فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
39 - 135
مسئلہ ۵۶ : ازریاست رامپور متصل کوتوالی مکان مرحوم مجددی مرسلہ مولوی احمدحسین صاحب ۱۸جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ھ
چندشخص نے ایک ملک مشترک اپنے چندشخصوں کے پاس بالاشتراک رہن کی زررہن لے لیااورملک پرمرتہنان کوقبضہ دے دیا رہن نامہ میں یہ لکھ دیاکہ ہم نے منافع ملک مرہون مرتہنان کوہبہ معاف کردیا اوربخش دیا۔ اکثرراہنان مرگئے اوربعض زندہ ہیں۔ مرتہنان نے بعد موت راہنان متوفی منافع مِلک مرہون زائدازمقدار زر رہن حاصل کریں یہ ارشاد فرمایاجائے کہ منافع مذکورہ حق جائز وشرعی مرتہنان کاہے یانہیں؟ اورباوجود اس کے کہ مرتہنان نے منافع ملک مرہون بقدرمقدار زر رہن یازائد از زر رہن خود کاوصول کرلیا پھربھی وہ مستحق پانے زررہن کے ہیں یاوارثان راہن زر رہن یافتنی مرتہن کومنافع وصول شدہ میں مجراومحسوب کرسکتے ہیں اوربلاادائے زردیگر ملک کوچھڑاسکتے ہیں، ہبہ وبخشش زرمنافع مذکورہ رہن نامہ عموماً اوربعد موت راہنان خصوصاً کیااثررکھتے ہیں۔ بیّنواتوجروا
الجواب : صورت مستفسرہ میں زرمنافع مرہون مرتہنوں کے حق میں ضرورحرام اورسودہے۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا، اخرجہ الحارث فی مسندہ۱؎ عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ۔
جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔ حارث نے اپنی مسندمیں امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے اس کی تخریج کی(ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸)
راہن اورمرتہن کویہ اختیارنہیں کہ وہ مرہون زمین میں کاشت کریں کیونکہ انہیں رہن سے نفع اٹھانا جائزنہیں۔(ت)
(۲؎ العقود الدریۃ کتاب الرہن ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۲۵۸)
اشباہ میں ہے:
یکرہ للمرتھن الانتفاع بالرھن باذن الراھن۔۳؎
راہن کی اجازت سے مرتہن کو رہن سے انتفاع مکروہ ہے۔(ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۱۳)
تہذیب وجامع المضمرات میں ہے:
یکرہ للمرتھن ان ینتفع بالرھن وان اذن لہ الراھن۔۱؎
مرتہن کورہن سے انتفاع مکروہ ہے اگرچہ راہن اجازت دے دے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار بحوالہ التہذیب کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۷)
درمختار میں ہے:
قال المصنف وعلیہ یحمل ماعن محمد بن اسلم انہ لایحل للمرتھن ذٰلک ولو بالاذن لانہ ربا۔۲؎
مصنف نے کہا اوراسی پرمحمول ہے وہ جو محمدبن اسلم سے مروی ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھاناجائزنہیں اگرچہ راہن کے اذن سے ہوکیونکہ وہ سود ہے۔(ت)
(۲؎الدرالمختار بحوالہ التہذیب کتاب الرھن فصل فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۷)
غمزالعیون میں ہے:
فی الجامع لمجد الائمۃ عن عبداﷲ بن محمد بن اسلم انہ لایحل لہ ان ینتفع بشیئ منہ وان اذن لہ الراھن لانہ اذن فی الربا، لانہ یستوفی دینہ فتکون المنفعۃ ربا۔۳؎
مجدالائمہ کی جامع میں عبداﷲ بن محمد بن اسلم سے منقول ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھانا جائزنہیں اگرچہ راہن نے اس کی اجازت دی ہوکیونکہ یہ سُود کی اجازت ہے اس لئے کہ مرتہن اپنا قرض پوراوصول کرتاہے تومنفعت سودہوگی۔(ت)
(۳؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۱۳)
تحقیق یہ ہے کہ انتفاع مرتہن جب مشروط ہوجائے توباہم اس کی قرارداد عمل پرآئے توبالاجماع حرام ہے اورجوامرعرف ظاہر سے معلوم ومعہود ہو وہ بلاذکربھی مثل مشروط ہے اورشک نہیں کہ اب انتفاع مرتہنان کی بلاضرور دائروسائر وعالمگیرہے تورہن میں اگر اس کاذکربھی نہ آتا عرفاً مشروط قرارپاتا اورحرام ہوتا، راہنوں کی اجازت قطعاً اسی عرف پرمبنی اور اسی قرض کے دباؤ سے ناشیئ ہے یہ نہ ہو توہرگزوہ اجازت نہ دیں کہ ہماری جائداد کامنافع زیدوعمرولیں اورہم نہ پاسکیں، مرتہنوں کاقرض دینابھی اسی منافع پرہے اوروہ ضرور راہنوں کو اس پرمجبورکرتے ولہذٰا دستاویز میں لکھالیتے ہیں اور اگربعد تحریرراہن انہیں انتفاع سے منع کریں کبھی بازنہ رہیں گے بلکہ تاادائے زررہن اپناحق جانیں گے، یہ نہ ہرگز راہنوں کی طرف سے بطور خود محض احساناً بے دباؤ اپنے ملک کی منفعت جب تک اپناجی چاہے مباح کرناہے نہ مرتہنوں کی طرف سے نرے اجنبی طورپربے کسی دعوٰی بے کسی داب کے صرف اجازت دہندہ کی خوشی پرجب تک وہ چاہے اس کی ملک سے نفع پاتاہے بلکہ قطعاً وہی شرط وقرارداد لزومی اوروہ بالاجماع حرام ورباہے،
طحطاوی علی الدرالمختار وردالمحتارمیں ہے:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ورنہ قرض پردرہم نہ دیں گے اور یہ شرط کی طرح ہوگیاکیونکہ معروف مشروط کی مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کو متعین کرتاہے۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الرہن داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۱۱)
راہنوں کا منافع مرتہنوں کوہبہ کردینامحض لغوبے معنی ہے منافع کہ ہبہ کئے گئے اس وقت موجود نہ تھے اورمعدوم کاہبہ باطل ہے اورباطل کے لئے کوئی اثرنہیں۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
وبھٰذا علم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولٰی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یملکہ وھذا ظاھر۔۲؎
اور اسی سے معلوم ہوگیاکہ دونوں قریوں سے اب جو آمدنی حاصل ہوگی اس کا ہبہ بدرجہ اولٰی صحیح نہیں کیونکہ ہبہ کرنے والے نے ابھی خود اس پرقبضہ نہیں کیاتو کسی کو اس کامالک کیسے بناسکتاہے اوریہ ظاہرہے۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الخیریۃ کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۱)
مسئلہ ۵۷ : ازشہر متصل کچی سرائے مرسلہ ابوتراب بوساطت محمدعبدالرشیدصاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تین سال کاہواکہ ایک دکان زیدنے (ماصہ عہ ۱۲۵) روپیہ پر رہن دخلی بمیعاد پانچ سال حسب فتوٰی ایک مولوی صاحب کے لیاتھا (یعنی اس عرصہ میں جوکچھ اس کی مرمت میں صرف ہواوہ میرااورکچھ آمدنی اس مدت میں ہوگی وہ میری ہوگی جب روپیہ واپس کروگے دکان چھوڑدوں گا) اورتین سال تک اسی طرح کرتارہا یعنی اس کی مرمت وغیرہ اپنے پاس سے کرکے منافع کولیتارہااب وہی مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہے تو اس مدت تین سال میں جوکچھ روپیہ مولوی صاحب نے کھلایااس کاگناہ کن پرہوگا اور وہ روپیہ کس طرح پاک ہوسکتاہے؟
الجواب : صورت مستفسرہ میں وہ مولوی صاحب ماخوذوگنہگارہیں کہ انہوں نے حرام غذا کو حلال بتایا اورایک مسلمان کو حرام کھانے میں مبتلاکیا، اوریہ مسئلہ کوئی ایساخفی نہ تھا کہ عالم پرمخفی رہتا، رہازید اس کی دوحالتیں ہیں،وہ مولوی صاحب جس کے فتوٰی پر اس نے عمل کیاکوئی ایساہی نام کامولوی تھا جب توزیدبھی ماخوذوگنہگارہے، عوام کویہ حکم ہے کہ علمائے معتمدین مفتیان مستندین کے فتوٰی پر عمل کریں نہ یہ کہ ہر کس وناکس سے پوچھ کر، اوراگروہ عالم معتمد تھا توجب تک اس فعل کے حرام ہونے پر زیدکو اطلاع نہ ہوئی اس کے لئے امیدآسانی ہے کہ اس نے ایک عالم معتمد کے فتوٰی پرعمل کیا وہ اسی قدرکرسکتاتھا۔
لایکلف اﷲ نفسًا الا وسعھا۔۱؎
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ۔ اﷲ تعالٰی کسی جان پربوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)