فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
40 - 135
مسئلہ ۵۸: ازشہربریلی محلہ گندہ نالہ مرسلہ جناب سیدحاجی ابوالحسن صاحب پارچہ فروش ۲۵/ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ
زیدوعمرو نے ایک جائداد باہمی خریدی اورنفع نقصان اس کابرابر ٹھہرایا اسی جائداد کاایک جز ایک اورشخص کے پاس رہن تھا مبلغ (سہ لہ۸۸ ) روپے پر، تو اس کوکہاگیاکہ توہماری جائداد واگزاشت کردے اس نے جواب دیاکہ میں مع سود روپیہ لوں گا، زیدنے ایک دستاویز اسی شخص کے نام ایک دوسرے شخص سے جس کا وہ مقروض تھا خریدی پھرچند مدت تک وہ دستاویز زید کے پاس رہی بعد کو اس سے کہاگیا کہ تو ہماری جائداد کاجزچھوڑدے اس نے بخوف دستاویز خریدکردہ کے (ما) روپے چھوڑدیا اب زیدعمرو سے کہتاہے کہ مجھے (ماصہ عہ۱۲۵ٌ) روپے میرے حصے کے دے اب عمرو پرازروئے شریعت (ما صہ عہ ۱۲۵) اسے دینالازم ہے (یاللعہ للعہ۴۴ ) کہ نصف (مہ لہ) ہے بیّنواتوجروا۔
الجواب : بیان سائل سے معلوم ہواکہ زید نے سَوروپے دے کر فک رہن کرایا اورکاغذ میں مرتہن سے ڈھائی سو روپے پانالکھ لیا اس صورت میں اس کا سواسوروپے مانگنا محض ناجائزہے صرف پچاس (مہ۵۰) روپے لے سکتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۹ : ازریاست رامپور محلہ گنج مرسلہ شیخ محمدنور ۳/صفرمظفر۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زیدنے ۲۴/اگست ۱۸۹۸ء کوایک دستاویز بہ مضمون بیع نامہ بعوض مبلغ پانصدروپیہ بابت یکمنزلہ دکان مملوکہ خود بنام عمروتحریرکی ہے جس میں شرط مندرجہ ذیل تحریرہے:
مضمون شرط
اگرمیں بائع اندرمدت دس سال کے کل زرثمن یکمشت مشتری کواداکروں تو مبیعہ مذکورہ واپس لے لوں ورنہ بعد انقضائے میعادمذکور کے اسی زرثمن میں یہی بیع قطعی تصور ہوگی لہٰذا بیعنامہ بالوفا لکھ دیاگیا کہ سندہو۔
عمروفوت ہوگیا زیدنے دکان مذکور پراپناقبضہ کرکے دکاندار سے کرایہ دکان کاخود وصول کیا ورثائے عمرونے اول زید پرعدالت میں دعوٰی دلا پانے دخلی کاباستحقاق رہن کیاعدالت سے ڈگری باستحقاق رہن دلاپانے دخلی کی ہوگئی مگرتاہنوز ورثائے عمرونے دخلی حاصل نہیں کیا ہے اب ورثائے عمروبنام زید دعوٰی کرتے ہیں کہ جس قدرکرایہ زید نے ایام قبضہ رہنے میں کرایہ دار سے وصول کیاہے وہ ہم کو زید سے دلایاجائے، زیدیہ عذر کرتاہے کہ ورثائے عمروشرعاً مجھ سے رقم زرکرایہ جومیں نے اپنی مملوکہ دکان سے وصول کیاہے مجھ سے دلاپانے کے مستحق نہیں ہیں شرعاً کیاہوناچاہئے؟ جواب بحوالہ کتب فقہ تحریرفرمائیے۔
بینواتوجروا فقط سائل زید۔
الجواب : بیع بالوفاء خالص رہن ہے رہن سے زیادہ کچھ اثرنہیں رکھتی۔
فی ردالمحتار عن حاشیۃ جامع الفصولین عن جواھر الفتاوٰی ھٰذا البیع باطل وھو رھن وحکمہ حکم الرھن وھو الصحیح۔۱؎
درمختارمیں حاشیہ جامع الفصولین سے بحوالہ جواہرالفتاوٰی منقول ہے کہ یہ بیع باطل ہے اور وہ رہن ہے اس کا حکم رہن کے حکم کی طرح ہے اور وہی صحیح ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۶۴)
خیریہ میں ہے:
والذی علیہ الاکثر انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید الامام قلت للامام الحسن الماتریدی قدفشاھٰذا البیع بین الناس وفیہ مفسدۃ عظیمۃ وفتواک انہ رھن وانا ایضا علٰی ذٰلک فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھٰذا ونظھرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتوانا وقد ظھر ذٰلک بین الناس فمن خالفنا فیہ فلیبرز نفسہ ولیقم دلیلہ۔۲؎
اوراکثرمشائخ اس مؤقف پرہیں کہ بے شک وہ رہن ہے اورکسی حکم میں رہن سے مختلف نہیں ہے۔ سیدامام نے کہاکہ میں نے امام الحسن ماتریدی سے کہایہ بیع لوگوں میں پھیل چکی ہے اوراس میں فساد عظیم ہے۔ آپ کا فتوٰی یہ ہے جس کے ساتھ میں بھی متفق ہوں کہ یہ رہن ہے، درست بات یہ ہے کہ ہم ائمہ کرام اجماع کرلیں اور اس پرمتفق ہوجائیں، اس فتوٰی کولوگوں میں ظاہرکریں، توانہوں نے فرمایا کہ آج کل ہمارافتوٰی معتبرہے اوروہ لوگوں میں ظاہرہے۔ لہٰذا جوہماری مخالفت کرے اس کوچاہئے کہ وہ خود ظاہرکرے اوراپنی دلیل قائم کرے۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۲۶)
اورشرع مطہر میں رہن واجارہ دوعقدمتنافی ہیں کہ کسی حال جمع نہیں ہوسکتے جو چیز کسی کے اجارہ میں ہے اگرمالک اسے رہن کرے گا یہ رہن اجازت مستاجر پرموقوف رہے گا اگروہ جائزکردے اوراپنا قبضہ چھوڑ کر مرتہن کاقبضہ کرادے تواجارہ جاتارہے گا رہن پوراہوجائے گا ورنہ رہن تمام نہ ہوگا اوراجارہ باقی رہے گا، اورجوچیز کسی کے رہن ہے اگرمالک اسے اجارہ پر دے یہ اجارہ اجازت مرتہن پرموقوف رہے گا اگر وہ جائزکردے اوراپنا قبضہ مرتہنی چھوڑ کر قبضہ مستاجر کرادے تورہن جاتارہے گا اجارہ نافذہوجائے گا اور ردکردے تواجارہ باطل ہوجائے گا اور رہن بدستور رہے گا، یہ جوعوام زمانہ میں رائج ہے کہ مکان یادکان کرایہ پر ہے وہ اجارہ قائم رکھ کر مالک اسے رہن رکھ دیتاہے اور روز رہن سے اس کرایہ کامستحق مرتہن سمجھاجاتا ہے محض بیہودہ وبے معنی وحرام ہے اوراصلاً کوئی عقد شرعی نہیں کہ اجارہ میں بھی قبضہ کی حاجت ہے، اذلایمکن الانتفاع الابہ (اس لئے کہ اس کے بغیر نفع اٹھانا ممکن نہیں۔ت) اوررہن تو بے قبضہ تمام ہی نہیں ہوتا۔
فقال اﷲ تعالٰی فٰرِھٰن مقبوضۃ۱؎
(تورہن ہوقبضہ میں لیاہوا۔ت) اورشیئ واحد وقتِ واحد میں دو مختلف جہت سے دوقبضوں میں نہیں ہوسکتی۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۳)
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
اذا کان البیت مقبوضا فی الرھن دون الاجارۃ اعتبر وکان المرتھن احق بمالیتہ من المستاجر، وان کان مقبوضا فی الاجارۃ دون الرھن کان المستاجر احق بہ من المرتھن، وان اتصل بکل منھما قبض فالعبرۃ للاسبق تاریخا منھما مالم یجز صاحب القبض السابق العقد المتأخر لانفساخ السابق بالاجارۃ منہ للعقد اللاحق۔۲؎
اگرمکان پربطور رہن قبضہ ہو نہ کہ بطوراجارہ تورہن معتبرہوگا اورمرتہن اس کی مالیت کا بنسبت مستاجر کے زیادہ حقدارہوگا، اوراگر قبضہ بطور اجارہ ہے نہ کہ بطور رہن تومستاجر اس کازیادہ حقدارہوگا بنسبت مرتہن کے، اوراگر اس کے ساتھ دونوں کاقبضہ متصل ہوگیا تودونوں میں سے اس کااعتبارہوگا جوتاریخ میں مقدم ہے جب تک سابق قبضے والابعد والے عقد کی اجازت نہ دے کیونکہ اس کی طرف سے بعد والے عقد کی اجازت سے پہلے والاعقد فسخ ہوجائے گا۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الخیریۃ کتاب الرہن دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۹۳۔۱۹۲)
بیان سائل سے معلوم ہواکہ یہ دکان پہلے سے بنیے کے پاس کرایہ پرتھی، اوراب تک کرایہ پرہے کرایہ دار نے کسی وقت مرتہن کے لئے خالی نہ کی نہ اپناقبضہ چھوڑکر عمروکاقبضہ کرایا اس صورت میں یہ رہن محض ناتمام وبے اثروبے معنی ہے وارثان عمرو کوکوئی دعوی دخلیابی کانہ پہنچتاتھا حاکم کو ایسابے اصل دعوی سننابھی نہ تھا نہ کہ ڈگری دیتاکہ قبضہ جورہن میں شرط ہے کہ باذن راہن ہو، نہ یہ کہ قاضی جبراً قبضہ دلادے عقد کہ ناتمام رہاقاضی کو اس کے تمام کرنے پرجبرکاکیااختیار،
عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز الرھن الامقبوضا وشرط صحۃ القبض ان یأذن الراھن فان قبض بغیر اذن الراھن لم یجز قبضہ۱؎ اھ مختصرا۔
رہن جائزنہیں جب تک اس پرقبضہ نہ کیاجائے، اوراس کے قبضہ کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ راہن اجازت دے۔ اگرراہن کی اجازت کے بغیر قبضہ کیاتوجائزنہیں ہوااھ، اختصاراً۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الرھن الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۳)
عقودالدریہ میں ہے:
ان ادعی المرتھن الرھن مع القبض یقبل برھانہ علیھما وان ادعی الرھن فقط لایقبل لان مجرد العقد لیس بلازم۔۲؎
اگرمرتہن نے رہن کا قبضے سمیت دعوٰی کیاتو اس کے گواہ رہن اورقبضے پرقبول کرلئے جائیں گے۔ اوراگرفقط رہن کا دعوٰی کیاتو قبول نہیں کیاجائے گا کیونکہ محض عقد سے رہن لازم نہیں ہوتا۔(ت)
(۲؎ العقود الدریۃ کتاب الرھن ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۲۵۹)
اور جب خودعمروکاکوئی حق اس دکان میں ثابت نہیں تو ورثاء عمرو کاکیاحق ثابت ہوسکتاہے، سائل کاکہنا کہ زیدنے دکان مذکور پراپناقبضہ کرکے دکاندار سے کرایہ خود وصول کیا اسی غلط فہمی پرمبنی ہے جوعوام میں پھیلی ہوئی ہے کہ شیئ مواجرکے رہن کوبھی باوصف بقائے اجارہ اپنے زعم میں رہن صحیح وتام سمجھتے ہیں ورنہ حقیقۃً قبضہ مستاجرکا ہے اورمِلک زیدکی ہے اورعمرو کی ہنوز نہ مرتہنی پوری ہوئی نہ اس کاکوئی قبضہ، بالجملہ شک نہیں کہ زر کرایہ کامالک خاص زید ہے عمرو وارثان عمرو کا اس میں کچھ حق نہیں یہاں تک کہ اگرکوئی رہن صحیح وتام ہواورمرتہن بلااجازت راہن اسے کرایہ پر دے یابے اجازت دے اورراہن جائزکردے تواس صورت میں بھی کرایہ کامالک خاص راہن ہوتاہے اورکرایہ پراٹھانے سے رہن باطل ہوجاتاہے۔
عقودالدریہ میں ہے:
امرأۃ باعت دارھا من رجل بیع وفاء منزلا منزلۃ الرھن ثم ان الرجل اٰجرھا باذنھا من بعلھا باجرۃ معلومۃ قبضھا الرجل ویزعم ان الاجرۃ لہ تکون الاجرۃ للراھنۃ وبطل الرھن۔۱؎
کسی عورت نے اپناگھر کسی مرد کے ہاتھ بیع وفاءکے طور پر فروخت کیا درانحالیکہ اس کو بمنزلہ رہن کے کیا، پھرمشتری مردنے وہی مکان اس عورت کے شوہر کوایک معین اجرت کے عوض اجارہ پردے دیا اوراجرت پریہ گمان کرتے ہوئے قبضہ کیا کہ یہ اجرت اس کے لئے ہے تو یہ اجرت راہنہ کے لئے ہوگی اوررہن باطل ہوجائے گا۔(ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الرھن ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۲۵۴)
راہن اورمرہون میں سے کسی ایک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر مرہون شیئ اجارہ پردے دی پھردوسرے نے اس کو جائزقراردے دیا تواجارہ صحیح ہوگیا جبکہ رہن باطل ہوگیا اوراجرت راہن کے لئے ہوگی۔(ت)
(۲؎ الفتاوی کتاب الرھن الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۵)
یہاں کہ رہن سرے سے خود ہی بے قبضہ وناتمام ہے اورکرایہ دینے والا خود زید مالک دکان ہے توعمرویاوارثان عمروکازرکرایہ میں کوئی حق ہونامحض بے معنی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔