Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
44 - 135
مسئلہ ۶۸:  ازلکھنؤ نئی سڑک جوتابازار نخاس مرسلہ حاجی قدرت اﷲ خاں تاجر جفت پاپوش ۵جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ

استفتاء مزید (یعنی نسبت مسئلہ آمدہ ازکانپور ۳صفر۱۳۲۶ھ)

واقعات مندرجہ استفتاء سابق میں لکھاہے (بعدا س زمین کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیاکہ کرایہ عمرومرتہن کودیاکریں) اس کی نسبت عمرومرتہن نے ظاہرکیاہے کہ صحیح واقعہ اس طرح ہے کہ بربنائے شرط مندرجہ دستاویز ایک ماہ کے بعد راہن نے کرایہ داروں سے کہاکہ کرایہ عمرومرتہن کودیاکریں، اگریہ صحیح واقعہ استفتاء میں تحریرہوتا توفتوٰی یہ ہوتاکہ شرعا بیع صحیح ہوگئی اورکرایہ وصول شدہ ملک مرتہن ہے۔ لہٰذا حضرات علمائے کرام مدظلہم العالی کی خدمت والا میں بکمال ادب گزارش ہے کہ عبارت استفتاء منسلکہ (بعد اس رہن کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیاکہ کرایہ مرتہن کودیاکریں) عبارت صحیح یہ ہے کہ (بربنائے شرط مندرجہ دستاویز ایک ماہ کے بعد کرایہ داروں سے راہن نے کہہ دیاکہ کرایہ مرتہن کودیاکریں) پس اس تصحیح واقعہ وتبدیل عبارت کے بعد احکام مندرجہ فتوٰی میں کیاتبدیلی ہوگی، اور کیا اس صورت میں جائداد بیع ہوجائے گی اورکرایہ وصول شدہ مِلک مرتہن ہوگا، بملاحظہ حالات مندرجہ استفتاء سابق وتصحیح واقعہ مندرجہ استفسار مزیدہٰذا وفتوٰی منسلکہ جواب بحوالہ کتب عطاہو۔
الجواب : اس تبدیلی سے ایک تغیرضرورہوا سوال سابق میں اگرعبارت یوں صاف مصرح ہوتی تو جواب میں بہت تخفیف رہتی، عبارت اولٰی سے ظاہریہ تھاکہ رہن کے بعد ہی راہن نے کرایہ داروں سے ایساکہہ دیااورجب کہ یہ شرط رہن نامہ نہ تھا کہ اس میں حصول بیع وملک مرتہن انقضاء میعاد ایک ماہ وعدم فک رہن پرمشروط تھا پیش ازمیعاد رہن کے اس کہہ دینے سے ناواقف کووہم ہوسکتاتھا کہ راہن نے کرایہ داروں سے اپنااجارہ فسخ کرکے مرتہن سے اجارہ کرادیا اورگویا اس طرح رہن پرمرتہن کاقبضہ ہوگیا جس کے دفع کوفتوائے سابقہ میں وہ تقدیرلکھی گئی نیزیہ وہم ہوسکتاتھا کہ جب کہ اجازت قبل میعاد بربنائے شرط نہیں تو یہ راہن کامرتہن کومحض احسانا بلاشرط اپنی طرف سے منافع مرہون کی اجازت دیناہواتووہ کرایہ حق مرتہن میں حلال ہوناچاہئے۔
تنویرالابصارمیں ہے:
لہ حبس رھنہ لاالانتفاع بہ مطلقا الاباذن۔۱؎
مرتہن کومرہون کے روک رکھنے کااختیار ہے نہ کہ اس سے کسی قسم کانفع حاصل کرنے کاسوائے اس کے کہ راہن اس کو اجازت دے دے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار    کتاب الرہن     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۶)
جواہرالفتاوٰی پھرمنح الغفار پھرردالمحتارمیں ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ وھو ربا والالاباس۔۲؎
اگرمرہون سے نفع اٹھانے کی شرط لگادی گئی تو یہ ایساقرض ہوگیا جس میں منفعت ہے اور وہ سودہے۔ اوراگرشرط نہیں لگائی گئی توکوئی حرج نہیں۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ الجواہر    کتاب الرہن     داراحیاء الترا ث العربی بیروت    ۵/ ۳۱۰)
اور اس جواب کی حاجت ہوتی جسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں منقح کیا جس کاخلاصہ یہ کہ محض بروجہ تبرع واحسان اجازت انتفاع یہاں لفظ بے معنی واسم بے مسمّی ہے یقینا قرض  ہی کے دباؤ سے اجازت ہوتی ہے مرتہن اسے اپناحق سمجھتے ہیں اور معروف مثل مشروط ہے تو وہ خالص ربا ہی ہے ۔
طحطاوی علی الدرالمختارپھرردالمحتارمیں ہے:
والغالب من احوال الناس انھم یریدون عندالدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۔۱؎
لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ رہن رکھتے وقت نفع اٹھانے کاارادہ کرتے ہیں وگرنہ قرض پر درہم ہی نہ دیں گے، اوریہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہوتاہے اور وہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الرہن     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۱۱)
نیز یہ وہم ہوسکتاتھا کہ شرعاً بوجہ تعلیق وعدم قبضہ نہ یہاں بیع ہوئی نہ رہن تمام اوریہ اجازت پیش ازمیعاد اس قرارداد پرمبنی نہیں کہ کہاجائے جب وہ عقد باطل ہوا یہ اجازت بھی باطل ہوگئی اذا بطل المتضمن بطل المتضمن (جب متضمن باطل ہوگیا تومتضمن بھی باطل ہوگیا۔ت) بلکہ یہ ایک اجازت مستقلہ ہے تواپناعمل کرے گی لصدورھا عن اھلھا فی محلھا (اس لئے کہ یہ اپنے اہل سے اپنے محل میں صادرہوئی۔ت) اورجواب کی حاجت ہوتی ہے کہ رہن نہ سہی قرض تو ہے اوراسی کی وجہ سے یہ اجازت ہے ورنہ راہ چلنے کے لئے کہہ دیتاکہ میری تمام مکانات دکانات کاکرایہ آج سے فلاں کودیاکرو اورخود اپنے مکان سکونت کاکرایہ دینا اس پردلیل قاطع ہے تواجازت اگرچہ مستقلہ ہے اجازت حرام وربا ہے اور ربا ہندہ کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتاہے۔
حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا۲؎، رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
جو قرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔اس کو حارث بن ابی اسامہ نے بروایت امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کیاہے۔(ت)
(۲؎ کنزالعمال     بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
امام عبداﷲ ابن محمد ابن اسلم سمرقندی نے فرمایا:
اذن لہ فی الربا لانہ یستوفی دینہ کاملا فتبقٰی لہ المنفعۃ فیکون ربا وھذا امرعظیم۱؎۔
راہن کامرتہن کومرہون سے نفع اٹھانے کی اجازت دینا سود کی اجازت ہے کیونکہ وہ اپنا قرض مکمل وصول کرتاہے تو اس کے لئے نفع باقی رہا جوکہ سودہوگیا اور یہ امرعظیم ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     بحوالہ عبداﷲ ابن محمدبن اسلم السمرقندی    کتاب الرہن     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۱۰)
اس پراعتراض ہوسکتا ہے کہ یہ فضل ربانہیں بلکہ فضل مستحق بالعقد اوریہ جبکہ پیش ازمیعاد ووقت قرارداد ہے مستحق بالعقدنہیں اورپھر اسی تنبیہ کی ضرورت ہوتی کہ:
المعھود عرفا کالمشروط لفظا۔۲؎
جوعرف میں معہود ہو وہ لفظوں میں مشروط کی مثل ہے۔(ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول     القاعدۃ السادسہ     ادارۃ القرآن کراچی     ۱/ ۱۳۱)
غرض اس عبارت سابقہ میں متعدد اوہام اوراس کے دفع کی مؤنت تھی اب کہ سوال میں آپ کی تصریح ہوگئی کہ حسب قرارداد وبعد مرورمیعاد اسی شرط کی بنا پر راہن نے یہ اجازت دی سب مؤنتیں اٹھ گئیں اورخود ہی ظاہرہوگیاکہ یہ اجازت اسی شرط باطل پرمبنی تھی اورباطل پرجوکچھ مبنی ہو باطل ہے۔ 

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فھو باطل ان کان مائۃ شرطا فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق۔ رواہ الشیخان۳؎ عن اُمّ المومنین رضی اﷲ عنہا۔
ان لوگوں کاکیاحال ہے جوایسی شرطیں لگاتے ہیں جوکتاب اﷲ میں نہیں ہیں، جو شرط بھی کتاب اﷲ میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ سوشرطیں ہوں پس اﷲ کافیصلہ زیادہ حق والا ہے اوراﷲ کی شرط زیادہ مضبوط ہے۔ اس کو شیخین نے ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری    کتاب الشروط     باب الشروط فی الولاء    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۷۷)

(صحیح مسلم         کتاب العتق         باب بیان الولاء لمن اعتق     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۴۹۴)
تو اس تبدیل سے احکام فتوائے سابقہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی بلکہ اوران کی تائید وتوکید ہوگئی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۹: ازمقام مذکور     ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ

حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ قبل اس کے دوعریضے خدمت اقدس میں روانہ کئے ہیں مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی افسرمدرس مدرسہ ندوہ کی رائے یہ معلوم ہوئی کہ وہ منافع جائداد مرہونہ ملک مرتہن بتاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ عالمگیری میں ایک جزئیہ موجودہے الاأن یأذن الراھن (مگریہ کہ راہن اجازت دے دے۔ت) براہ دستگیری عاجز ان اس کے متعلق جوتحقیق صحیح حضوروالا کی رائے میں ہو اس سے آگاہ فرماکے سرفرازی بخشی جائے بعید بندہ نوازی سے نہ ہوگا، زیادہ حدادب۔ عریضہ قدرت اﷲ خاں ازلکھنؤنئی سڑک جوتابازار۔
الجواب : وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، آج چوتھا روزہے جواب فتوٰی حاضرکرچکاہوں، غالباً اس کے وصول سے پہلے آپ نے یہ کارڈلکھا۔ اس فتوٰی میں اس وہم کے تین رد موجودہیں:

(۱) یہاں رہن ہی نہیں محض قرض ہے اورقرض پرنفع سوداورسودکسی کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا۔

(۲) اگررہن بھی مانیے تواجازت راہن جسے شرع اجازت مانتی ہے یہاں عنقا ہے ہرگز محض اس کی اجازت بروجہ احسان وتبرع کے طورپر نفع نہیں لیتے بلکہ دَین کے دباؤ سے جس پر اس مرتہن کاراہن کودربارہ کرایہ نوٹس دیناشاہدہے احسان وغیرہ پرنوٹس نہیں ہوتا لاجرم اسے اپناحق سمجھا اوربالجبرحاصل کرناچاہاپھراجازت سے ہوناکیسا۔

(۳) ان سب سے قطع نظرہوتو جب سائل نے تصریح کردی کہ یہ اجازت بعد انقضائے میعاد بربنائے قراردادتھی توقطعاً نفع کی شرط ہوگئی اوردَین پرجونفع شرط کرلیاجائے بالاجماع رباوحرام قطعی ہے اسے بہ اجازت راہن لینانہیں کہہ سکتے بلکہ معاہدہ فاسدہ محرمہ۔
ولاحول ولاقوۃ الابالرب العلی العظیم وھو تعالٰی اعلم۔
بلندی وعظمت والے رب کی توفیق کے بغیر نہ توبچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
Flag Counter