Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
47 - 135
مسئلہ ۷۴ و ۷۵:  مرسلہ محمدسبحان ازموضع پوراکوٹھی ڈاکخانہ شمشیرنگر ضلع گیا ۱۶صفرالمظفر۱۳۳۵ھ

(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہماری بستی میں مسلمانوں کی رائے ہے کہ شاہراہ بیچ بستی کے جوعام لوگ کوفائدہ پہنچ سکے ایک کنواں پختہ تیارکریں اورقیمت چرم قربانی کا اس میں خرچ کریں کیونکہ اس بستی میں ایک شخص کو کسی کو لیاقت نہیں جو ایک آدمی کنواں بندھواسکے پانی پینے کی ازحدتکلیف ہے ایسی حالت میں قیمت چرم قربانی کنویں میں خرچ کرنا جائزہے یانہیں؟ جواب سے سرفرازفرمایاجائے۔

(۲) ہم نے ایک بیگھہ کھیت گرویں مبلغ پچاس روپے اس شرط پردے کر لیاکہ تاادائے روپیہ ہم نے اس کھیت کو آباد کیااوراس کی مالگزاری لگان وغیرہ ہرسال اداکرتے گئے اور پیداوار اس کی اپنے مصرف میں لائے اس طورکاکھیت لیناجائزہے یانہیں؟
الجواب :

(۱) قربانی کی کھال ہرنیک ثواب کے کام میں صرف ہوسکتی ہے حدیث میں ہے:
کلواوادخرواواتجروا۔۱؎
کھاؤ، ذخیرہ کرو اور کارثواب میں خرچ کرو۔(ت)
(۱؎ مسنداحمدبن حنبل     حدیث نبیشۃ الہذلی    المکتب الاسلامی بیروت    ۵/ ۷۶۔۷۵)
ہاں جس نے دام حاصل کرنے کے لئے بیچی ہوئی ہو اس پرلازم ہے کہ وہ دام فقیروں ہی کو دے۔ 

حدیث میں ہے:
من باع جلد اضحیۃ لااضحیۃ لہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی اس کی قربانی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ ک۔ھق عن ابی ہریرہ     حدیث ۱۲۲۰۵    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۵/ ۹۴)
(۲)کاشت کارکھیت کامالک نہیں ہوتا، نہ اسے بے اجازت زمین دار رہن کرنے کا اختیار، اوریہاں اگرزمیندار بھی اجازت دے گا تو نہ اس طرح کہ کھیت معطل ہے اوراس کی لگان نہ ملے بلکہ یونہی کہ کھیت تم جوتو اورلگان اداکرو، یہ اجارہ ہوگا نہ کہ رہن، اس صورت میں اس نے جوروپیہ اس کاشتکار کودیا وہ اس کے ذمہ رہا اورکھیت کامستاجراس کی جگہ یہ ہوگیا اسے کھیت سے کوئی تعلق نہ رہا، زمیندار کواختیارہے اس کے پاس رکھے خواہ اسے واپس دے،یہ جوکچھ جوتے بوئے اس کا ہے لگان زمین دارکا ہے اوراس کاقرض کاشتکار پرہے، صورت شرعی تو اس میں یہ ہے، اوراگریہ سمجھتے ہیں کہ کھیت اسی کاشتکار سابق کے اجارہ میں ہے ہمارے پاس رہن ہے اورزمیندار نے بھی اسے مستاجر نہ بنایابلکہ اس کو رکھا اور اس نے اس کاقائمقام ٹھہراکر لگان لیا تویہ صورت باطل ہے مرتہن کو رہن سے نفع لیناجائزنہیں توامرناجائزکاقصدکیا اورناجائز کاقصدبھی گناہ ہے اگرچہ واقع کے خلاف ہوکہ یہ نہ رہن شرعی ہے نہ رہن واجارہ جمع ہوسکتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۶: مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگودریاست کوٹہ راجپوتانہ ۱۰/ربیع الاول شریف۱۳۳۵ھ

ایک کاشتکار کی زمین ملکیت سرکاری اس کاکھاتہ بند ہے اوروہ لگان اس کافی بیگہ دوروپیہ ماہوار بابت کاشت کاردیتارہتاہے یہی زمین اس نے رفع ہونے کی غرض سے مبلغ ایک صدروپے یا اس سے زیادہ کم میں کسی مسلمان کے رہن بالقبض کردی اب مرتہن نے اس کوکاشت کیا اوروہی سرکاری زمین کاجو سابق کاشتکار دیاکرتاتھا سرکارنے اس سے وصول کرلیایا اس نے کسی قدرمنافع پردے کرشخص کوکاشت کرادی توجومنافع زمین سرکاری سے مرتہن نے بحالت ادائیگی کھاتہ معہودہ سرکاری حاصل کیا وہ زررہن میں محبوس کرے گا یاکیا؟
الجواب: رہن واجارہ جمع نہیں ہوسکتے یہ زمین کہ اجارہ میں ہے رہن نہ ہوئی اورظاھراً یہاں یہ بھی نہیں ہوتاہے کہ گورنمنٹ اس کی جگہ اس کومستاجر زمین سمجھے بلکہ مستاجروہی رہتاہے اور یہ مثل ذیلی اور اس کا اس زمین سے انتفاع نہیں مگر بربنائے قرض اورقرض کے ذریعہ سے جو نفع حاصل کیاجائے جائزنہیں۔حدیث میں ہے:
کل قرض جر منفعۃ فھو ربا۱؎۔
جوقرض نفع لائے وہ سُودہے۔(ت)
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
ان جومرتہن نے گورنمنٹ کواداکی خود کاشت کی اوراس کے بدلے دی نہ راہن کی طرف سے، تو اس کاجس طرح راہن سے مطالبہ کوئی وجہ نہیں رکھتا، ہاں اگر راہن کہے کہ میرے ذمہ جولگان ہے وہ اداکیا کراب وہ اس بناپراداکرتاہے تو اس کامطالبہ راہن سے کرسکتاتھا اسی طرح جب کہ اس نے زمین میں کاشت کی توجوپیداوار ہے اس کایہی مالک ہے اگرچہ یہ انتفاع اس کوجائزتھا اس کے سبب زررہن سے کچھ ساقط نہ ہوگا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۷و۷۸: ازموہن پور    مسئولہ سالاربخش خیّاط    ۱۲/شعبان ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱)کھیت رہن ۶بیگہ مبلغ ایک سوروپیہ میں رکھاگیا اورلگان اس کا ۶روپیہ ہے اورکاشت خود کرتے ہیں توجائزہے یانہیں؟

(۲) زمین داری ۱۲بسبانسی رہن دخلی ۱۲سوروپیہ میں اورلگان سرکاری ۳۵روپیہ ہیں وہ جائزہے یانہیں؟
الجواب

(۱) صورت مسئولہ میں اگرموروثی کھیت دخلیکار آسامی سے بالعوض ایک سوروپے کے رہن رکھاہے تو اس میں خود کاشت کرنا اس وقت تک جائزنہیں کہ اصل مالک یعنی زمین دار سے اجازت حاصل کریں دخلیکار آسامی موروثی ہونے سے شرعاً مالک نہیں ہوتا، صورت جواز یہ ہے کہ اس پرقبضہ کے بعد اصل مالک یعنی زمین دار سے اس کے کاشت کی اجازت لے کر لگان زمین دار کوتامدت رہن اداکرتارہے اس کامنافع حلال طیب ہے یہ خیال نہ کرے کہ ہم نے دخلیل کار کوقرض دیاہے اوراس کی ملک رہن رکھی ہے اوراپنے قرض کانفع اس سے لیتے ہیں کہ یہ نیت غلط وباطل ہے اورقصدگناہ سے گناہگارہوگا بلکہ یہی نیت کرے کہ زمین زمیندار کی ہے دخیل کار سے اتنے دنوں کے لئے مل گئی ہے اورہم نے مالک سے اجازت لے کر کاشت کی ہے لہٰذاہم کواپنی کاشت کانفع حلال ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم 

(۲) مواضعات کادخلی رہن جیسا کہ آج کل رواج ہے قطعی حرام ہے، حدیث میں ارشاد فرمایا:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا۔۱؎
جوقرض کہ نفع لائے وہ سود ہے۔
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
مال مرہونہ سے کسی قسم کانفع اٹھانا مرتہن کو جائزنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۷۹: اودے پورمیواڑ مرسلہ احمدخاں وکیل دربار مارواڑ متعینہ مورخہ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ

جناب عالی! عرض ہے کہ زمین داری ۱۲بسوانسی رہن دخلی ۱۲سوروپیہ میں اور لگان سرکاری ۳۵روپیہ میں، وہ جائزہے یانہیں؟

مواضعات کادخلی رہن جیساکہ آج کل رواج ہے قطعی حرام ہے، حدیث میں ارشادفرمایا:
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۔۱؎
جوقرض کہ نفع لائے وہ سود ہے۔
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
مال مرہونہ سے کسی قسم کانفع اٹھانا مرتہن کوجائزنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter