فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
50 - 135
دستاویز میں کہ بکرکوقابض کردینا مسطور، یقینا اس سے یہی محاورہ جہال منظور، توبکرکااس سے استدلال ہباء منثور، اوراگرفرض کیجئے کہ اسے شرط قبضہ ہی پرمحمول رکھیں تو اب دو وجہ سے مردودہے:
اولا جب یقینا معلوم کہ کرایہ داروں سے تخلیہ کرکے قبضہ کسی وقت نہ دلایا پہلے سے اب تک کرایہ داروں کاقبضہ مستمرہے اوراوپربیان ہوچکاکہ شے واحد پروقت واحد میں دومختلف قبضے محال، تو یہ اقرار بالمحال ہوا، اوراقرار بالمحال باطل ونامسموع ہے مثلاً بھائی اقرار کرے اوررجسٹری کرادے کہ متروکہ پدری اس میں اور اس کی بہن میں بذریعہ میراث پدر نصف نصف ہے یہ اقرارمردودہے بہن اس سے استدلال نہیں کرسکتی کہ وہ شرعاً محال ہے لہٰذاثلث سے زیادہ نہ پائے گی۔ یوں ہی یہاں باوصف استمرار قبضہ مستاجر ان قبضہ مرتہن شرعاً محال ہے، لہٰذا اقرار واجب الابطال ہے۔
اشباہ والنظائر میں ہے:
الاقرار بشیئ محال باطل کما لواقرلہ بارش یدہ التی قطعھا خمسمائۃ درھم ویداہ صحیحتان لم یلزمہ شیئ کما فی التاتارخانیۃ وعلٰی ھذا افتیت ببطلان اقرار انسان بقدر من السھام لوارث وھو ازید من الفریضۃ الشرعیۃ لکونہ محالا شرعا مثلا لومات عن ابن وبنت فاقر الابن أن الترکۃ بینھما نصفان بالسویۃ فالاقرار باطل لما ذکرنا۱؎اھ وقیدہ السید العلامۃ زیرک زادہ فی حاشیتہ علی الاشباہ کما رأیت فیھا ونقلہ السید العلامۃ الحموی فی الغمز بلفظہ قیل واقرہ بان یزید فی اقرارہ بالارث، قال اذ یتصوران یکون الترکۃ بینھما نصفین بالوصیۃ مع الاجازۃ اوغیرھا من وجوہ التملیک کما ھوظاھر۲؎اھ اقول: یمکن التنصیف بینھما بالارث ایضا کما اذا ماتت عن زوج و بنت منہ وابن من زوجھا الاول ثم مات ھذا الزوج ولم یرثہ الابنتہ فلا بدان یزید فی الاقرار بارثھما عن ھٰذا المورث۔
محال شیئ کااقرار باطل ہے جیسے کسی کے لئے پانچسوروپے دیت کااقرارکیااس کے ہاتھ کے بدلے میں جو مقِرنے کاٹاہے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ سلامت ہیں تومقِر پرکچھ بھی لازم نہیں جیساکہ تتارخانیہ میں ہے۔ اسی بنیاد پرمیں نے فتوٰی دیاہے کہ کسی انسان کاکسی وارث کے لئے اس قدرسہام کااقرارکرناباطل ہے جو اس کے شرعی مقررحصے سے زائد ہوکیونکہ یہ شرع کی روسے محال ہے مثلاً کوئی شخص ایک بیٹا اورایک بیٹی چھوڑ کر فوت ہوا بیٹے نے اقرار کیاکہ ترکہ ان دونوں کے درمیان برابری کے طورپرنصف نصف ہے تویہ اقراراس دلیل کی وجہ سے باطل ہوگا جس کو ہم ذکرکرچکے ہیں الخ سیدعلامہ زیرک زادہ نے اشباہ پراپنے حاشیہ میں اس کو مقید کیاجیساکہ میں نے اس کے حاشیہ میں دیکھا اورسیدعلامہ حموی نے غمز میں لفظ ''قیل'' کے ساتھ نقل کرکے اس کوبرقراررکھامقید بایں صورت کیاکہ مُقِراپنے اقرار میں میراث کاذکربڑھائے کیونکہ یہ بات متصورہے کہ ترکہ ان دونوں بہن بھائیوں کے درمیان وصیت کے سبب سے نصف نصف ہوجائے گا وصیت کی اجازت کے ساتھ یا اس کے علاوہ دیگروجوہ تملیک کے ساتھ جیساکہ ظاہرہے الخ میں کہتاہوں ان دونوں کے درمیان میراث کے اعتبار سے بھی ترکہ کانصف نصف ہوناممکن ہے جیسے کوئی خاتون فوت ہوگئی جس کے ورثاء میں اس کاخاوند اور اسی خاوند سے ایک بیٹی اوراپنے پہلے خاوند سے ایک بیٹا ہے پھر یہ خاوند فوت ہوگیا جس کاوارث سوائے اس کی بیٹی کے اور کوئی نہیں لہٰذا مقرکے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اقرار میں اسی مورث سے ان دونوں کے وارث بننے کی قید کااضافہ کرے۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۵)
(۲؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۵)
ثانیاً بالفرض زیدقبضہ بکرکامقر ہے مگربکر خوداپنے قبضہ سے منکرہے کہ تسلیم کرتاہے کہ اب تک قبضہ مستاجران مستمر ہے اورمقرلہ جب اقرار کی تکذیب کرے اقرارباطل ہوجاتاہے۔
اشباہ میں ہے:
مقِرلہ جب مقرکو جھٹلادے تو اس کااقرار باطل ہوجائے گا الخ صاحب اشباہ نے سات چیزوں کا استثناء کیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب الاقرار الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۹)
اوریہیں سے ظاہرہواکہ بکر کاکہنا کہ حقوق سے خالی کرکے مرتہن کے حوالے کردیا صریح غلط ہے۔
(۲) بلاشبہہ جب باتفاق فریقین یقینا ثابت کہ دکان ومکان پہلے سے کرایہ پرہیں اوریہ کہ راہن ومرتہن دونوں اس اجارے اوراس کی بقا پرراضی، مرتہن اب تک اس کرایہ سے متمتع ہوتارہا توبعد رہن اگریہ اجارہ ازجانب راہن ہے تومرتہن کا اذن ہے اور ازجانبِ مرتہن فرض کیجئے تو راہن کا اذن ہے، اورہم بدائع ملک العلماء سے لکھ آئے کہ دونوں صورتوں میں رہن باطل ہے،
نیزفتاوٰی امام قاضی خان وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرھامیں ہے:
ان آجر المرتھن من اجنبی بامر الراھن یخرج من الرھن وتکون الاجرۃ للراھن، وان آجرہ الراھن من اجنبی بامر المرتھن یخرج من الرھن والاجرللراھن۔۱؎
مرتہن نے راہن کے حکم پر مرہون شیئ کسی اجنبی کو اجارہ پردے دی وہ رہن سے نکل جائے گی اوراُجرت راہن کے لئے ہوگی، اوراگرراہن مرتہن کے حکم سے اجنبی کو اجرت پردے دے تو وہ رہن سے نکل جائے گی اور اجرت راہن کے لئے ہوگی۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرہن الباب الثامن فی تصرف الراہن الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۵۔۴۶۴)
بکرکاکہنا ہے کہ اجارہ باذن راہن مبطل رہن نہیں ہوتا۔ اگریہ مقصود کہ کسی شخص ثالث فضولی کاباذن راہن اجارہ میں دینا مبطل رہن نہیں جب تک مرتہن بھی اس پرراضی نہ ہوتو صحیح ہے مگر معاملہ دائرہ سے بے علاقہ، یہاں کسی فضولی نے اجارہ نہ دیا اوربالفرض ہو بھی تو راہن ومرتہن دونوں کی رضا موجود، بہرحال رہن باطل ہوگیا۔ خانیہ وہندیہ میں ہے:
ان آجرھا اجنبی بغیر اذن الراھن والمرتھن ثم اجازا جمیعا کان الاجرللراھن ویخرج من الرھن۔۲؎
اگراجنبی شخص نے راہن ومرتہن کی اجازت کے بغیر مرہون شیئ اجارہ پردے دی پھر دونوں نے اکٹھی اجازت دے دی تواجرت راہن کے لئے ہوگی اور وہ شے رہن سے نکل جائے گی۔(ت)
(۲؎الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرہن الباب الثامن فی تصرف الراہن الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۵)
اوراگریہ مقصود کہ مرتہن کاباذن راہن اجارہ دینا مبطل رہن نہیں تو صریح کذب اورتمام کتب کے خلاف ہے اوریہ عذر کہ یہاں اجارہ نیا مرتہن کا ثابت نہیں کہ اس نے نئے دکاندار کونہ بٹھایا محض باطل وبے اثرہے،
اوّلاً مرتہن کا اجارہ دینا ثابت نہ سہی راہن کا اجارہ دینا اوراس پرمرتہن کی رضاتوثابت ہے یہ کیا بطلان رہن کو بس نہیں۔
ثانیاً عقد اجارہ وقتاً فوقتاً نیاہوتا ہے کہ منفعت بتدریج پیداہوتی ہے اسی تدریج سے اجارہ تجدید پاتا ہے۔
بدائع میں ہے:
الطاری فی باب الاجارۃ مقارن لان المعقود علیہ المنفعۃ وانھا تحدث شیئا فشیئا فکان کل جزء یحدث معقودا علیہ مبتدأ۱؎
اجارہ کے باب میں مقارنت طاری ہوتی ہے کیونکہ اس میں معقود علیہ منفعت ہوتی ہے اور وہ وقتاً فوقتاً بتدریج پیداہوتی رہتی ہے، چنانچہ منفعت کی ہرجزجوپیداہوتی ہے وہ نئے سرے سے معقود علیہ بنتی ہے(ت)