فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
43 - 135
مسئلہ۶۵: حیدرآباد دکن محلہ قاضی پورہ دفتر قادری تفسیر مرسلہ جناب مولوی سیدعبدالجبار صاحب سلمہ ۱۰شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکرسے زیدنے مکان رہن لیا اوراب زید اس مکان کے کرایہ سے یاخودرہ کرمنتفع ہوناچاہتاہے آیا درست و جائزہے یانہیں؟ زیدکابیان ہے کہ کچھ خفیف ترمیم یاآہک پاشی میں اپنی ذات سے کرلیتاہوں اس صور ت میں کیاانتفاع جائزہوسکتاہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب : مرتہن کو رہن سے کسی طرح کاانتفاع جائزنہیں، نہ رہ کر نہ کرایہ پر، سب حرام اورسودہے۔
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو، رواہ الحارث فی مسندہ۱؎ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ۔
جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔ اس کو حارث نے اپنی مسندمیں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸)
یہاں جوانتفاع ہوت اہے معروف ومعہود ہے اور معروف مشروط اورمشروط بالاجماع حرام اوروہ یقینا روپے کے دباؤ سے ہوتاہے تویہاں اذن راہن کی صورت متحقق نہیں اگرچہ حیلہ باطلہ کے طورپراس کانام کرلیا ہے کہ انتفاع بالاذن کے یہ معنی ہیں کہ نہ اس کی شرط ہو نہ اس پراصرار بلاشرط اگرراہن بطورخود مثلاً کسی وقت سکونت کی اجازت دے توصرف اس کے اذن کی بنا پر رہناچاہئے اوراس میں اپنے کو ہروقت اس کے اذن کامحتاج جانے یہاں تک کہ وہ اس وقت کہہ دے کہ باہرنکل جاؤ تو وہ فوراً بلاعذر چلاجائے یا اس نے اجازت دی اورنہ اسباب لایا ایک قدم دروازے کے اندر اورایک باہر ہے کہ راہن نے کہہ دیامجھے منظورنہیں توفوراً قدم باہرنکال لے یہ صورت اذن راہن کی ہے مگرحاشا اس کاوجود کہاں بلکہ بالیقین بزوررہتے ہیں اورتاادائے دَین راہن ہرگزنہیں منع کرسکتا ہے اور منع کرے تو ہرگزنہیں مانتے۔ لاجرم حکم مطلقاتحریم ہے۔
طحطاوی علی الدرالمختارپھرردالمحتارمیں ہے:
الغالب من احوال الناس انہم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھٰذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۲؎ انتھی۔
لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ رہن دیتے وقت نفع حاصل کرنے کاارادہ کرتے ہیں وگرنہ وہ قرض کے لئے درھم ہی نہ دیں گے۔ اور یہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کی مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔انتہی(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۱۱)
آہک پاشی وغیرہ کاحیلہ مفیدنہیں کہ اگراسے اُجرت ٹھہرائیں تو اول تورہن واجارہ دو عقدمتنافی ہیں جمع نہیں ہوسکتے اوررہن چھوڑکر اجارہ مانیں تواجرت مجہول ہے اورایسااجارہ حرام اورعاقدین گنہگار اوردونوں پر اس کافسخ واجب، اور وہ نہ کریں توحاکم پرلازم کہ جبراً فسخ کردے دفعاً للمعصیۃ کما فی الدرالمختار وغیرہ (معصیت سے بچتے ہوئے جیساکہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۶: ازبھڑوچ مسئولہ محمدعبدالرشید خاں صاحب ۱۹محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس عمرونے باغ وزمین گرورکھا چندعرصہ میں عمرومع آل اولاد مرگیا اب اس کے باغ وزمین کاواپس لینے والاکوئی نہ رہا وہ باغ وزمین زیدہی کے پاس ہے، اب اگرزید اس باغ وزمین کی آمدنی کے روپے سے خیرات وحج کرے توازروئے شرع شریف درست ہے یانہیں؟
الجواب : اگروہ باغ وزمین اس کے روپے سے جو اس نے راہن کردیاتھا زیادہ قیمت کی ہوں جیساکہ اکثراشیاء مرہونہ میں یہی ہوتاہے تو یہ اس سب کامالک نہیں ہوسکتا بقدراپنے روپے کے لے سکتاہے باقی فقرائے مسلمین کاحصہ ہے جبکہ فی الواقع مالک کاکوئی وارث نہ رہا ہو جس قدراس کاحصہ ہے اس سے حج کرسکتاہے اورتصدق سب کاممکن ہے اپنے حصہ کا باختیار خوداورحصہ فقراء اس طرح کہ وہ انہیں کامال ہے اوراگر اس کی مالیت اس کے روپے سے کم یابرابر ہو تو اس سب کو اپنے دین میں سے لے سکتاہے،
علٰی مانقل الفتوٰی علیہ فی ردالمحتار ان فی زماننا اخذ حقہ من خلاف جنسہ۔۱؎
جیساکہ اس پرفتوی منقول ہے۔ ردالمحتارمیں ہے کہ ہمارے زمانے میں اس کو خلاف جنس سے اپناحق وصول کرنے کااختیارہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب السرقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۰۰)
(ردالمحتار کتاب الحجر۴/ ۹۵ وکتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ۴/ ۲۷۱)
اس وقت اس سے حج وتصدق کاجواز خود ظاہرہے۔
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۶۷: ازقصبہ دوکانہ خاص پاڑھم ضلع مین پوری مرسلہ حکیم ظہورالدین صاحب ۱۷ربیع الآخر۱۳۱۰ھ
جناب فضیلت مآب فیض اکتساب دام اقبالکم، بعد سلام علیکم آنکہ مژدہ صحتوری مزاج کامدام دعاگو درجواب باصواب کاآپ کے اسلامی معاملات شہرہ ویکتائے آفاق ہے منتظر مثل ماہی بے آب ہوں۔یہ مسئلہ بذریعہ سوال مندرجہ ذیل صدرکے بجواب مندرجہ تحت کہ جس کے نقل منسلک ہذا ہے آنجناب نے عرصہ گزرا کہ حل فرمایاتھا تو۴بسوہ ۳ سوانسہ ۶کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ مال غصب اس وقت معلق تھا کہ بعدہ جس کادعوٰی ورثائے شخص کوثالث نے باستحقاق مستحقہ مجوزہ عدالت بابت دخلیابی بانفکاک الرہن وزیرعدالت کہ جو ۱۳مئی ۱۸۹۱ء کو بعارض تمادی قانون انگریزی ڈسمس ہواتواب جوورثاء راہنہ کو جو ۱۶سوانسہ ۱۳کچوانسہ اورایک ثلث کچوانسہ اورمنجملہ پانچ بسوہ رہن کردہ مذکورہ کی پاچکے ہیں اس ۴بسوہ ۶کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ ملکیت مال معلق کو فک الرہن کرادیں تواب بھی ہوسکتاہے یاکہ بوجہ اس کے ورثائے شخص ثالث مستحقہ کادعوٰی ڈسمس ہونے سے قائم مقام مرتہن شرعاً مالک اصل ہوگیا اورورثہ راہنہ غاصبہ کوانفکاک الرہن کاکوئی حق باقی نہ رہا اوراگرشرعاً استحقاق ہے تو اب بصورت استحقاق ورثہ راہنہ فک الرہن کرادیں تو اصل مالک یہ بھی رہے گی یاکہ ورثائے شخص ثالث کو استحقاق پھربھی ورثہ راہنہ پرپہنچانے کا رہے گا یاکہ کوئی حق ورثائے ثالث کا اب بوجہ اس کے اس کا دعوٰی ڈسمس ہوچکاہے نہیں رہا امید کہ جیسی صورت شرعاً ہوبجواب مفصل صاف بحوالہ کتب بواسطے خداورسول جواباً ارقام فرماکر معززممتازفرمائیں، والسلام
الجواب : اٹھارہواں سال ہے کہ ذی القعدہ ۱۳۱۳ھ میں یہ مسئلہ یہاں سے لکھاگیاوہی جواب اس کا اب بھ ہے جو جب تھا حق انفکاک وارثان راہنہ کو ہے ادائے دین مرتہن راہنہ ہی کے ترکہ سے ہوگا جزء معلق کی نسبت اگرثابت یاوارثان راہنہ کومعلوم ہے کہ وہ شخص ثالث کا ہے تو ان پرفرض ہے کہ بعد انفکاک وارثان ثالث کوپہنچادیں شرع مطہر میں تمادی سے حق نہیں جاتا،
جوہرہ نیرہ کتاب الطلاق باب اللعان، پھراشباہ والنظائر فن ثانی کتاب القضاء والشہادت والدعاوی میں ہے:
الحق لایسقط بتقادم الزمان قذفا اوقصاصا اولعانا او حقا لعبد۔۱؎
حق زیادہ زمانہ گزرجانے کے سبب سے ساقط نہیں ہوتاچاہے قذف ہو یاقصاص ہویالعان ہو یاحق عبد ہو۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ الجوہرۃ النیرہ، الفن الثانی، کتاب القضاء والشہادت الخ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۵۳)
اوراگرنہ ان کو معلوم نہ کوئی ثبوت تو وہ جز بھی ملک راہنہ سمجھاجائے گا جو اس پرقابض تھی اورجس نے بدعوٰی مالکانہ اس کو رہن کیا لان القبض دلیل الملک (کیونکہ قبضہ ملکیت کی دلیل ہے۔ت) اس صورت میں وہ خودوارثان راہنہ کا ہے بہرحال وارثان مرتہن کاکسی طرح نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم