| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
مسئلہ ۴۹ : ۴/رجب ۱۳۱۲ھ : زیدنے عمرو سے مبلغ دوہزارروپے بلاسود قرض لئے ایک موضع اپنابطوررہن کے عمرو کے قبضہ میں دے دیاتو فیراس موضع کی تقریباً تین سوروپیہ ہے اس صورت میں بعوض حق المحنت تحصیل وصول زر وادائے سامان حاکم وقت ودیگرکاروبار متعلقہ موضع مذکورکے مبلغ دس روپیہ ماہوار کے حساب سے ایک سوبیس روپیہ سالانہ عمرو کو دیناچاہتاہے، پس لینا اُجرت مذکورکاعمروکوزید سے بحالت مسطورہ شرعاً جائزہے یانہیں؟ اورزید کے کاموں کاانجام دینااور توفیروصول کرکے پہنچانا باخذاجرت وحق المحنت درست ہے یانہیں؟
الجواب : رہن واجارہ باہم دوعقد متنافی ہیں کہ شرعاً جمع نہیں ہوسکتے جو اُن میں بوصف نفاذ دوسرے پرواردہوگا اسے باطل کردے گا کما نص علیہ الکبار فی معتمدات الاسفار (جیساکہ اس پرمعتمد کتابوں میں علماء کبارنے نص فرمائی ہے۔ت) تو رہن دیہات کایہ طریقہ کہ زمین مزارعین پرکے اجارہ پررہے اورگاؤں مرتہن کے پاس رہن ہو محض باطل وبے معنی ہے بلکہ یہ رہن اجازت مستاجران زمین پرموقوف رہے گا اوراگروہ باطل کردیں گے رہن باطل ہوجائے گا اجازت دیں گے تو ان کااجارہ باطل ہوکر ان کی طرف سے استعفاء قرارپائے گا پھربعد استعفاءجب رہن صحیح ہواتو اب زمین زراعت پرنہیں اُٹھ سکتی اگرراہن بے اجازت مرتہن زمین اٹھائے گا اجازت مرتہن پرموقوف رہے گی، اگرباطل کرد ے گا اجارہ زمین باطل ہوجائے گا رہن قائم رہے گا، اجازت دے گاتورہن باطل اجارہ زمین صحیح ہوجائے گا، بہرحال رہن واجارہ دونوں جمع ہوں یہ ہرگزنہ ہوگا کل ذٰلک مصرح بہ فی الکتب الفقھیۃ (اس تمام کی تصریح فقہ کی کتابوں میں کردی گئی ہے۔ت) پس صورت مستفسرہ میں کہ زید نے اپناگاؤں عمروکے پاس رہن رکھا، ظاہرہے کہ مزارعین دِہ سے استعفاء نہ لیا ہوگا کما ھو المعروف والمعھود فی ھذا العھود (جیساکہ اس زمانے میں مشہور ومعروف ہے۔ت) توشرعاً وہ رہن صحیح ہی نہ ہوا، اوراگربالفرض استعفاء لے بھی تواب کہ مزارعوں کے پاس اجارہ پرہے ضرور ہے کہ یہ اجارہ بعد رہن یا راہن نے کیا اور مرتہن سے اسے جائز رکھا کہ تحصیل زر اجارہ پر نوکر رکھناچاہتاہے یامرتہن نے کیااور راہن نے اسے جائز کردیاکہ تحصیل زراجارہ پراسے نوکر رکھناچاہتاہے بہرحال گاؤں رہن سے نکل گیا اب نہ زید راہن نہ عمرو مرتہن، نوکری کااختیارہے قرضہ عمروذمہ زیدجدارہا۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۵۰ : کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس بارے میں کہ ایک مکان پرپختہ زیدکا اوربعد فوت زیدکے وہ مکان بیچ قبض ودخل دونوں لڑکوں زیدکے رہاایک طفل کلاں کا نام عمرواورطفل خورد کانام بکر بباعث تنگدستی کے بکرحصہ اپناغیر شخص کے ہاتھ مبلغ چہارصد روپیہ کو فروخت کرتاتھا عمرونے ظلم تعدی کرکے مبلغ تین سوروپیہ کوخریدلیا اس میں سے مبلغ ایک سوروپیہ نقدبکرکودئیے اوربالعوض مبلغ صدروپیہ کے مکان سکونت اپنے کا عمرونے پاس بکر کے رہن دخلی کردیا بعدہ وہ مکان بکرایہ سہ روپیہ ماہواری کرایہ پر بکرنے دے دیا وہ کرایہ لیناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : صورت مستفسرہ میں برتقدیر صحت بیع اگربکرنے مکان مرہون باجازت عمروکرایہ پردیا تورہن باطل ہوگیا اورزرکرایہ عمروکو ملے گا بکر کا اس میں کچھ حق نہیں اورجوعمرو کی اجازت نہ تھی توزرکرایہ بکرکا ہے مگراس کے لئے وہ مال طیب نہیں زرخبیث کواپنے صرف میں نہ لائے مانع اجابت دعا ہوتاہے کما فی الحدیث (جیساکہ حدیث میں ہے۔ت) بلکہ تصدق کردے یامالک کو دے دے کما فی غمزالعیون للحموی عن البزازیۃ ونحوہ فی الھندیۃ عن فتاوٰی قاضی خان (جیساکہ حموی کی غمزالعیون میں بحوالہ بزازیہ منقول ہے اور اسی کی مثل ہندیہ میں فتاوٰی قاضی خان سے منقول ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۱ : ازریاست رام پور ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں مسئلہ کہ ہندہ اززید نابالغ کہ دراں زمان ہشت سالہ بودقرضے گرفت ومکان خود بمیعاد دوماہ نزد اوگروداشت و ہندہ بدستور دراں مکان ساکن بود پس ازاں زید آں مکان رابذریعہ مرتہنی بعمر وپسر ہندہ بحساب یازدہ روپیہ چہار آنہ ماہوار بکرایہ داددرکرایہ گرفتن لفظ عمروہم چنیں بودہ کہ مکان فلانی اززید بچندیں اجرت ماہانہ بکرایہ گرفتم واقرار میکنم کہ تاانفکاک رہن اجرت ماہ بماہ دہم ویک اقرارنامہ نوشت کہ میان دوماہ میعاد مندرجہ رہن نامہ موضع مینی عوض مکان نزدمرتہن رہن خواہم کرد روپیہ کرایہ یکساں بمرتہن دہم لیکن عمرو دران مکان یکروزھم سکونت نور زیدبمکان مملوک خود کہ ہمدراں محلہ واقع است ساکن ماند نہ آں مکان فارغ بودکہ ہندہ خود دروسکونت میداشت کہ ازیں بیاز دہ ماہ فک رہن و تبدیلش بموضع مینی رونمود زیدتاچارونیم سال ازمطالبہ اجرت مہرسکوت برلب نہابعد ایں قدر مدت مدید برائے اجرت یافتن استغاثہ کردگواہانش بوقوع رہن واجارہ شہادت دادہ بیاں می کنند کہ مدعاعلیہ پس ازتصدیق اجارہ نامہ وسپردنش بمدعی قبضہ برمکان کردبہ متعلقان خویش دروسکونت، ورزید بلکہ ہنوز قبضہ مدعاعلیہ براں مکان آشکارست حالاازعلمائے دین متین ایدھم اﷲ بتوفیقہ استفسار میرودکہ درصورت مذکورہ حکم شرعی چیست ورہن واجارہ مسطورہ صحیح است یانہ وزر کرایہ کل یابعض برذمہ عمروواجب الادا ست یاچہ وگواہی مذبور صالح استناد وشایان اعتماد است یاخیر۔ بینواتوجروا۔
کیاارشاد ہے آپ کااے علماء کرام، اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے آٹھ سالہ نابالغ زید سے قرض لیااوراپنا مکان دوماہ کی مدت کے لئے اس کے پاس رہن رکھ دیا، اس کے باوجود ہندہ حسب سابق اس مکان میں مقیم رہی، پھرزید نے وہ مکان بحیثیت مرتہن لے کرہندہ کے بیٹے عمرو کو گیارہ روپے چارآنے کے ماہانہ کرائے پر دے دیا، کرائے پر مکان لیتے ہوئے عمرو نے یہ الفاظ کہے کہ میں نے فلاں مکان زید سے اتنے ماہانہ کرائے پرلیااور میں اقرارکرتاہوں کہ رہن کے چھڑانے تک ہرماہ کرایہ اداکرتارہوں گا، اورایک اقرار نامہ لکھا کہ رہن نامہ میں مندرج دوماہ کی مدت میں موضع مینی مرتہن (زید) کے پاس مکان کے بدلے رہن رکھ دوں گا، اورکرائے کے روپے باقاعدگی سے اداکرتارہوں گا، لیکن عمرو نے ایک دن بھی اس مکان میں رہائش اختیارنہیں کی بلکہ اپنے مکان ہی میں رہا جواسی محلے میں ہے۔ وہ مکان فارغ نہیں تھا کیونکہ خود ہندہ اس مکان میں رہائش پذیرتھی، گیارہ ماہ میں رہن کی واگزاری اورموضع مینی کے ساتھ اس کی تبدیلی رونماہوئی، زیدساڑھے چار سال تک کرائے کے مطالبے سے خاموش رہا، اس طویل مدت کے بعد اس نے کرایہ وصول کرنے کے لئے دعوٰی کردیا، اس کے گواہوں نے گواہی دی کہ عقدرہن بھی پایاگیا اورعقد اجارہ بھی پایاگیا، گواہوں نے یہ بھی بیان کیاکہ مدعاعلیہ نے کرایہ نامہ کی تصدیق اوراسے مدعی کے سپرد کرنے کے بعد مکان پرقبضہ کیا اوراپنے متعلقین سمیت اس میں رہائش اختیارکرلی، بلکہ اب بھی مدعاعلیہ کاقبضہ اس مکان پر ظاہروباہر ہے۔ اب علماء دین متین سے دریافت کیاجاتاہے اﷲ تعالٰی اپنی توفیق سے انہیں تقویت عطافرمائے کہ صورت مذکورہ میں شرعی حکم کیاہے کیارہن اوراجارہ مذکورہ صحیح ہے یانہیں؟ اورکرایہ پورایااس کاکچھ حصہ عمرو کے ذمہ واجب الاداہے یانہیں؟ اورمذکورہ گواہی قابل اعتماد ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب رہن مذکورہ ہرگزصحیح نیست واگرنباشد دروجز تقرر اجل تاایں قدرہم افساد رابسنداست فی الاشباہ الاجل فی الرھن یفسدہ۱؎
رہن مذکور ہرگزصحیح نہیں ہے، اگراس میں مدت کے معین کرنے کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تو یہ بھی رہن کے فاسد کرنے کے لئے کافی تھا، الاشباہ میں ہے، رہن میں مدت کامقرر کرنااسے فاسد کردیتاہے،
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الرھن ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۱۴)
ہم چنیں آں اجارہ نیزوجہ صحت ندارد کہ تقریر سوال سپیدمی گوید کہ مدت درپردہ جہالت ماندنفس ایجاب وقبول ازذکر اجل راسامعزول وآں لفظ کہ تا فکاک رہن کرایہ ماہ بماہ دہم وعدہ ایست جداگانہ ازسنخ قبول بیگانہ اواگرنہ آنچناں گیریم تافکاک رہن خود امریست تامعین چہ دانی امروزمے شود یا دردہ سال ومعلوم ہست کہ جہالت مدت دراجارہ فساد آرد فی الدرالمختار کل ماافسد البیع یفسدھا کجھالۃ مدۃ۱؎اھ ملخصا
اسی طرح اس اجارہ (کرائے پردینے) کے صحیح ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے، سوال کی عبارت سے واضح ہے کہ مدت اجارہ مجہول رہی، محض ایجاب وقبول کامدت کے ذکرسے کوئی نہیں ہے، اوریہ کہنا کہ ہرماہ کرایہ دیتارہوں گا صرف ایک وعدہ ہے جس کاقبول کرنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اوراگراس پہلو کونہ لیاجائے تو''رہن کی واگزاری تک'' یہ خود غیرمعین (اورمجہول ہے) کیاپتا آج ہوتاہے یادس سال میں، اور یہ تومعلوم ہی ہے کہ اجارہ میں مدت کامجہول ہونااسے فاسد کردیتاہے، درمختارمیں ہے: جوچیز بیع کوفاسد کردیتی ہے اجارہ کوبھی فاسد کردے گی، جیسے مدت کی جہالت اھ تلخیص۔
(۱؎ الدرالمختار کتاب الاجارہ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷)
پس درصورت مستفسرہ بحساب اجرمثل حدیث باید کرد یعنی یازدہ روپیہ چارآنہ کلایابعضاً چیزے لازم نیاید بلے اگراینجا سخن مے تو اں گفت اجرمثل حدیث باید کرد یعنی آنچہ اُجرت ہمچو خانہ در ہمچوجائے درہمچوزمانے باشد بشرطیکہ برزرمسمّٰی نیفزاید کما ھو حکم الاجارۃ الفاسدۃ اذا فسدت لالجھالۃ المسمّٰی لیکن دراجارہ فاسدہ اجرمثل ھم لازم نیاید الابدوشرط یکے حقیقت انتفاع مستاجر بداں چیز مستاجر کہ قوۃ تمکّن انتفاع راینجا برگ وبارنیست فی الاشباہ التمکن من الانتفاع یوجب الاجر الافی مسائل الاولٰی اذاکانت الاجارۃ فاسدۃ فلا یجب الابحقیقۃ الانتفاع کما فی فصول العمادی۱؎
لہذا جس صورت کے بارے میں سوال کیاگیاہے اس میں بیان کردہ کرائے یعنی گیارہ روپے اورچارآنے کے حساب سے تمام کرایہ یااس کاکچھ حصہ لازم نہیں آتا، ہاں اس جگہ اگربات کی جاسکتی ہے تو''اجرمثل'' کی بات کرنی چاہئے، یعنی ایسی جگہ اورایسے وقت میں ایسے گھرکاجوکرایہ ہوسکتاہے بشرطیکہ بیان کردہ کرائے سے زیادہ نہ ہو، جیسے کہ اجارہ فاسد کاحکم ہے جبکہ وہ فاسد ہو لیکن بیان کردہ کرائے کی جہالت کی وجہ سے نہ ہو، لیکن فاسد اجارے میں اجرمثل بھی تب لازم آتاہے جب دوشرطیں پائی جائیں:(۱)کرائے پرلینے والاکرائے کی چیز سے حقیقۃً نفع اٹھائے، کیونکہ نفع حاصل کرنے کی قوت کا اس جگہ کوئی اعتبارنہیں ہے۔ الاشباہ میں ہے: حقیقۃً نفع حاصل کرنے پرقادرہونا کرائے کو واجب کرتاہے مگرچندمسائل میں (۱)جب اجارہ فاسد ہوتو اجرصرف اس وقت واجب ہوگا جب حقیقۃً نفع حاصل کیاجائے گا جیسے فصول عمادی میں ہے۔
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۰)