Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
46 - 135
یہ سب اس صورت میں ہے کہ یہاں رہن تسلیم کرلیں ورنہ ہم ثابت کرچکے کہ سرے سے رہن جائزہی نہیں بہرحال ان صورتوں میں مرتہن کوکوئی مزاحمت پہنچتی ہی نہیں اوراگرابنائے زمانہ اسے نہ مانیں نہ مجوزین سے اس تجویز کی امیدہوکہ مدت سے نہ صرف کفاربلکہ دنیابھر کے عامہ حکام نے اپنے تراشیدہ قوانین باطلہ کے آگے شرع مطہر کے احکام حقہ عادلہ کو منسوخ سمجھ رکھا ہے توبکر فقط اُتنادَین کہ حصہ زید پر ہے اداکرکے اتنااستخلاص کرالے، اوراگریہ ناممکن ہو جب تک کل دَین ادانہ کیاجائے تومرتہن کاسارا مطالبہ اداکرکے جمیع جائداد رہن سے چھڑا کراپنا دَین حصہ زید سے وصول کرے اور جوکچھ اس میں سے مرتہن کودینا پڑے وہ تمام وکمال ورثاء عمرو سے وصول کرے کہ جو شخص دوسرے کادَین بے اس کے کہے بطورخود اداکرے وہ اس وقت متبرع ٹھہرتاہے کہ اس کی ادا میں مضطرنہ ہو اورجسے بے اس کے چارہ کارنہ ہو وہ متبرع نہیں اور اسے اصل مدیون سے وصول کرنے کا اختیاردیاجاتاہے اوراپنے حق تک بے اس کے نہ پہنچ سکنے کی بھی صورت اضطرار ہے جیساکہ یہاں ہے۔
درمختارمیں ہے:
اشتری اثنان شیئا وغاب واحد منھما فللحاضر دفع کل ثمنہ ویجبر البائع علی قبول الکل ودفع الکل للحاضر ولہ قبضہ وحبسہ عن شریکہ اذا حضر حتی ینقد شریکہ الثمن۔۲؎
دوشخصوں نے مل کر کوئی چیز خریدی پھر ان میں سے ایک غائب ہوگیا، تو جو حاضرہے اس کے لئے جائزہے کہ وہ کل ثمن اداکرے اوربائع کو کل ثمن وصول کرنے پرمجبورکیاجائے گا اورحاضر مشتری کو حق حاصل ہے کہ وہ مبیع کو اپنے قبضہ میں لے کردوسرے شریک سے روک رکھے یہاں تک کہ وہ شریک سے اس کے ثمن وصول کرلے۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار        کتاب البیوع    باب المتفرقات     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۵۱)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ غاب واحد منھما قید بہ لان لوکان حاضرا یکون متبرعا بالاجماع لانہ لایکون مضطرا فی ایفاء الکل اذیمکنہ ان یخاصمہ الی القاضی فی ان ینقد حصتہ ولیقبض نصیبہ فتح۔۱؎
ماتن کاقول کہ ''دونوں میں سے ایک غائب ہوجائے'' یہ قید اس لئے لگائی کہ اگر وہ حاضرہوتو کل ثمن اداکرنے والا بالاتفاق متبرع ہوگا کیونکہ وہ کل ثمنوں کی ادائیگی پرمجبورنہیں۔ اس لئے کہ قاضی کے پاس مخاصمہ کرکے وہ اپنے حصے کے ثمن دے کر اپنے حصے کامبیع حاصل کرسکتاہے، فتح۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب البیوع    باب المتفرقات    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۱۷)
درمختارمیں ہے:
رھن الاب من مال طفلہ شیئا بدین علٰی نفسہ جاز ولوادرک الابن و مات الاب لیس للابن اخذہ قبل قضاء الدین ویرجع الابن فی مال الاب ان کان رھنہ لنفسہ لانہ مضطر کمعیرالرھن۔۲؎
باپ نے اپنے ذاتی قرض کے عوض اپنے بیٹے کی کوئی چیزرہن رکھ دی تو جائزہے اگربیٹا بالغ ہوگیا اورباپ مرگیا ہے توقرض کی ادائیگی سے پہلے بیٹا مرہون کولینے کاحقدار نہیں۔ وہ بیٹاباپ کے مال میں رجوع کرے گا اگرباپ نے وہ چیز اپنی ذات کے لئے رہن رکھی ہوکیونکہ بیٹا اس میں مجبورہے جیسے رہن کو عاریت پردینے والا۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار            کتاب الرہن    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۷۴)
ردالمحتارمسئلہ معیرمیں ہے :
لانہ یرید بذٰلک تخلیص ملکہ فھو مضطرالیہ۳؎۔
کیونکہ اس عمل سے اس کامقصد اپنی ملکیت کی خلاصی کراناہے چنانچہ وہ اس میں مجبورہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار    کتاب الرہن    باب التصرف فی الرہن الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۳۱)
اورشرعاً اگرچہ یہ مرتہن مرتہن نہ ہو یا اس کا دَین بتمامہ توفیر سے اداہوگیا جس کے سبب اس کا مطالبہ شرعاً باطل ہو مگرقانون زمانہ کے اعتبار سے اسے بے اس کے دئیے اپنے حق تک وصول ناممکن ہے تو ادامیں مضطرہوا اوررجوع کااختیارملا۔ غرض مدارکاراضطرار پرہے نہ اس مطالبہ کے حق ہونے پر، 

درمختارمیں ہے:
وکذا النوائب ولو بغیر حق کجبایات زماننا فانھا فی المطالبۃ کالدیون بل فوقھا حتی لواخذت من الاکّار فلہ الرجوع علی مالک الارض وعلیہ الفتوٰی۱؎۔
یونہی شاہی ٹیکسوں کی کفالت صحیح ہے اگرچہ وہ ناحق ہوں جیسے ہمارے زمانے میں مظالم سلطانیہ کیونکہ وہ مطالبہ میں قرضوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدترہیں یہاں تک کہ اگر مزارع سے وہ مظالم وصول کئے گئے تووہ زمین کے مالک کی طرف رجوع کرسکتاہے اور اسی پرفتوٰی ہے(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الکفالۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۶۶)
ردالمحتارمیں ہے:
فی اٰخراجارات القنیۃ برمزظھیرالدین المرغینانی وغیرہ المستأجر اذا اخذ منہ الجبایۃ الراتبۃ علی الدور والحوانیت یرجع علی الاٰجر وکذا لاکار فی الارض وعلیہ الفتوی۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قنیہ کی کتاب الاجارات کے آخرمیں ہے ظہیرالدین مرغینانی وغیرہ نے ظاہرکیاہے کہ اگرکرایہ دار سے مروّج ٹیکس جوکہ گھر اوردکانوں پرعائد ہے وصول کیاگیا تو وہ آجر کی طرف رجوع کرے گا۔ اورفتوٰی اسی پرہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار     کتاب الکفالۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۸۲)
مسئلہ ۷۱ تا ۷۳: مسئولہ ظہورالدین صاحب    ۲۶صفر۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) اگرایک مسلمان کچھ زیور دوسرے مسلمان کے پاس لے کرگیا اوراس سے کچھ روپیہ قرض لیا اور زیوراپنا اس کے پاس روپیہ کی ضمانت میں رکھ دیا جس مسلمان کے پاس زیوررکھاگیاہے وہ زیورکاحق حفاظت یا کرایہ حاصل کرسکتاہے یانہیں؟اوراگرلے توجائزہوگایانہیں؟

زیورجس کے پاس رکھاگیا وہ بندہ خدا سُود سے بچناچاہتاہے اور اس طرح سے نفع حاصل کرناچاہتاہے۔

(۲) اگرایک مسلمان دوسرے مسلمان کے پاس کچھ روپیہ لینے گیا اوراس روپیہ کی ضمانت میں ایک دستاویز لکھا جس میں کوئی جائداد منقولہ یاغیرمنقولہ اس روپیہ کی ضمانت میں تحریر کی اب جس مسلمان نے کہ روپیہ دوسرے مسلمان کو دیا اوراس جائداد کی حفاظت کرنے کاروپیہ مانگتاہے لہٰذا اس کو لیناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔

مکرّر یہ ہے کہ یہ سناہے کہ حضونے رہن دخلی کی کوئی ایسی صورت نکالی ہے جو جائزہے امیدہے کہ اس سے بھی مطلع فرمایاجاؤں گا۔

(۳) مکرّر یہ کہ شرعی طورپر ایسی کون کون سی صورتیں پیداہوسکتی ہیں کہ جن سے مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے یا غیرقوم سے روپیہ کالین دین کرسکیں اورفائدہ اٹھاسکیں، امیدکہ ایک یا دوصورتیں تحریرفرمادی جائیں جو حسب تصریح فقہائے کرام ثابت یا حدیث نبوی میں واقع ہوں۔ اﷲ تعالٰی اس کا اجردے گا، فقط۔
الجواب :

(۱) زیورکہ روپیہ کی ضمانت میں دیاگیااس کے معنی بعینہٖ رھن رکھنے کے ہیں اوررہن کی حفاظت ذمہ مرتہن ہے کہ وہ اسی کے حق میں محبوس ہے اس پراُجرت لینے کے کوئی معنی نہیں اگرلے گا خالص سودہوگا، یہ نفع جائزنہیں ہوسکتا بلکہ قطعی حرام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم 

(۲) جائداد ضمانت میں دینایہاں دوطریقے پررائج ہے، ایک یہ کہ جائداد مالک ہی کے پاس رہتی ہے اور وہ دائن کولکھ دیتا ہے کہ یہ میں نے تیرے دین میں مکفول کی ہے اسے کفالت یا استغراق کہتے ہیں یہ شرعاً محض باطل ومہمل ہے، نہ اس میں کسی حق حفاظت کاوہم ہوسکتاہے کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی نہیں جاتی۔ دوسری صورت رہن دخلی کی ہے وہ خود ہی حرام وسُودہے۔ تیسری صورت جوشرعی ہے اور یہاں جاری نہیں وہ یہ کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی جائے اورمرتہن صرف اس پرقبضہ رکھے کسی طرح کانفع اس سے حاصل نہ کرے، یہ صورت جائز اوریہی رہن شرعی ہے اور اس کی حفاظت کا وہی حکم ہے جو جواب اول میں گزراکہ اس پر کچھ لینا محض سوداورحرام قطعی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم 

(۳) رہن دخلی کے جواز کی یہاں کوئی شکل نہیں، نہ میں نے نکالی ہے نہ کوئی نکال سکتاہے اس کے 

جواز کی صرف یہ صورت ہے کہ زیدنے عمروکے پاس اپنا مکان رہن رکھا اورکوئی شرط اس کی سکونت کی قرارنہ پائی، پھرزیدنے محض اپنی خوشی سے صرف بطوراحسان اسے سکونت کی اجازت دی اور وہ اس کی اجازت ہی کی بناپر اس میں رہناچاہتاہے، نہ اس پراصرارکرے گا نہ قرض کابارڈالے گا یہاں تک کہ اگراس نے اجازت دی اوریہ مکان میں رہنے کو آیا ایک پاؤں دروازے کے باہر اورایک اندر ہے کہ اس نے کہا اب میں اجازت نہیں دیتا توفوراً پاؤں باہرنکال لے ایسارہنا ہوتوممکن ہے، مگرکیایہاں ایسی صورت کااحتمال ہے، حاشاہرگزنہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter