فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
29 - 135
وحدیثہ حدثنا ابن ابی داؤد ثنا ابوصالح ثنی اللیث ثنا عقیل عن ابن شھاب اخبرنی معاذ بن عبدالرحمٰن بن عثمٰن اللیثی (عہ) ان اباہ عبدالرحمٰن بن عثمان قال صحبت عمر۲؎ الحدیث۔ ابن ابی داؤد ھو ابراھیم ثقۃ صح لہ الطحاوی فی رفع الیدین، وعبدالرحمٰن بن عثمان صحابی، والبقیۃ کلھم ثقات، مشھورون من رجال البخاری فان الصحیح انہ خرج فی الصحیح لعبداﷲ بن صالح ابی صالح کاتب اللیث قالہ المنذری فی الترغیب والذھبی فی المیزان۱؎۔
امام طحاوی کی حدیث ہے کہ ہمیں ابوداؤد نے، انہیں ابوصالح نے، اس کولیث نے، اس کو عقیل نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ابن شہاب نے کہاکہ مجھے معاذبن عبدالرحمن بن عثمان لیثی نے خبردی کہ اس کے باپ عبدالرحمن بن عثمان نے کہامیں نے حضرت عمررضی اﷲتعالٰی عنہ کی صحبت پائی(الحدیث)۔ابن ابی داؤد وہ ابراہیم ہے جوکہ ثقہ ہے۔ امام طحاوی نے رفع یدین کے بارے میں اس کی حدیث کوصحیح قراردیا۔ عبدالرحمن بن عثمان صحابی ہیں۔ اورباقی تمام راوی ثقہ ہیں، اور بخاری کے رجال میں سے مشہور ہیں کیونکہ صحیح یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں عبداﷲ بن ابوصالح کاتب اللیث کے لئے اس کی تخریج کی، یہ بات منذری نے ترغیب میں اور ذہبی نے میزان میں کہی۔
عہ : مطبوعہ نسخہ میں اللیثی ہے جبکہ یہ تیمی ہے جیساکہ اصابہ اورتقریب میں ہے ۱۲منہ(ت)
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الاشربۃ باب مایحرم من النبیذ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۵۹)
(۱؎ میزان الاعتدال ترجمہ عبداﷲ بن صالح ۴۳۸۳ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۴۴۰)
وحدیث النسائی اخبرنا زکریا بن یحیٰی ثنا عبدالاعلٰی ثنا سفیٰن عن یحیٰی بن سعید سمع سعید بن المسیّب یقول تلقت ثقیف۲؎ الخ زکریا ثقۃ حافظ والبقیۃ ثقات مشاھیر من رجال الستۃ ۔
اورنسائی کی حدیث ہے کہ ہمیں زکریا بن یحیٰی نے خبردی اس نے کہاہمیں عبدالاعلٰی نے، اس نے کہاہمیں سفیان نے یحیٰی بن سعید سے حدیث بیان کی اس نے سعیدبن مسیّب کوکہتے ہوئے سناکہ بنی ثقیف کے لوگوں نے حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کوایک شراب پیش کی الخ۔ زکریا ثقہ اور حافظ ہے، اورباقی تمام راوی ثقہ ہیں اورصحاح ستہ کے رجال میں سے مشہور ہیں۔
(۲؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۳)
(۳؎سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴)
وحدیثہ اخبرنا محمدبن عبدالاعلٰی ثنا المعتمر سمعت منصورا عن ابراھیم عن نباتہ عن سوید بن غفلۃ۳؎ الخ محمد ثقۃ۴؎، نباتہ مقبول۵؎ والبقیۃ کلھم ثقات مشھوررون من رجال الستۃ وبالطریق رواہ عبدالرزاق عن منصور۔
امام نسائی کی حدیث ہے کہ ہمیں محمدبن عبدالاعلٰی نے خبردی اس نے کہاہمیں معتمر نے حدیث بیان کی کہ میں نے منصور کوابراہیم سے روایت کرتے ہوئے سنا، اس نے نباتہ سے اور اس نے سوید بن غفلہ سے الخ۔ محمدثقہ ہے، نباتہ مقبول ہے اورباقی تمام راوی ثقہ ہیں اورصحاح ستہ کے رجال سے مشہورہیں اور اسی طریق سے اس کو عبدالرزاق نے منصورسے روایت کیا۔
وحدیثہ اخبرنا سوید اخبرنا عبداﷲ عن ھشام عن ابن سیرین ان عبداﷲ بن یزید الخطمی قال ۱؎ الخ ھم کما تری کلھم ائمۃ اجلاء ثقات اثبات مشھورون من رجال الستۃ غیر سوید بن نصر فمن رجال الترمذی والنسائی ثقۃ معروف راوی الامام الجلیل عبداﷲ بن مبارک وھو المراد بعبداﷲ، وھشام ھو الدستوائی وعبداﷲ بن یزید صحابی وقدمنا ان الحافظ صححہ فی الفتح ۔
امام نسائی کی حدیث ہے ہمیں سویدنے خبردی اس نے کہا ہمیں عبداﷲنے ہشام سے اور اس نے ابن سیرین سے ہمیں خبردی کہ عبداﷲ بن یزید خطمی نے کہا الخ وہ تمام راوی جیساکہ تودیکھتاہے جلیل القدر ائمہ، ثقہ، ثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے مشہورہیں سوائے سویدبن نصرکے وہ ترمذی اورنسائی کے رجال میں سے ہے ثقہ ہے معروف ہے۔ راوی امام جلیل عبداﷲابن مبارک رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ہیں اورعبداﷲ سے وہی مراد ہے۔ ہشام وہ دستوائی ہے۔ عبداﷲ ابن یزید صحابی ہیں۔ ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ حافظ نے فتح میں اس کی تصحیح کی۔
(۱؎سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴)
وحدیثہ اخبرنا محمد بن المثنی ثنا ابن ابی عدی عن داؤد سالت سعید۲؎ الخ ابن ابی عدی محمد بن ابراھیم وداؤد ھوابن ابی ھند وسعید ھو ابن المسیّب والسند کلہ ثقات من رجال الستۃ الا داؤد فمن عدا البخاری، فھٰذہ اکثر من عشرۃ احادیث صحاح عن امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ وکذا صح عن ابن مسعود وعن ابنہ عامر ابی عبیدۃ وعن علقمۃ وعن حماد فان ابا حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداﷲ ان لم یفق مالکا عن نافع عن ابن عمر فلاینزل عنہ ولاعن شیئ مماقیل اصح الاسانید عندنا و عند کل من نوراﷲ بصیرتہ بنورالانصاف، وعن ابن عباس کما علمت مر تصحیحہ عن ابن حزم وکذا عن عتبۃ بن فرقد السلمی وکذٰلک صحت الاثار وحسنت فی الطلاء مثلثا اومنصفا وغیرہ عن انس بن مالک حدیثہ الاول عن الولید بن سریع الکوفی صدوق ۱؎ ۔
امام نسائی کی حدیث ہے کہ ہمیں محمد بن مثنی اس نے کہاکہ ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث بیان کی داؤد سے اس نے کہامیں نے سعید سے پوچھا الخ۔ ابن ابی عدی محمدبن ابراہیم ہے۔ داؤد وہ ابن ابی ہند ہیں۔ سعید وہ ابن مسیب ہیں۔ سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں سوائے داؤد کے کہ وہ بخاری کے علاوہ باقیوں کے رجال میں سے ہیں۔ یہ دس سے زائد صحیح حدیثیں ہیں جوامیرالمومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہیں،اوراسی طرح ابن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ ان کے بیٹے عامر ابوعبیدہ، علقمہ اورحماد سے صحیح حدیث منقول ہے۔ بیشک یہ سند ابوحنیفہ نے حماد سے، اس نے ابراہیم سے، اس نے علقمہ سے اور اس نے عبداﷲ سے روایت کی اگرنہیں فوقیت رکھتی اس سند پرجومالک نے نافع سے اوراس نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی تو اس سے کمتر بھی نہیں ہے، اورنہ اس شیئ سے جس کے بارے میں کہاگیاکہ یہ تمام سندوں سے صحیح ترین ہے۔ ہمارے نزدیک اورہر شخص کے نزدیک جسے اﷲ تعالٰی نے نورانصاف کے ساتھ نورانی بصیرت عطافرمائی، اورابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے جیساکہ توجان چکا ابن حزم سے اس کی تصحیح گزرچکی ہے۔ اوریونہی عتبہ بن فرقد سلمی سے، اسی طرح صحیح اورحسن آثار اس طلاء کے بارے میں وارد ہیں جومثلث ہو (یعنی جس کادوثلث خشک ہوگیا) یا منصف ہو جس کا نصف خشک ہوگیا یا اس کے علاوہ۔ حضرت انس بن مالک سے ان کی پہلی حدیث ولید ابن سریع کوفی سے مروی ہے جوصدوق ہے۔
(۲؎سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوز شربۃ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴)
(۱؎ تقریب التہذیب ترجمہ الولید بن سریع ۷۴۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۸۵)
والثانی عندالنسائی قال اخبرنا اسحٰق بن ابراھیم ثنا وکیع ثنا سعد بن اوس عن انس بن سیرین۲؎ رجالہ کلھم ثقات مشھورون من رجال الستۃ الاسعدا وسعد، ان کان ھوالعبسی الکوفی کما یظن من روایۃ وکیع فثقۃ وثقہ العجلی ویحیٰی و ابوحاتم وذکرہ ابناحبان و شاھین فی الثقات قال الحافظ لم یصب الأزدی فی تضعیفہ ۱؎ وان کان ھوالعدوی البصری کما یفھم من تھذیب التھذیب۲؎ فصدوق لاینزل حدیثہ عن درجۃ الحسن و ثقۃ ابن حبان وغیرہ،
اوردوسری نسائی سے، انہوں نے کہاکہ ہمیں اسحق بن ابراہیم نے خبردی اس نے کہاہمیں وکیع نے اس نے کہاہمیں سعدبن اوس نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی، اس کے تمام رجال ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے مشہورہیں سوائے سعد کے اورسعد اگرعبسی کوفی ہے جیساکہ وکیع کی روایت سے گمان کیاجاتاہے تو وہ ثقہ ہے۔ اس کو عجلی، یحیٰی اورابوحاتم نے ثقہ قراردیا ہے، اس کابن حبان اورشاہین نے ثقہ راویوں میں ذکرکیاہے۔ حافظ نے کہاکہ اس کوضعیف قراردینے میں ازدی نے درست نہیں کیا، اوراگروہ عدوی بصری ہے جیساکہ تہذیب التہذیب میں سمجھاجاتاہے تووہ صدوق ہے اس کی حدیث درجہ حسن سے ساقط نہیں ہوتی۔ ابن حبان وغیرہ نے اس کو ثقہ قراردیا۔
(۲؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرمایجوزشربۃ من الطلاء نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴)
(۱؎ تقریب التہذیب ترجمہ سعدبن اوس ۲۲۳۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۴۳)
(۲؎ تہذیب التہذیب ترجمہ سعدبن اوس ۸۷۱ دائرۃالمعارف النظامیہ حیدرآباددکن ۳ /۴۶۷)
والثالث عند ابن ابی شیبۃ عن وکیع بعین ھذا السند وعن ابن سیرین عندالنسائی اخبرنا سوید اخبرنا عبداﷲ عن ھارون بن ابراھیم عن ابن سیرین قال بعہ۳؎ الخ ھذا کما تری سند صحیح ھارون ثقۃ۴؎۔ ۔
اورتیسری حدیث ابن ابی شیہ کے نزدیک وکیع سے بعینہٖ اسی سند کے ساتھ ہے اور ابن سیرین سے امام نسائی کے نزدیک یوں ہے کہ ہمیں خبردی سُوَید نے اس نے کہاہمیں خبردی عبداﷲ نے ہارون بن ابراہیم سے اور اس نے ابن سیرین سے انہوں نے کہا اس کو بیچ دوالخ یہ جیساکہ تودیکھتا ہے صحیح سندہے، ہارون ثقہ ہے۔
(۳؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ الکراھۃ فی بیع العصیر نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۴)
(۴؎ تقریب التہذیب ترجمہ ہارون بن ابراہیم ۷۲۴۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۵۷)