فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
33 - 135
مسئلہ ۴۰ تا ۴۲ : ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپورنعمت بوڑھا ۹محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)کھجورکارس جو اس کے درخت کو چھیل کر ہنٹنی کے پاس سے نکالتے ہیں اس کاپینا کیساہے؟
(۲)تاڑکاپھل جس میں رس ہوتاہے اس رس کونکال کرتاڑی پیتے ہیں اورنشہ کی وجہ سے بدمست ہوجاتے ہیں لیکن پھل کھانے سے نہیں۔ بدمست ہوجانا پھل کھانا کیساہے؟
(۳)تاڑی جونشہ کی چیزہے اس کاسرکہ بناکرکھانا کیساہے؟
الجواب
(۱) جب تک نشہ نہ لائے جائزہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) پھل کھاناجائزہے اورتاڑی پیناحرام۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۳) جب حقیقۃً سرکہ ہوجائے جائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۳ : اخترحسین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام بریلی ۳صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ سوائے شراب کے بھنگ، افیون، تاڑی، چرس کوئی شخص اتنی مقدار میں پیئے کہ اس سے نشہ نہ آئے وہ شخص حرام کامرتکب ہوا یا نہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : نشہ بذاتہ حرام ہے، نشہ کی چیزیں پیناجس سے نشہ بازوں کی مشابہت ہو اگرچہ نشہ تک نہ پہنچے یہ بھی گناہ ہے یہاں تک کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ خالص پانی دورِشراب کی طرح پینا بھی حرام ہے ہاں اگردواکے لئے کسی مرکب میں افیون یابھنگ یاچرس کا اتنا جزڈالاجائے جس کا عقل پراصلاً اثرنہ ہوحرج نہیں بلکہ افیون میں اس سے بھی بچنا چاہئے کہ اس خبیث کا اثر ہے کہ معدے میں سوراخ کردیتی ہے جوافیون کے سواکسی بلاسے نہیں بھرتے توخواہی نخواہی بڑھانی پـڑتی ہے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۴۴ : شہرکہنہ قاضی ٹولہ مرسلہ عبدالرحیم تاریخ ۲۱ ماہ شعبان ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک سائل کوچہ وبازار میں پھرتاہے اورہرایک سے سوال کرتاہے کہ مجھے اﷲ کے واسطے روٹی یاکپڑا یاپیسہ دو۔ بعض دیتے ہیں اوراکثرنہیں دیتے۔ اول اکثروں کے واسطے جونہیں دیتے ہیں کیاحکم ہے؟ ونیز ایک شخص کسی دوسرے شخص سے کہتاہے کہ تواپنی بیٹی کا اﷲ کے واسطے میرے ساتھ نکاح کردے، لیکن وہ نہیں کرتا، اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ ونیز ایک شخص کسی صاحب ریاست وامارت سے کہتاہے کہ ایک ہزارروپیہ مجھے اﷲ کے واسطے دے دے مگروہ نہیں دیتا اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ بعض سائل ان الفاظ میں سوال کرتے ہیں کہ خداو رسول کے واسطے مجھے کچھ دو، یاکوئی شخص کسی سے کہہ بیٹھے کہ خداورسول کے واسطے مجھے معاف کرو، ان پرہرشخص کے واسطے ازروئے شرع شریف کیاحکم ہے؟ بالتفصیل جواب عنایت ہو۔ یہ سوالات خالصاً لوجہ اﷲ ہیں اس رورعایت کسی کی نہ پائی جائے، جو شرع شریف کا حکم ہو وہ بیان فرمائیے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب : رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ملعون من سأل بوجہ اﷲ وملعون من سئل بوجہ اﷲ ثم منع سائلہ مالم یسأل ھجرا، رواہ الطبرانی۱؎ فی المعجم الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔
ملعون ہے جواﷲ کاواسطہ دے کرکچھ مانگے اورملعون ہے جس سے خداکاواسطہ دے کرمانگاجائے اس سائل کو نہ دے جبکہ اس نے کوئی بیجاسوال نہ کیاہو(اس کوطبرانی نے معجم کبیرمیں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الادعیۃ باب السؤال بوجہ اﷲ الکریم دارالکتاب بیروت ۱۰ /۱۵۳)
(الترغیب والترھیب السائل ان یسأل بوجہ اﷲ حدیث ۱ مصطفی البابی مصر ۱ /۱۰۱)
(کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی حدیث ۱۶۷۲۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۰۲)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من سأل باﷲ فاعطی کتب لہ سبعون حسنۃ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۲؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسندصحیح۔
جس سے خداکاواسطہ دے کرکچھ مانگاجائے اور وہ دے دے تو اس کے لئے سترنیکیاں لکھی جائیں(اس کوبیہقی نے شعب الایمان میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲؎کنزالعمال بحوالہ ھب عن ابن عمر حدیث ۱۶۰۷۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۳۶۳)
اورمروی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من سألکم باﷲ فاعطوہ وان شئتم فدعوہ۔ رواہ الامام الحکیم الترمذی۱؎ فی النوادر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
یعنی جو تم سے خدا کاواسطہ دے کرمانگے اسے دو اور اگرنہ دیناچاہو تواس کابھی اختیار ہے (اس کو امام حکیم ترمذی نے نوادر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
لایسأل بوجہ اﷲ الا الجنّۃ۔ رواہ ابوداؤد۲؎ والضیاء عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔
اﷲ کے واسطے سے سوائے جنت کے کچھ نہ مانگاجائے (اس کوامام ابوداؤد اورضیاء نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جابررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب کراھیۃ المسألۃ بوجہ اﷲ تعالٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۵)
علمائے کرام نے بعد توفیق وتطبیق احادیث یہ حکم منقح فرمایاکہ اﷲ عزوجل کاواسطہ دے کرسوا اخروی دینی شیئ کے کچھ نہ مانگاجائے اور مانگنے والااگرخدا کاواسطہ دے کرمانگے اوردینے والے کا اس شیئ کے دینے میں کوئی حرج دینی یادنیوی نہ ہوتو مستحب وموکد دیناہے ورنہ نہ دے بلکہ امام عبداﷲ بن مبارک رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جوخدا کاواسطہ دے کرمانگے مجھے یہ خوش آتاہے کہ اسے کچھ نہ دیاجائے یعنی تاکہ یہ عادت چھوڑدے، اس تفصیل سے سب سوالات کاجواب واضح ہوگیا۔ جوخداکا واسطہ دے کربیٹی مانگے اور اس سے مناکحت کسی دینی یادنیوی مصلحت کے خلاف ہے یا دوسرا اس سے بہترہے توہرگزنہ ماناجائے کہ دخترکے لئے صلاح واصلح کالحاظ اس بیباک سے اہم واعظم ہے اور روپیہ پیسہ دینے میں اپنی وسعت وحالت اورسائل کے کیفیت وحاجت پرنظردرکار ہے اگریہ سائل قوی تندرست گدائی کاپیشہ ورجوگیوں کی طرح ہے توہرگز ایک پیسہ نہ دے کہ اسے سوال حرام اوراسے دیناحرام پراعانت کرناہے دینے والا گناہگارہوگااوراگرصاحب حاجت ہے اور جس سے مانگا اس کاعزیزوقریب بھی حاجتمند ہے اوراس کے پاس اتنانہیں کہ دونوں کی مواسات کرے تواقربا کی تقدیم لازم ہے ورنہ بقدرطاقت ووسعت ضروردے اورروگردانی نہ کرے۔ یہ سوالات کاجواب تھا اور اتنی بات اورگزارش ہے کہ بے ادب سائل ہونانہ چاہئے، سوال کیاجائے علمائے کرام سے کہ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین، اورآخرمیں یہ ہدایت کی جائے کہ رورعایت کسی کی نہ پائی جائے، یہ کھلی دریدہ دہنی ہے، علمائے دین ومفتیان شرع متین کو کسی کی رُو رواعایت سے کیاتعلق، جواحکام الٰہیہ ہیں بتاتے ہیں جو کسی کی رُررعایت سے معاذاﷲ قصداً حکم غلط بتائیں وہ علمائے دین کب ہوئے نائبان شیطان ہوئے، عوام پر علمائے دین کاادب باپ سے زیادہ فرض ہے،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلٰثۃ لایستخف بحقّھم الاالمنافق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام والامام المقسط ومعلم الخیر۔ رواہ ابوالشیخ فی التوبیخ عن جابر والطبرانی فی الکبیر۱؎ بسند حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
تین شخص ہیں جن کے حق کوہلکانہ جانے گا مگرمنافق کھلامنافق ازانجملہ ایک بوڑھا مسلمان، دوسرا عالم کہ مسلمان کونیک بتائے، تیسرا بادشاہ مسلمان عادل۔ (اس کوابوالشیخ نے توبیخ میں حضرت جابر سے اورطبرانی نے معجم کبیر میں سندحسن کے ساتھ ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
پہلے بھی ایک سوال میں یہ تنبیہ وتوبیخ کے کلمات اس سائل نے لکھے تھے اس پرچشم پوشی کی گئی اب یہ دوسری بار ہے لہٰذا اطلاع دی گئی سائل کواگران الفاظ کے لکھنے کی ضرورت ہے ہی توشروع سوال میں کیافرماتے ہیں علمائے دین، مطلق نہ لکھاکرے، جس سے توہین علماء پیداہو بلکہ خاص اس فقیرکانام لکھ کر اخیرمیں جیسے الفاظ چاہے لکھے واﷲ الھادی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔