Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
34 - 135
کتاب الرھن

(رہن کابیان)
مسئلہ ۴۵ : ۲۲صفر ۱۳۰۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیئ مرہونہ کو اپنے استعمال میں لانا یا اس میں سکونت کرنا کسی طور سے جائز ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : کسی طرح جائزنہیں، حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو۱؎۔ اخرجہ الحارث عن سیدنا علی کرّم اﷲ تعالٰی وجھہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
یعنی قرض کے ذریعہ سے جومنفعت حاصل کی جائے وہ سودہے۔ (اس کی تخریج حارث نے سیدنا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے کی اور حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ نے اس کونبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ الحارث عن علی     الباب الثانی     حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
 علامہ طحطاوی پھر علامہ شامی خود شرح درمختارمیں فرماتے ہیں:
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو ممایعین المنع۱؎ انتھی اقول: ولاشک ان ھذا بعینہ حال اھل الزمان یعرفہ منھم کل من اختبر ومعلوم ان احکام الفقہ انما تبنی علی الکثیر الشائع ولاتذکر حال شذت و ندرت فیہ الجواز کما نص علیہ المحقق حیث اطلق فی فتح القدیر وغیرہ من العلماء الکرام فالحکم فی زماننا ھو اطلاق المنع لایرتاب فیہ من لہ المام بالعلم، والکلام ھٰھنا وان کان طویلا فجملۃ القول ماذکرنا واﷲ تعالٰی اعلم۔
لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیں اوراگریہ نفع اٹھانا مطلوب نہ ہوتو وہ قرض کے لئے درہم ہی نہ دیں گے، اوریہ بمنزلہ شرط کے ہوگیا اس لئے کہ جوچیز معروف ہو وہ مشروط کی طرح ہوتی ہے اوریہ بات ممانعت کومعین کرتی ہے انتہی، میں کہتاہوں کہ بیشک بعینہٖ یہی حال ہمارے زمانہ والوں کا ہے جس کو ہرباخبرشخص جانتا ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ فقہی احکام کی بنیاد کثرت سے واقع ہونے والے مروّج حال پرہوتی ہے اوراس حال کاتذکرہ نہیں کیاجاتا جس میں جواز شاذونادرہو۔ جیساکہ اس پرمحقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اوردیگر علماء کرام نے نص فرمائی ہے۔ چنانچہ ہمارے زمانہ میں مرہون سے نفع حاصل کرنے کی مطلقاً ممانعت کاحکم ہے، اوراس میں علم سے کچھ بھی تعلق رکھنے والے شخص کو شک نہیں ہوگا۔ یہاں گفتگو اگرچہ طویل ہے مگراجمالی بات وہی ہے جوہم نے ذکرکردی۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم ۔
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الرہن    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۱۱)
مسئلہ ۴۶ : ۲۲/صفر۱۳۰۶ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مکان مثلاً سَوروپیہ کو زیدنے عمرو کے پاس رہن رکھاعمرو نے اس خیال سے کہ مجھ کومکان مرہونہ میں سکونت ناجائزہے بکرہندو کے ہاتھ بعوض اسی قدر پرزررہن کے رہن کردیا اوراپنااُتناہی روپیہ بلاکسی نفع کے بکر سے لے لیا، اب اس مکان میں عمرو کوبکر سے کرایہ پر لے کرسکونت اختیارکرنا جائزہے یانہیں اورمعاملہ مذکورہ شرعاً درست ہوگا یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب : شرع مطہر نے عقدرہن صرف اس لئے مشروع فرمایاہے کہ قرض دہندہ کواپنے روپیہ کا اطمینان ہوجائے اوروصول نہ ہونے کااندیشہ جاتارہے اس کی مالیت سے ایک حق مرتہن کا متعلق ہوجاتاہے اورعین شیئ میں سواحفظ وحبس کے کوئی استحقاق نہیں ہوتا مرہون کے رہن یا اجارہ کااُسے اختیارنہیں کہ وہ شے اس کی مملوک نہیں صرف اس کے پاس محبوس ہے۔
فی الدرالمختار لہ حبس رھنہ لاالانتفاع بہ مطلقا لاباستخدامہ ولاسکنی ولالبس ولااجارۃ ولااعارۃ۱؎ الخ وفی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن شرح الطحاوی لیس للمرتھن ان یرھن الرھن۔۲؎
درمختارمیں ہے مرتہن کومرہون کے روک رکھنے کااختیارہے اس سے کسی قسم کانفع اٹھانے کی اجازت نہیں، نہ اس سے خدمت لینے کی، نہ سکونت کی، نہ پہننے کی، نہ اُجرت پردینے کی اورنہ عاریت پردینے کی الخ، ردالمحتارمیں ہے تاتارخانیہ سے بحوالہ شرح الطحاوی منقول ہے کہ مرتہن کویہ اختیارنہیں کہ وہ مرہون کورہن پردے دے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار         کتاب الرہن             مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۶)

(۲؎ ردالمحتار        کتاب الرہن     باب التصرف فی الرہن     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۲۹)
یہاں تک کہ اگربے اذن راہن ان تصرفات کاارتکاب کرے گا گنہگارہوگا اورغاصب ٹھہرے گا۔
کما نص علیہ فی غایتہ ولذالوھلک ھلک بالقیمۃ بالغۃ مابلغت لابالدین، فی الدرالمختار ضمن بایداعہ واعارتہ واجارتہ واستخدامہ وتعدیہ کل قیمتہ۳؎اھ وفی الھندیۃ عین الرھن امانۃ فی ید المرتھن بمنزلۃ الودیعۃ ففی کل موضع لوفعل المودع بالودیعۃ لایغرم فکذٰلک اذا فعل المرتھن ذٰلک بالرھن۱؎اھ ملتقطا
جیساکہ غایۃ البیان میں اس پرنص کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرمرہون ہلاک ہوجائے تو وہ قیمت کے بدلے میں ہلاک ہوجائے گا چاہے جتنی بھی قیمت ہوجائے نہ کہ قرض کے بدلے میں درمختارمیں ہے کہ مرتہن مرہون کی کل قیمت کا ضامن ہوگا جبکہ وہ مرہون کو ودیعت رکھے، عاریت پردے، اجارہ پردے، اس سے خدمت لے یاتعدی کرے الخ ہندیہ میں ہے کہ مرہون شیئ بعینہٖ مرتہن کے ہاتھ میں امانت ہے جیسا کہ ودیعت۔ چنانچہ جس جگہ ودیعت میں کچھ تصرف کرنے سے اس شخص پرتاوان لازم نہیں آتا جس کے پاس ودیعت رکھی گئی اسی طرح وہاں رہن میں جب مرتہن کوئی تصرف کرے تو اس پربھی تاوان لازم نہیں آئے گااھ (التقاط)(ت)
 (۳؎ الدرالمختار         کتاب الرہن             مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۶۷)

(۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الرہن    الباب الثامن     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۴۶۵)
اوراگرباذن راہن واقع ہوں تو یہ تصرفات اگرچہ جائزونافذہوں گے مگروہ رہن زائل ہوجائے گا اورمرتہن مذکورمرتہن نہ رہے گا،
فی الدرالمختار الاجارۃ والرھن من اجنبی اذا باشرھا احدھما باذن الاٰخر یخرج عن الرھن ثم لایعود الابعقد مبتدأ لانھا عقود لازمۃ بخلاف العاریۃ۲؎اھ ملخصا۔
درمختارمیں ہے اجنبی شخص سے مرہون کااجارہ یاعقدرہن جبکہ راہن اورمرہون میں سے کوئی ایک دوسری کی اجازت سے اس کامباشر ہوتو وہ رہن سے خارج ہوجاتاہے پھرسوائے نئے عقد کے رہن کی طرف عود نہیں کرتا اس لئے کہ مذکورہ بالاعقود لازم ہیں بخلاف عاریت کے الخ ملخصا(ت)
(۲؎ الدرالمختار         کتاب الرہن        باب التصرف فی الرھن    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۷۴)
بہرحال یہ حیلہ عمرو کوکچھ مفیدنہیں کہ اگرزید کااذن نہ تھا تویہ عقود مال غیر میں تصرف بےجا وگناہ ہے نہ اس مکان میں رہنا جائز، اوراگرباذن زیدواقع ہوئے یابعد وقوع اس نے جائز کردئیے تواجارہ صحیح اورمکان میں سکونت حلال بعداجازت اورجوکرایہ ہو اس کامالک زیدمگرمکان رہن سے نکل گیا۔
فی شرح الطحاوی ثم التتارخانیۃ ثم الشامیۃ ان رھن باذن الراھن صح الثانی وبطل الاول۳؎اھ، وفی الھندیۃ ان آجر المرتھن من اجنبی بامرالراھن یخرج من الرھن وتکون الاجرۃ للراھن۱؎ الخ۔
شرح طحاوی پھرتاتارخانیہ پھرشامیہ میں ہے اگرمرتہن نے راہن کی اجازت سے مرہون شیئ کو کسی کے پاس رہن رکھا تودوسرا رہن صحیح اورپہلا باطل ہوگیا الخ ہندیہ میں ہے کہ اگرمرتہن نے راہن کے حکم پر مرہون شیئ کسی کو اجارہ داری پر دی تو وہ رہن سے نکل جائے گی اوراُجرت راہن کے لئے ہوگی الخ(ت)
 (۳؎ ردالمحتار        بحوالہ التاتارخانیۃ عن شرح الطحاوی    کتاب الرہن    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۲۹)

(۱؎ الفتاوی الہندیۃ     کتاب الرھن     الباب الثامن     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۴۶۴)
شقوق اس مسئلہ میں بکثرت ہیں،
لان رھن المرتھن اما ان یکون باذن الراھن اولاوعلی الثانی اما ان یجیز اویردّ اولا ولافھٰذہ اربعۃ وعلٰی کل منھا مثلہا فی الاجارۃ فتکون ستۃ عشر و ان جعل الاولان من التشقیقین واحدا لاتحاد الحکم فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ کما فی الخیریۃ۲؎ فتبقٰی تسعۃ۔
کیونکہ مرتہن کامرہون کو رہن رکھنا یاتوراہن کی اجازت سے ہوگا یاایسانہیں ہوگا، بصورت ثانی راہن اجازت دے دے گا یارَد کردے گا یانہ اجازت دے گا اور نہ ہی رد کرے گا تو اس طرح چارصورتیں ہوجائیں گی پھر ان میں سے ہرایک میں یوں ہی چار صورتیں اجارہ کی بنیں گی، چنانچہ مجموعی احتمالات سولہ ہوجائیں گے اوراگردونوں تشقیقوں کی پہلی صورت کو اتحاد حکم کی وجہ سے ایک بنادیاجائے کیونکہ اجازت لاحقہ، وکالت سابقہ کی طرح ہوتی ہے جیساکہ خیریہ میں ہے، توباقی نوصورتیں بچیں گی(ت)
 (۲؎ الفتاوی الخیریۃ    کتاب الدعوی  دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۵۶)
لیکن حاصل حکم اُسی قدرہے کہ یاتو رہن معدوم یایہ اجارہ بےجا اورسکونت ناجائز۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter