Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
25 - 135
اقول : رحم اﷲ ھٰؤلاء المحدثین لوانا قدمنا روایۃ الامام العابد الفاضل شریک الذی کان یخطی کثیراوقد تغیر ولم یحتج البخاری ولامسلم فی شیئ من الاصول وقال یحیٰی بن سعید ضعیف جدا، وقال ابن المثنٰی مارأیت یحیٰی ولاعبدالرحمٰن حدثا عن شریک شیئا۲؎ وقال عبدالجبار بن محمد قلت لیحیٰی بن سعید زعموا ان شریکا انما خلط بآخرہ قال مازال مخلطا و عن ابن المبارک قال لیس حدیث شریک بشیئ وقال الجوز جانی سیئ الحفظ مضطرب الحدیث مائل وقال ابراھیم بن سعیدالجوھری اخطاء شریک فی اربعمائۃ حدیث وروی معاویۃ بن صالح عن ابی معین صدوق ثقۃ الاانہ  اذا خالف فغیرہ احب الینا منہ وقال مرۃ ثقۃ الا انہ یغلط ولاتتیقن وقال الدار قُطنی لیس بالقوی فیما ینفرد بہ۱؎ وقال ابواحمد الحاکم لیس بالمتین۲؎ وکذٰلک قلت انت مرۃ یا اباعبدالرحمٰن انہ لیس بالقوی وقال الازدی کان صدوقا الا انہ سیئ الحفظ کثیرالوھم مضطرب الحدیث کما فی تھذیب التھذیب۳؎ علی(عہ۱) روایۃ ابن شبرمۃ ذاک الامام الشھیر الثقۃ الفقیہ المحتج بہ فی صحیح مسلم وثقہ احمد وابوحاتم فضلا عن حدیث الامام الاجل الثقۃ الثبت مِسْعَر لکانوا قاموا باشد الانکار ثم الرجل(عہ۲) مُدَلِّس قال عبدالحق الاشبیلی کان یدلس وقال ابن القطان کان مشھورا بالتدلیس۴؎ وقد عنعن فمالکم تنقمون عنعنۃ ھُشَیم ذاک الجبل الشامخ ثم تعودون تحتجون بعنعنۃ شریک وامّا شعبۃ فقد تفرد بہ من بین الجماعۃ ونقص علیک الامر فی ذٰلک روی ھٰذا الحدیث عن ابن عباس سعید بن المسیب وعون بن ابی جحیفۃ وعکرمۃ وعبداﷲ بن شداد اما الاولان فروی عنھما الرفع الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما تقدم،
عہ۱ : متعلق باقول رحمہ اﷲ ھولاء المحدثین لوانا قدمنا   عہ۲ :  ای شریک
اقول : (میں کہتاہوں) اﷲ تعالٰی ان محدثین کرام پررحم فرمائے۔ اگرہم امام عابد فاضل شریک کی روایت کاعیب تسلیم کرلیں جوکثرت سے خطاکرتے اورمتغیرہوگئے۔ امام بخاری اورامام مسلم کسی بھی اصول میں اس سے استدلال نہ کرتے۔ یحیٰی بن سعید نے کہاوہ بہت ضعیف ہے۔ ابن مثنٰی نے کہا میں نے نہیں دیکھانہ عبدالرحمن نے شریک سے کوئی حدیث بیان کی۔ عبدالجبار بن محمد نے کہاکہ میں نے یحیٰی بن سعید کوکہاکہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ شریک نے آخرمیں خلط ملط کیاہے اس نے کہاکہ وہ ہمیشہ خلط ملط کرتارہا۔ ابن مبارک نے کہاکہ حدیث شریک کوئی شے نہیں۔ جوزجانی نے کہاکہ وہ کمزورحافظے والا، مضطرب حدیث والا اورکجروتھا۔ ابراہیم بن سعید جوہری نے کہاکہ شریک نے چارسوحدیثوں میں خطاکی۔ معاویہ بن صالح نے ابومعین سے روایت کی کہ وہ صدوق اورثقہ ہے مگرجب وہ کسی کی مخالفت کرے تو اس کا غیرمجھے اس کی بنسبت زیادہ پسند کرتاہے۔ مرۃ نے کہاکہ وہ ثقہ ہے مگر وہ غلطی کرتاہے اورثابت نہیں رہتا۔ دارقطنی نے کہاکہ شریک ان حدیثوں میں قوی نہیں جن میں وہ منفردہے۔ ابواحمد حاکم نے کہاکہ وہ متین نہیں۔اوریوں ہی اے عبدالرحمن! ایک بار تونے کہاکہ وہ قوی نہیں ہے۔ ازدی نے کہاکہ وہ صدوق تھا مگروہ کمزورحافظے والا، کثیرالوہم اور مضطرب الحدیث تھا، جیساکہ تہذیب التہذیب میں ابن شبرمہ کی روایت پرہے کہ وہ مشہور امام، ثقہ، فقیہ اورمقتدی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ امام احمدنے اس کو ثقہ قراردیا۔ ابوحاتم نے اس کو امام اجل ثقہ ثبت مِسعر کی حدیث سے افضل قراردیا تولوگوں نے اس کاشدید انکارکیا، پھروہ مدلس شخص ہے، عبدالحق اشبیلی نے کہاکہ وہ تدلیس کرتاتھا۔ ابن قطان نے کہاکہ وہ تدلیس میں مشہورتھا۔ تحقیق اس نے عنعنہ کے ساتھ روایت کی تمہیں کیاہے کہ تم ہشیم کے عنعنہ کو براسمجھتے ہوجوکہ ایک بلندپہاڑ ہے پھرلوٹ کرشریک کے عنعنہ سے استدلال کرتے ہو مگر شعبہ اس کے ساتھ جماعت میں سے متفرّد ہے، اس سلسلہ میں تجھ پرمعاملہ ناقص ہوگیا۔ اس حدیث کو ابن عباس سے سعیدبن مسیّب، عون بن ابوجحیفہ، عکرمہ اورعبداﷲ بن شداد نے روایت کیا۔ پہلے دونوں سے تونبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک مرفوع ہونا مروی ہے جیساکہ گزرچکا۔
 (۲؎ میزان الاعتدال     ترجمہ شریک بن عبداﷲ ۳۶۹۷     دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۲۷۰)

(۱؎ میزان الاعتدلال     ترجمہ شریک بن عبداﷲ    ۳۶۹۷    دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۲۷۰و۲۷۱)

(۲؎ تہذیب التہذیب    ترجمہ شریک بن عبداﷲ     ۵۷۷   دائرۃ المعارف النظامیہ    ۴ /۳۳۶)

(۳؎تہذیب التہذیب    ترجمہ شریک بن عبداﷲ     ۵۷۷        دائرۃ المعارف النظامیہ    ۴ /۳۳۷)

(۴؎تہذیب التہذیب    ترجمہ شریک بن عبداﷲ     ۵۷۷        دائرۃ المعارف النظامیہ ۴ /۳۳۷)
و امّا عکرمۃ وقال الطبری فی تھذیب الآثار حدثنا محمد بن موسٰی ثنا عبداﷲ بن عیسٰی ثنا داؤد بن ابی ھند عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال حرم اﷲ الخمر بعینھا والسکر من کل شراب ۱؎، واما ابن شداد فروی عنہ ابوعون وعمار الدھنی وابوشبرمۃ علی الوجوہ التی علمت وعیاش العامری عن  ابی بکربن ابی خثیمۃ قال حدثنا محمد بن الصباح البزار اخبرنا شریک عن عیاش العامری عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس قال حرمت الخمر بعینھا والسکر من کل شراب وقال وعیاش العامری ھو عیاش بن عمر۲؎، قلت ثقۃ من رجال مسلم وسلیمٰن الشیبانی وعنہ شعبۃ عن ابن ابی خثیمۃ ایضا وبلغہ الٰی ام المومنین میمونۃ حیث قال حدثنا علی الجعد اخبرنا شعبۃ عن سلیمان الشیبانی عن عبداﷲ بن شداد عن عبداﷲ بن عباس عن خالتہ میمونۃ بنت الحارث  رضی اﷲ تعالٰی عنھم ورواہ عن ابی عون الامام الاعظم وسفیٰن الثوری ومسعر بن کدام و عبداﷲ بن عیاش وقدوقعت روایتھم جمیعا فی مسند الامام وشریک و ابوسلمہ عند البزار۔
رہاعکرمہ، توطبری نے تہذیب الآثار میں کہاکہ ہمیں محمدبن موسٰی نے انہیں عبداﷲ بن عیسٰی نے انہیں داؤد بن ابی ہند نے عکرمہ سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما حدیث بیان کی، ابن عباس نے کہاکہ اﷲ تعالٰی نے خمرکو بعینہٖ اورہرشراب سے نشہ کوحرام فرمایا۔ رہا ابن شداد تو اس سے ابوعون، عماردُہنی اورابوشبرمہ نے ان وجوہ پر روایت کیاجو توجان چکا۔ عیاش عامری نے ابوبکر ابوخثیمہ سے روایت کی انہوں نے کہاکہ ہمیں محمدبن صباح البزار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں شریک نے عیاش عامری سے خبردی اورانہوں نے عبداﷲ بن شداد سے اور اس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ خمربعینہٖ حرام کی گئی اورہرشراب سے نشہ حرام ہے۔ اورعیاش عامری وہ عیاش بن عمرہے۔ قلت (میں کہتاہوں) وہ ثقہ ہے اورامام مسلم اورسلیمان شیبانی کے رجال میں سے ہے اوراسی سے شعبہ نے بھی ابن ابی خثیمہ کے نزدیک روایت کیا جس کو اس نے ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اﷲ تعالٰی عنہاتک پہنچایا جہاں اس نے یہ کہاکہ ہمیں حدیث بیان کی علی الجعد نے، اس نے کہاکہ ہمیں خبردی شعبہ نے سلیمان شیبانی سے اوراس نے عبداﷲ بن شداد سے اس نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اورانہوں نے اپنی خالہ سیّدہ میمونہ بنت حارث رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی اور اس کو ابوعون سے امام اعظم، سفیان ثوری، مِسْعر بن کدام اورعبداﷲ بن عیاش نے روایت کیا ان سب کی روایت سیدامام اعظم میں واقع ہے۔ اور بزارکے نزدیک اس کو شریک اورابوسلمہ نے روایت کیا،
 (۱؎ البنایۃ بحوالہ الطبرانی فی التہذیب     کتاب الاشربہ     المکتبۃ الامدایۃ مکۃ المکرمۃ    ۴ /۳۲۸)

(۲؎ حواشی مسندالامام الاعظم بحوالہ ابی بکربن ابی خثیمہ فی تاریخہ     نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۰۳)
ورواہ عن مسعر ابونعیم الفضل بن دُکین عند الطحاوی وابن ابی خیّمۃ ومن طریقہ القاسم بن اصبغ فقال حدثنا احمد بن زھیر (یعنی ابابکر بن ابی خیّمہ) نا ابونعیم الفضل بن دکین عن مسعر عن ابی عون عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال حرمت الخمر بعینھا القلیل منھا والکثیر والسکر من کل شراب ۱؎، قال البدر محمود عینی فی البنایۃ قال ابن حزم صحیح ،قال وتابعہ ابانُعیم جعفر بن عون فرواہ عن مسعر کذٰلک ۱؎ الخ وکذا تابعہ قال ابن حزم صحیح خلاد بن یحیٰی عند ابی نعیم فی الحلیہ وسفیٰن الثوری وشعبۃ وسفیٰن وابراھیم ابنا عیینۃ رفعہ عن مسعر فقال عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما فی الحلیۃ و بالجملۃ ھٰؤلاء اربعۃ عن ابن عباس منھم ابن شداد وعنہ خمسۃ، منھم ابوعون وعنہ ستۃ، منھم، مسعر وعنہ سبعۃ، منھم شعبۃ لم یذکر احدمنھم والمسکر بزیادۃ المیم الاشعبۃ قال ابونعیم تفرد شعبۃ بلفظہ عن مسعر فیہ فقال والمسکر من کل شراب ۲؎ اھ  فروایۃ الجماعۃ ھی الاحق بالقبول ان فرض التنافی واین التنافی فان المسکر من کل شراب اومااسکر من کل شراب یحتمل القدر المسکر من کل شراب احتمالا جلیاواضحا فکیف یقضی بالمحتمل علی المتعین وباﷲ التوفیق وبہ ثبت وﷲ الحمد ان اباعون لم یخالف شعبۃ عن مسعر سائر الجملۃ من مسعر وعن ابی عون وعن ابن شدّاد وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم، والعجب من الامام ابن الھمام کیف تبع النسائی علٰی ھٰذا الکلام وزعم ان لفظ السکر تصحیف وما التوفیق الا باﷲ الخبیر اللطیف والحمدﷲ رب العٰلمین۔
طحاوی اورابن ابی خیّمہ کے نزدیک اس کو مسعر سے ابونعیم فضل بن دکین نے روایت کیا اوراسی کے طریق سے قاسم بن اصبغ نے روایت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں احمدبن زہیر یعنی ابوبکر بن ابی خیّمہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں ابونعیم فضل بن دکین نے مسعرسے حدیث بیان کی اورمسعر نے ابوعون سے، اس نے عبداﷲ ابن  شداد سے اور اس نے عبداللہ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ ابن عباس نے فرمایا خمربعینہٖ یعنی اس کا قلیل وکثیر اورہرشراب سے نشہ حرام کردیاگیا۔ بدرمحمود عینی نے بنایہ کہاکہ ابن حزم نے فرمایا کہ ابن حزم نے فرمایاکہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اس نے ابونعیم جعفربن عون کی متابعت کی چنانچہ اس کومِسعَر سے اسی طرح روایت کیا الخ ابن حزم نے کہاکہ صحیح ہے۔ خلاد بن یحیٰی نے ابونعیم کے نزدیک حلیہ میں اورسفیان ثوری، شعبہ، سفیان  بن عیینہ اورابراہیم بن عیینہ نے مسعر کے حوالے سے اس کومرفوعاً روایت کیا، مسعر نے کہاکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے جیساکہ حلیہ میں ہے۔ خلاصہ یہ ان چاروں نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاانہیں میں سے ابن شدّاد ہے جس سے  پانچ حدیثیں مروی ہیں، انہیں میں سے ابوعون ہے جس سے چھ حدیثیں مروی ہیں، انہیں میں سے مسعر ہے جس سے سات حدیثیں مروی ہیں، انہیں میں سے مسعرہے جس سے سات حدیثیں مروی ہیں،انہیں میں سے شعبہ ہے، سوائے شعبہ کے ان میں سے کسی نے بھی لفظ مُسکِر میم کی زیادتی کے ساتھ ذکرنہیں کیا۔ ابونعیم نے کہاکہ مسعر سے یہ روایت کرنے میں شعبہ متفردہے کیونکہ اس کہاکہ ہرشراب میں مُسکِرحرام ہے الخ اگران میں تنافی فرض کی جائے توشعبہ کی بنسبت جماعت کی روایت قبولیت کی زیادہ حقدار ہے اوران میں تنافی کہاں ہے اس لئے کہ ہرشراب میں سے مسکر یاہرشراب میں سے وہ جونشہ دے وہ ہرشراب میں سے مقدار مُسکِر کاواضح احتمال رکھتی تو محتمل کے ساتھ متعین پرکیسے فیصلہ کیاجاسکتا ہے اوراﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے توفیق ہے اوراس توفیق سے ہی ثابت قدمی ہے اوراﷲ تعالٰی ہی کے لئے حمد ہے۔ بیشک ابوعون نے ابوشبرمہ کی مخالفت نہیں کی البتہ شعبہ نے مسعر سے روایت کرتے ہوئے باقی تمام حضرات کی مخالفت کی جوانہوں نے مسعرسے کی اورمسعر نے ابوعون سے، اس نے ابن شداد سے، اوراس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم  سے روایت کی اورامام ابن الہمام پرتعجب ہے کہ انہوں نے اس کلام پرنسائی کی پیروی کیسے کرلی! اوریہ گمان کیاکہ لفظ مُسکِرغلط ہے اورنہیں ہے توفیق مگر اﷲ تعالٰی سے جوخبر رکھنے والا باریک بین ہے، اورسب تعریفیں اس اﷲ کے لئے ہیں جوسب جہانوں کا پروردگار ہے۔
 (۱؎ البنایہ بحوالہ قاسم بن اصبغ     کتاب الاشربۃ    المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ    ۴ /۳۲۸)

 (۱؎ البنایہ     بحوالہ قاسم بن اصبغ     کتاب الاشربۃ    المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ    ۴ /۳۲۸)

(۲؎ حلیۃ الاولیاء    ترجمہ مسعربن کدام ۳۸۹        دارالکتاب العربی بیروت    ۷/ ۲۲۴)
Flag Counter