فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
41 - 135
مسئلہ ۶۰: ازکانپور محلہ پٹکاپور مطبع نظامی مرسلہ مولوی ا بوسعیدصاحب سوم صفر۱۳۲۶ھ
زیدنے اپنی جائداد رہن کرکے کچھ روپیہ عمروسے قرض لیا، شرائط رہن یہ تھے: میعاداس رہن کی صرف ایک مہینہ ہے اگربعد میعاد فوراً فک نہ کرالوں تویہی دستاویز رہن نامہ بجائے بیعنامہ اوریہی زررہن بجائے زرثمن مقررہوگا اورجائداد مرہونہ بیع شدہ سمجھی جائے گی اور اسی وقت سے قبضہ جائداد مرہونہ پرمرتہن کامالکانہ ہوجائے گا اورمرتہن مثل میرے ان تمام حقوق کے مالک کامل مشتریانہ ہوجائیں گے جومجھ کوجائداد مرہونہ میں اس وقت حاصل ہیں لہٰذا یہ چندکلمہ بطور دستاویز بیع بالوفاء کے لکھ دئیے ، اس رہن کے پہلے سے ایک مکان میں خود راہن رہتاتھا باقی مکانات ودکانات میں کرایہ دارراہن کی طرف سے تھے بعد اس رہن کے راہن نے کرایہ داروں سے کہہ دیا کہ کرایہ عمرو مرتہن کودیاکریں اورجس مکان میں خود راہن رہتاتھا اس کاکرایہ بھی ایک مدت تک راہن اداکرتارہا۔ اب حضرات علمائے کرام مدظلہم العالی سے بکمال ادب یہ سوال ہے:
(۱) صورت مذکورہ میں شرعاً جائداد مرہونہ بعد گزرنے ایک ماہ کے رہن رہی یابیع ہوگئی؟
(۲) جوکرایہ جائدادمرہونہ کاکرایہ داروں اورنیززیدراہن سے عمرومرتہن کووصول ہوتارہا وہ مِلک راہن تھا یاملک مرتہن شرعاً اصل زررہن میں محسوب ہوتاگیایانہیں؟
(۳) عمرو مرتہن کو اب اسی قدر اصل روپیہ رہن کالیناحلال ہے جوبعد مجرائے کرایہ وصول شدہ کے باقی ہو یاکل زررہن بدون وضع کرایہ وصول شدہ کے لیناحلال ہے۔
(۴) جس وقت زیدراہن اس قدرروپیہ جوبعد وضع کرایہ وصول شدہ کے عمرومرتہن کااصل زر رہن باقی ہواداکرے توعمرو مرتہن پرجائداد مرہونہ چھوڑدینا واجب ہے یانہیں؟
الجواب : وہ بیع بھی باطل محض اوروہ رہن بھی محض بے معنی، اورمرتہن کے لئے وہ زرکرایہ کہ خود راہن یااورکرایہ داروں سے لیتارہا حرام محض، اورجبکہ دَین بھی روپے تھے اورکرایہ کہ لیاگیا وہ بھی روپے ہیں بسبب اتحاد جنس مقاصد ہوگیا یعنی جس قدرزرکرایہ عمرو کووصول ہوا دین میں مجراہوگا اصل زر ہن میں اس مجرائی کے بعد جو باقی ہے اسی قدر کا مطالبہ عمروکو حلال ہے زیادہ حرام ہے اورجائداد ہنوزکامل مرہون ہوئی ہی نہیں چھوڑنا نہ چھوڑنا کچھ معنی نہیں رکھتا، زید کو اختیارہے کہ بے ادائے بقیہ زردین اپناقبضہ جائداد پررکھے عمروصرف اپنے بقیہ دَین کا مطالبہ کرسکے گا جائداد کے قبضہ پر جبرکااسے کوئی اختیارنہیں، بیع تویوں باطل محض ہے کہ ایک شرط پر معلق کی گئی اوربیع قابل تعلیق نہیں۔
اشباہ میں ہے:
تعلیق التملیکات بالشرط باطل کالبیع والشراء۔۱؎
تملیک والے معاملات کوشرط کے ساتھ معلق کرنا باطل ہے جیسے بیع اورشراء۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الشرط ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۲۵)
اورہن یوں بے معنی ہے کہ وہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔
قال اﷲ تعالٰی فرھٰن مقبوضۃ۔۲؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تورہن ہو قبضہ میں لیاہوا۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۳)
قدوری میں ہے:
الرھن یتم بالقبض۔۳؎
رہن کی تکمیل قبضہ سے ہوتی ہے۔(ت)
(۳؎ القدوری کتاب الرہن مطبع مجیدی کانپور ص۱۰۰)
اورجب رہن ہنوزتام نہیں ہوا تومرتہن کوتحصیل قبضہ پرجبرنہیں پہنچتا، نہ بے اذن راہن قبضہ کرسکتاہے۔ عالمگیری میں ہے:
قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتاب الرھن لایجوز الرھن الا مقبوضا کذا فی المحیط و شرط صحۃ القبض ان یاذن الراھن فان قبض بغیراذن الراھن لم یجز قبضہ۔۴؎ (مختصراً)
امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے کتاب الرھن میں فرمایا قبضہ کے بغیررہن جائزنہیں، محیط میں یوں ہے، اورقبضہ صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ راہن اجازت دے اگرراہن کی اجازت کے بغیر قبضہ کیاتو اس کا قبضہ جائزنہ ہوا، مختصراً۔(ت)
(۴؎ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرہن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۳)
راہن کواختیارہے کہ بے ادائے دین اپناقبضہ رکھے۔ عنایہ میں ہے:
ان قبضہ المرتھن علٰی ھذا الوجہ تم العقد ولزم وان لم یقبضہ فان الراھن بالخیار بین التسلیم وعدمہ۱؎۔
اگرمرتہن نے مرہون پررہن کی بناپرقبضہ کرلیاتو عقد تام اورلازم ہوگاورنہ راہن کو سونپنے اورنہ سونپنے کااختیار ہوگا۔(ت)
(۱؎ العنایۃ علی الہدایۃ علٰی ہاش فتح القدیر کتاب الرھن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۹/ ۷۰)
یہاں کہ تمام اشیائے مرہونہ یاقبضہ مستاجران میں تھیں یاقبضہ خود مالک مکان میں اوربعد رہن بھی مالک ومستاجران ہی کاقبضہ رہا تومرتہن کاقبضہ متحقق نہ ہوا اور رہن بے اثروبے معنی رہا جوکچھ زرکرایہ عمرونے وصول کیا محض ناحق تھا اور اصل دَین میں مجراہوکرصرف باقی زراصل کا اس کو مطالبہ جائزرہا۔
عقودالدریہ میں ہے:
رھن زید دارہ عند عمروبدین ثم اٰجر عمرو الدار من زید مدۃ معلومۃ باجرۃ معلومۃ قبضھا من زید فالاجرۃ باطلۃ فلیرجع زید بمادفع ان لم یکن من جنس الدین وان کان من جنسہ تقع المقاصۃ۔۲؎
زیدنے اپناگھر قرض کے عوض عمروکے پاس رہن رکھا پھرعمرونے وہی گھر معین مدت کے لئے معین اجرت کے بدلے میں زیدکوبطوراجارہ دے دیا اورزید سے اجرت وصول کری تو وہ اجرت باطل ہے۔ زیدکوچاہئے کہ جوکچھ اس نے دیا وہ اس سے واپس لے اگروہ دین کی جنس سے نہیں ہے۔ اوراگروہ دین کی جنس سے ہے تو وہ قرض میں مجراہوگا۔(ت)
(۲؎ العقودالدریۃ کتاب الرھن ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۲۵۴)
اوربالفرض اگریہ خیال قابل تقسیم ہوسکے کہ زید کاکرایہ داروں اورعمرو کاسامنا کرادینا اور ان سب کی اس پرتراضی گویااس کی مفید ہوئی کہ آج سے عقد اجارہ کہ زیدومستاجران میں تھا بتراضی فریقین منتہی ہوکرعمرو ومستاجرین میں باذن زید عقد اجارہ منعقد ہوا اور اسی قدرکو قبضہ مرتہن فرض کرلیاجائے تواب بھی ہماں آتش درکاسہ (وہ سب کچھ کاسہ میں رہا۔ت) کا مضمون ہوگا مرتہن جب باذن راہن شیئ مرہون کسی شخص ثالث کوبطوراجارہ دے رہن فوراً باطل ہوجاتاہے اوراجرت کامالک خاص راہن قرارپاتاہے تومرتہن نے جوکچھ لیا غصب تھا دَین سے مجراہوکر صرف باقی زراصل کااسے مطالبہ پہنچے گا اورجائداد اس کی رہن سے نکل گئی باقی لے کر چھوڑنا کیامعنی۔
ہندیہ میں ہے:
لوآجر واحد منھما (ای من الراھن والمرتھن) باذن صاحبہ اوبغیر اذنہ ثم اجاز صاحبہ صحت الاجارۃ وبطل الرھن فتکون الاجرۃ للراھن، وکذٰلک لواستاجرہ المرتھن صحت الاجارۃ وبطل الرھن اذا جددالقبض للاجارۃ ھٰکذا فی شرح الطحاوی۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اگران دونوں (راہن ومرتہن) میں سے کسی ایک نے دوسرے کی اجازت سے مرہون شیئ اجرت پر دے دی یادوسرے کی اجازت کے بغیردی پھردوسرے نے اس کی اجازت دے دی تواجارہ صحیح ہوگیا جبکہ رہن باطل ہوگیا اوراجرت راہن کے لئے ہوگی اوریونہی اگرمرتہن نے مرہون کو اجارہ پرلے لیا اجارہ صحیح اوررہن باطل ہوگیا جبکہ اجارہ کے لئے نیاقبضہ پایاگیا یونہی شرح الطحاوی میں ہے۔ اوراﷲ سبحانہ وتعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الرہن الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۶۔۴۶۷)