| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
دوم وقوع تسلیم ازجانب مواجر بروجہ اجارہ کما فی غمزالعیون والبصائر عن البزازیۃ انما یجب الاجر فی الفاسد بحقیقۃ الاستیفاء اذا وجد التسلیم من جہۃ الاجارۃ۲؎ وفی الہندیۃ بعد ماوجب الاستیفاء حقیقۃ انما یجب الاجر اذا وجد التسلیم الی المستاجر من جھۃ المواجر۳؎پس درصورتیکہ عمرو مستاجر دراں مکان یکروز ھم سکونت نورزید نہ آں مکان فارغ بودکہ خودہندہ مالکہ دروسکونت میداشت دگرہیچ مپرس کہ مواجرین رہن عقد تاچند سال تناسخ فکر کردند یافکاک رہن وتبدیل مرہون درچہ قدرمدت پدید آمدکائنا ماکان وانگہے ازاُجرت برذمہ اولازم نیست زیراکہ چوں حقیقت انتفاع پربہوائے عدم کشاید لزوم اجرنیزعنان معائش درگوتمکن ھزار باشد وخود ازینجاچہ مے پرسی کہ جائے تمکن ہم مفقود ست زیدراگوکہ ازگریبان عمرو دست کوتاہ دارد از شہادت شہدائے زیدہم اینجا کارے نکشاید وآبے برروئے کارنیاید کہ ازبیان شان برتقدیر استجماع شرائط قبول ہمیں قدربثبوت می پیوندد کہ مدعاعلیہ براں مکان قبضہ آورد باوابستگان خویش دروسکونت کرد ازکجاکہ مدعی نیزآں مکان را از سامان خود تفریغ نمودہ بدست مدعا علیہ سپرد وخود باتوگفتہ ایم کہ مجرد سکونت بے تسلیم مواجر بروجہ اجارہ اینجا ثمرے ندارد می تواند کہ سکونت عمروبرسبیل ہماں انبساط معہود کہ درمیان اصول وفروع بودہ باشد کہ اولاد راچنانکہ دانی اگرچہ مساکیں جداگانہ باشدگاہے ازسکونت نزد والدین ھم مانع نیست نہ ازیں بیاں گواہان مدت انتفاع رنگ ظہوریافت وقول ایشاں کہ بلکہ ہنوز قبضہ مدعاعلیہ براں مکان آشکار ست باچہ کارآید کہ قبضہ انتفاع وتمکن انتفاع راشامل واینجا محض تمکن ازثمر عاطل کما قد القینا علیک سخن گفتنی مانداز اقرار نامہ کہ مدعا علیہ بتحریرش پرداخت اگرنیک بنگری ہماناسراسر لغوومہمل ست وبربیانش حکمے نمی رسد اینکہ مجرد وعدہ وآں ھم بچیزے کہ شرعا وجہ صحت ندارد ازچہ رومواخذہ ومدعی رامطالبہ رواباشد، بالجملہ ہرچند دراجارہ ملک غیر بے رخصت شرع مطہر اگرپیش از استیفائے منافع اجازتے ازمالک رونماید استحقاق اجرت مرعاقد مؤاجر رامی باشد شرع فرمائش دہدکہ بصدقہ دہ یابدامان مالک نہ کما فی منیۃ المفتی والخانیۃ والغمز والھندیۃ وغیرہ اما درصورت مستفسرہ بربنائے وجوہ مذکورہ گردن عمرو ازباراجرت آں فرومی بینم فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ ایں مباحث را درفتوٰی مفصلہ ہرچہ تمامتررنگ ایضاح واداست ازانجامی بایدگرفت کہ دریں رہ پالغزرفتار نہایت ضرررساں وسخت ودشوار گزاریاں پیشیں راکارچہ بلادشوار افتادہ است کل حزب بمالدیھم فرحون۱؎ والعلم بالحق عند واھب العلوم عالم کل سر مکتوم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد البدر واٰلہ وصحبہ الاقمار والنجوم۔
(۲) اجرت پردینے والا بطور کرایہ کرایہ دار کے سپرد کردے، جیسے کہ غمزالعیون والبصائر میں بزازیہ سے نقل کیاگیاہے کہ اجارہ فاسدہ میں کرایہ صرف اس وقت واجب ہوتاہے جب حقیقۃً بھرپور نفع حاصل کیاجائے اوربطورکرایہ، کرایہ دار کو، چیزسپردکی جائے۔ فتاوٰی ہندیہ (عالمگیری) میں ہے کہ جب حقیقۃً بھرپور نفع حاصل کرناپایاجائے تو کرایہ صرف اس صورت میں واجب ہوگا جب کرایہ پردینے والا کرائے کی چیز کوکرایہ دارکے سپرد کردے گا۔ پس جس صورت میں کرائے دار عمرونے اس مکان میں ایک دن بھی قیام نہیں کیا، نہ ہی وہ مکان خالی تھا، کیونکہ ہندہ جواس مکان کی مالک تھی اس مکان میں رہائش پذیرتھی، یہ مت پوچھئے کہ رہن کوبطور کرایہ دینے والوں نے کتنے سال عقد کو فسخ کرنے کی فکرکی ہوگی؟ یارہن کوچھڑانے اوررہن رکھی ہوئی چیزکو تبدیل کرنے پرکتنی مدت صرف ہوئی ہوگی؟ بہرصورت عمروکے ذمہ پر کرایہ لازم نہیں ہے، اس لئے کہ جب حقیقت انتفاع ہوائے عدم میں پرَکھولتی ہے توکرائے کالازم ہونابھی اپنی لگام پھیرلے گا(یعنی جب حقیقۃً نفع حاصل نہیں کیاگیاتو کرایہ بھی لازم نہیں ہے۱۲مترجم) اگرچہ نفع حاصل کرنے کی قوت ہزارمرتبہ ہو، آپ اس جگہ کیاپوچھتے ہیں کہ یہاں تونفع حاصل کرنے کی قدرت بھی نہیں ہے، زیدکوکہیں کہ عمروکاگریبان چھوڑدے، زیدکے گواہوں کی گواہی سے بھی اس جگہ کوئی کام نہیں بنتا اورپانی کارآمد ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ قبولیت کی شرطیں جمع ہونے کی صورت میں بھی ان کے بیان سے صرف یہی بات ثا بت ہوتی ہے کہ مدعاعلیہ نے اس مکان پرقبضہ کرلیا اوراپنے متعلقین سمیت اس میں رہائش اختیار کرلی، یہ بات کہاں سے ثابت ہوئی کہ مدعی نے بھی وہ مکان اپنے سامان سے خالی کرکے مدعالیہ کے سپردکیا۔ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ محض رہائش کا اس جگہ کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک کہ مالک بطور کرایہ کرائے دار کے سپرد نہ کرے، ہوسکتاہے کہ عمرو کی رہائش اسی معلوم بے تکلفی پرمبنی ہو جوماں باپ اوراولاد کے درمیان ہوتی ہے،جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ مسکین اولاد اگرچہ الگ رہتی ہو ان کے لئے گاہے بگاہے والدین کے پاس رہنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے، گواہوں کے اس بیان سے نفع حاصل کرنے کی مدت بھی واضح نہیں ہوتی اوران کایہ کہنا کہ ''تاحال مدعاعلیہ کا اس مکان پرقبضہ ظاہروباہر ہے'' کس کام آئے گا؟ کیونکہ قبضہ دونوں صورتوں کوشامل ہے(۱)نفع حاصل کرنے اور (۲) نفع حاصل کرنے کی قوت (یعنی بالفعل اور بالقوۃ نفع حاصل کرنے کو شامل ہے ) اور اس جگہ صرف نفع حاصل کرنے کی قوت بے فائدہ ہے، جیسے کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔ کہنے والی ایک بات رہ گئی اوروہ یہ کہ مدعاعلیہ نے جو اقرارنامہ تحریرکیاوہ بالکل لغو اور مہمل ہے، اس کے بیان پرکوئی حکم نہیں لگایاجاسکتا، اس نے صرف ایک وعدہ کیاہے اور وہ بھی ایسی چیزکاجوشرعاً صحیح نہیں ہے، لہٰذا نہ تومواخذہ ہوسکتاہے اورنہ ہی مدعی کامطالبہ جائزہے۔ مختصر یہ کہ غیر کی ملکیت کوشریعت مطہرہ کی اجازت کے بغیر کرائے پردینے میں اگرمنافع کے حاصل کرنے سے پہلے مالک اجازت دے بھی دے کرائے کامستحق وہ ہے جو کرائے کاعقد کرنے والاہے، شریعت مبارکہ کاحکم ہے کہ یا توصدقہ کردے یاپھرمالک کوواپس کردے جیسے کہ منیۃ المفتی، خانیہ، غمزالعیون، عالمگیری وغیرہ میں ہے، جس صورت کے بارے میں سوال کیاگیاہے اس میں وجوہ مذکورہ بالا کی بناپرمجھے عمرو کی گردن کرائے کے بوجھ سے آزاد نظرآتی ہے۔ فقیر، اﷲ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے، نے ان مباحث کو ایک تفصیلی فتوے میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیاہے اس کامطالعہ کیاجائے، کیونکہ اس راستے میں لغزش کھانے والا پاؤں بہت نقصان دہ ہے اوریہ راستہ بہت مشکل اوردشوارہے پہلے حضرات کو اس معاملے میں بڑی دشواری پیش آئی ہے، ہرگروہ اپنی رائے پرخوش ہے، حق کا علم اس کے پاس ہے جو علوم کادینے والا اورہرراز کاجاننے والاہے۔ اﷲ تعالٰی ہمارے آقا ومولاچودھویں کے چاند محمدمصطفی اورآپ کی آل اورصحابہ کرام ہدایت کے چاندوں اورستاروں پررحمتیں نازل فرمائے۔آمین!(ت)
(۲؎ غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۰) (۳؎ الفتاوی الہندیہ کتاب الاجارہ الباب الثانی نورانی کتب خانہ کراچی ۴/ ۴۱۴) (۱؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۵۳)
مسئلہ ۵۲ : ازقصبہ پاڑہم ضلع میں پوری پرگنہ مصطفی آباد مسئولہ محمدصادق علی خاں صاحب ۲۵ذیقعدہ ۱۳۱۳ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ مسماۃ زینب نے پانچ بسوہ زمینداری ایک موضع کی بقرارداد مبلغ (سالہ ؎ ۱۳۹ ) مالیانہ حق مالکانہ کے مسمّٰی خالد سے واسطے معاش اپنے کے تا مدت گیارہ سال رہن دخلی کی اورمرتہن یعنی خالد مذکور قابض شیئ مرہون ہوابعد چند سال مسماۃ زینب راہنہ فوت ہوئی توبعدازیں بحث مقدمہ اثبات وراثت مسماۃ مریم مدعیہ وارثہ راہنہ جس میں سوت راہنہ اوردوسرا مرتہن جائداد مرہونہ مدعاعلیہما مجیب تھے ازروئے شرع محمد علیہ الصلوات والتسلیم شَے مرہون جزاً یعنی ۱۶ بسوانسہ ۱۳کچوانسہ اورایک ثلث کچوانسہ ملکیت حقیت راہنہ کی اورمدعیہ وارثہ کی ٹھہری اورجزاً شے مرہون یعنی ۴بسوہ ۳سوانسہ ۶ کچوانسہ اور۲ثلث کچوانسی شیئ مرہون مال غصب اورحقیت ملکیت شخص ثالث جوفریق مقدمہ مذکورنہ تھا قرارپائی، چنانچہ ۱۶بسوانسہ ۳کچوانسہ اورایک ثلث کچوانسہ مدعیہ وارثہ راہنہ کوملے اوربعد ازیں فک الرہن بھی ہوگئی اور۴بسوہ ۳بسوانسہ ۶ کچوانسہ اوردوثلث کچوانسہ یعنی بمقدار مال غصب معلق رہے چنانچہ آج تک وہ مال غصب بہ قبضہ رہن قائم مقام مرتہن ہے اور اب وارثہ راہنہ بھی مرچکی ہے مگر اس کی اولاد باقی ہے یعنی وارثہ راہنہ کی تومسئلہ فرماؤ بقیدنام وباب کتاب کے جس سے مسئلہ اخذکرو کہ حق انفکاک رہن مذکورہ بالاکا وارثان وارثہ راہنہ کو ہے یانہیں؟ اجردے تم کو اﷲ صاحب نیک اجر۔
الجواب : بلاشبہہ ہے۔ تقریرسوال وبیان سائل سے واضح کہ یہاں شخص ثالث نہ فریق مقدمہ تھا نہ راہنہ یا اس کے وارث اپنے غصب کے مقر، توبالائی طورپرغاصب سمجھ لینا ان کے حق فک کو کیا زائل کرسکے جبکہ علماء تصریح فرماتے ہوں کہ راہن اگراقرار بھی کردے کہ شیئ مرہون دوسرے کی ملک ہے تاہم اسے یہی حکم دیں گے کہ فک رہن کراکر مالک کوواپس دے،
درمختار باب التصرف فی الرہن میں ہے: لورھن شیئا ثم اقر بالرھن لغیرہ لایصدق فی حق المرتھن ویؤمربقضاء الدین وردہ الی المقرلہ۔۱؎
اگرکوئی شیئ رہن رکھی پھرراہن نے اقرارکیاکہ مرہون شیئ کسی اورکی ملک ہے تومرتہن کے حق میں راہن کی تصدیق نہیں کی جائے گی اورراہن کوحکم دیاجائے گا قرض کی ادائیگی کااورمرہون شیئ، مقرلہ کی طرف لوٹانے کا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۴)
معہذا جب ملک غیربے اذن غیرکوئی شخص راہن کودے توراہن غاصب اورمرتہن مثل غاصب الغاصب ہوتاہے۔ہدایہ باب الرھن الذی یوضع علی یدالعدل میں ہے:
ان مات العبد المرھون فی یدالمرتھن ثم استحقہ رجل فلہ الخیار ان شاء ضمن الراھن و ان شاء ضمن المرتھن لان کل واحد منھما متعد فی حقہ بالتسلیم او بالقبض۔۱؎
اگرمرہون غلام مرتہن کے قبضے میں مرگیا پھر کوئی اورشخص اس کامستحق نکل آیا تو اس کو اختیارہوگا چاہے توراہن کوضامن ٹھہرائے اورچاہے تومرتہن کو۔ کیونکہ دونوں میں سے ہرایک مستحق کے حق میں تعدی کرنے والا ہے بسبب رہن کی سپردگی کے یابسبب اس پرقبضہ کرنے کے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الرہن باب الرہن الذی یوضع علی یدالعدل مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۳۷)
غایۃ البیان علامہ اتقانی باب مذکورمیں ہے:
ای متعد فی حق المستحق اما الراھن فبتسلیم الرھن الی المرتھن واما المرتھن فبالقبض فصار الراھن کالغاصب والمرتھن کغاصب الغاصب۔۲؎
یعنی مستحق کے حق میں تعدی کرنے والا ہے۔ راہن اس لئے کہ اس نے مرہون شے مرتہن کے سپردکی اورمرتہن اس لئے کہ اس نے مرہون پرقبضہ کیالہٰذا راہن غاصب کی مثل اورمرتہن غاصب سے غصب کرنے والے کی مثل ہوگیا۔(ت)
(۲؎ غایۃ البیان کتاب الرہن باب الرہن الذی یوضع علی یدالعدل )
راہن جب کہ مالک سے غاصب اورمرتہن کامدیون ہواتوآخر اسے یہی حکم ہوگا کہ مرتہن کا دَین دے اورمالک کو اس کی شیئ واپس کرے اورجب مرتہن اپنا دین پالیتاہے تواسے کوئی حق حبس نہیں رہتا اور جس سے وہ چیز لی تھی یعنی راہن اگرچہ وہ حقیقۃً غاصب ہی ہو اسے سپرد کردینے سے بری الذمہ ہوجاتاہے۔
عالمگیری کتاب الغصب باب ثانی عشرمیں ہے:
غاصب الغاصب یرد الی الغاصب الاول لیخرج عن العھدۃ۔۳؎
غاصب سے غصب کرنے والا غاصب اول کی طرف مغصوب کولوٹادے تاکہ ذمہ داری سے نکل جائے۔(ت)
(۳؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الغصب الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۴۸)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں بعد ادائے دَین وارثانِ راہنہ کوشیئ مرہون واپس دینے میں مرتہن یا اس کے قائمقام کوئی عذرنہیں ہوسکتا اب اگرحقیقتاً اس میں شخص ثالث کا حصہ ہے توورثہ راہنہ پرفرض ہوگا کہ مستحق کو اس کاحق پہنچائیں۔ یہ دوسری بحث ہے جس سے مرتہن کو تعلق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم