Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
31 - 135
مسئلہ۳۰ : بیجاپور گجرات ضلع بڑودہ شمالی کڑی پرانت مرسلہ حافظ فقیرمحمدبن حافظ سلیمان میاں محلہ بھوڑواڑہ ۱۵شعبان ۱۳۱۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانے میں جوشراب مہوہ سے بناتے ہیں اور عرق کی طرح کھینچے جاتے ہیں اور اس کانام شراب ہے اور تمام ملک میں مستعمل ہے پس ایک حکیم صاحبِ فقہ اوراہل علم ہے ان کی رائے ہے کہ تیزاب کی طرح نکالاجاتاہے اگرچہ بسبب مُسکِر کے حرام تو  ہے لیکن دوا میں استعمال کرنایادواکے واسطے پیناجائز ہے اورآٹھ قسم فقہ میں جوہے اس میںسے کسی قسم میں یہ شراب نہیں ہاں سُکر کرے جب حرام ہے دوامیں پینا تھوڑاپیناکسی بیماری میں حرام نہیں اورحد اس پر نہیں۔ یہ کہنا حکیم صاحب کاصحیح ہے یاغلط؟ اور اس پر ایک درمختار کامسئلہ افیون بھی پیش کرتے ہیں۔
الافیون حرام الا لصاحب التداوی وغیرہ۔
افیون (افیم) حرام ہے سوائے اس شخص کے جو بطورعلاج استعمال کرے(ت)

کی طرح اس کوبھی سمجھنا یاخمر کے موافق یہ شراب کیسے ہے اورحکم اس کا کیاہے؟ بیّنواتوجروا  اجرکم اﷲ اجروافیا۔
الجواب : صحیح یہ ہے کہ مائعات مسکرہ یعنی جتنی چیزیں رقیق وسیال ہوکرنشہ لاتی ہیں خواہ وہ مہوہ سے بنائی جائیں یاگڑیاناج یالکری یاکسی بلاسے وہ سب شراب ہیں ان کاہرقطرہ حرام بھی اورپیشاب کی طرح نجس وناپاک بھی اوران سے نشہ میں شراب کی طرح حد بھی ہے اورصحیح یہ ہے کہ دوا میں بھی ان کااستعمال حرام ہی ہے بخلاف  ان چیزوں کے جوبغیرسیال ہونے کے نشہ رکھتی ہیں جیسے افیون، مشک وزعفران وغیرہ کہ یہ ناپاک نہیں اوربقدرسکر مطلقاً حرام ہیں یونہی بقصد لہو وفساد بھی مطلقاً حرام اگرچہ بقدرسکر نہ ہو، ورنہ مقدار، قلیل بغرض صحیح مثل دواوغیرہ بے تشبّہ فاسقین حلال ہے، تودرمختارکی اس عبارت کومہوہ کی شراب سے کوئی تعلق نہیں،
درمختارمیں ہے:
حرمھا محمد مطلقا قلیلھا وکثیرھا وبہ یفتی وھو نجس ایضا ولوسکرمنھا، المختار فی زماننا انہ یحدوبہ یفی اما عند قصد التلھی فحرام اجماعا ۱؎ اھ  ملتقطا۔
امام محمد نے اس کو مطلقاً حرام قراردیاہے چاہے قلیل ہو یاکثیر، اوراسی پرفتوٰی ہے، اوروہ نجس بھی ہے، اگراس سے نشہ آئے توہمارے زمانے میں مختار یہ ہے کہ اس پرحد جاری کی جائے گی اسی پرفتوٰی ہے اورلہوولعب کے ارادے سے پینابالاجماع حرام ہے  اھ  ملتقطا(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الاشربۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۶۰)
ردالمحتارمیں ہے :
والحاصل انہ لایلزم من حرمۃ الکثیر المسکر حرمۃ قلیلہ ولانجاستہ مطلقا الا فی المعائعات لمعنی خاص بھا واما الجامدات فلا یحرم منھا الاالکثیر المسکر ولایلزم من حرمتہ نجاستہ۲؎الخ۔
خلاصہ یہ ہے کہ کثیر نشہ آور کی حرمت سے اس کے قلیل کی حرمت ونجاست لازم نہیں آتی سوائے مائعات کے اس معنی کی وجہ سے جو ان کے ساتھ خاص ہے۔ لیکن جامد اشیاء میں سے صرف زیادہ مقدار جوکہ نشہ آور ہے وہی حرام ہے۔ اور اس کے حرام ہونے سے اس کانجس ہونالازم نہیں آتا الخ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار   کتاب الاشربۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۹۳)
درمختارمیں ہے :
المحرم شرعا لایجوز الاتنفاع بہ للتداوی۳؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ جوچیزشرعاً حرام ہے اس سے علاج معالجہ کے لئے نفع حاصل کرنا جائزنہیں۔(ت) واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔
 (۳؎ درمختار    کتاب البیوع    باب المتفرقات    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۵۰)
مسئلہ ۳۱  :   ۴/صفرمظفر۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں، حرمت بنگ مثل حرمت شراب کے ہے یا اس سے کم ہے؟ اورپینے والا بنگ کامرتکب کبیرہ ہے یاصغیرہ؟ اورمستحل اس کاکافرہے یامبتدع یا زندیق؟ اگرکوئی طبیب کسی شارب خمرکوبجائے شراب کے استعمال بنگ تجویزکرے اوراس طبیب کا منشایہ ہوکہ استعمال بنگ سے  پینا شراب کاچھوٹ جائے گا تویہ حلال ہوگایاحرام اوراس کامجوز گنہگار ہوگایانہیں؟ اورنشہ بنگ کا اس مضمون حدیث میں کہ کل مسکر حرام ۱؎(ہرنشہ آور حرام ہے۔ت) وایضاً مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام ۲؎(جس کا کثیرنشہ آور ہو اس کاقلیل بھی حرام ہے۔ت) داخل ہے یانہیں؟
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الاحکام     باب امرالوالی اذاوجّہ امیرین الی موضع     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۱۰۶۳)

(صحیح مسلم         کتاب الاشربۃ    باب النہی عن الانتاذ فی المذقت الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۱۶۷)

(جامع الترمذی    ابواب الاشربۃ    باب ماجاء فی شارب الخمر        امین کمپنی دہلی         ۲ /۸)

(۲؎ جامع الترمذی   ابواب الاشربۃ    باب ماجاء مااسکرکثیرہ فقلیلہ حرام     امین کمپنی دہلی    ۲ /۹)
اگرکوئی شخص اس کے رنگ سے کپڑا رنگے اوراس کپڑے سے نمازپڑھے توجائزہوگایاناجائز؟ عبارت فتاوٰی بزازیہ سے توصراحتاً اس کی نجاست معلوم ہوتی ہے جیساکہ منقول ہے:
قال محمد رحمۃ اﷲ علیہ ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام وھو نجس ایضا قالوا وبقول محمدناخذ۳؎ انتھی۔
امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا جس کاکثیر نشہ دے اس کاقلیل بھی حرام ہے اور وہ نجس بھی ہے۔
علماء کرام نے کہاکہ ہم امام محمد کے قول سے اخذ کرتے ہیں انتہی(ت)
 (۳؎ فتاوٰی بزازیۃ     علی ہامش الفتاوی الہندیۃ    کتاب الاشربۃ        نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۱۲۷)
الجواب : خمر کی حرمت قطعیہ بلکہ ضروریات دین سے ہے اس کے ایک قطرہ کی حرمت کامنکر قطعاً کافر ہے باقی مسکرات میں یہ حکم نہیں۔ ہاں بنگ وغیرہ کسی چیز سے نشہ کی حرمت کامنکرگمراہ ومخالف اجماع ہے شراب کی حرمت بعینہا ہے اوربنگ کی حرمت بعلت اسکار ہے نشہ بازی بنگ یاافیون کسی بلاد سے ہومطلقاً کبیرہ ہے، شراب کسی طرح کی ہو صرف حرام ہی نہیں بلکہ اس کی ایک ایک بوند نجس ناپاک ہے ھوالصحیح وعلیہ الفتوی (وہی صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ت) اوربنگ وافیون وغیرہما اشیاء جن کی خشکی میں بھی نشہ ہے ان کامسکرہونا ان کے بائع وسیال پانی کی مثل بہنے والی ہونے پر موقوف نہیں وہ نجس نہیں ان کانشہ حرام ہے یہیں سے ظاہرہواکہ بنگ کے رنگ سے یابنگ کپڑے میں بندھی ہو تونمازجائز ہے وہ کل مسکر حرام میں داخل ہے  فانھا عرفیۃ عامۃ ای مادام مسکرا (اس لئے کہ یہ عرفیہ عامہ ہے یعنی جب تک وہ نشہ آورہے۔ت) مگر ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام میں صرف مسکرات مائعہ مرادہیں جن کانشہ لانا ان کے سیال کرنے سے ہوتاہے ورنہ مشک وعنبر وزعفران بھی مطلقاً حرام ونجس ہوجائیں کہ حد سے زیادہ ان کاکھانا بھی نشہ لاتاہے یقینا نشہ جبکہ مطلقاً اجماعاً قطعی ہے شراب سے ہوخواہ بنگ وغیرہا کسی شیئ خراب سے، توشرابی کوبجائے شراب بنگ سے کمی تجویز محض جہالت ہے اورضرور معصیت ہے، حرام کاکرنااور رائے دینادونوں حرام ہیں، دوسرے کوایک حرام سے بچانے کے لئے خود بھی حرام کا ارتکاب اوراسے بھی دوسرے حرام میں ڈالنا کیامقتضائے عقل ودیانت ہے۔
قال اﷲ تعالٰی :  یاایّھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذاھتدیتم۱؎۔
اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکرکرو، جب تم ہدایت پرہوتو گوئی گمراہ تمہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۵ /۱۰۵)
ردالمحتار میں ہے :
والحاصل انہ لایلزم من حرمۃ الکثیر المسکر حرمۃ قلیلہ ولانجاستہ مطلقاً الا فی المائعات لمعنی خاص بھا اما الجامدات فلا یحرم منھا الا الکثیر المسکر ولایلزم من حرمتہ نجاستہ۔۲؎ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
خلاصہ یہ ہے کہ کثیرنشہ آور کی حرمت سے اس کے قلیل کی حرمت ونجاست مطلقاً لازم نہیں آتی سوائے مائعات یعنی بہنے والی اشیاء کے، اس معنی کی وجہ سے جوان کے ساتھ خاص ہے، رہیں جامدات یعنی ٹھوس اشیاء تو ان میں سے صرف کثیر نشہ آور مقدارہی حرام ہے اوراس کی حرمت سے اس کی نجاست لازم نہیں آتی۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   کتاب الاشربۃ    داراحیاء التراث العربی بیرو    ت    ۵ /۲۹۳)
Flag Counter