس لئے کہ جس شے کاثبوت ضرورت کی وجہ سے ہو اس کاثبوت بقدرضرورت ہوتاہے، چنانچہ وہ مِلک بدل کے حق میں ظاہر نہیں ہوگا جیساکہ مِلک منفعت کے حق میں ظاہرنہیں ہوتا، وہ عقد منفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہوگا اوران دونوں کے حق میں فی الحال منعقدنہیں ہوگا الخ بے شک ہم نے اس عبارت کو ان فوائد کی وجہ سے ذکرکیا ہے جو اس میں موجودہیں ورنہ ہمیں اس میں سے بعض عبارت کافی ہے جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب الاجارہ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۵/ ۱۰۷)
توبعد میں جو ساعت آئی اس میں نیاعقد اجارہ ہوا یہ اگرمرتہن کی طرف سے باذن راہن ہے تو بلاشبہہ مرتہن نے جدیداجارہ کیا اور اس کے لئے دکانداروں کو جدیدہوناکیاضرور عقدنیاہونا چاہئے وہ بے شک حاصل۔ کیااگرمرتہن باذن راہن اسی مستاجر کودے جسے پہلے راہن دے چکاتھا تو رہن باقی رہے گا۔ دوسرے کودے توجاتارہے گا اس کاقائل نہ ہوگا مگرسخت جاہل، مرتہن کے عقد اجارہ باذن راہن کوتمام کتابوں نے مبطل رہن رکھا ہے نہ کہ صرف بحال تبدیل مستاجر۔ رہن پراجارہ نافذہ کاورود ہی اسے باطل کرتا ہے کہ دوام حق حبس جو شرط رہن ہے زائل ہوتاہے۔ تعین مستأجر کو اس میں کیادخل۔
اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے خبردی ہے کہ مرہون مقبوض ہو۔ یہ خبر اس کے مقبوض ہونے کا تقاضاکرتی ہے جب تک وہ مرھون ہے۔(ت)
(۲؎بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل وامام الشرائط الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴۲)
اسی میں ہے:
الرھن فی اللغۃ عبارۃعن الحبس قال اﷲ تعالٰی عزّوجلّ کل امرء بماکسب رھین ای حبیس فیقتضی ان یکون المرھون محبوسا مادام مرھونا ولولم یثبت ملک الحبس علی الدوام لم یکن محبوسا علی الدوام فلم یکن مرھونا۔۳؎
رہن لغت میں حبس کانام ہے، اﷲ تبارک وتعالٰی نے فرمایا: ہرشخص اپنے کئے میں مرہون یعنی محبوس ہے، اس کاتقاضایہ ہے کہ مرہون جب تک مرہون ہے محبوس ہو اور اگرملکِ حبس دائمی طورپر ثابت نہ ہوئی تو وہ دائمی طورپر محبوس نہ ہوا، چنانچہ وہ مرہون نہ ہوا۔(ت)
(۳؎بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل واما حکم الرھن ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴۵)
اسی سے گزرا:
الاجارۃ اذاجازت لایبقی الرھن ضرورۃ۔۱؎
اجارہ جب جائز ہوجائے توضروری ہے کہ وہ رہن باقی نہ رہے۔(ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الرہن فصل وامّا حکم الرھن یچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۴۶)
(۳) بے شک زیادت فی الدین ناجائزہے، یہی مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے، اوراسی پرمتون و شروح، اوریہی من حیث الذیل اقوٰی،
کما یظھر بمراجعۃ البدائع والتبیین وغیرھا
(جیساکہ بدائع اورتبیین وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہرہوتا ہے۔ت) اوربیشک فتوٰی ہمیشہ قول امام پرہے مگربضرورت، اس بارے میں ہمارا مبسوط رسالہ اجلی الاعلام بان الفتوٰی مطلقا علٰی قول الامام طبع ہوچکاہے، بکرکاقول کہ معاملات میں اکثر فتوٰی قول امام ابویوسف پرہوتا ہے غلط ہے یہ صرف مسائل متعلقہ وقف وقضا میں کہاجاتاہے اوروہ بھی کوئی ضابطہ نہیں کہ بے تصحیح صریح اس سے خلاف قول امام وخلاف متون وشروح تصحیح کرلیں مگریہ بحث یہاں کوئی نتیجہ خیزنہیں ، نہ اس کی اصلاً حاجت، جبکہ ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کرآئے کہ یہ رہن خودہی باطل محض ہے، پھربحث زیادت کی کیاگنجائش!
(۴) چارہزار نوسوپینتالیس روپے آٹھ آنے کہ بکرکے کرایہ داروں سے وصول کئے وہ ضرور حق زیدہیں بکرکا ان میں کوئی حبّہ نہیں کہ یہ اجارہ راہن باذن مرتہن ہے یاعلی التنزل اجارہ مرتہن باذن راہن مگرہم کتب معتمدہ بدائع امام ملک العلماء وفتاوٰی امام قاضی خان وفتاوٰی عالمگیریہ سے ثابت کرآئے کہ دونوں صورتوں میں اجرملکِ راہن ہے فقط فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں کرایہ داروں سے کرایہ وصول کرنے کا حق بھی راہن ہی کو ہے، اوردوسری صورت میں مرتہن کو کہ وہی عاقد ہے وہی وصول کرے اورراہن کو دے دے خود اس میں سے کچھ نہیں لے سکتا، لہٰذا بکرپرلازم ہے کہ اپنا قرض پندرہ سومجراکرکے تین ہزارچارسوپینتالیس روپے آٹھ آنے زیدکو ادا کرے، دستاویز میں زیدکالکھنا کہ جو منافع مرتہن وصول کرے حق مرتہن ہے باطل وبے اثرہے کہ تغییرحکم شرع ہے، اوراگریہ تاویل کی جائے کہ اگرچہ واقع میں عندالشرع وہ حق زید ہے مگرزید کایہ لکھنا اپنی طرف سے بکر کو ان منافع کا ہبہ ہے جب بھی باطل ہے کہ منافع بوقت تحریرمعدوم تھے اورمعدوم کاہبہ باطل۔
بدائع میں ہے:
لاتجوز ھبۃ مالیس بموجود وقت العقد بان وھب مایثمر نخلہ العام وما تلداغنامہ السنۃ ونحوذٰلک بخلاف الوصیۃ والفرق ان الھبۃ تملیک للحال وتملیک المعدوم محال والوصیۃ تملیک مضاف الی مابعد الموت والاضافۃ لاتمنع جوازھا و لاسبیل لتصحیحہ بالاضافۃ الی مابعد زمان الحدوث لان التملیک بالھبۃ ممّالایحتمل الاضافۃ الی الوقت فبطل۱؎اھ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جوشیئ عقد کے وقت موجودنہ ہو اس کا ہبہ جائزنہیں اس کی صورت یہ کہ کوئی شخص ان پھلوں کاہبہ کرے جو اس سال اس کے درختوں پر لگیں گے یااپنی بکریوں کے ان بچوں کاہبہ کرے جو اس سال وہ جنیں گی اور اسی کی مثل دوسری اشیاء بخلاف وصیت کے، دونوں میں فرق یہ ہے کہ ہبہ کے لئے تملیک ہے اورمعدوم کی تملیک محال ہے اوروصیت ایسی تملیک ہے جو موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے اورمنسوب ہونا وصیت کے جواز کومنع نہیں کرتا، زمانہ حدوث کے مابعد کی طرف نسبت کرکے ہبہ کو صحیح قراردینے کاراستہ نہیں کیونکہ ہبہ میں تملیک وقت کی طرف نسبت کااحتمال نہیں رکھتی لہٰذا وہ باطل ہےاھ، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الہبہ فصل وامّا الشرائط الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۱۹)
مسئلہ ۸۴: ازریاست رامپور مرسلہ جناب مفتی عبدالقادرصاحب مفتی کچہری دیوانی ریاست ۱۸ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
مرہونہ پربعد عقدرہن مرتہن کاقبضہ شرعی ہوگیا، اس کے بعد بطورعاریت یااجارہ یا غصب مرہونہ راہن کے قبضہ میں پہنچ گیا تو علمائے محققین سے سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں عقد رہن باطل ہوجائے گا یاوہ علٰی حالہٖ باقی رہے گا اورکیامرتہن کوبربنائے رہن مذکوراسترداد مرہونہ کااستحقاق شرعاً حاصل ہے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب : فی الواقع صورِ مذکورہ میں عقدرہن باطل نہ ہوگا اورمرتہن کو استرداد مرہون کاحق رہے گا، عاریت وغصب میں توظاہرکہ منافی رہن نہیں عقد اجارہ البتہ منافی رہن ہے ولہٰذا اگر مرتہن باذن راہن یاراہن باذن مرتہن شخص ثالث کویاراہن مرتہن کو اجارہ دے تورہن باطل ہوجائے گا مگریہاں کہ مرتہن نے راہن کو اجارہ دیا خود اجارہ ہی باطل ہوگا کہ مالک کو اس کی ملک اجارہ دینا کیا معنی، اورجب اجارہ باطل ہوامنافی رہن نہ پایاگیا اورعقدبحالہٖ باقی رہا والمسائل مصرح بھا فی البدائع وغیرھا (اور ان مسائل کی بدائع وغیرہ میں تصریح کردی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔