Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
48 - 135
مسئلہ ۸۰ تا ۸۳: ازریاست رام پور مرسلہ منّابھائی ۲۰صفر۱۳۳۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مبلغ ایک ہزارروپیہ پرچند قطعہ دُکانات ومکانات اپنے جو بقبضہ کرایہ داران زید کی طرف سے تھیں بذریعہ رہن نامہ مصدقہ بکرکے پاس رہن کیں بعدازاں اس زررہن پر مبلغ پانچسوروپیہ اوراضافہ کرکے دوسری دستاویز بحوالہ دستاویز سابقہ تصدیق کرادی دستاویز مذکور میں اقرار تسلیم قبضہ بکر نے تحریر کرالیا اوریہ بھی دستاویز میں تحریر کرالیاکہ جومنافع بذریعہ سکونت وغیرہ کرایہ داروں سے مرتہن وصول کرے وہ حق مرتہن ہے چنانچہ مبلغ چارہزارنوسوپینتالیس روپے بکرنے بذریعہ زیدکرایہ داران سے وصول پائے اورحسب مضمون دستاویز ودکانات کوکرایہ پرقائم رکھ کر اس کرایہ کی منفعت بکرنے حاصل کی اس کے بعد پھر بکرنے عدالت میں نالش زررہن بغرض نیلام جائداد مرہونہ دائرکی۔

زید مدعاعلیہ کویہ عذرات ہیں:

(۱) قبضہ مرتہن مرہونہ پرنہیں ہوا اس وجہ سے کہ مرہونہ پہلے سے بقبضہ کرایہ داران تھی جس کامرتہن کو خوداقرار ہے اوررہن میں قبضہ واقعیہ وتسلیم خاص کی ضرورت ہے تصریحات فقہیہ سے ظاہرہوتا ہے کہ تسلیم وقبضہ کی تحریرکافی نہیں ہے۔درمختارمیں
فاذا سلمہ وقبضہ المرتھن۲؎
(جب راہن، مرہون سونپ دے اورمرتہن اس پرقبضہ کرلے۔ت) یوں نہیں ہے کہ
فاذا کتب تسلیمہ وقبض المرتھن
(جب اس کی سپردگی کی تحریرہوگئی اورمرتہن نے قبضہ کرلیا۔ت)
(۲؎ الدرالمختار             کتاب الرہن     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۵)
 (۲) دستاویز میں یہ الفاظ ہیں کہ جومنافع بذریعہ سکونت وکرایہ مرتہن حاصل کرے وہ حق مرتہن ہے یہ اذن راہن برائے اجارہ ہے چنانچہ منافع کرایہ مرتہن نے بذریعہ اجازت راہن کے حاصل کئے اور یہ صورت ہے اجارہ دینے کی مرتہن کاباذن راہن کے اوریہ امر مبطل رہن رہے یہ ماناکہ نئے دکانداروں کوبکرنے دکان نہ دی لیکن پرانے دکانداروں کوقائم رکھ کر منفعت بااجازت راہن حاصل کی۔

(۳) رہن میں زیادتی فی الدین حضرت امام الائمہ سیدابوحنیفہ الکوفی وحضرت امام محمد رحہمااﷲ تعالٰی کے نزدیک جائزنہیں حالانکہ پہلے ایک ہزارروپے میں رہن ہونااس کے بعد پانسوروپے اورلے کر ایک ہزارپانسو میں رہن ہونا خودبکرکوتسلیم ہے۔ اورامام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کا اس زیادتی فی الدین کوجائزکہناحجت نہیں ہے کہ فتوٰی اختلاف کی صورت میں امام صاحب کے قول پرہوتاہے چہ جائیکہ ان کے ساتھ امام محمد بھی ہیں۔
درمختارمیں ہے:
والاصح کما فی السراجیۃ وغیرھا انہ یفتی بقول الامام علی الاطلاق۔۱؎
اصح یہ ہے کہ سراجیہ وغیرہ میں ہے کہ فتوٰی مطلقاً امام اعظم کے قول پرہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار         رسم المفتی مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۴)
 (۴) بکرمرتہن نے جوزرکرایہ تعدادی چارہزارنوسوپینتالیس روپے آٹھ آنے کرایہ داروں سے بذریعہ زید وصول کیا ہے  وہ حق راہن یعنی زیدہے چنانچہ ،
وان باذنہ فللمالک کما فی درمختار۲؎ وتکون الاجرۃ للراھن کما فی قاضی خاں۳؎
اگر اس کی اجازت سے ہے تواجرت مالک کے لئے ہے جیساکہ درمختارمیں ہے کہ اجرت راہن کے لئے ہوگی جیساکہ فتاوٰی قاضی خاں میں ہے۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار        کتاب الرہن    فصل فی مسائل متفرقہ      مطبع مجتبائی دہلی   ۲/ ۲۷۸)

(۳؎ فتاوٰی قاضی خاں      کتاب الرہن      فصل فیمایجوز رہنہ ومالایجوزالخ نولکشورلکھنؤ   ۴/ ۸۹۵)
س پربیّن دلیلیں ہیں (بکرمدعی یہ کہتاہے) 

(۱) اقرارقبضہ جبکہ دستاویز میں تحریرہے تو ضرورت کسی دیگرثبوت کی نہیں کیونکہ مکانات مرہونہ کو راہن نے جب اپنے حقوق سے خالی کرکے مرتہن کے حوالے کردیا جس پردستاویز شاہد ہے تو مرتہن کاقبضہ پوراہوگیا۔

(۲) دستاویز کے یہ الفاظ کہ جومنافع بذریعہ سکونت وکرایہ مرتہن حاصل کرے وہ حق مرتہن ہے اور اس پربذریعہ راہن مرتہن کاعملدر آمد بہ صورت اجارہ باذن راہن ہے اوراجارہ باذن راہن مبطل ہی نہیں ہوتا بلکہ دینامرتہن کاباذن راہن مبطل ہوتاہے یہاں اجارہ دینا مرتہن کاثابت نہیں کیونکہ اس نے دکانات پرنئے دکانداروں کونہیں بٹھایا۔

(۳) زیادتی فی الدین امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک جائزہے اورمعاملات میں اکثر فتوٰی انہیں کے قول پرہوتاہے۔ دریافت طلب امریہ ہے کہ شرعاً عذرات مندرجہ بالابکرکے صحیح ہیں یا اقوال زیدکے صحیح ہیں ہرسوال کاجواب بالتفصیل نمبروار بحوالہ کتب فقہ عنایت ہو، بیّنوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب سے بیان کرو اور روزِحساب اجرپاؤ۔ت)
الجواب : عذرات زید صحیح ومسموع اورشبہات بکر باطل ومدفوع ہیں۔

(۱) رہن اوریہ اجارہ تو دو عقد ہیں جن کا حکم قبضہ کادست نگر، رہن بے قبضہ باطل اوراجارہ بے قبضہ نفاذ سے عاطل۔ بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
القبض شرط جواز الرھن لقولہ سبحٰنہ وتعالٰی فرھٰن مقبوضۃ وصف سبحٰنہ وتعالٰی الرھن بکونہ مقبوضا فیقتضی ان یکون القبض فیہ شرطا ولانہ عقد تبرع للحال فلایفیدالحکم بنفسہ کسائر التبرعات۔۱؎
جواز رہن کے لئے قبضہ شرط ہے اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ ''تورہن ہو قبضہ میں دیاہوا'' اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے رہن کو اس وصف کے ساتھ موصوف فرمایاکہ وہ مقبوض ہو۔ یہ اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ رہن پرقبضہ شرط ہواوراس لئے بھی رہن حال کے لئے عقدتبرع ہے توباقی تبرعات کی طرح باعتباراپنی ذات کے حکم کافائدہ نہیں دیتا۔(ت)
(۱؎ بدائع الصنائع     کتاب الرھن     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۶/ ۱۳۷)
اسی میں شرائط نفاذ اجارہ میں ہے:
الحکم فی الاجارۃ المطلقۃ لایثبت بنفس العقد عندنا لان العقد فی حق الحکم ینعقد علی حسب حدوث المنفعۃ فکان العقد فی حق الحکم مضافا الی حین حدوث المنفعۃ فیثبت حکمہ عند ذٰلک حتی لوانقضت المدۃ من غیر تسلیم المستأجر لایستحق شیئا من الاجر ولومضٰی بعد العقد مدۃ ثم سلم فلا اجرلہ فیما مضی لعدم التسلیم فیہ۔۱؎
اجارہ مطلقہ میں ہمارے نزدیک نفس عقد سے حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حکم کے حق میں عقد اجارہ منفعت کے پیدا ہونے کے مطابق منعقد ہوتا ہے۔ چنانچہ حکم کے حق میں عقدمنفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہوتاہے،لہٰذا منفعت کے پیداہونے کے وقت حکم ثابت ہوتا ہے یہاں تک کہ اگرمدت اجارہ گزرگئی اورآجرنے شیئ مستاجر کے حوالے نہ کی تو اجرت میں سے کسی شیئ کاحقدارنہ ہوگا۔ اور اگرعقد کے بعد کچھ مدت گزرگئی پھرآجرنے وہ شیئ مستاجر کے حوالے کی گزری ہوئی مدت کی اجرت کاحقدارنہیں ہوگا کیونکہ اس میں سپردگی نہیں پائی گئی۔(ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع     کتاب الاجارہ     فصل واما شرائط الرکن الخ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۴/ ۱۷۹)
Flag Counter