Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
28 - 135
الخامس : قال النسائی حدثنا عبیداﷲ بن سعید عن ابی اسامۃ قال سمعت ابن المبارک یقول ماوجدت الرخصۃ  فی المسکر عن احد صحیحا الاعن ابراھیم۲؎۔
پانچویں بحث : امام نسائی نے کہاہمیں عبیداﷲ بن سعید نے ابواسامہ سے حدیث بیان کی کہ میں نے ابن مبارک کویہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے نشہ آورنبیذکے بارے میں سوائے ابراہیم کے کسی سے رخصت صحیح نہیں پائی۔
 (۲؎ سنن النسائی    کتاب الاشربۃ     ذکر الاختلاف علی ابراہیم فی النبیذ    نورمحمدکارخانہ کراچی    ۲ /۳۳۵)
اقول : رحم اﷲ الامام الجلیل و نفعنا ببرکاتہ فی الدنیا والاٰخرۃ بلی قد صح عن امیرالمومنین عمر وقد مرحدیث مالک عن داؤد بن الحصین من رجال الستۃ قال الحافظ ثقۃ الا فی عکرمۃ ۱؎ عن واقد بن عمروثقۃ من رجال  خ  عن محمود بن لبید صحابی صغیر وفیہ قول عبادۃ، احللتھا۲ ؎ واﷲ وفیہ ادعی الزرقانی ان کان عمراجتھد فی تلک المرۃ ثم رجع  عنہ ۳؎ کما تقدم حدیث ابی حنیفۃ عن ابی اسحٰق السبیعی ثقۃ من رجال الستۃ ولم یکن ابوحنیفۃ لیذھب الیہ بعد ما اختلط فیاخذ عنہ کما نص علیہ المحقق حیث اطلق وذکرناہ فی منیرالعین عن عمروبن میمون مخضرمہ مشھورثقۃ عابد نزل الکوفۃ من رجال الستۃ وبہ وبماتقدم من روایۃ ابن ابی شیبۃ عن ابی الاحوص عن ابی اسحٰق عن عمروبن میمون ابوالاحوص ھو سلام بن سلیم ثقۃ المصیصی من رجال الستۃ تأید الحدیثان الماران للطحاوی عن عمرو، واحدھما، حدثنا ابوبکرۃ ثنا  ابوداؤد ثنا  زھیربن معٰویۃ عن ابی اسحق عن عمروبن میمون ۱؎،
اقول : (میں کہتاہوں) اﷲ تعالٰی امام جلیل پر رحم فرمائے اور ہمیں دنیاوآخرت میں ان کی برکات سے نفع پہنچائے۔ کیوں نہیں، تحقیق امیرالمومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کی صحت ثابت ہے، اورحدیث مالک بروایت داؤد بن حصین گزرچکی جوکہ صحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں۔ حافظ نے کہاوہ ثقہ ہے مگراس روایت میں جوعکرمہ نے واقدبن عمروسے کی کہ وہ ثقہ اور''خ'' کے رجال میں سے ہیں، محمودبن لبید صحابی صغیرسے روایت ہے اور اس میں حضرت عبادہ کایہ قول مذکورہے کیاآپ نے بخدااس کوحلال کردیا؟ اس میں زرقانی نے دعوٰی کیاکہ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس موقع پراجتہاد کیاپھراس سے رجوع کرلیاجیساکہ پہلے گزرا، حدیث ابی حنیفہ بروایت ابواسحٰق سبیعی وہ ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے، اس کے اختلاط کے بعد امام ابوحنیفہ  اس کے پاس جاکرحدیث اخذ نہ کرتے جیساکہ اس پرمحقق علی الاطلاق نے نص فرمائی اورہم نے اس کومنیرالعین میں عمروبن میمون مخضرم سے ذکرکیاہے وہ مشہورثقہ عابدہے جوکہ کوفہ میں ٹھہرے صحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں۔ اس روایت سے اورماقبل میں مذکورحدیث ابن ابی شیبہ سے جوانہوں نے اپنی سند کے ساتھ ابوالاحوض سلام بن سلیم ثقہ ازرجال صحاح ستہ سے روایت کی ان دونوں گزشتہ حدیثوں کی تائید ہوگئی جوانہوں نے عمرو سے روایت کی ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں ابوبکرہ نے، ان کو ابوداؤد نے، ان کو زہیربن معاویہ نے ابواسحق سے حدیث بیان کی اورابواسحق نے عمروبن میمون سے روایت کی۔
 (۱؎ تقریب التہذیب     حرف الدال     ترجمہ داؤد بن الحصین ۱۷۸۵    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۲۷۸)

(۲؎ مؤطا امام مالک     کتاب الاشربۃ     باب ماجاء فی تحریم الخمر    میرمحمدکتب خانہ کراچی     ص۶۹۵)

(۳؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک     کتاب الاشربۃ     جامع تحریم الخمر     حدیث ۱۶۴۵    دارالمعرفۃ بیروت    ۴ /۱۷۴)

(۱؎ شرح معانی الآثار     کتاب الاشربۃ     باب مایحرم من النبیذ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۳۵۹)
والاخر، حدثنا روح بن الفرج ثنا عمروبن خالد نازھیرنا ابواسحٰق عن عمروبن میمون۲؎ رجالھما جمیعا ثقات الجلاء ابوبکرۃ ھوبکاربن قتیبۃ و ابوداؤد ھو الطیالسی ثقۃ حافظ من رجال مسلم والاربعۃ اھل الستۃ فقد کنی عنہ خ فی تفسیر المدثر حیث قال فی سند حدیث مرفوع حدثنی محمد بن بشار نا عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ قالا حدثنا حرب بن شداد۳؎ الخ غیرہ ھو ابوداؤد کما بینہ ابونعیم فی مستخرجہ وزھیر قۃ ثبت من رجال الستۃ وروح بن الفرج شیخ الطحاوی ھو القطان المصری ثقۃ وثقہ فی تھذیب التھذیب۱؎ وعمرو بن خالد شیخ روح وتلمیذ زھیر ھوالحرانی الخزاعی ثقۃ من رجال البخاری، فبموافقۃ الامام ومتابعۃ سلام زال ماکان یخشی من سماع زھیر عن ابن اسحٰق اخیرا ۔
دوسری حدیث یہ ہے کہ ہمیں روح بن الفرج نے، ان کوعمروبن خالدنے، ان کو زہیرنے ابواسحق سے حدیث بیان کی اور انہوں نے عمروبن میمون سے روایت کی۔ ان دونوں حدیثوں کے تمام رجال جلیل القدر، ثقہ ہیں۔ ابوبکرہ وہ بکاربن قتیبہ ہے۔ ابوداؤد طیالسی ثقہ، حافظ، مسلم وسنن اربعہ کے رجال میں سے ہیں اور اصحاب صحاح ستہ میں سے ہیں۔ خ نے سورۃ المدثر کی میں ان سے بطورکنایہ روایت کی ہے جہاں اس نے سند مرفوع میں کہاکہ مجھے حدیچ بیان کی محمدبن بشارنے، اس نے کہاہمیں حدیث بیان کی عبدالرحمن بن مہدی اور اس نے غیرنے، انہوں نے کہاہمیںحدیث بیان کی حرب بن شداد نے الخ اس کے غیرسے مرادابوداؤد ہیں جیسا کہ ابونعیم نے اپنی مستخرج میں بیان کیا۔ زہیرثقہ، ثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ روح بن الفرج امام طحاوی کے شیخ ہیں وہ قطان مصری ثقہ ہیں تہذیب التہذیب میں ان کی توثیق کی گئی ہے۔ عمروبن خالد روح کے شیخ اورزہیر کے شاگرد ہیں وہ حرانی خزاعی، ثقہ اوربخاری کے رجال میں سے ہیں لہٰذا امام کی موافقت اورسلام کی متابعت کے سبب سے اس خدشہ کاازالہ ہوگیاجوابواسحق سے زہیر کے سماع سے متعلق کیاجارہاتھا الخ۔
 (۲؎شرح معانی الآثار  کتاب الاشربۃ     باب مایحرم من النبیذ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۳۵۹)

(۳؎ صحیح البخاری    کتاب التفسیر    سورۃ المدثر        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۷۳۲)

(۱؎ تہذیب التہذیب    ترجمہ روح بن الفرج ۵۵۴        دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن     ۲ /۲۹۷)
و حدیث ابی حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان عمراُتی ۲؎ باعرابی، صحیح علی اصولنا فان الجمہور علٰی قبول المراسیل ولاسیما مراسیل ابراھیم فقد قال الامام احمد مرسلات سعید بن المسیب اصح المرسلات و مرسلات ابراھیم النخعی لابأس بھا ذکرہ فی التدریب۳؎ وقد اخرج ابن عدی عن یحیٰی بن معین قال مراسیل ابراھیم صحیحۃ الاحادیث تاجرالبحرین وحدیث القھقھۃ۴؎، قال فی نصب الرایۃ اما حدیث القھقھۃ فقد عرف واما حدیث تاجر البحرین فرواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ ثنا وکیع ثنا الاعمش عن ابراھیم قال جاء رجل فقال یارسول اﷲ انی رجل تاجر اختلف الی البحرین فامرہ ان یصلی رکعتین یعنی القصر۱؎ اھ  وکذا حدیث کتاب عمر المروی فی المسند بالسند۔
حدیث ابوحنیفہ جوانہوں نے حماد سے اورحمادنے ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے   پاس ایک اعرابی کولایاگیا ہمارے اصول کے مطابق صحیح ہے اس لئے کہ جمہور کامؤقف یہ ہے کہ مراسیل خصوصاً ابراہیم کی مراسیل مقبول ہیں۔ امام احمد نے فرمایا سعیدبن مسیب کی مراسیل صحیح ترین مراسیل ہین اورابراہیم نخعی کی مراسیل میں کوئی حرج نہیں۔ یہ تدریب میں مذکورہے۔ ابن عدی نے یحیٰی بن معین سے تخریج کی کہ ابراہیم کی مراسیل صحیح ہیں سوائے تاجرالبحرین اورقہقہہ کی حدیث کے۔ نصب الرایہ میں کہاحدیث قہقہہ تومعروف ہے۔۔ رہی حدیث تاجرالبحرین تواس کوابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں یوں روایت کیاہے کہ ہمیں وکیع نے اوران کواعمش نے ابراہیم سے حدیث بیان کی، ابراہیم نے کہاکہ ایک شخص نے حاضرہوکر عرض کی یارسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم)! میں ایک تاجر شخص ہوں باربار بحرین جاتارہتاہوں، توآپ نے اس کوحکم دیاکہ وہ دورکعتیں یعنی نمازقصر پڑھاکرے اھ  یونہی حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے خط والی حدیث جوکہ مسندمیں سندکے ساتھ مروی ہے۔
 (۲؎ جامع المسانید    الباب الثلاثون فی الحدود        المکتبۃ الاسلامیہ سمندری    ۲ /۱۱۲)

(۳؎ تدریب الراوی     النوع التاسع المرسل وبیان اطلاقہ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۶۸)

(۴؎ نصب الرایہ     کتاب الطہارت     فضل فی نواقض الوضوء    المکتبۃ الاسلامیہ     ۱ /۵۲)

(۱؎ نصب الرایۃ     کتاب الطہارات     فصل فی نواقض الوضوء    المکتبۃ الاسلامیہ     ۱/ ۵۲)
وحدیث الطحاوی حدثنا فھد ثنا عمرب حفص ثنا ابی ثنا الاعمش ثنی ابراھیم عن ھمام بن الحارث عن عمر انہ کان فی سفر۲؎ الحدیث عمربن حفص ثقۃ من رجال الشیخین وابوہ حفص بن غیاث ثقۃ۳؎ من رجال الستۃ وابراھیم ھوالنخعی وھمام النخعی ثقۃ من رجال الستۃ وحدیثہ حدثنا فھدثنا عمربن حفص ثنا ابی عن الاعمش ثنی حبیب بن ابی ثابت عن نافع عن ابن عمر قال امربنبیذ لہ۴؎، الحدیث، رجالہ کلھم ثقات حبیب ثقۃ امام جلیل من رجال الستۃ وقد سمع ابن عمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم قالہ البخاری ۱؎ قلت وھو من اقران نافع لیس بین موتھما الا سنۃ اوسنتان فلودلس لامکنہ ان یقول عن ابن عمرلکن اوضح وبین فرحمہ اﷲ تعالٰی،
اور امام طحاوی کی حدیث کہ ہمیں فہدنے، اس کوعمربن حفص نے، اس کواس کے باپ نے، اس کواعمش نے، اس کوابراہیم نے ہمام بن حارث سے حدیث بیان کی، ہمام نے حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ وہ سفرمیں تھے(الحدیث)۔ عمربن حفص ثقہ اورشیخین کے رجال میں سے ہیں اور ان کاباپ حفص بن غیاث ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ ابراہیم وہ نخعی ہیں۔ ہمام نخعی فقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہیں۔ اوراس کی حدیث یہ ہے کہ ہمیں فہد نے اوران کی عمربن حفص نے، ان کوان کے باپ نے اعمش سے حدیث بیان کی، کہامجھے حبیب بن ابی ثابت نے نافع سے اورانہوں نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ آپ نے اپنے لئے نبیذکاحکم دیا(الحدیث)۔ اس حدیث کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ حبیب ثقہ، امام جلیل اورصحاح ستہ کے  رجال میں سے ہے۔ اس نے ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما اور ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے حدیث سنی ہے یہ امام بخاری نے کہاہے۔ قلت (میں کہتاہوں) وہ نافع کاہمعصر ہے ان دونوں کی موت کے درمیان ایک یادو سال کافرق ہے، اگروہ تدلیس کرتاتو اس کے لئے ممکن تھا کہ وہ یوں کہتاعن ابن عمر، لیکن اس نے تدلیس نہیں کی، بلکہ وضاحت فرمائی، اﷲ تعالٰی اس پررحم فرمائے۔
 (۲؎ شرح معانی الآثار     کتاب الاشربۃ    باب مایحرم من النبیذ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۳۵۹)

(۳؎ تقریب التہذیب     ترجمہ عمربن حفص ۴۸۹۶    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱/ ۷۱۴)

(۴؎ شرح معانی الآثار    کتاب الاشربۃ    باب مایحرم من النبیذ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۳۵۹)

(۱؎ میزان الاعتدال     بحوالہ البخاری        ترجمہ حبیب ابن ابی ثابت     ۱۶۹۰    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۴۵۱)
Flag Counter