| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
مسئلہ ۶۱: ازمقام قصبہ بلرام پورضلع گونڈہ مرسلہ سیدمحمد تجمل حسین صاحب ڈاکٹر مخدوم ومکرم بندہ حضرت مولوی احمدرضاخاں صاحب بعد سلام علیک کے التماس ہے کہ میں نے ایک مکان رہن یاقبضہ لیا تین سو روپے پر، اوریہ مکان اوردکان ایک ہندوکا ہے اوراسی شخص نے پھرمجھ سے یہ مکان دکان تین روپے مہینے پرکرائے پرلے لیاہے میعاد دوسال کی ہے مگرشرط یہ بھی دستاویز مذکورمیں ہے کہ اگراندردوسال کے مکان دکان نہ چھڑاسکے تورہن نامہ بجائے بیعنامہ کے سمجھاجائے مجھ کو یہ علم نہ تھا کہ یہ فعل ناجائزہے اوربراہ بندہ نوازی اس مسئلہ سے مطلع فرمائیے کہ جوکرایہ نامہ میں نے لکھا ہے وہ روپے لوں یا نہ لوں؟ جائزہے لینا یانہیں، اوروہ روپیہ کسی غریب یاکسی حاجتمند کودیاجاسکتاہے یعنی کسی کام میں یہ روپیہ کرایہ کاصرف ہوسکتاہے یانہیں؟ اگریہ روپیہ کسی کام میں آسکتاہے توخیر، اوراگرکسی کام میں نہیں آسکتا تواتنے روپے کو کیاکیاجائے یاجس کے یہ روپیہ ملے اسی کو واپس کیاجائے؟ جواب صاف مرحمت ہو۔ ایک شخص مجھ سے کہتاہے کہ اگریہ روپیہ ناجائزہے اورآپ اپنے صرف میں نہیں لاسکتے ہیں تومیں قرضدارہوں جس کی ادامیرے امکان سے باہرہے مجھ کو دے دیجئے کہ میں قرضہ اداکروں۔
الجواب سیّدصاحب سلّمہ فی الواقع رہن دخلی بھی سودہے اورشیئ مرہون کاراہن کوکرایہ پر دینااوراس سے کرایہ لینابھی سودہے اورسودلیناحرام مگر جب کہ وہ شخص ہندوہے اگراس نے کسی مسلمان سے سودلیاہوتواس سے یہ رقم نہ بہ نیت سود بلکہ اس نیت سے کہ اس نے جوناجائزرقم لی تھی وہ اس مسلمان کی اس پرشرع کی روسے آتی ہوئی وصول کرکے مستحق کوپہنچاتاہوں لیناجائزہے۔ اوراگریہ اندیشہ ہوتاکہ لوگوں میں سودخواری سے نام مشہورہوگا اورجس طرح براکام براہے برانام بھی پسندیدہ نہیں تویہ جوازخالص بلاکراہت ہوتا یونہی یہ بھی کہ سودکی نیت نہ کی جاتی بلکہ ایک نامسلم غیرذمی کامال طریق جائزقانونی سے لے کر اس محتاج مدیون مسلمان کی مدد کرتے جو آپ سے استمداد کررہاہے اورمساکین مسلمین کے صرف میں لاتے کوئی حرج نہ رکھتا غرض ان نیتوں کے ساتھ حرام نہیں برے نام کے سبب بچناچاہئے فقط، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۲، ۶۳: ازدھاروپور مرسلہ جناب فوجدارخاں صاحب ۱۴صفرالمظفر۱۳۳۰ھ علمائے دین واتباع شرع متین کیافرماتے ہیں ان مسائل میں کہ: (۱)کسی اہل ہنود کی حقیت اگرچہ رہن دخلی رکھی جائے اوراس کی مالگزاری سرکاری سال بہ سال بموجب بندوبست سرکاری سرکارکواداکی جائے تواس کامنافع جوکچھ اراضی میں ہوگا وہ سود میں شمارکیاجائے گا یانہیں یاکیاحکم ہے؟ (۲)اگرکسی اسامی دخیل کارکی اراضی موروثی چندسال معین کے لئے رہن رکھی جائے اوراس اراضی مرہونہ کالگان زمین دار کورہن دارسال بسال اداکرے تو اس اراضی کے کاشت کرنے سے جوکچھ منافع ہوگا اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب : (۱) ہندو کی حقیت رہن دخلی لینا اوراس سے منافع حاصل کرنا کوئی حرج نہیں مگرشرط یہ ہے کہ اپنے قرض پرنفع لینے یاسود کی نیت نہ کرے بلکہ یہ کہ ہندوکی رضامندی سے اس کے مال پرقبضہ جائزہے اوراس مباح سے نفع حاصل کیاجاتاہے،
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ بے شک عملوں کادارومدار نیتوں پرہوتاہے اورہرشخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲)
(۲) دخیل کار زمین موروثی کاشرعاً مالک نہیں ہوتا اس پرقبضہ کے بعد اصل مالک یعنی زمین دار سے اس کے کاشت کی اجازت لے کر لگان زمین دارکوتامدت رہن اداکرتارہےاس کامنافع حلال طیب ہے یہ خیال نہ کرے کہ دخیل کارکوہم نے قرض دیا ہے اوراس کی ملک رہن رکھی ہے اوراپنے قرض کانفع اس سے لیتے ہیں کہ یہ نیت غلط وباطل ہے اورقصدگناہ سے گناہگارہوگا بلکہ یہی نیت کرے کہ زمین زمین دار کی ہے دخیل کار سے اتنے دنوں کے لئے مل گئی ہے اورہم نے مالک سے اجازت لے کر کاشت کی ہے لہٰذاہم کواپنی کاشت کانفع حلال ہے اس میں حکم یکساں ہے خواہ وہ دخیل کارمسلمان ہویاہندو،
لانہ رھن ملک غیرہ فالمالک ان لم یقع منہ اجازۃ الرھن واذن لھذا فی الزرع بالاجر المعھود فھذہ اجارۃنافذۃ وقدکان الرھن موقوفا علی اجازتہ وکل موقوف طرأ علیہ بات بطل وان فرض انہ اجاز الرھن ولودلالۃ فالرھن الٰی اجل فاسدوالفاسد واجب الفسخ ویستبد بہ کل منھما فلما آجر من ھذا بطل الرھن لان الرھن والاجارۃ متنافیان لایجتمعان کما صرحوا بہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس لئے کہ یہ ملک غیرکارہن ہے، چنانچہ مالک نے اگررہن کی اجازت نہ دی اورمرہون زمین میں معین اجرت کے بدلے کاشت کی اجازت دے دی تویہ اجارہ نافذ ہوگا۔ اورتحقیق رہن اس کی اجازت پرموقوف تھا اورہرموقوف جب اس پرقطعیت طاری ہوتو وہ باطل ہوجاتاہے اوراگرفرض کرلیاجائے کہ اس نے رہن کی اجازت دی اگرچہ بطور دلالت ہوتو یہ ایک مدت تک رہن ہواجوکہ فاسد ہے، اورفاسد کافسخ واجب ہوتا ہے۔ عاقدین میں سے ہرایک اس کو فسخ کرنے میں مستقل ہوتاہے کہ جب مالک نے اس کواجارہ پردے دیا تورہن باطل ہوگیا کیونکہ رہن اوراجارہ آپس میں متنافی ہیں جوجمع نہیں ہوسکتے جیساکہ مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
قال فی ردالمحتار فی مسئلۃ من اعارلیرھن افتی فی الحامدیۃ فیما لوقید العاریۃ بمدۃ معلومۃ ومضت المدۃ بان للمعیر اخذھا من المستعیر قال وبہ افتی فی الخیریۃ والاسمٰعیلیۃ ومثلہ فی فتوٰی ابن نجیم قائلا، ولیس لہ مطالبتہ بالرھن قبل مضی المدۃ فاذا مضت وامتنع من خلاصہ من المرتھن اجبر علیہ اھ اقول: ولایخالفہ مافی الذخیرۃ استعارہ لیرھنہ بدینہ فرھنہ بمائۃ الٰی سنۃ فللمعیر طلبہ منہ وان اعلمہ انہ یرھنہ الی سنۃ اھ لان الرھن ھنا فاسدلتأجیلہ کما مروکلامنا فی تاجیل العاریۃ تأمل۱؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتارمیں اس شخص کے بارے میں کہاجس نے کوئی شئے بطورعاریت دی تاکہ اسے رہن رکھے۔ حامدیہ میں فتوٰی دیاہے کہ اگر عاریت کومعین مدت کے ساتھ مقیدکیاہےاور وہ مدت گزرچکی ہے تو مُعیر اس کو مُستعیر سے لے سکتاہے۔ فرمایااسی کے ساتھ خیریہ اوراسمٰعیلیہ میں فتوٰی دیاہے اوراسی کی مثل فتاوٰی ابن نجیم میں ہے کہ معیر کو مدت گزرنے سے پہلے رہن کے مطالبہ کااختیارنہیں اور جب مدت گزرجائے اور وہ مرتہن سے عاریت والی شیئ چھڑانے سے انکاری ہو تو اس پرجبرکیاجائےاھ میں کہتاہوں یہ اس کے مخالف نہیں جو کچھ ذخیرہ میں ہے۔ مستعیر نے اس لئے عاریت پرلیاکہ وہ اس شیئ کواپنے قرض کے بدلے رہن رکھے گا چنانچہ اس نے اس شیئ کو سوروپے کے بدلے میں ایک سال تک کے لئے رہن رکھاتومعیراس کامطالبہ کرسکتاہے اگرچہ مستعیر نے اسے بتادیاہوکہ وہ سال تک رہن رکھے گا کیونکہ رہن یہاں مدت مقررکرنے کی وجہ سے فاسد ہے جیساکہ گزرگیا۔ اورہماراکلام عاریت کی مدت مقررکرنے میں ہے غوکرواھ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الرہن باب التصرف فی الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۱۔۳۳۰)
مسئلہ ۶۴: ازملک کاٹھیاواڑ مسئولہ حاجی عیسٰی خان محمد ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ (نوٹ) ادھارخریدا اوراطمینان کے لئے پاس زیور رہن رکھاجائزہے یانہیں؟
الجواب : جائزہے۔ پھراگرزیورمرتہن کے پاس تلف ہوجائے تو اگرجنس کے بدلے رہن تھا مثلاً نوٹ روپوں کوخریدا اورچاندی کا زیوررہن رکھایااشرفیوں کو مول لیااورسونے کازیور گروی کیا جب تو اس کاوزن معتبرہوگا، اوراگرخلاف جنس کے بدلے رہن تھا مگرنوٹ روپوں کوخریدا اورسونے کا زیور رہن رکھا یااشرفیوں کومول لیااورچاندی کازیور گروکیاتوزیور کی قیمت معتبرہوگی مثلاً نوٹ سوروپے کومول لیااورچاندی کازیورکہ وزن میں سوروپے بھراورقیمت میں دوسوروپے کاتھا رہن رکھااور وہ جاتارہا توبرابرہوگئے کہ وزن یکساں تھا اوراگرپچاس روپے بھر کازیور رہن کیا جوقیمت میں سوروپے کاتھا اورتلف ہوگیاتودَین میں سے صرف پچاس ساقط ہوئے کہ یہاں قیمت میں سَوروپے کاتھا رہن رکھا اور وہ ہلاک ہوگیاتوبرابر ہوگئے دین ساقط ہوگیاکہ یہاں قیمت کااعتبارہے،
درمختار میں ہے:
صح رھن الحجرین والمکیل والموزون فان رھن بخلاف جنسہ ھلک بقیمتہ وھو ظاھر وان بحنسہ ھلک ھلک بمثلہ وزنا اوکیلا لاقیمۃ ولاعبرۃ بالجودۃ عند المقابلۃ بالجنس ثم ان تساویا فظاھر وان الدین ازید فالزائد فی ذمۃ الراھن وان الرھن ازید فالزائد امانۃ، درر وصدرالشریعۃ۱؎ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اورصحیح ہے رہن رکھناسونے، چاندی اور کیلی ووزنی چیزوں کا۔ اگراس نے مذکورہ چیزوں کو ان کی جنس کے خلاف کے عوض رہن رکھااور مرھون ہلاک ہوگیاوہ قیمت کے ساتھ ہلاک ہوااوریہ ظاہرہے۔ اوراگرمذکورہ چیزیں انکی جنس کے مقابل رہن رکھیں اور مرھون ہلاک ہوگیاتو وہ اپنی مثل قرض کے مقابل ہلاک ہوگا باعتبار وزن یاکیل کے نہ کہ باعتبار قیمت کے۔ اورجنس کے ساتھ مقابلہ کے وقت مرھون کے کھَرے ہونے کاکوئی اعتبارنہیں۔ پھراگرقرض اورمرہون برابرہیں توظاہرہے، اوراگرقرض زائد ہے تو وہ زائد راھن کے ذمے ہوگا۔ اور اگرمرھون زائدہے تو وہ زائد امانت ہوگا، درروصدرالشریعۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الرھن باب مایجوز ارتہانہ الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۰)