| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
وعن علی امیرالمؤمنین کرم اﷲ تعالٰی وجہہ حدیثہ عند النسائی اخبرنا سوید اخبرنا عبداﷲ عن جریر عن مغیرۃ عن الشعبی قال کان علی یرزق ۱؎ الخ رجالہ کلھم ثقات وکلھم ماخلا سویدا من رجال الستۃ جریر ، ھو ابن عبدالحمید صاحب منصور و مغیرۃ ھو ابن مقسم کوفیان بنیان، وشاھدہ ابن ابی شیبۃ بسند جید اما حدیث ضربہ الحد من سکر من اداوتہ فطریق الدارقطنی فیہ حسن، شریک من قدعلمت وفراس من رجال الستۃ وثقہ احمد ویحیٰی والنسائی قال القطان ما انکرت من حدیثہ الاحدیث الاستبراء ۲؎ وبہ یعتضد طریق ابی بکر، فیہ مجالد تکلم فیہ الناس وقال الحافظ لیس بالقوی وقد خرج لہ مسلم والاربعۃ۔
اورامیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے ان کی حدیث امام نسائی کے نزدیک یوں ہے کہ ہمیں خبردی سوید نے اس نے کہاہمیں خبردی عبداﷲ نے جلیل سے اس نے مغیرہ سے اس نے شعبی سے کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لوگوں کوشراب دیتے تھے الخ۔ اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ سویدکے سواتمام صحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں جریر وہ ابن عبدالحمید ہے جوکہ منصورکاصاحب ہے۔ مغیرہ وہ ابن مقسم ہیں، جریرومغیرہ دونوں کوفی ہیں، اوراس حدیث کے شاہد ابن ابی شیبہ نے جیدسندکے ساتھ ذکرکیا، لیکن وہ حدیث کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس شخص کو حد لگائی جس نے آپ کے مشکیزے سے نبیذ پی اوراس کونشہ ہوگیا، وہ بطریق دارقطنی حسن ہے، شریک جس کے بارے میں تُوجان چکا ہے اورفراس صحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ اس کوامام احمد، یحیٰی اورنسائی نے ثقہ قراردیا۔ قطان نے کہا میں نے اس کی حدیث کا انکارنہیں کیاسوائے حدیث استبراء کے۔ اور طریق ابوبکر کواسی سے قوت ملی۔ اس میں مجالد ہے جس میں لوگوں نے کلام کیا۔ حافظ نے کہا وہ قوی نہیں ہے اس کے لئے امام مسلم نے اوراصحاب سنن اربعی نے تخریج کی۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربہ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴) (۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ فراس بن یحیٰی ۶۶۹۵ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۴۳)
وعن ابی الدرداء وعن امہ حدیثہ عندالنسائی اخبرنا زکریا بن یحیٰی ثنا عبدالاعلٰی ثنا حماد بن سلمۃ عن داؤد عن سعید بن المسیّب ۱؎ ھذا سند صحیح نظیف، زکریا ھو خیاط السنۃ سکن دمشق۲؎، و عبدالاعلٰی ھو ابن مسھر ابومسھرالدمشقی، وحماد من لایجھل، وداؤد ھو ابن ابی ھند کلھم ثقات جلۃ مشاھیر وحدیثھما عندابی بکر والسند کما رأیت من اجل الاسانید میمون بن مھر ان ثقۃ فقیہ۳؎ وعن ابی موسٰی الاشعری رواہ النسائی بطریق سوید عن عبداﷲ عن ھُشَیم اخبرنا اسمٰعیل بن ابی خالد عن قیس بن ابی حازم عن ابی موسٰی ۴؎ ھٰؤلاء کلھم من اکابرالائمۃ الثقات الاثبات کما لایخفی وعن سعید بن المسیّب بالطریق(عہ) عن سفیٰن عن یعلٰی بن عطاء یعلی ثقۃ ۵؎ من رجال مسلم و قال اخبرنا احمدبن خالد عن معن ثنا معویۃ بن صالح عن یحیٰی بن سعید ۱؎، احمد بغدادی ثقۃ، معن القزاز ویحیی المدنی کلاھما ثقۃ ثبت من رجال الستۃ، ومعویۃ صدوق من رجال الخمسۃ، و عن الحسن البصری بالطریق عن بشیر بن المھاجر مختلف فیہ وثقہ ابن معین وغیرہ وقال النسائی لیس بہ بأس واخرج لہ مسلم والاربعۃ، وقال ابوحاتم لایحتاج بہ۲؎ قلت وقول احمد منکرالحدیث ربما لایکون للحرج کما بیناہ فی غیرھٰذاالکتاب فاذن حدیثہ فی عدادالحسن، وعن عمر بن عبدالعزیز بالطریق عن عبد الملک بن طفیل الجزری مقبول۳؎، وعن ابی عبیدۃ وعن معاذ بن جبل وقد علق عنہما البخاری جازما، وعن ابی طلحۃ اسند عن ثلثتھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم ابوبکر وغیرہ والسند کلہ من جلۃ ثقات رجال الستۃ عن خالد بن الولید۔ عہ : ای طریق سوید بن عبداﷲ ۱۲منہ
ابوالدرداء اورامِّ درداء سے اس کی حدیث مرو ی ہے امام نسائی کے نزدیک حدیث اس طرح ہے کہ ہمیں زکریا بن یحیٰی نے خبردی اس نے کہاہمیں عبدالاعلٰی نے اس کو حماد بن سلمہ نے داؤد سے حدیث بیان کی اوراس نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔ یہ سندصحیح اورستھری ہے زکریاوہ خیاط السنۃ ہے جودمشق میں سکونت پذیرہوا۔ عبدالاعلٰی وہ ابن مسہر ابومسہر دمشقی ہے۔ حماد یہ مجہول نہیں ہے۔ داؤد وہ ابن ابی ہند ہے۔ وہ تمام ثقہ، برگزیدہ اورمشہورہیں۔ ابوبکرکے نزدیک ان کی حدیث اورسندجیساکہ تونے دیکھا مضبوط ترین سند ہے۔ میمون بن مہران ثقہ اورفقیہ ہے۔ اورابوموسٰی اشعری سے مروی ہے اس کو نسائی نے بطریق سوید عبداﷲ سے اوراس نے ہشیم سے روایت کیا۔ ہشیم نے کہاہمیں اسمٰعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے اور اس نے ابوموسٰی اشعری سے خبردی۔ یہ تمام اکابرائمہ میں سے ہیں ثقہ اورثبت ہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ سعید بن مسیب سے اسی طریق سے سفیان سے مروی ہے سفیان نے یعلٰی بن عطاء سے روایت کی۔ یعلٰی ثقہ اورمسلم کے رجال میں سے ہے اس نے کہاہمیں احمدبن خالد نے معن سے خبردی اس نے کہا ہمیں معاویہ بن صالح نے یحیٰی بن سعید سے حدیث بیان کی، احمدبغدادی ثقہ ہے۔ معن القزاز اور یحیٰی مدنی دونوں ثقہ، ثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ حسن بصری سے اسی طریق کے ساتھ بشیربن مہاجر سے مروی ہے جس میں اختلاف کیاگیا۔ ابن معین وغیرہ نے اسے ثقہ قراردیا۔ نسائی نے کہااس میں کوئی خرابی نہیں۔ مسلم اوراصحاب سنن اربعہ نے اس کے لئے تخریج کی۔ اورابوحاتم نے کہاکہ وہ قابل استدلال نہیں۔ قلت (میں کہتاہوں) امام احمد کاقول ''منکرالحدیث'' بسااوقات حرج کے لئے نہیں ہوتا جیساکہ ہم نے اس کتاب کے غیرمیں بیان کیاہے، چنانچہ اس کی حدیث کاشمارحَسَن میں ہوگا۔اورعمربن عبدالعزیز سے اسی طریق کے ساتھ عبدالملک بن طفیل جزری سے روایت ہے جوکہ مقبول ہے۔ ابوعبیدہ اورمعاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے امام بخاری نے بطورجزم تعلیق بیان کی، اورابوطلحہ سے۔ ابوبکر وغیرہ نے ان تینوں سے مسنداً حدیث بیان کی۔ تمام سند کے راوی برگزیدہ، ثقہ اورصحاح ستّہ کے رجال میں سے ہیں، اورخالد بن ولید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے۔(ت) (رسالہ الفقہ التسجیلی ختم ہوا)
(۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوزشربہ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴) (۲؎ تقریب التہذیب ترجمہ زکریا بن یحیٰی ۲۰۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۱۴) (۳؎تقریب التہذیب ترجمہ میمون بن مہران ۷۰۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۳۷) (۴؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربہ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴) (۵؎ تقریب التہذیب ترجمہ یعلٰی بن عطاء ۷۸۷۴ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۴۱) (۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربہ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴) (۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ بشیربن المہاجر ۱۲۴۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۰۔۳۲۹) (۳؎ تقریب التہذیب ترجمہ عبدالملک بن الطفیل ۴۲۰۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۱۶)
مسئلہ ۲۶ تا ۲۸ : ازمسجدجامع مسئولہ حامدحسین خاں بن الطاف علی ۶جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ جناب مولوی صاحب معظم ومکرم دام ظلکم! یہ چندامور حضورسے دریافت کئے جاتے ہیں :
(۱) اول یہ کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پیشتر اورجونبی گزرے ہیں ان کے وقت میں شراب حلال تھی یاحرام؟ (۲) دوسرے یہ کہ ایک شخص نے بیان کیاکہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ، نے آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت میں شراب پی اورحالت نشہ میں نماز میں سورۃ غلط پڑھی؟ (۳) اورتیسرے یہ بیان کیاکہ حضرت امیرحمزہ صاحب نے حالت نشہ میں ایک اونٹنی بلاذبیحہ کا دل اورجگرکھایا۔
الجواب (۱) اگلی شریعتوں میں بلکہ خود شریعت اسلام کی ابتداء میں شراب کی تحریم نہ تھی ہاں نشہ ہمیشہ ہرشریعت میں حرام رہاہے۔ (۲و۳) امیرالمومنین سیدنا مولاناعلی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی نسبت امرمذکور کابیان کرنے والا اگر اس شان اقدس مرتضوی پرطعن چاہتاہے توخارجی ناصبی مردودجہنّمی ہے ورنہ بلاضرورت شرعیہ عوام کوپریشان کرنے والا سفیہ، احمق، بدعقل، بے ادب ہے۔ یہی حال سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی روایت کا ہے بلکہ اس میں قائل نے جھوٹ ملایاہے اسے توبہ لازم ہے
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹ : کیافرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اطاعت والدین وبرادران واجب ہے یا فرض؟ اوردرصورت ارتکاب ان کے یہ گناہ کبیرہ مثلاً زناکرنا، چوری کرنا، ڈاڑھی منڈانا یاکتروانا ترکِ اطاعت واجب ہے یا اب بھی اطاعت کرنا چاہئے؟ اوراگربعد ارتکاب کے لڑکا اپنے باپ سے یاچھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کہے کہ ڈاڑھی منڈانا یازناکرنا یاچوری کرنا چھوڑدو، اوراس کے جواب میں وہ کہے کہ یہ توضرور کروں گا۔ اس حالت میں اطاعت کرے یا نہیں؟ اوراگروہ شخص توبہ سے انکارکرے توکافرہوا یا نہیں؟
الجواب : اطاعت والدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتا، ہاں اگروہ کسی ناجائز بات کاحکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائزنہیں، لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی۱؎(اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی بھی شخص کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ت)
(۱؎ مسنداحمدبن حنبل بقیہ حدیث حکم بن عمرو الغفاری المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۶۶ و۶۷)
ماں باپ اگرگناہ کرتے ہوں ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے اگرمان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ ان کے لئے دعا کرے، اوران کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ توضرور کروں گا یا توبہ سے انکارکرنا دوسراسخت کبیرہ ہے مگرمطلقاً کفرنہیں جب تک کہ حرام قطعی کوحلال جاننا یاحکم شرع کی توہین کے طور پرنہ ہو، اس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے گی ہاں اگر معاذاﷲ یہ انکاربروجہ کفر ہو تو وہ مُرتد ہوجائیں گے، اورمُرتد کے لئے مسلمان پرکوئی حق نہیں۔ رہا بڑا بھائی وہ ان احکام میں ماں باپ کاہمسر نہیں، ہاں اسے بھی حق تعظیم حاصل ہے اوربلاوجہ شرعی ایذارسانی تو کسی مسلمان کی حلال نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم