| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
اقول : الحمد ﷲ قد علم الثقۃ، اخرج البزار فی مسندہ حدثنا محمد بن حرب ثنا ابوسفیٰن الحمیری ثنا ھُشَیم عن ابن شبرمۃ عن عمار الدّھنی عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فذکرہ قال وقد رواہ عن ابوعون عن عبداﷲ بن شداد و رواہ عن ابی عون مسعر والثوری و شریک لانعلم رواہ عن ابن شبرمۃ عن عمار الدّھنی عن ابن شدّاد عن ابن عباس الا ھشیم ولاعن ھشیم الا ابوسفیٰن ولم یکن ھٰذا الحدیث الا عند محمد بن حرب وکان واسطیا ثقۃ ۱؎اھ ،
اقول : (میں کہتاہوں) الحمدﷲ معلوم ہوگیاکہ وہ ثقہ ہے۔ بزازنے اپنی مسند میں تخریج کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں محمدبن حرب نے حدیث بیان کی اورانہیں ابوسفیان حمیری نے انہیں ہشیم نے ابن شبرمہ سے حدیث بیان کی اورابن شبرمہ نے عمار الدھنی سے اس نے عبداﷲ بن شداد سے اوراس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی پھراسی حدیث کوذکرکیااورکہاکہ اس کو روایت کیاہے ابوعون نے عبداﷲ بن شدّاد سے اوراس کو روایت کیا ابوعون سے مسعر، ثوری اورشریک نے اورمعلوم نہیں کہ اس کو روایت کیاہے ابن شبرمہ سے انہوں نے عماردُہنی سے انہوں نے ابن شداد سے انہوں نے ابن عباس سے سوائے ہشیم کے، اورنہ ہشیم سے سوائے ابوسفیٰن کے۔ اور یہ حدیث نہیں مگر محمدبن حرب کے نزدیک، اور وہ واسطی ہیں اور ثقہ ہیں اھ ،
(۱؎ نصب الرایۃ بحوالہ البزارفی مسندہ کتاب الاشربۃ تحت الحدیث التاسع المکتبۃ الاسلامیہ ۴ /۳۰۷)
قلت وابوسفیٰن الحمیری ھو سعید بن یحیٰی صدوق وسط من رجال البخاری قال الحافظ المنذری فی الترغیب ثقۃ مشہور۲؎اھ و قدقال الذھبی فی المیزان فی بیان مجاھیل الاسم اعنی تعیین من ابھم اسمہ عبداﷲ بن شبرمۃ عن الثقۃ فی الخمر جاء مبینا انہ عمار الدھنی۳؎اھ وعمارھوابن معٰویۃ ابومعٰویۃ الکوفی صدوق من رجال الستۃ الاالبخاری قال الذھبی وثقۃ احمد وابن معین وابوحاتم والناس وماعلمت احدا تکلم فیہ الا العقیلی فتعلق علیہ بما سألہ ابوبکر بن عیاش اسمعت عن سعید بن جبیر قال لاقال فاذھب۴؎اھ ،
قلت (میں کہتاہوں) ابوسفیٰن حمیری وہ سعیدبن یحیٰی ہے جو صدوق، وسط اوربخاری کے رجال میں سے ہے۔ حافظ مُنذری نے ترغیب میں کہاکہ وہ ثقہ مشہور ہے الخ۔ ذہبی نے میزان میں ان لوگوں کے بیان میں جن کے نام مجہول اورمبہم ہیں ان کی تعیین کرتے ہوء کہاکہ اس کانام عبداﷲ بن شبرمہ ہے اس نے خمر کے معاملے میں ثقہ سے روایت کی وہاں اس بات کو واضح کیاہے کہ وہ عمار الدھنی ہے الخ عمار وہ ابن معاویہ ابومعاویہ کوفی، صدوق اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے سوائے بخاری کے۔ ذہبی نے کہاکہ اس کو احمد، ابن معین، ابوحاتم اور کئی لوگوں نے ثقہ قراردیاہے۔میں نہیں جانتاکہ کسی نے اس میں کلام کیا ہے سوائے عقیلی کے۔ چنانچہ عقیلی نے ا س پر معلق کیاجو اس سے ابوبکربن عیاش نے پوچھا کہ کیا تو نے سعیدبن جبیرسے سنااس نے کہانہیں تو ابوبکرنے کہاکہ جا الخ،
(۲؎ الترغیب والترھیب) (۳؎ میزان الاعتدال فصل فی المجاہیل الاسم ترجمہ عبداﷲ ابن شبرمۃ ۱۰۹۲۷ دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۶۰۳) (۴؎میزان الاعتدال فصل فی المجاہیل الاسم ترجمہ عماربن معاویہ ۶۰۰۵ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۷۰)
قلت وناھیک توثیق الائمۃ وانہ شیخ شعبۃ والسفیانین ولاعلیک من دندنۃ العقیلی فقد اخذ یلین ذاک الجبل المشامخ علی بن المدینی الذی قال فیہ البخاری ما استصغرت نفسہ الا عندہ وقد اورد الامام موسی الکاظم فی الضعفاء فحسبنا اﷲ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ، وبالجملۃ ان کان ابن شبرمۃ یرسلہ تارۃ ویبھم اخری ویبین مرۃ فتبین العدل فکان ماذا، ثمّ اخذ ابوعبدالرحمٰن یلین ھذا بھشیم قال وھشیم بن بشیر کان یدلّس و لیس فی حدیثہ ذکر السماع من ابن شبرمۃ ۔
قلت (میں کہتاہوں) تجھے یہ بات کافی ہے کہ جن ائمہ کرام نے عمار کی توثیق کی ہے وہ شیخ شعبہ اوردوسفیان ہیں، اورتومت توجہ دے عقیلی کی بھنبھناہٹ کی طرف، وہ تو علی مُدینی جیسے بلند پہاڑ کونرم اورکمزور قراردیتاہے جس کے بارے میں امام بخاری نے کہاکہ میں اپنے آپ کوچھوٹا نہیں سمجھتا مگر علی بن مدینی کے پاس، اوراس نے امام موسٰی کاظم کوضعفاء میں وارد کیا، پس اﷲ تعالٰی ہی ہمیں کافی ہے اور اﷲ تعالٰی کی توفیق کے بغیر نہ کسی کوگناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت۔ خلاصہ یہ کہ ابن شبرمہ کبھی اس میں ارسال کرتاہے کبھی اس کومبہم بیان کرتاہے اورکبھی اس کوظاہرکرتاہے۔ پس عدل ظاہر ہوگیا تویہ کیا ہے، پھرابوعبدالرحمن اس کو ہُشیم کے سبب سے نرم قراردینے لگے، اورکہاکہ ہشیم بن بشیر تدلیس کرتاتھا اوراس کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع کاذکرنہیں۔
اقول : ھشیم ثقۃ ثبت من رجال الستۃ وقد بت سماعہ ھذا الحدیث عن ابن ابی شبرمۃ اخرج ابوبکر بن ابی خیثمۃ قال حدثنا ایوب عن یزید بن ھارون عن قیس ثنا ابی ثنا ھشیم اخبرنی ابن شبرمۃ عن عبداﷲ بن شدّاد عن ابن عباس قال حرمت الخمر بعینھا قلیلھا وکثیرھا و السکر من کل شراب ۱؎، وقد علمت من کلام البزار ان عامۃ الحفاظ انما رووہ عن ابن شبرمۃ عن ابن شداد ولم یدخل بینھما رجلا الا ھُشَیم حیث عنعن ووافق الجماعۃ حیث نص علی سماع نفسہ من ابن شبرمۃ وسماع ابن شبرمۃ من ابن شداد صحیح فاذن انما کان الاولٰی بالطرح کونہ بواسطۃ انہ لم یثبت بسند یثبت وثانیھا ان خالفہ ابوعون اخبرنا محمد بن عبداﷲ بن الحکم ثنا محمد (غندر ) ح واخبرنا الحسین بن منصور ثنا احمد بن حنبل ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبہ عن مِسْعَر عن ابی عون عن عبداﷲ بن شدّاد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما قالت حرمت الخمر بعینھا قلیلھا و کثیرھا والمسکر من کل شراب لم یذکر ابن الحکم قلیلھا وکثیرھا،
اقول : (میں کہتاہوں) ہشیم ثقہ، ثبت اور اصحاب ستہ کے رجال میں سے ہے اوراس کا اس حدی کوسننا ابن شبرمہ سے ثابت ہے۔ ابوبکربن ابوخثیمہ نے تخریج کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ایوب نے یزید بن ہارون سے انہوں نے قیس سے حدیث بیان کی، قیس نے کہامجھے میرے باپ نے انہوں نے کہامجھے ہمشیم نے انہوں نے کہامجھے ابن شبرمہ نے عبداﷲ بن شداد سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما حدیث بیان کی، ابن عباس نے کہا کہ خمر بعینہٖ یعنی قلیل وکثیر حرام کردی گئی اور ہرشراب سے نشہ حرام کیاگیا، اورتحقیق بزارکے کلام سے تجھے معلوم ہوچکاکہ عام حفّاظ نے اس کو روایت کیا۔ ابن شبرمہ سے اس نے ابن شدّاد سے ان دونوں کے درمیان سوائے ہشیم کے کسی مرد کو داخل نہیں کیا۔ ہشیم نے جہاں عنعنہ کے طورپرحدیث بیان کی اس میں انہوں نے جماعت کی موافقت کی کیونکہ انہوں نے اس بات پرنص کی کہ ان کا ابن شبرمہ سے سماع اورابن شبرمہ کا ابن شداد سے سماع صحیح ہے تو اس صورت میں اس کاترک اولٰی ہے کیونکہ سندثابت سے اس کاثبوت نہیں ہوا، اوردوسری وجہ یہ کہ ابوعون نے اس کی مخالفت کی، ہمیں خبردی عبداﷲ بن حکم نے، اس نے کہاہمیں حدیث بیان کی محمدیعنی غُندرنے، اس نے کہاہمیں خبردی حسین بن منصورنے، اس نے کہا ہمیں امام احمد بن حنبل نے ،انہوں نے کہا ہمیں محمدبن جعفرنے، انہوں نے کہاہمیں شعبہ نے مِسعر سے، اس نے ابوعون سے، اس نے عبداﷲ ابن شداد سے، اس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے حدیث بیان کی کہ خمر بعینہٖ یعنی قلیل وکثیر حرام کردیاگیا اور ہرشراب سے نشہ آور مقدار حرام ہے۔ ابن حکم نے قلیل وکثیر کاذکرنہیں کیا۔
(۱؎ حواشی مسند امام الاعظم بحوالہ ابی بکر بن ابی خیثمہ فی تاریخہ کتاب الاطعمہ والاشریۃ نورمحمد کارخانہ کراچی ص۲۰۳) (سنن النسائی ذکر اخبارالتی اعتل بہا نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ۲ /۳۳۱)
اخبرنا الحسین بن منصور ثنا احمد بن حنبل ثنا ابراھیم بن ابی العباس ثنا شریک عن عباس بن ذریع عن ابی عون عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس قال حرمت الخمر قلیلھا وکثیرھا وما اسکر من کل شراب قال ابوعبدالرحمٰن وھٰذا اولٰی بالصواب من حدیث ابی شبرمۃ ۱؎۔
ہمیں حسین بن منصور نے خبردی، اس نے کہا ہمیں امام احمد بن حنبل نے، اورانہیں ابراہیم ابن ابوالعباس نے، انہیں ابن شریک نے حدیث بیان کی اورشریک نے عباس بن ذریع سے، اس نے ابوعون سے، اس نے عبداﷲ بن شداد سے اوراس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کی کہ خمر کاقلیل وکثیرحرام کردیاگیااورہرشراب سے وہ مقدار حرام کردی گئی جونشہ دے۔ ابوعبدالرحمن نے کہایہ ابن شبرمہ کی حدیث سے درست ہونے میں اولٰی ہے۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکراخبارالتی اعتل بہا الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۱)