Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
32 - 135
مسئلہ ۳۲ : المرسل عبدالحکیم ازملک بنگالہ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس بارہ میں کہ بعض جاہل بلکہ عالم یہ کہتے ہیں کہ حقہ پینا مکروہ ہے اوراس کاپانی اگرکپڑے پرگرجائے توکپڑاناپاک ہوجائے گا۔
الجواب : حقے کے پانی کو ناپاک بتانا محض جہالت اورشریعت مطہرہ پرافتراہے، اورحقہ جس طرح بعض جاہل افطاررمضان کے وقت پیتے ہیں جس سے کہ حواس میں خلل آتاہے ضرورناجائزاورگناہ ہے، اور تکیے وغیرہ کاحقہ جومدّتوں تازہ نہ ہوتاہواورکریہہ بدبودے مکروہ ہے، اورعام حقہ جیساکہ اہل تہذیب پیتے ہیں جس میں بدبو نہیں ہوتی وہ محض مباح ہے، وقدفصّلناہ فی فتاوانا (اس کی تفصیل ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کردی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳ : ازمارہرہ بنام شیخ امیراحمد    ۱۲جمادی الاولٰی ۱۳۲۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادویہ انگریزی استعمال ہوں یانہ ہوں اوراگرہوں تووہ کون سی ہے جس کوبلاتکلف استعمال کرلیں، اورعام فتوٰی ان کامطلوب ہے کل ادویات کی نسبت قابل استعمال اورناقابل استعمال، آیا کل ادویہ ممنوع ہیں یاوہ صرف جن میں اثر شراب ہے خواہ پینے کی ہو خواہ مالش کی ہو، جواب جلد آئے تاکہ استعمال اورعطریات کابھی معلوم ہوجائے کہ کل عطرمنع ہیں جس میں آمیزش شراب کی ہو، بظاہر آمیزش شراب معلوم ہوتی ہومگراس میں خلط ہو اورایسے عطریات کی مالش کیئے جائیں یاسونگھے جائیں؟ اس کی تفصیل بھی ہوجائے۔
الجواب : انگریزی رقیق دوائیں جوٹنچرکہلاتی ہیں ان میں عموماً اسپرٹ ہوتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدترقسموں سے ہے وہ نجس ہے، ان کاکھانا حرام، لگانا حرام، بدن یاکپڑے یادونوں کی مجموع پرملاکر اگرروپیہ بھرجگہ سے زیادہ میں ایسی شیئ لگی ہوئی نمازنہ ہوگی ہاں خشک دواجس میں کسی نجاست کی خلط کاحال معلوم نہ ہو لگاناجائزہے اوراگرکسی حرام شیئ کا اختلاط معلوم نہ ہو تو کھانے کی بھی اجازت ہے، اورافضل احتیاط ہے۔ انگریزی عطروں کاحال فقیر کومعلوم نہیں سوا اس کے کہ بہت بدبُو کریہہ الرائحہ ہوتی ہیں رقیق اشیاء میں ان کی قوت رکھنے کے لئے ڈاکٹری نسخوں میں اسپرٹ ہی کامطلقاً استعمال ہے لہٰذا ان سے احتراز ہی چاہئے، اوراگرثابت ہوجائے کہ ان میں اسپرٹ ہے تو ان کانہ صرف لگانا بلکہ سونگھنا بھی ناجائزہے کہ شراب کے مول لینے والے اٹھانے والے پربھی لعنت فرماتے ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴ : بتاریخ ۲۸جمادی الاول ۱۳۲۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بروزقیامت حقہ پینے والے سے حضور سرورکائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام روئے مبارک پھیر لیں گے اوردرودشریف اس کاپڑھنا قبول نہ ہوگا، یہ بیان غلط ہے یاصحیح؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب :یہ سب دروغ کاذب ہے اورشریعت مطہرہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرافتراء، حقہ تومباح ہے، اگربفرض غلط حرام بھی ہوتا تواتنا گناہ نہ ہوتا جس قدررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء کرنا کبیرہ شدیدہ ہے جس کے بعد بس کفرہی کادرجہ ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۵ ،۳۶ : مسئولہ عبدالرحیم خاں صاحب ازبہرام پورضلع مرشدآباد بنگال ۲۱صفر۱۳۳۲ھ

(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ سنتے ہیں کہ تاڑی کے خمیر سے ڈبل روٹی پکائی جاتی ہے مسلمانوں کے لئے کھاناکیساہے؟

(۲) اس ملک میں اکثر کھجوروں کارس نکالتے ہیں اس رس کاگڑ بناتے ہیں اکثرکھیربھی پکاتے ہیں اگرتازہ رس جوکہ شیریں ہوتاہے اورلوگ پیتے بھی ہیں دودھ یاکہ خمیرملاکرتاڑی بناتے ہیں تاڑی کے پینے سے نشہ ہوتاہے مسلمانوں کے لئے یہ کیساہے، ازروئے شرع جواب فرمائیے۔ اﷲ تعالٰی اجرعطافرمائے گا۔
الجواب: 

(۱) اگرثابت ہوتو اس سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم 

(۲) جب تک اس میں نشہ حلال ہے اور اس کی کھیر اورگڑ بھی جائزہیں اورنشہ لانے کے بعد حرام بھی ہیں اورپیشاب کی طرح نجس بھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۷ : مرسلہ عبدالرحیم     ضلع ہوگلی وانمباڑ 

اسپرٹ کااستعمال خوردنی اشیاء میں یارنگ وغیرہ میں جائزہے یانہیں؟ بہت سے لوگ اس کو شراب کہتے ہیں۔
الجواب : اسپرٹ واقعی شراب بلکہ سب شرابوں سے تیزوتند ہے حتّٰی کہ اپنی تیزی کے سبب سم ہوگی 

مذہب معتمد مفتی بہ یہ ہے کہ ہربائع مسکرکا ایک قطرہ بھی حرام اورنجس ہے لہٰذااشیائے خوردنی نیزادویہ میں اس کا استعمال مطلقاً حرام ہے انگریزی ٹنچروں میں عموماً اسپرٹ ہوتوکھانے پینے کے سوارنگنے وغیرہ میں جہاں خود اس کاچھونا لگانا پڑے وہ بھی ممنوع وناجائزہے صرف کپڑوں میں فقیرکے نزدیک عموم بلوی حکم طہارت ہے اخذا باصل المذھب والتفصیل فی فتاوٰینا (اصل مذہب کااعتبارکرتے ہوئے، اورتفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت)
مسئلہ ۳۸ : مرسلہ عبدالرحیم     ضلع ہوگلی دانمباڑ

پاؤروٹی جوہندوستان میں اکثر جگہ تاڑی کے لگاؤ سے پکاتے ہیں اس کااستعمال جائزہے یانہیں؟ اورجونہ معلمو ہوکہ یہ روٹی تاڑی سے بنی ہے اس کاکھاناکیساہے؟ اورجوتاڑی شامل ہواس کوجان کرجوکھائے اس پرتوبہ لازم ہے یانہیں؟ اور وہ شخص حرام شیئ کاحلال سمجھنے والا ہوایانہیں؟
الجواب : مسئلہ تحریم حلال کوتویہاں کوئی تعلق نہیں جب تک نشہ کوحلال نہ جانے،

لانھا فی الحرمۃ القطعیۃ ولیست فی تلک المشروبات الا فی الخمر المسکر حرام قطعا اجماعا۔ اس لئے کہ یہ حرمت قطعیہ میں ہے حالانکہ ان مشروبات میں حرمت قطعیہ نہیں سوائے نشہ آورخمر کے کہ وہ بالاجماع حرام قطعی ہے(ت)

اورجب یہ معلوم نہ ہوکہ یہاں روٹی میں تاڑی پڑتی ہے یانہیں تو اس کاکھانا بھی حرام نہیں
لان الاصل الاباحۃ ولایثبت حکم بالشک
 (کیونکہ اصل اباحت ہے اورشک کے ساتھ کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ت) ہاں اہل تقوٰی کوبچنابہتر۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فمن اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ۔۱؎
جوشبہات سے بچا اس نے اپنے دین اورعزت کوبچالیا۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الایمان     باب فضل من استبرألدینہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۳)
اورنہ بچیں تومواخذہ نہیں۔ اشباہ ودرمختارمیں ہے:
لیس زماننا زمان اتقاء الشبھات۲؎۔
ہمارازمانہ شبہات سے بچنے کازمانہ نہیں(ت)
(۲؎ الاشباہ واالنظائر    الفن الثانی         کتاب الحظروالاباحۃ    ادارۃ القرآن کراچی     ۲ /۱۰۸)
اور جہاں تاڑی پڑنا معلوم ہو تو اس سے احتراز لازم ہے لان کل مائع مسکر نجس وحرام (کیونکہ ہربہنے والی نشہ آور شیئ حرام اورنجس ہے۔ت) مگر جب ثابت ہواکہ اس میں وہ تاڑی ملائی جایت ہے جونشہ کی حالت تک نہ پہنچی یا اس طرح ملائی جاتی ہے کہ نمک وغیرہ کی وجہ سے اس کانشہ قطعاً زائل ہوجاتاہے اس وقت جوازہوگا اورنرااحتمال کہ شاید نشہ نہ رہاہو کافی نہ ہوگا لان الیقین لایزول بالشک (کیونکہ یقین شک سے زائل ہوتاہے۔ت) اس صورت میں جو اسے کھائے اس پرتوبہ لازم ہے اور ہاتھ اورمنہ اوربرتن پاک کرنابھی جبکہ شِیریاشوربا میں کھائی گئی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۹ : ازڈاک خانہ مہرگنج محلہ چرلکھی ضلع ہریسال ملک بنگالہ مرسلہ محمدحسین صاحب ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
یک جماعت ظاہرشدہ اندتمباکو راحرام گویند وحقہ نوشید راحرام زادہ گویندقول امام وصاحبان را اتباع نکنند۔
ایک جماعت ظاہرہوئی جس کے لوگ تمباکوکو حرام اورحقہ پینے والے کو حرامزادہ کہتے ہیں۔ وہ لوگ امام صاحب اورصاحبین کی اتباع نہیں کرتے(ت)
الجواب :  تمباکو خوردن وکشیدنوشمیدن ہمہ رواست کما حققنا ہ فی حقۃ المرجان، وقد قال فی غمز العیون منہ یعلم حل شرب الدخان۱؎ وآنکہ حرام زادہ گفت تعدی برشرع کردوظلم برمسلمانان عجب ست کہ بمقتضائے حدیث حرامزادہ نباشد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایبغی علی الناس الا ولد بغی اومن فیہ عرق منہ۲؎ وہرکہ اتباع ائمہ نکندبری ازاتباع نتواں بود متبع شیطان ست گومتبع ائمہ مباش۔ واﷲ تعالٰی اعلم
تمباکو کھانا، پینااور سونگھنا سب جائزہے جیساکہ ہم نے رسالہ ''حقۃ المرجان'' میں اس کی تحقیق کی ہے۔ غمزالعیون میں فرمایا کہ اس سے تمباکونوشی کاحلال ہونامعلوم ہوا۔ اور جس نے حرامزادہ کہا اس نے شریعت پرزیادتی اورمسلمانوں پرظلم کیا۔ عجب نہیں کہ وہ خود حدیث کے تقاضے کے مطابق حرامزادہ ہو۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو زناکاروہی قراردیتاہے جو ولدزناہویااس میں زنا کی کوئی راگ ہو اور جوائمہ کرام کی اتباع نہیں کرتا وہ اتباع سے بری نہیں ہوتا، وہ شیطان کی اتباع کرنے والا ہوتاہے اگرچہ ائمہ اتباع کرنے والانہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر    الفن الاول     القاعدۃ الثالثہ     ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۹۸)

(۲؎ شعب الایمان     حدیث ۶۶۷۵    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۵ /۲۸۶)

(کنزالعمال بحوالہ طب     عن ابی موسٰی حدیث ۳۰۴۵۰    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱ /۱۹)
Flag Counter