Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
38 - 135
 مسئلہ ۵۳ : مسئولہ حاجی غلام حضرت         ۵رجب المرجب ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زیدکچھ زیورسونے کاعمرو کے پاس لے کر گیاکہ مجھے روپے کی ضرورت ہے زیور رکھ لو اورروپیہ دے دو میں روپیہ دے کرزیور اپنا لے لوں گا عمرونے کہااس وقت میرے پاس روپیہ نہیں زیدنے کہاتم کسی اور سے یہ کام کرادوعمرو وہ زیوربکرکے پاس لے گیااورزید کامقولہ بکرسے کہابکرنے جواب دیابیس روپے تولہ کے حساب سے اس زیورکے دام دیتاہوں اورایک ماہ تک وعدہ پرواپسی کرتاہوں یک ماہ تک اگرروپیہ نہ دیا تومیں واپس نہ کروں گا عمرونے یہ شرط منظورکرکے روپیہ لے لیا۔ زیدکاروپیہ عمروکے پاس قبل وعدہ کے جمع تھا زیدنے اپنے زیور کاتقاضاعمرو سے کیا اورکرتارہا، عمرواپنے کاروبار میں مصروف تھا بکرسے تقاضا مابین وعدہ نہ کرسکا یہاں تک کہ وعدہ سے عرصہ زیادہ ہوگیا اب عمرو نے بکرسے زیدکا وہ زیورطلب کیا اور روپیہ دیناچاہا توبکرنے زیورواپس کرنے سے انکار کیااور کہامیں نے بعد گزرنے وعدے کے زیور فروخت کردیالیکن بدون اطلاع اوربلااجازت زید وعمرو کے فروخت کیااوروہ زیور اس قدرروپیہ سے جو زید کودیاگیاتھا سوائی قیمت سے بھی زائد کا تھا پس صورت مسئولہ میں شرع شریف کاکیاحکم ہے آیا وہ بکرکو وہ زیور واپس کرنالازم ہے یانہیں؟ اور اس کے نفع کامالک اورنقصان کامتحمل زیدیا عمرویابکر؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب: یہ صورت بیع الوفا کی ہے اوربیع الوفا مذہب معتمدین محض رہن ہے اورمرتہن جب بلااذن راہن شیئ مرہون کو بیع کردے تووہ بیع اجازت راہن پر موقوف رہتی ہے بشرطیکہ شیئ مبیع ہنوز موجودہواوراگرمشتری کے پاس ہلاک ہوجائے توراہن کواختیارہوتاہے کہ مرتہن یامشتری جس سے چاہے اپنی چیزکاتاوان لے لے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل باع رجلا اٰخر دارا بثمن معلوم الی اجل معلوم بیعا معادا علٰی انہ فی شھر کذا یحضر الثمن ویسترجع الدارثم مضی الزمن المعین بینھما ولم یقدر البائع علی الثمن الا بعد مدۃ والثمن دون قیمۃ الدار فھل للبائع دفع الثمن واسترجاع الدار، اجاب یجبر المشتری علٰی قبول الثمن من البائع ورد الدار علیہ، والذی علیہ الاکثر انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام۱؎اھ ملخصا۔
ایک شخص کے بارے میں سوال کیاگیاجس نے دوسرے شخص کے ہاتھ معین ثمنوں کے عوض مدت معلومہ تک کے لئے گھربیچا ایسی بیع کے ساتھ جولوٹائی جائے گی اس شرط پرکہ فلاں مہینے بائع ثمن حاضر کردے گا، اورگھر واپس لے لے گا۔ پھران دونوں کے درمیان طے شدہ مدت گزرگئی درآنحالیکہ بائع ثمن حاضرکرنے پرقادرنہ ہوا مگر اس کے کچھ عرصہ بعد وہ دینے پرقادر ہواجبکہ ثمن قیمت سے کم ہیں۔ توکیابائع کویہ حق حاصل ہے کہ وہ ثمن دے کرگھرواپس لے۔ اس کایہ جواب دیاگیاکہ مشتری کوبائع سے ثمن وصول کرنے اورگھرواپس لوٹانے پرمجبورکیاجائے گا۔ اکثر مشائخ اس مؤقف پرہیں کہ یہ بیع رہن ہے کیونکہ اس میں اوررہن میں کسی بھی حکم میں فرق نہیں اھ تلخیص(ت)
 (۱؎ الفتاوی الخیریۃ         کتاب البیوع    دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۲۵)
جواہرالفتاوٰی پھرحاشیہ جامع الفصولین پھرردالمحتار میں ہے:
حکمہ حکم الرھن وھو الصحیح۲؎۔
اس کاحکم وہی ہے جورہن کاحکم ہے اوروہی صحیح ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتاربحوالہ جواھرالفتاوٰی     کتاب البیوع          باب الصرف     داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۴۶)
اسی طرح جواہرالاخلاص میں ہے کما رأیتہ فیھا (جیساکہ میں نے اس میں دیکھاہے۔ت) شرح الطحاوی پھرجامع الرموزپھرحاشیہ شامی میں ہے:
توقف علٰی اجازۃ الراھن بیع المرتھن فان اجازہ جاز والافلا، ولہ ان یبطلہ ویعیدہ رھنا، ولوھلک فی یدالمشتری قبل الاجازۃ لم تجزالاجازۃ بعدہ و للراھن ان یضمن ایھما شاء۔۱؎
مرتہن اگرمرہون کوبیچ دے تویہ بیع راہن کی اجازت پرموقوف ہوگی۔ اگرراہن نے اجازت دے دی توجائزورنہ نہیں۔ راہن کواختیارہے کہ بیع کوباطل کرکے اسے رہن کی طرف لوٹادے اگرمرہون مشتری کے قبضہ میں راہن کی اجازت سے قبل ہلاک ہوجائے تواس کے بعد کی اجازت جائزنہیں اورراہن کواختیارہوگاکہ مرتہن اورمشتری میں سے جسے چاہے ضامن ٹھہرائے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار   کتاب الرہن   باب التصرف فی الرہن   داراحیاء التراث العربی بیروت  ۵/ ۳۲۷)
درمختاروردالمحتار میں ہے:
ضمن بتعدیہ (کالبیع بلااذن قھستانی) کل قیمتہ (ای بالغۃ مابلغت لانہ صار غاصبا، اتقانی) فیسقط الدین بقدرہ۲؎اھ مختصرا۔
مرتہن اپنی تعدی کی وجہ سے (جیساکہ بلااجازت بیع، قہستانی) کل قیمت کاضامن ہوگا (یعنی وہ قیمت جس قدربھی ہو، اتقانی) لہٰذا اس کے برابر قرض ساقط ہوجائےاھ اختصار(ت)
 (۲؎ الدرالمختار     کتاب الرہن     باب التصرف فی الرہن   مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۷)

(ردالمحتار      کتاب الرہن     باب التصرف فی الرہن  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۱۳)
پس صورت مستفسرہ میں بکر پرلازم ہے کہ زیورہنوزنہیں بیچا توفوراً اپنا دیاہواروپیہ لے کرکل زیورواپس کردے اوراس مہمل وباطل قراردادکی آڑنہ لے اوراگربکرنے واقع میں بیع کردیا اورزیورہنوز مشتری کے پاس موجودہے توزید کواختیارہے چاہے اس میں بیع کوجائزکردے اورزرثمن تمال وکمال خود لے یارد کردے اگررد کردے تومشتری پرفرض ہے کہ روپے واپس کرے، اوراگرزیور تلف ہوگیایااب اس کاپتانہیں چلتاقابو سے باہرہے توزید اس کاپوراتاوان بکر سے لے سکتاہے مثلاً اگربکرنے سترروپے اسے دئیے اورزید کابازار کے بھاؤ سے سوروپے کانکلاتو بکرکے سترروپے ساقط برابر ہوگئے زیادہ کے تیس روپے زیدکودے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۴ :  ازشہرکہنہ مرسلہ عبدالصمدصاحب ۸ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کوشیئ مرہون سے نفع اٹھانا بہ اجازت راہن جائزہے یانہیں؟
الجواب : مرہون سے انتفاع حرام محض ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا۔۱؎
جوقرض منفعت کو کھینچ لائے وہ سود ہے(ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
بہ اجازت راہن نفع اٹھانے کے یہ معنٰی تھے کہ قرض کے دباؤ سے نہ ہو اور اس کی اجازت ہی کاپابند رہے جب وہ خوشی سے کہہ دے انتفاع کرے اور جس وقت منع کردے فوراًباز رہے مثلاً اس نے اپنی خوشی سے کہہ دیا کہ مکان میں رہو یہ آکررہا اسی وقت اس نے کہہ دیا مجھے منظورنہیں توفوراً نکل جائے کچھ عذرحیلہ درمیان میں نہ لائے ایسایہاں ہرگزنہیں ہوتابلکہ قطعاً دباؤپررہتے ہیں اورراہن دباؤہی کے باعث اجازت دیتاہے اوروہ رجسٹری کے کاغذوں میں لکھی جاتی ہے کہ اس کے سبب انتفاع بالجبرکرسکیں اوراگرلاکھ کہے کہ نکل جاؤ ہرگزنہ نکلیں گے اوریہی جواب دیں گے کہ پہلے ہماراقرض دے دو تو جائیں تویہ صورت اجازت سے اصلاً متعلق نہیں بالاجماع حرام ورباہے۔
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل محدہ اتم واحکم
مسئلہ ۵۵: ازجائس رائے بریلی محلہ زیرمسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اﷲ صاحب ۲/ربیع الاول شریف 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرہون شیئ سے فائدہ اٹھانا مثلاً زمین رہن رکھا اس کوجوتتاہے اور اس میں زراعت بوتا ہے اور اس کے مینڈھ وغیرہ بندھواتاہے اس کے نیچے اس کامنافع کھاتاہے اور اس کوقیاس کرتاہے بکری اورگھوڑے کے اوپر جائزہے اس کے منافع کھانایانہیں؟فقط
الجواب: مرتہن کو مرہون سے نفع اٹھانا حرام اورنراسُودہے،
کما افادہ العلامۃ الطحاوی و العلامۃ الشامی فی حاشیتی الدروحققناہ فی فتاوٰینا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیساکہ علامہ طحاوی اورعلامہ شامی نے درمختارکے حاشیوں میں افادہ فرمایاہے ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی میں کی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter