| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
اقول : نعم وقع التحریم علی الجنس مقیدا بصفۃ الاسکار فاذا اسکر حرم والا لاوانما انشدک اﷲ والانصاف اذا قیل لک انھاک عن کل طعام اشبع ھل یفھم منہ النھی عن الاکل مطلقا ولولقمۃ اولقیمۃ اصغر ماتکون، ماھٰذہ الامکابرۃ الاتری ان الاجماع ماض علی تحریم کل ضار کالسموم والطین وغیرذٰلک ثم لم ینطلق ھٰذالحکم الا الٰی قدریضرک ایاک لامایضرولوذبابا اونملۃ، وقد اخرج احمد وابوداؤد وعن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن کل مسکر ومفتر۲؎،
اقول : (میں کہتاہوں) ہاں تحریم جنس پرواقع ہے درانحالیکہ وہ نشہ آورہونے کی صفت سے مقید ہے۔ لہٰذا جب نشہ دے توحرام ہے ورنہ نہیں۔ میں تجھے اﷲ تعالٰی کی قسم دے کر انصاف کامطالبہ کرتاہوں کہ جب تجھے کہاجائے کہ میں تجھے ہرایسے طعام سے منع کرتاہوں جوسیرکردے توکیااس سے مطلق طعام کی ممانعت سمجھی جائے گی اگرچہ ایک لقمہ کی مقدار یا اس سے بھی کمترہو؟ یہ تومحض انکارحق ہے، کیاتم نہیں دیکھتے کہ ہرنقصان دہ چیز کی حرمت پراجماع جاری ہے جیسے زہراورکیچڑوغیرہ، پھریہ حکم نہیں جاری ہوتا مگراتنی مقدار پرجوتجھے نقصان پہنچائے نہ مطلق نقصان پہنچانے والی شیئ پراگرچہ وہ مکھی یاچیونٹی کونقصان پہنچائے، امام احمد وابوداؤد نے ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے تخریج کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہرنشہ آور اورعقل میں خلل ڈالنے والی چیزسے منع فرمایا۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی السکر آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۳)
و معلوم ان من الادویۃ ما اذااکثر منہ اورث التفتیر والتحذیر ثم لم یرجع التحذیر الا الی ذٰلک القدر الکثیر ولوکان الامر کما زعمت لوجب القول بحرمۃ المسک و امثالہ مطلقا وکل ذٰلک خلاف الاجماع ھذا ثم اتفقت المراجعۃ الی البنایۃ فرایت الامام البدر محمود ارحمہ اﷲ تعالٰی اتی ھٰھنا بکلام حسن نقلا عن الامام تاج الشریعۃ زاد فیہ من النظائر فاحببت ایرادہ قال روح روحہ، الحرام ھو المسکر واطلاقہ علی ماتقدم مجاز وعلی القدح الاخیر حقیقۃ وھو مراد فلایکون المجاز مرادا وقد قال تاج الشریعۃ المسکر مایتصل بہ السکر بمنزلۃ المتخم من الطعام وھو مایتصل بہ من التخمۃ فان تناول الطعام بقدر مایغذیہ حلال ومایتخم وھوالاکل فوق الشبع حرام ثم المحرم منھما وھو المتخم وان کان لایکون ذٰلک متخما الاباعتبار ماتقدمہ من الاکلات وکذٰلک فی الشراب وقد قال ابویوسف رحمہ اﷲ ذٰلک مثل دم فی ثوب مادام قلیلا فلاباس بالصلٰوۃ فیہ فاذا اکثر لم یحل ومثل رجل ینفق علی نفسہ واھلہ من کسبہ فلاباس بذٰلک فاذا اسرف فی النفقۃ لم یصلح لہ ذٰلک ولاینبغی وکذٰلک النبیذ لابأس ان یشربہ علی طعامہ ولاخیر فی السکر منہ لانہ اسراف واظھر من ذٰلک ان الضمان یضاف الی واضع المنّ الاخیر فی السفینۃ وان لم یحصل الغرق بدون ماتقدم من الامناء وھذا لانہ لایوجد التلف حکما بما تقدم من الامناء وانما وجد ذٰلک بفعل فاعل مختار فاضیف الغرق لولی المن الاخیر فکذاھنا اضیف السکر الی القدح الاخیر الذی یحصل بہ السکر حقیقۃ لاما تقدم من الاقداح۱؎ اھ ۔
یہ بات معلوم ہے کہ بعض دوائیوں کی زیادہ مقدارعقل میں خلل ڈالتی ہے جس سے پرہیز کرنالازمی ہے۔ پھر یہ پرہیزاورممانعت صرف اسی مقدار کثیر کی طرف لوٹی ہے۔ اگرمعاملہ ایسے ہوتاجیسے تونے گمان کیاہے توکستوری اوراس جیسی اشیاء کی مطلقاً حرمت کاقول کرناواجب ہوتاحالانکہ یہ سب خلاف اجماع ہے۔ پھربنایہ کی طرف مراجعت کا اتفاق ہوا تو میں نے دیکھا کہ امام بدرمحمود رحمہ اﷲ تعالٰی نے یہاں پرامام تاج الشریعۃ سے نہایت عمدہ کلام نقل فرمایا جس میں کئی نظائر کااضافہ کیا۔ اس کلام کویہاں ذکرکرنامجھے پسندہے۔ اس نے کہااس کی روح کشادہ ہوکہ حرام وہ ہے جونشہ آورہے۔ اس سے پہلے والی شراب پرحرام کااطلاق مجازاً ہے جبکہ آخری پیالہ پر اس کا اطلاق حقیقتاً ہے اور وہی مراد ہے لہٰذ امجاز مراد نہیں ہوگا۔ اورتاج الشریعۃ نے فرمایاکہ نشہ آور شراب جس کے ساتھ نشہ متصل ہے وہ بدہضمی پیداکرنے والے طعام کی طرح ہے اور وہی طعام ہے جس کے ساتھ بدہضمی متصل ہے اس لئے کہ بقدرغذاطعام کھاناحلال ہے۔ اورجوبدہضمی پیداکرتاہے وہ وہ ہے جوسیرہوجانے کے بعد کھایاجائے وہ حرام ہے۔ پھر اس میں سے حرام وہی ہے جوبدہضمی پیداکرنے والاہے اگرچہ پہلے والے لقموں کااعتبارکئے بغیر وہ بدہضمی پیدانہیں کرتا، اوریہ حکم شراب میں ہوگا۔ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ یہ کپڑے میں لگے ہوئے خون کی طرح ہے کہ جب تک وہ قلیل ہو اس کپڑے میں نمازاداکرنے میں کوئی خرابی نہیں اورجب وہ زیادہ ہوجائے توحلال نہیں۔ اور اس شخص کی طرح ہے جو اپنی کمائی میں سے اپنی ذات اور اپنے اہل وعیال پرخرچ کرتاہے جس میں کوئی حرج نہیں مگرجب وہ خرچ میں زیادتی کرے تو اس کے لئے یہ درست نہیں اوراسے ایسانہیں کرناچاہئے۔ اسی طرح کھانے کے اوپرنبیذ پینے میں کوئی حرج نہیں مگراس سے نشہ میں کوئی بھلائی نہیں کیونکہ یہ اسراف ہے، اوراس میں زیادہ ظاہربات یہ ہے کہ ضمان اس شخص کی طرف منسوب ہوتاہے جس نے کشتی میں آخری مَن رکھااگرچہ اس سے پہلے رکھے جانے والے مَنوں کے بغیر کشتی کاغرق ہونامتحقق نہیں ہوا۔ اوریہ اس لئے ہے کہ پہلے والے مَنوں سے حکمی طورپرتلف نہیں پایاگیاتووہ فاعل مختارکے فعل سے پایاگیا لہٰذا غرق کی نسبت آخری مَن والے کی طرف کی جائے گی۔ یوں ہی یہاں نشہ کی اضافت آخری پیالے کی طرف کی جائے گی جس سے حقیقتاً نشہ حاصل ہوانہ کہ پہلے والے پیالوں کی طرف الخ۔
(۱؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ۴ /۳۴۳)
ثم ان البیھقی فی المعرفۃ اراد الرد علی حدیث الحجاج بوجہ آخر فذکر مارواہ ابن المبارک عن الحسن بن عمروالفقیمی عن فضیل بن عمروعن ابراھیم قال کانوا یقولون اذا سکرلم یحل لہ ان یعود فیہ ابدا۲؎، قلت واسندہ النسائی من طریق ابن ابی زائدۃ عن الحسن بن عمر بالسند قال کانوا یرون ان من شرب شرابا فسکر منہ لم یصلح ان یعود فیہ ۱؎، قال البیھقی فکیف یکون عند ابراھیم قول ابن مسعود ھٰکذا (یعنی مارواہ الحجاج) ثم یخالفہ قال فدل علی بطلان ما رواہ الحجاج بن ارطاۃ۲؎،
پھربیہقی نے المعرفہ میں حدیث حجاج پرایک اوروجہ سے رَدکرناچاہا تو ذکرفرمایا جس کوابن مبارک نے حسن بن عمروفقیمی سے، اس نے فضیل بن عمروسے اور اس نے ابراہیم سے روایت کیاابراہیم نے کہا وہ کہتے تھے کہ جب کسی کونشہ آجائے تو اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ کبھی بھی اس نشہ والی نبیذ کی طرف عود کرے۔ قلت(میں کہتاہوں) امام نسائی نے اس کو بطریق ابن ابی زائدہ حسن بن عمر سے مسنداً بیان کیاکہ و ہ یہ سمجھتے تھے کہ جس نے شراب پی اوراس کو نشہ آگیا اس کے لئے ایسی شراب کی طرف عود کرنا درست نہیں۔ بیہقی نے کہاکہ ابراہیم کے نزدیک ابن مسعود کاقول اس طرح کیسے ہوگیا یعنی جس کو حجاج نے روایت کیا پھراس کی مخالفت کی اس نے کہاکہ اس کے بطلان پردلیل وہ ہے جس کوحجاج بن ارطات نے روایت کیا۔
(۲؎ نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی فی المعرفۃ کتاب الاشربۃ المکتبۃ الاسلامیۃ ۴ /۳۰۶) (۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاختلاف علی ابراہیم فی النبیذ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۵) (۲؎ نصب الرایۃ بحوالہ البیہقی کتاب الاشربۃ المکتبۃ الاسلامیہ ۴ /۳۰۶)
اقول : لاننکر ان حدیث الحجاج لایصلح الاحتجاج لکن فی الرد بھذا الوجہ خفاء لایخفی فان القول وان لم یصح عن عبداﷲ قد ضح عن ابراھیم فاذا لم یمنعہ ھٰذا عن قول نفسہ فکیف یمنع ان یکون عندہ عن عبداﷲ مثلہ اما ابوعبدالرحمٰن فجعل ھٰذا خلافا عن ابراھیم فی اذا قال، ذکرالاختلاف علی ابراھیم فی النبیذ فروی ھذا ثم قال اخبرنا سوید اخبرنا عبداﷲ عن ابی عوانۃ عن ابی مسکین قال سالت ابراھیم قلت انا ناخذ دُردی الخمر اوالطلاء فننظفہ ثم ننقع فیہ الزبیب ثلثاثم نصفیہ ثم ندعہ حتی یبلغ فنشربہ قال یکرہ۱؎ اھ فزعم ان فی ھٰذین خلاف ماثبت عن ابراھیم من تحلیل القلیل۔
اقول : (میں کہتاہوں) ہم اس بات کاانکارنہیں کرتے کہ حدیث حجاج قابل استدلال نہیں لیکن اسے اس وجہ کے ساتھ رَد کرنے میں خفاء ہے جوکہ مخفی نہیں اس لئے کہ یہ قول اگرچہ عبداﷲ سے صحیح نہیں مگرابراہیم سے صحیح ہے کہ جب اس نے اپنا قول ہونے سے انکار نہیں کیاوہ کیسے انکار کرے گا، اس کے نزدیک عبداﷲ سے اس کی مثل منقول ہے لیکن ابوعبدالرحمن نے اس کو ابراہیم کی نقل کے خلاف قرار دیاہے انہوں نے اس کو ذکرالاختلاف علی ابراہیم فی النبیذ کے باب میں روایت کیاپھرکہاکہ ہمیں خبردی سُوَیدنے، اس نے کہاہمیں خبردی عبداﷲ نے ابوعوانہ سے، اس نے ابومسکین سے کہ میں نے ابراہیم سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ ہم خمریاطلاء کاتلچھٹ لیتے ہیں پھراس کو صاف کرتے ہیں پھرتین دنوں تک اس میں کشمش بھگو دیتے ہیں پھر اس کوصاف کرکے رکھ چھوڑے ہیں یہاں تک کہ وہ تیزی کی حد تک پہنچ جاتا ہے پھر اس کوپی لیتے ہیں توابراہیم نے کہایہ مکروہ ہے الخ ابوعبدالرحمن نے گمان کیاان دونوں میں اس کے خلاف ہے جوقلیل مقدارکے حلال ہونے سے متعلق ابراہیم سے ثابت ہے۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاختلاف علٰی ابراہیم نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۵)
اقول : ولامتمسک لہ فی شیئ منھما فان معنی الاول علی مانری واﷲ تعالٰی اعلم ان من استخفہ الشیطان فی شراب فلم یصبر علٰی قلیلہ حتی اکثر فاسکر لاینبغی لہ ان یعود فیہ کیلا یستجرہ العدو اخری، فیکون معناہ علی وزان قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایلدغ المؤمن من جحر مرتین۲؎ او یکون المعنی لایعود الٰی ما اسکر فقد علمہ بالتجربۃ وذٰلک ان من ظن فی شراب انہ لایسکر منہ ثلث کؤس مثلا فشرب فسکر لم یحل لہ العود الی الثالثۃ ابدا، واما الاثر الآخر فانما الکراھۃ فیہ لاجل دُردی الخمر والطلاء بالاشتراک یطلق علی معان بینھا العلّامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام، منھا العصیر العنبی الذی ذھب اقل من ثلثیہ، وھو الباذق والذی ذھب نصفہ وھو المصنف والذی ذھب ثلثاہ وھو المثلث والذی ذھب ثلثہ وھو الباذق قال ویسمّی بالطلاء کل ماطبخ من عصیر العنب مطلقا۱ ؎ والکل غیر المثلث حرام کثیرہ وقلیلہ نجس نجاسۃ غلیظۃ کالخمر عندنا وعند الجمھور خلافا للامام الشافعی و الاوزاعی وبعض الظاھریۃ والمعتزلۃ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول : (میں کہتاہوں) ان دونوں روایتوں میں ابوعبدالرحمن کے لئے ستدلال کی کوئی گنجائش نہیں، اس لئے کہ پہلی کامعنی جیساکہ ہم سمجھے ہیں اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے یہ ہے کہ بیشک جس کی نظرمیں شیطان نے شراب کوہلکاکردیااس نے قلیل پرصبرنہیں کیایہاں تک کہ زیادہ پی کرمست ہوگیا تو اس کو دوارہ شراب کی طرف نہیں لوٹنا چاہئے تاکہ دشمن پھر اس کو نہ کھینچ لے۔ چنانچہ اس کامعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرح ہوگیاکہ مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈساجاتا، یا اس کامعنی یہ ہے کہ جس شراب کانشہ آورہونا اس کوتجرہ معلوم ہوگیا اس کی طرف عود نہ کرے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص کاگمان تھا اس شراب کے تین گلاس مجھے نشہ نہیں دیں گے اس نے تین گلاس پی لئے تو اس کونشہ آگیا اب ہمیشہ کے لئے اس کو تیسرے گلاس کی طرف عود حلال نہیں رہا۔ رہی دوسری اثرتو اس میں خمروطلاء کے تلچھٹ کی وجہ سے جوحرمت ہے اوروہ بطوراشتراک کئی معنوں پر بولی جاتی ہے جنہیں علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں بیان فرمایا ہے ان میں انگور کے جس شیرہ کا دوتہائی سے کم جل کرخشک ہوجائے اس کو باذق، جس کانصف خشک ہوجائے اس کومنصف اور جس کادو تہائی خشک ہوجائے اس کومثلث اورجس کا ایک تہائی خشک ہوجائے اس کوباذق کہاجاتاہے۔ اورفرمایا کہ انگور کے جس شیرہ کو پکایاجائے اس کومطلقاً طلاء کہتے ہیں الخ مثلث کے سواتمام خمر کی طرح حرام اوران کا قلیل وکثیرنجاست غلیظہ کے ساتھ نجس ہے۔ ہمارے نزدیک اورجمہور کے نزدیک بخلاف امام شافعی اوزاعی، بعض ظاہریہ اورمعتزلہ کے۔ اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔
(۲؎ کنزالعمال عن ابی ہریرہ حدیث ۸۳۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۱۶۶) (۱؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ الدررالحکام کتاب الاشربۃ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۸۷)