Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
26 - 135
الرّابع : حدیث الطحاوی عن علقمۃ سالت ابن مسعود عن قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی السکر قال الشربۃ الاخیرۃ ۱؎ رواہ الدارقطنی فی سننہ عن عمار بن مطرثنا جریر بن عبدالحمید عن الحجاج عن حماد عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداﷲ فی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل مسکر حرام قال عبداﷲ ھی الشربۃ التی اسکرتک ثم اسند عن عمار بن مطر ثنا شریک عن ابی حمزۃ عن ابراھیم قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل مسکر حرام قال ھی الشربۃ التی اسکرتک قال ھذا اصح من الذی قبلہ ولم یسندہ غیر الحجاج واختلف عنہ وعمار بن مطر ضعیف وحجاج ضعیف وانما ھو من قول ابراھیم النخعی ثم اخرج عن ابن المبارک انہ ذکر عندہ حدیث ابن مسعود کل مسکر حرام ھی الشربۃ التی تسکرک فقال ھذا حدیث باطل۱؎ اھ  وتبعہ المحقق فی الفتح ،
چوتھی بحث : طحاوی کی سند علقمہ سے کہ میں نے ابن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نشہ سے متعلق قول کے بارے میں سوال کیاتوانہوں نے کہاوہ آخری گھونٹ ہے۔ اس کودارقطنی نے اپنی سنن میں عماربن مطرسے روایت کیا، عمارنے کہاہمیں جریر بن عبدالحمید نے حجاج سے، اس نے حماد سے، اس نے ابراہیم سے اس نے علقمہ سے، اوراس نے عبداﷲ سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے اس قول کے بارے میں حدیث بیان کی کہ ہرنشہ آورحرام ہے، عبداﷲ نے کہاکہ وہ آخری گھونٹ ہے جس نے تجھے نشہ دیا۔ پھردارقطنی نے اس کا اسناد بیان کیاعماربن مطرسے، اس نے شریک سے، اس نے ابوحمزہ سے، اس نے ابراہیم سے کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاقول کہ ہرنشہ آورحرام ہے، فرمایاوہ آخری گھونٹ ہے جس نے تجھے نشہ دیا۔ دارقطنی نے کہایہ پہلی سند سے زیادہ صحیح ہے، سوائے حجاج کہ کسی نے اس کا اسناد بیان نہیں کیا، اوراس سے روایت میں اختلاف ہے۔ عماربن مطر ضعیف ہے، یہ ابراہیم نخعی کاقول ہے۔ پھرابن المبارک سے اس کی تخریج کی کہ اس کے پاس حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ ''ہرمسکرحرام ہے'' سے مراد وہ گھونٹ ہے جس نے تجھے نشہ دیا، تو ابن المبارک نے کہایہ حدیث باطل ہے اھ ۔ اور اس کی پیروی کی محقق نے فتح میں۔
 (۱؎ شرح معانی الآثار    کتاب الاشربۃ    باب مایحرم من النبیذ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۶۱)

(۱؎ سنن الدارقطنی     کتاب الاشربۃ وغیرہا    حدیث ۲۳و۲۵    دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ    ۴ /۲۵۰و۲۵۱)
اقول : سند الطحاوی حدثنا ابن ابی داؤد ثنا نعیم وغیرہ انا حجاج عن حماد۲؎ الخ ولیس فیہ عمار کما تری والحجاج ھو ابن ارطاۃ من رجال مسلم والاربعۃ وھو وان کان من شیوخ شعبۃ وشعبۃ من قد علم فی شدۃ ورعہ واحتیاطہ وقد کان یقول اکتبوا عن حجاج ابن ارطاۃ وابن اسحٰق فانھما حافظان ۱؎ وقد اثنی علیہ غیر واحد منھم الثوری وابوحاتم بیدانہ کثیرالتدلیس قال الذھبی اکثر مانقم علیہ التدلیس ۲؎، وقال ابوحاتم یدلس عن ضعفاء۳؎ فالحدیث وان لم یصح عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما قالہ عبداﷲ لکنہ قدصح عن ابراھیم کما قدمناہ عن مسند الامام اعظم عن حماد عنہ ،فماکان ینبغی لابی عبدالرحمٰن ان یقول لیس کما یقول ابوعون، لانفھم بتحریمھم اٰخرالشربۃ وتحلیلھم ما تقدمھا اماما تعلل بہ قائلا لاخلاف بین العلم ان المسکر بکلیتہ لایحدث علی الشربۃ الاٰخر دون الاولٰی والثانیۃ بعدھا۔
اقول : (میں کہتاہوں) طحاوی کی سندیہ ہے کہ ہمیں ابن داؤد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاکہ ہمیں نعیم وغیرہ نے حدیث بیان کی،ا نہوں نے کہاہمیں حجاج نے حماد سے خبردی الخ اس میں جیساکہ تونے دیکھاعمارنہیں ہے اورحجاج وہ ابن ارطاۃ ہے جو مسلم اوراصحاب سنن اربعہ کے رجال میں سے ہے۔ وہ اگرچہ شعبہ کے شیوخ میں سے ہے۔ اورشعبہ کے تقوٰی واحتیاط میں سختی جانی ہوئی ہے کہاکرتے تھے حجاج بن ارطاۃ اورابن اسحاق سے لکھ لیاکرو کیونکہ وہ دونوں حافظ ہیں۔ نیزمتعدد ائمہ نے اس کی تعریف کی جن میں ثوری اورابوحاتم شامل ہیں سوائے اس کے کہ وہ تدلیس میں کثرت کرتا ہے۔ ذہبی نے کہااکثر اس پرجس شیئ میں ملامت کی جاتی ہے و تدلیس ہے۔ ابوحاتم نے کہاکوہ تدلیس کرتاہے اورضعفاء میں سے ہے۔ تویہ حدیث اگرچہ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے صحیح نہیں جیساکہ عبداﷲ نے کہامگر ابراہیم سے صحیح ہے جیساکہ ہم مسندامام اعظم کے حوالے سے ذکر کرچکے ہیں کہ حماد نے ابراہیم سے روایت کی۔ لہٰذا ابوعبدالرحمن کوایسانہیں کہناچاہئے تھا کہ ابن عون کاکہنادرست نہیں کیونکہ ان کا آخری گھونٹ کوحرام اور اس سے پہلے والے گھونٹ کوحلال قراردینا ہمیں سمجھ نہیں آتا لیکن ابوعبدالرحمن کاوجہ بیان کرتے ہوئے یہ کہناکہ مسکرکے آخری گھونٹ پر اثرانداز ہونا اورپہلے اور دوسرے پرنہ ہونا اورپہلے اوردوسرے پرنہ ہونا علمی اعتبارسے یہ فرق درست نہیں ہے —————
 (۲؎ شرح معانی الآثار    کتاب الاشربۃ وغیرہا   باب مایحرم من النبیذ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۳۶۱) 

(۱؎ میزان الاعتدال    ترجمہ حجاج بن ارطاۃ    ۱۷۲۶    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۴۶۰)

(۲؎میزان الاعتدال    ترجمہ حجاج بن ارطاۃ    ۱۷۲۶    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۴۶۰) 

(۳؎ تہذیب التہذیب   ترجمہ حجاج بن ارطاۃ    ۳۶۵    دائرۃ المعارف النظامیہ      ۲ /۱۹۷)
اقول :  :  ارایت اذاکان لایسکر المسک والعنبر والزعفران واشباھھا الا اذا بلغ عشر حبات مثلاً فاذا تناول رجل حبۃ  فھل تناول الحرام فان قلت نعم فقد اعظمت القول وان قلت لا قلنا فان تناول اخری حتی بلغ تسعا فلابد ان تقول فی الکل بالحل قلنا فاخبرنا اذا تناول العاشرۃ فسکر فان قلت الآن ایضا حل فقداعظمت القول وان قلت حرم فقد قضیت علی نفسک ولاشک ان السکر انما اتی للمجموع لکن الحرمۃ انماھی للاکلۃ الاخیرۃ دون الاولی والتی تلیھا ای تسع ومن عرف ان المعلول و ھی الحرمۃ المعلولۃ بالکسر المعلول بالعشر انما یتحق عند تحقق الجزء الاخیرمن اجزاء العلۃ عرف المرام ولم تذھب بہ الاوھام ۔
اقول : (میں کہتاہوں) تیراکیاخیال ہے کہ کستوری، عنبر، زعفران اوران جیسی دیگراشیاءمثلاً اگرنشہ نہ دیں جب تک وہ دس رتی کے برابر نہ ہوجائیں۔ جب کسی شخص نے ان میں سے ایک رتی کے برابرکھایا تو کیااس نے حرام کھایا، اگرتوکہے کہ ہاتوتونے بہت بڑی بات کہہ دی اوراگرکہے کہ نہیں توہم کہیں گے کہ اگردوسری رتی کھائی توکیاحکم  ہے یہاں تک کہ نوتک پہنچ جائے۔ تیرے لئے اس سے چھٹکارا نہیں کہ توان سب کے حلال ہونے کاقول کرے۔ پھرکہیں گے کہ بتاؤاگروہ دسویں رتی کھائے اورنشہ آجائے توا ب کیاحکم ہے۔ اگرتوکہے کہ اب بھی حلال ہے تو تم  نے بہت بڑی بات کہہ دی۔ اوراگرکہے کہ حرام ہے توخوداپنے خلاف تونے فیصلہ دے دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں نشہ اس مجموعے سے آیا ہے لیکن حرمت آخری رتی کوکھانے پرہے نہ کہ پہلی اوراس کے بعد والیوں پرجوکہ نو ہیں۔ جس نے یہ سمجھاکہ معلول جوکہ وہ حرتم ہے جس کی علت نشہ ہے وہ معلول پوری دس رتیاں ہیں مگراس کاتحقق علت کی آخرجزء کے تحقق کے وقت ہواتو اس نے مقصدکوپہچان لیا۔ اس کو وہم نہ بہکائے گا۔
وبھٰذا التقریر وﷲ الحمد تبین انزھاق مالمع بہ الشوکانی فی نیل الاوطار ناقلا عن الطبری مانصہ یقال لھم (ای لائمتنارضی اﷲ تعالٰی عنھم) اخبرونا عن الشربۃ التی یعقبھا السکر اھی التی اسکرت صاحبھا دون ماتقدم من الشراب ام اسکرت باجتماعھا مع ماتقدم واخذت کل شربت بحظھا من الاسکار فان قالوا انما احدث لہ السکر الشربۃ الآخرۃ  التی وجد خبل العقل عقبھا قیل لھم وھل ھٰذہ التی احدثت لہ ذالک الا کبعض ماتقدم من الشربات قبلھا فی انھا لو انفردت دون ماقبلھا کانت غیرمسکرۃ وحدھا، وانھا انما اسکرت باجتماعھا واجتماع عملھا فحدث عن جمیعھا السکر ۱؎ اھ ۔
الحمدﷲ اس تقریر سے شوکانی کانیل الاوطار میں حد سے تجاوزکرناظاہرہوگیا دراںحالیکہ وہ طبری سے نقل کرنے  والا ہے جس کی اس نے تصریح کی کہ ان (ہمارے ائمہ) کوکہاجائے گاکہ اس گھونٹ کے بارے میں بتاؤ جس کے بعد نشہ آیاہے کہ کیااس نے ماقبل والے گھونٹوں کے بغیر نشہ دیا یاماقبل والے گھونٹوں کے ساتھ مجتمع ہوکر نشہ دیا اورہرگھونٹ کانشہ دینے حصہ ہے، اگر وہ کہیں کہ اس کونشہ آخری گھونٹ نے دیا ہے جس کے بعد اس کی عقل میں خلل واقع ہوا تو ان کو کہاجائے گاکہ یہ آخری پہلے والے گھونٹوں کی طرح ہی ہے اس بات میں کہ اگر یہ ان سے منفردہوتا تو اکیلے نشہ نہ دیتا۔ اس نے ماقبل والے گھونٹوں کے ساتھ مجتمع ہوکرنشہ دیاہے، لہٰذا ثابت ہوگیاکہ نشہ ان تمام گھونٹوں کے مجموعہ سے پیداہواہے اھ ،
 (۱؎ نیل الاوطار    کتاب الاشربۃ    باب مایتخذمنہ الخمرالخ    مصطفی البابی مصر    ۸ /۲۰۲)
فان التقریر بحذا فیرہ جار فی الحبۃ العاشرۃ من المسک ونظرائہ والوھم انما نشاء من عدم الفرق بین الجزء الاخیر وبین سائر العلل الناقصۃ المقدمۃ علیہ وکذا استبان بحمداﷲ انخساف مازوق بہ الشوکانی تحت حدیث''کل شراب اسکر فھوحرام'' بقولہ ان الشراب اسم جنس فیقتضی ان یرجع التحریم الی الجنس کلہ کمایقال ھذا الطعام مشبع، الماء مُروٍ یرید بہ الجنس و کل جزء منہ یفعل ذٰلک الفعل، فاللقمۃ تشبع العصفور وماھو اکبر منھا یشبع ماھو اکبر من العصفور وکذٰلک جنس الماء یروی الحیوان علی ھذا الحد فکذٰلک النبیذ ۱؎۔
بیشک یہی تقریر تمام شقوں کے ساتھ کستوری اور اس جیسی دیگراشیاء میں جاری ہوتی ہے۔ وہم صرف اس لئے پیداہواکہ آخری جزء اوراس سے پہلے والی باقی ناقص علتوں میں فرق نہیں کیاگیا۔ یونہی الحمدﷲ حدیث ''ہرشراب جونشہ دے وہ حرام ہے'' کے تحت شوکانی کایہ کلام بھی زنگ آلود ہوگیاجس کو اس نے یوں منقش کیاکہ شراب اسم جنس ہے جو اس بات کاتقاضاکرتاہے کہ تحریم تمام جنس کی طرف لوٹے جیساکہ کہاجاتاہے طعام سیرکرنے والا ہے اورپانی سیرب کرنے والا ہے ، یہاں طعام اور پانی   سے مراد جنس ہے اورجنس کی ہرجزء جنس والا عمل کرتی ہے، چنانچہ طعام کا ایک لقمہ چڑیا کا پیٹ بھردیتاہے اوراس سے زیادہ مقدار چڑیا سے بڑے جانور کاپیٹ بھردیتی ہے اسی طرح پانی کی جنس عمل کرتی ہے اوریہی حال نبیذکاہے۔
 (۱؎ نیل الاوطار    کتاب الاشربۃ    باب مایتخذ منہ الخمرالخ    مصطفی البابی مصر ۸ /۲۰۱)
Flag Counter