Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
45 - 135
مسئلہ ۷۰: ازریاست رامپور محلہ زینہ عنایت خاں مرسلہ حامدعلی خاں صاحب ۱۸جمادی الاخری ۱۳۲۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ازروئے شرع مبین اندریں مسئلہ کہ زیدبکرکامقروض ہے بکرنے زید پرعدالت میں دعوٰی دائرکرکے عدالت سے اپنے وصول کرلینے قرضہ کی ڈگری حاصل کی ہے زیدکوایک جائداد متروکہ عمرواپنے مورث اعلٰی سے منجملہ ۱۶سہام کے ۶سہام شرعاً پہنچی، جائدادمتروکہ عمرواس کی حیات سے منجانب عمروایک شخص کے پاس رہن دخلی ہے اورکوئی جائداد زیدکی سوائے سہام مذکورہ نہیں ہے جس سے وصول ڈگری ہوسکے اندریں صورت بکرحق وحصہ مرہونہ زیدبہ تحفظ حق مرتہنی بکرعدالت سے نیلام کراکر زرڈگری اپناوصول کرنے کامختارہے یانہیں اگرشے مرہونہ مذکورہ شرعاً بغیرانفکاک نیلام نہیں ہوسکتی اورکیاصورت ہوسکتی ہے کہ بکراپنازرڈگری زید سے وصول کرسکے بکرمجبوراً کل زررہن یافتنی مرتہن قابض عدالت میں داخل کرکے اور انفکاک کرکے حق وحصہ زیدجائداد مذکورہ سے نیلام کرادے اوربصورت مذکورہ بکر زر رہن اداکردہ خود کو دے کربکر حصہ داران شرکاء زید سے شرعاً وصول کرنے کامختارہوگا یانہیں؟فقط
الجواب : بیان سائل سے معلوم ہواکہ وہ جائداد گاؤں ہے اوراس کی زمین زمانہ عمروسے مزارعوں کواُٹھی ہوئی ہے وہ اس پربدستور قابض رہے ان سے  زمین نکالی نہ گئی اوراسی حالت پروہ گاؤں ایک شخص کے پاس دخلی رکھ دیااورواقعی یہاں پر یہی معمول ہے یوں ہی کرتے ہیں اجارہ مقدم ہوتاہے رہن مؤخر بلاتخلیہ مزارعین ہرگزنہ زمین سے دست بردارہوتے ہیں نہ اپنا عقد فسخ کرتے ہیں بلکہ اسی مقبوض فی اجارہ کو محض زبانی وکاغذی باتوں سے معاً مقبوض فی الرہن تصورکرلیاجاتاہے حالانکہ شیئ واحد پر وقت واحد میں دوقبضہ مختلف واردنہیں ہوسکتے توحقیقۃً رہن بے قبضہ وبے اثررہتاہے اگرچہ براہ نادانی اسے زمین پرقبضہ ہونا سمجھیں اور رہن دخلی کہیں، اعتبارحقائق کاہے نہ مزعومات عوام کا، لہٰذا اس صورت میں اصل حکم شرعی یہ ہے، رہن سرے سے جائزہی نہیں، نہ مرتہن کوجائداد میں کوئی حق کہ اورقرضخواہوں پرمقدم ہوحاکم زیدکوحکم دے کہ اپنے سہام بیچ کرڈگری اداکرے اگروہ نہ مانے حاکم نیلام کردے اور حق مرتہنی کوئی نہیں جس کاتحفظ کیاجائے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
الواجب فی ذٰلک شرعا النظر فی کلا العقدین (الرھن والاجارۃ) فان کان البیت مقبوضا فی الرھن دون الاجارۃ اعتبر وکان المرتھن احق بمالیتہ من المستاجر ومن سائر غرماء المیت وان کان مقبوضاً فی الاجارۃ دون الرھن کان المستاجر (ای الذی عجل الاجرۃ) احق من المرتھن ومن سائر الغرماء (حتی یستوفی الاجرۃ المعجلۃاھ در) وان خلا العقدان عن القبض کان جمیع الغرماء اسوۃ فیہ یتقاسمونہ بقدر حقوقھم وان اتصل بکل منھما قبض فالعبرۃ للاسبق تاریخا منھما مالم یجزصاحب القبض العقد المتاخر لانفساخ السابق بالاجازۃ منہ اللعقد اللاحق وکل ھذہ الاحکام صرح بھا علمائنا الاعلام۱؎اھ مختصرا موضحا بزیادۃ مابین الاھلۃ۔
اس میں شرعی طورپرواجب یہ ہے کہ دونوں عقدوں یعنی رہن واجارہ میں نظرکی جائے۔ اگراس گھرپرقبضہ بطوررہن ہے نہ کہ بطور اجارہ تووہ معتبرہوگا اورمرتہن مرہون کی مالیت کا مستاجر اورمیت کے دیگرقرضخواہوں سے بڑھ کرحقدارہوگا، اوراگرقبضہ بطوراجارہ ہے نہ کہ بطور رہن تو کرایہ دار (جس نے پیشگی کرایہ اداکردیاہے) مرتہن اوردیگر قرضخواہوں سے بڑھ کر مرہون کی مالیت کاحقدارہوگا(یہاں تک کہ وہ پیشگی اداکیاہواکرایہ پوراوصول کرلےاھ در) اوراگردونوں عقد قبضہ سے خالی ہوں تو تمام قرضخواہ اس میں برابرہوں گے جواپنے اپنے حقوق کے مطابق اس کو تقسیم کریں گے۔ اوراگردونوں عقدوں میں سے ہرایک کے ساتھ قبضہ متصل ہے توجو قبضہ تاریخ میں مقدم ہے اس کااعتبارکیاجائے گاجب تک سابق قبضہ والابعد والے عقد کی اجازت نہ دے دے کیونکہ اس کی طرف بعد والے عقد کی اجازت کے باعث پہلا عقد فسخ ہوجائے گا۔ ان تمام احکام کی ہمارے علماء کبارنے ایسی تصریح فرمائی جو مختصرمگرچاند سے بڑھ کرواضح ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الخیریۃ    کتاب الرھن     دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۹۲ و ۱۹۳)
اوراس کے سوا یہاں ایک اورنکتہ ہے رہن تو شرع میں نہیں ہوتا مگردخلی،
قال تعالٰی فرھٰن مقبوضۃ۲؎
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تورہن قبضہ میں کیاہوا۔ت)
 (۲؎ القرآن الکریم      ۲/ ۲۸۳)
مگرعوام جسے رہن دخلی کہتے ہیں جس میں مرہون سے مرتہن کاانتفاع شرط ہوتاہے جیسے مکان رہن میں اس کا رہنا یادیہہ رہن کی توفیر لینایہ قطعاً سوداورمحض حرام اورمردودہے کما حققناہ فی فتاوٰنا (جیساکہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی میں کردی۔ت)
حدیث میں ہے:
کل قرض جرّ منفعۃ فھو ربا۱؎۔
جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے(ت)
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
جواھرالفتاوٰی میں ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھو ربا۔۲؎
جب شرط لگادی گئی تو یہ ایساقرض ہوگیا جس میں منفعت ہے اور وہ سود ہے(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        بحوالہ الجواہر الفتاوٰی     کتاب الرہن     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۱۰)
اورازآنجا کہ مزارعوں سے عقد کرنے والا راہن ہی ہوا،
لانہ العاقد والمنافع انما تتقوم بالعقد۔
کیونکہ عقد کرنے والا راہن ہے اورمنافع عقد کے ساتھ قائم ہوتے ہیں(ت)
تنویرمیں ہے:
ماھو بدل عن المنفعۃ کالکسب و الاجرۃ یکون للراھن۔۳؎
جومنفعت کابدل ہے جیسے کسب واجرت وہ راہن کا ہے۔(ت)
 (۳؎ الدرالمختار        شرح تنویرالابصار    فصل فی مسائل متفرقہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۷۷)
توراہن نے مرتہن نے اتنی توفیرپائی کہ اس کے تمام وکمال دَین کے برابریازائدتھی اوردَین وتوفیرایک جنس ہوں مثلاً روپے قرض دئیے اورمزارعوں پربھی لگان میں روپیہ ہی دیاہے نہ بٹائی تومرتہن نے اپنادین وصول پالیا اور وہ چاہے یانہ چاہے مقاصہ ہوگیا یعنی یہ توفیر کہ اس نے لی غصباً تو اس قدرراہن کادَین مرتہن پرلازم ہوا اورجبکہ یہ اس مقدار کوپہنچ گیا تھا جتنا اس کا دَین راہن پرتھا دونوں کامعاوضہ ہوااتنی توفیر کا تاوان مرتہن پر سے جاتارہا اورمرتہن کادَین راہن پرسے اترگیا اورجائداد رہن سے نکل گئی اب اسے اس پرکوئی حق ومطالبہ باقی نہیں ہے ڈگری داربلامزاحمت اپناحصہ زید سے وصول کرے،
اشباہ والنظائر میں ہے:
اٰخرالدینین قضاء للاول۔۱؎
دوقرضوں میں سے بعد والاپہلے کی ادائیگی ہوتاہے۔(ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثانی     کتاب المداینات     ادارۃ القرآن کراچی     ۲/ ۴۷)
اُسی میں ہے:
للزوج علیھا دین وطلبت النفقۃ لاتقع المقاصۃ بدین النفقۃ بلارضاء الزوج بخلاف سائر الدیون لان دین النفقۃ اضعف فصار کاختلاف الجنس فشابہ مااذاکان احدالحقین جیداوالاٰخرردیالاتقع التقاص بلاتراض۔۲؎
خاوندکابیوی پرقرض ہے اوربیوی نے نفقہ کامطالبہ کیاتوخاوند کی رضامندی کے بغیر قرض میں سے نفقہ کامجرانہیں ہوگا بخلاف دوسرے قرضوں کے کیونکہ نفقہ کاقرض ضعیف ہوتاہے تو وہ اختلاف جنس کی طرح ہوکر اس صورت کے مشابہ ہوگیا جس میں دو حقوں میں سے ایک جید اوردوسرا ردی ہوتا ہے، جس میں باہمی رضامندی کے بغیر دونوں کو ایک دوسرے کابدلہ قرارنہیں دیاجاتا۔(ت)
(۲؎الاشباہ والنظائر    الفن الثانی     کتاب المداینات     ادارۃ القرآن کراچی  ۲/ ۴۹)
اوراگرلگان روپے سے ہوا اور موت راہن تک مرتہن کی توفیر بقدراپنے دین کے نہ ملی اگرچہ ایک ہی روپیہ کم ہو تو اس صورت میں اگرچہ جائداد راہن سے نہ نکلی اور اسے حق حبس حاصل ہے، 

درمختارمیں ہے:
لایکلف من قضی بعض دینہ تسلیم بعض رھنہ حتی یقبض البقیۃ۔۳؎
جس مرتہن کابعض قرض ادا کردیاگیاہو اس کو بعض رہن راہن کے حوالے کرنے کا مکلف نہیں ٹھہرایاجائے گا جب تک وہ اپناباقی قرض وصول نہ کرلے۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار        کتاب الرھن         مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۷)
ولہٰذا وہ صورت کہ صرف بقدرسہم زیدادائے دَین کرکے اتنے حصے کو فک کرالیں بے رضائے مرتہن ناممکن ہے اوربعد موت راہن جوتوفیرمرتہن لیتارہا اس سے مقاصہ نہ ہوگا کہ اب عاقد خود مرتہن ہے توبعد کی توفیر کایہ خود ہی مالک ہوگا،
لما قدمنا ان المنافع فی الاجارۃ وتتقوم الابالعقد فلایملکھا الا العاقد کائنا من کان۔
ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ منافع کاقیام عقد کے ساتھ ہی ہوتاہے لہٰذا سوائے عاقد کے چاہے وہ کوئی ہو مکان کامالک نہیں ہوتا۔(ت) 

اگرچہ بوجہ ربا ملک خبیث وحرام ہے اوراس پر فرض ہے کہ یہ توفیر مالکان جائداد کو دے اوریہی بہترہے یاتصدق کردے کما حققناہ فی فتاوٰینا (جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) مگرازانجا کہ ملک حرام ہے اور اولٰی یہی ہے کہ مالکوں کو دے تومرتہن کے لئے خیریہی ہے کہ بعد موت راہن بھی اگرتوفیر بقدردَین وصول ہوگئی جائداد سے دست بردار ہو۔ یونہی توفیر اگرروپیہ نہ تھی بلکہ بٹائی ہے تو اس کا غلہ بھی اگرموت راہن تک یا اس کے بعد آج تک اتناوصول ہوگیاکہ بازار کے بھاؤ سے اس کی قیمت دَین کے برابر ہو جب بھی اس کے لئے بہتریہی ہے کہ اپنادین وصول سمجھے اورجائداد چھوڑدے بلکہ جتناروپیہ یاغلہ دَین سے زائد آیا ہو مالکان جائداد کو واپس دے۔
عقود الدریہ میں ہے:
یرد ما قبض علی المالک وھو الاولٰی ثم سئل أیلزم المسمّی للمالک ام للعاقد فقال للعاقد ولایطیب لہ بل یردہ علی المالک۔۱؎
مرتہن نے جوکچھ قبضہ میں لیا ہے وہ مالک کو لوٹادے وہی اولٰی ہے۔ پھرپوچھا گیاکہ مقررشدہ بدل مالک کے لئے لازم ہوگا یا عاقد کے لئے فرمایا عاقد کے لئے مگر وہ اس کے لئے اچھا انہیں بلکہ وہ مالک کو لوٹادے۔(ت)
 (۱؎ العقود الدریۃ    کتاب الاجارۃ     ارگ بازار قندھارافغانستان     ۲/ ۱۱۰)
وجیزکردری وغمزالعیون میں ہے:
اٰجر المرتھن الرھن من اجنبی بلااجازۃ الراھن فالغلۃ للمرتھن ویتصدق بھا کالغاصب اویردھا علی المالک۔۲؎
مرتہن نے راہن کی اجازت کے بغیر مرہون کو اجارہ پردے دیا تو آمدن مرتہن کے لئے ہوگی تو وہ غاصب کی طرح اس کو صدقہ کرے یا مالک کو لوٹادے۔(ت)
 (۲؎ غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر کتاب الرہن ادارۃ القرآن کراچی۲/ ۱۳۔۱۱۲)
خیریہ میں ہے:
والثانی افضل لخروجہ من الخلاف۔۱؎
اختلاف سے نکلنے کے لئے دوسری صورت افضل ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الخیریۃ    کتاب الاجارۃ    دارالمعرفۃبیروت    ۲/ ۱۲۵)
Flag Counter