Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
49 - 135
رہن قبضہ مرتہن چاہتا ہے کہ اس کامقتضٰی حبس ہے اورحبس بے قبض ناممکن اوراجارہ قبضہ مستاجر چاہتاہے کہ اس سے مقصود انتفاع ہے اورانتفاع بے قبض نامتصوّر اورشیئ واحد کاوقت واحد میں دومختلف قبضوں میں ہونا محال، ولہٰذا اگرراہن بہ اجازت مرتہن یامرتہن باجازت راہن شے مرہون شخص ثالث کے اجارہ میں دے یاراہن خودمرتہن کو اجارہ دے، تینوں صورتوں میں رہن باطل ہوجاتا ہے۔
بدائع میں ہے:
لیس لہ ان یؤاجرہ من اجنبی بغیر اذن المرتھن لان قیام ملک الحبس لہ یمنع الاجارۃ ولان الاجارۃ بعقد الانتفاع وھو لایملک الانتفاع بہ بنفسہ فکیف یملکہ غیرہ ولوفعل وقف علی اجازتہ فان ردہ بطل وان اجازجازت الاجارۃ وبطل عقدالرھن لان الاجارۃ اذا جازت وانھا عقد لازم لایبقی الرھن ضرورۃ والاجرۃ للراھن لانھا بدل منفعۃ مملوکۃ لہ وولایۃ قبض الاجرۃ لہ ایضاً لانہ ھو العاقد۱؎ وکذا لیس للمرتھن ان یؤاجرہ من غیرالراھن بغیر اذنہ لان الاجارۃ تملیک المنفعۃ والثابت لہ ملک الحبس لاملک المنفعۃ فکیف یملکھا من غیرہ فان فعل وقف علی اجازۃ الراھن فان اجاز جاز وبطل الرھن لما ذکرنا وکانت الاجرۃ للراھن، وولایۃ قبضھا للمرتھن لان العاقد ھو المرتھن، ولایعود رھنا اذا انقضت مدۃ الاجارۃ، لان العقد قد بطل فلایعود الابالاستیناف۔۲؎
راہن کے لئے جائزنہیں کہ مرتہن کی اجازت کے بغیرمرہون شیئ کسی اجنبی کواجارہ پردے دے کیونکہ مرتہن کاملک حبس اجارہ سے مانع ہے اوراس لئے بھی کہ اجارہ کی بنیاد انتفاع پرہے جبکہ راہن خودمرہون سے انتفاع کامالک نہیں تو کسی غیرکو اس کامالک کیسے بناسکتا ہے، اوراگرراہن نے ایساکردیاتو یہ مرتہن کی اجازت پرموقوف ہوگا اگرمرتہن نے اسے رد کردیا توباطل ہوجائے گا اوراگراس نے اجازت دے دی تواجارہ جائزجبکہ عقدرہن باطل ہوجائے گا کیونکہ اجارہ جب جائزہوگا اور وہ عقدلازم ہے۔تورہن ضرورۃً باقی نہیں رہے گا اوراجرت راہن کی ہوگی اس لئے کہ وہ راہن کے مملوک کی منفعت کابدل ہے۔ اوراجرت پرقبضہ کی ولایت بھی اسی کوحاصل ہے کیونکہ عقد کرنے والاوہی ہے۔ اوراسی طرح مرتہن کے لئے جائزنہیں کہ وہ مرہون شیئ راہن کے غیرکو اس کی اجازت کے بغیراجارہ پردے کیونکہ اجارہ منفعت کی تملیک ہے جبکہ مرتہن کے لئے ملک حبس ثابت ہے نہ کہ ملک منفعت تو وہ کسی غیرکو اس کامالک کیسے بناسکتا ہے۔ اگرمرتہن نے ایسا کردیا تو وہ راہن کی اجازت پرموقوف ہوگا اگراس نے اجازت دے دی تواجارہ جائزاوررہن باطل ہوجائے گا اس دلیل کی وجہ سے جس کو ہم ذکرکرچکے ہیں، اوراجرت راہن کے لئے ہوگی جبکہ اجرت پرقبضہ کی ولایت مرتہن کوحاصل ہوگی کیونکہ عقد کرنے والاوہی مرتہن ہے۔اوروہ شیئ رہن کی طرف عودنہیں کرے گی جبکہ اجارہ کی مدت ختم ہوچکی ہوکیونکہ عقد رہن باطل ہوچکا تو وہ عودنہیں کرے گا مگریہ کہ نئے سرے سے عقد کیاجائے۔(ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع     کتاب الراہن     فصل وامّا حکم الرھن الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی     ۶/ ۱۴۶)

(۲؎بدائع الصنائع     کتاب الراہن     فصل وامّا حکم الرھن الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی       ۶/ ۱۴۷)
اُسی میں ہے:
یخرج المرھون عن کونہ مرھونا ویبطل عقد الرھن بالاجارۃ بان آجرہ الراھن من اجنبی باذن المرتھن او المرتھن باذن الراھن اواستاجرہ المرتھن۔۱؎
مرہون شیئ مرہون ہونے سے نکل جائے گی اورعقد رہن اجارہ کے ساتھ باطل ہوجائے گا، اس صورت میں کہ راہن نے وہ شیئ مرتہن کی اجازت سے یامرتہن نے راہن کی اجازت سے کسی اجنبی کواجارہ پر دے دی یامرتہن خود اس کو اس اجرت پرلے لے۔(ت)
(۱؎ بدائع الصنائع     کتاب الرھن     فصل امابیان مایخرج بہ المرہون الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۷۱)
یہاں کہ فریقین کواقرارہے کہ دکان ومکان رہن سے پہلے سے منجانب زیدکرائے پرہیں اور جب سے اب تک برابرقبضہ کرایہ داران میں ہیں کبھی ان سے خالی نہ کرائی گئیں، توتخلیہ کہ شرط رہن تھا کبھی نہ ہوا اوررہن سرے سے ناجائزوناتمام رہا۔(عہ)
عہ: مشی فی الہدایۃ والملتقی والتنویر وغیرھا علی ان القبض شرط اللزوم فلایتم الرھن ۲؎ الا بہ، قال فی العنایۃ وھو اختیار شیخ الاسلام وھو مخالف لروایۃ العامۃ قال محمد لایجوز الرھن الا مقبوضا ومثلہ فی کافی الحاکم الشہید ومختصر الطحاوی والکرخی۳؎اھ قال الکرخی انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد والحسن بن زیاد وصححہ فی الذخیرۃ قھستانی، والمجتبی درمختار، والمحیط ھندیۃ وبہ جزم فی البدائع کما تری وکذا ذکرہ فی الرھن من العقود الدریۃ انہ الصحیح،
ہدایہ، ملتقی اورتنویروغیرہ میں یہ روش اختیارکی ہے کہ رہن میں مرہون پرقبضہ کرناعقد کے لازم ہونے کے لئے شرط ہے۔ چنانچہ اس کےبغیرعقد تام نہیں ہوتا۔ عنایہ میں کہا اور وہی شیخ الاسلام کامختارہے اور وہ عام مشائخ کی روایت کے مخالف ہے۔ امام محمدنے فرمایا کہ مرہون پرقبضہ ہوئے بغیر رہن جائزنہیں ہوتا اور اسی کی مثل حاکم شہید کی کافی اورامام طحاوی کی مختصر اورامام کرخی کی مختصر میں ہے الخ کرخی نے کہاکہ یہ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اورحسن بن زیاد کاقول ہے، اس کوذخیرہ میں صحیح قراردیا (قہستانی) اورمجتبٰی میں اس کو صحیح قراردیا(درمختار) اورمحیط میں اس کو صحیح قراردیا(ہندیہ) اوراسی پربدائع میں جزم کیاجیساکہ تودیکھ رہا ہے، اوریونہی عقودالدریہ کی کتاب الرھن میں ذکرکیا کہ بے شک وہ صحیح ہے۔
 (۲؎ الہدایہ         کتاب الرہن     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۵۱۳)

(۳؎ العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر    کتاب الرھن     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۹/ ۶۶)
اقول: والہدایۃمع مشیہ علٰی انہ شرط اللزوم کلامہ فی الدلائل فی مسئلۃ لایجوز رھن المشاع وغیرھا یدل علٰی انہ شرط الانعقاد فتدبرہ و راجع العنایۃ ونتائج الافکار وکذا التنویر مع اتباعہ للہدایۃ قال لایصح رھن المشاع۱؎ قال فی الدر الصحیح انہ فاسد۲؎اھ تامل وراجع ما علقنا علٰی ردالمحتار ویستفاد من العنایۃ ان معنی شرط الجواز عند قائلیہ ان الرھن باطل ان لم یقبض فاخترناہ لما علمت لہ من القوۃ ۱۲منہ غفرلہ۔
میں کہتاہوں ہدایہ کی اس روش کے باوجود کہ قبضہ شرط لزوم ہے رھن مشاع وغیرہ کے عدم جواز پردلائل کے ضمن میں صاحب ہدایہ کاکلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبضہ شرط انعقاد ہے۔ پس اس میں غورکر، اورعنایہ اورنتائج الافکار کی طرف رجوع کر۔ یونہی تنویرمیں ہدایہ کی اتباع کرتے ہوئے کہاکہ مشاع کارہن صحیح نہیں۔ درمیں کہاصحیح یہ ہے کہ وہ فاسد ہے الخ غور کر، اور ردالمحتارپرہماری تعلیق کی طرف رجوع کر۔ عنایہ سے مستفاد ہے کہ شرط جواز کامعنی اس کے قائلین کے نزدیک یہ ہے کہ اگرمرہون پرقبضہ نہیں ہوا تو رہن باطل ہے۔ چنانچہ ہم نے اسی کواختیارکیاہے جیسا کہ تواس کی قوت کوجان چکاہے ۱۲منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار    کتاب الرہن    باب مایجوز ارتہانہ الخ     مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۸)

(۲؎الدرالمختارشرح تنویرالابصار    کتاب الرہن    باب مایجوز ارتہانہ الخ     مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۸)
عوام عموماً اورآج کل کے قانون دان خصوصاً نِرے زبانی یاکاغذ کے تلفظ کو قبضہ کہتے اورسمجھتے ہیں نہ وہ تخلیہ کے معنی سے آگاہ ہیں نہ اس کی حاجت جانتے ہیں زید اگراپنا مکان جس میں اس کامال اسباب رکھاہواہے عمروکوہبہ کرے اور کنجی اسے دے دے وہ کہیں گے قبضہ دے دیا حالانکہ ہرگزشرعاً قبضہ نہ ہوا کہ تخلیہ نہ ہوا۔
بدائع میں ہے:
وعلٰی ھذا یخرج مااذا وھب دارا فیھا متاع الواھب وسلّم الدار الیہ اوسلم الدار مع مافیھا من المتاع فانہ لایجوز، لان الفراغ شرط صحۃ التسلیم والقبض ولم یوجد۔۱؎
اور اسی سے اس صورت کاحکم ظاہرہوجاتا ہے کہ جب کسی نے ایساگھر ہبہ کیا جس میں واہب کاکچھ سامان موجودہے اور اس نے وہ گھر موہوب لہ کے حوالے کردیا یا اس نے وہ گھر اس میں پڑے ہوئے اپنے سامان سمیت موہوب لہ کے حوالے کردیا تو یہ ہبہ جائزنہیں ہوگا کیونکہ موہوب کو خالی کرنا سپردگی اورقبضہ کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گی۔(ت)
(۱؎ بدائع الصنائع    کتاب الہبہ     فصل واما الشرائط    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۶/ ۱۲۵)
Flag Counter