Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
35 - 135
مسئلہ ۴۷ :۲۲/صفر۱۳۰۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرتہن سے مکان مرہون کرایہ پرلینا مالک مرہون یاغیرمالک کومباح ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : مرتہن سے راہن کاشیئ مرہون کوکرایہ پرلینااصلاً وجہ صحت نہیں رکھتاکہ مالک کااپنی مِلک کو دوسرے سے کرایہ پرلینامحض بے معنی ہے۔
فی الہندیۃ آجرھا من الراھن لاتصح الاجارۃ۔۱؎
ہندیہ میں ہے مرتہن نے مرہون شیئ راہن کو اجرت پردی تواجارہ صحیح نہیں ہوگا۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الرھن     الباب الثامن     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۴۶۴)
اوراجنبی کوبھی مرتہن سے اجارہ پرلینامباح نہیں کہ وہ غیرمالک ہے اورکرایہ پردینے کااصلاً اختیارنہیں رکھتاتو جس طرح مرتہن اس فعل سے گناہ گارہوگا کہ اس نے ملک غیر میں تصرف بیجا کیااس لئے کرایہ اُسے حلال نہ ہوگابلکہ شرع حکم دے گی کہ خیرات کردے یاراہن کودے دے اوریہ اولٰی ہے کما حققناہ فی تحریر مستقل (جیساکہ ہم نے مستقل تحریرمیں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت) اسی طرح یہ مستاجر بھی جبکہ جانتاہوکہ مکان اس کی ملک نہیں بلکہ اس کے پاس بطوررہن ہے اس سے کرایہ پرلے کرمبتلائے گناہ ہوگا کہ یہ غیر کے مکان میں بے اس کے اجازت کے رہا اورمرتہن کوگناہ پرمعاون ہوا،
قال اﷲ تعالٰی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۲؎،
 ومن القواعد المقررۃ ان ماحرم اخذہ حرم اعطائہ۔۳؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ''اورگناہ اورزیادتی پرباہم مددنہ کرو'' اورمسلمہ قواعدمیں سے ہے کہ جس چیزکالیناحرام اس کادینابھی حرام ہوتاہے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۵/ ۲)

(۳؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول     القاعدۃ الرابعۃ عشر        ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۸۹)
ہاں اگریہ اجار ہ باذن راہن واقع ہویاراہن بعد وقوع، اجازت دے دے توبیشک عقد جائزونافذ اوررہنا حلال ومباح ہوجائے گا مگر اس تقدیرپر درحقیقت راہن سے اجارہ لیناہوانہ مُرتہن سے ولہٰذا بعد اجازت جوکرایہ آئے گا اس کامالک راہن ہوگا اوراس صورت میں مکان مرہون رہن سے نکل جائے گا کما فی الھندیۃ وغیرھا (جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۸ : ازجالندھر محلہ راستہ بھگواڑہ دروازہ مرسلہ میاں شمس الدین شعبان ۱۳۱۰ھ

گروی زمین ومکانات سے نفع اٹھانا جائزہے یانہیں؟
الجواب : اس قسم کے قول منقح ومحرر واصل محقق ومقرریہ ہے کہ بربنائے قرض کسی قسم کانفع لینا مطلقاً سودوحرام ہے،
حدیث میں ہے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فہورباً۔ رواہ الحارث فی مسندہ۱؎ عن امیرالمومنین المرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جوقرض کوئی نفع کھینچ کرلائے وہ سود ہے۔ اس کوحارث نے اپنی مسند میں حضرت علی المرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ الحارث عن علی     حدیث ۱۵۵۱۶    موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
اوراگراس بنا سے جدا ویسی ہی باہمی سلوک کے طورپر کوئی نفع وانتفاع ہوتووہ مدیون کی مرضی پرہے اس کے خالص رضاواذن سے ہوتو رَوا ورنہ حرام، اب یہ بات کہ یہ انتفاع بربنائے قرض ہے یابطورسلوک اس کے لئے معیار شرط وقراردادہے یعنی اگرقرض اس شرط پردیاکہ نفع لیں گے تووہ نفع بربنائے قرض حرام ہوا، اوراگرقرض میں اس کاکچھ لحاظ نہ تھا پھر آپس کی رضامندی سے کوئی منفعت بطوراحسان ومروّت حاصل ہوئی تو وہ بربنائے حسن سلوک ہے نہ بربنائے قرض تومدار کارشرط پرٹھہرا یعنی نفع مشروط سُود اورنفع غیرمشروط سودنہیں بلکہ باذن مالک مباح، پھرشرط کی دوصورتیں ہیں: نصاً یعنی بالتصریح قرارداد انتفاع ہوجائے، اورعُرفاً کہ زبان سے کچھ نہ کہیں مگربحکم رسم ورواج قرارداد معلوم اوردادوستد خودہی ماخوذومفہوم ہو ان دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام وسُودہے،
فان المعہود کالمشروط لفظا۔۲؎
اس لئے کہ بے شک جوعرف کے اعتبارسے معہودہو وہ ایساہی ہوتاہے جیسے لفظوں میں مشروط ہو۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب البیوع    فصل فیما یدخل فی البیع تبعا الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۳۹)
درمختارمیں ہے:
قالوا اذا لم تکن المنفعۃ مشروطۃ ولامتعارفۃ فلاباس۱؎۔
مشائخ نے کہاجومنفعت مشروط نہ ہو اورنہ ہی متعارف ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الحوالہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۷۰)
فتح القدیرمیں ہے:
فی الفتاوی الصغری وغیرھا ان کان النفع مشروطا فی القرض فھو حرام والقرض بھذا الشرط فاسد والاجاز، الاتری انہ لو قضاہ احسن مما علیہ لایکرہ اذا لم یکن مشروطا وقالوا وانما یحل ذٰلک عند عدم الشرط اذا لم یکن فیہ عرف ظاھر، فان کان یعرف ان ذٰلک یفعل لذٰلک فلا۲؎اھ ملخصاً۔
فتاوٰی صغرٰی وغیرہ میں ہے کہ اگرقرض میں نفع کی شرط لگائی گئی تونفع حرام، اورقرض اس شرط کے ساتھ فاسد ہوگا، اوراگرشرط نہیں لگائی گئی توجائزہے۔ کیاتونہیں دیکھتا کہ جس پرقرض ہے اگروہ قرض سے زیادہ بہترواپس کرے تو یہ مکروہ نہ ہوگا بشرطیکہ اس کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔ مشائخ نے کہاعدم شرط کی صورت میں یہ حلال تب ہوگا جب زیادہ واپس کرنے کاعرف ظاہرنہ ہواوراگریہ معروف ہے توپھرایساکرناجائزنہیں اھ اختصار۔(ت)
 (۲؎ فتح القدیر     کتاب الحوالہ   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۳۵۶)
منح الغفار میں جواہرالفتاوٰی سے ہے:
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھوربًا والافلاباس بہ۔۳؎
جب شرط لگادی گئی تویہ ایساقرض ہوگیاجس میں نفع ہے لہٰذا وہ سودہوا اور اگرمشروط نہیں توکوئی حرج نہیں۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار    بحوالہ جواہر الفتاوٰی    کتاب الرہن    داراحیاء التراث العربی بیروت      ۵/ ۳۱۰)
ردالمحتارمیں ہے:
ما فی الجواھر یصلح للتوفیق وھو وجیہ، وذکر وا نظیرہ فیما لو اھدی المستقرض للمقرض ان کانت بشرط کرہ والافلا۔۱؎
جوکچھ جواہر میں ہے وہ موافقت کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ وجیہ ہے۔ اس کی نظیرمشائخ نے ذکرکی کہ جب مقروض قرض دہندہ کو ہدیہ دے تواگر اس کی شرط لگائی گئی ہے تب تو مکروہ ہے ورنہ نہیں۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار         کتاب الرہن    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۱۱)
جب یہ اصل کلی معلوم ہولی حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ اگرمکان وغیرہ شیئ مرہون سے مرتہن کابذریعہ سکونت وغیرہ نفع لینا مشروط ہوچکاہے جیساکہ دخلی رہن ناموں میں اس کی صاف تصریح ہوئی ہے جب تو اس کاصریح سُودحرام ہوناظاہر، ورنہ غالب عرف وعادت رسم ورواج زمانہ صراحۃً حاکم ابنائے زمان اسی نفع کی غرض سے قرض دیتے ہیں اورلینے دینے والے سب بغیرذکر اسے قراریافتہ سمجھتے ہیں، اگرمرتہن جانے کہ مجھے انتفاع نہ ملے گا ہرگز عقدنہ کرے اورراہن بوجہ قرض دبا ہوا نہ ہوتوکبھی مجبوراً اجازت انتفاع نہ دے ولہٰذا مرتہن اس نفع وسود کواپناحق واجب جانتے ہیں اورراہن کواس پرمجبورکرتے ہیں، تویہ انتفاع اگرچہ لفظاً مشروط نہ ہو عرفاً بیشک مشروط ومعہود ہے توحکم مطلق حرمت وممانعت ہے۔
علامہ احمد طحطاوی پھر علامہ محمدشافعی قدس سرہما ایساہی حواشی دُرمیں فرماتے ہیں:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۔۲؎
لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ رہن کے وقت وہ مرہون سے نفع اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیں، اگرنفع متوقع نہ ہوتو قرض پردرھم ہی نہ دیں گے، اوروہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف کاحکم مشروط کے حکم کی مثل ہوتاہے اوریہ ممانعت کومتعین کرتاہے۔(ت)
(۲؎ردالمحتار         کتاب الرہن    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۱۱)
ہاں اگرمرتہن بے لحاظ انتفاع قرض دے اورصرف بغرض وثوق وصول جوتشریع رہن سے مقصود شارع ہے رہن لے اورعاقدین وقت عقد صراحۃً شرط کرلیں مرتہن کسی طرح نفع اٹھانے کامجازنہ ہوگا،
وذٰلک لان ماصار معروفا لایصیر مرفوعا بالسکوت فلایکفی عدم الشرط بل شرط العدم کی یفوق الصریح الدلالۃ۔
یہ اس لئے ہے کہ جوچیز معروف ہوچکی ہو وہ چپ رہنے سے مرفوع نہیں ہوجاتی لہٰذا شرط نہ لگانا کافی نہیں بلکہ عدم نفع کی شرط ضروری ہوگی تاکہ صریح، دلالت پرفوقیت پاجائے۔(ت)
پھرراہن اپنی خوشی سے مرتہن کوانتفاع کی اجازت دے اور مرتہن صرف بربنائے اجازت رُک جائے یعنی بعد اس شرط عدم انتفاع کے مالک نے برضائے خودمکان رہن میں رہنے کااذن دیا یہ آکر بیٹھا ہی تھا کہ اس نے منع کیا تومعاً بازرہے اوراصلاً چون وچرانہ کرے توایسا انتفاع جب تک رضائے راہن رہے حلال ہوگا، مگرحاشا ہندوستان میں اس صورت کی صورت کہاں، اﷲ عزوجل مسلمانوں کی اصلاح فرمائے، آمین! واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter