| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
واخرجہ البخاری فی المغازی من طریق سعید بن ابی بردہ عن ابیہ عن ابی موسٰی وفیہ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل مسکر حرام ۲؎ واحضرہ النسائی واخرج کذٰلک من طریق طلحۃ الایامی واخری من جھۃ الشیبانی کلیھما عن ابی بردۃ واخرج من طریق اسرائیل عن ابی اسحٰق عن ابی بردۃ وفیہ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اشرب ولاتشرب مسکرا۳؎۔
امام بخاری نے مغازی میں بطریق سعید بن ابوبردہ تخریج کی، سعیدنے ابوبُردہ سے اورانہوں نے ابوموسٰی اشعری سے روایت کی اوراس میں یوں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہرنشہ آور حرام ہے۔ امام نسائی نے اس کو ذکرکیا اوراسی طرح بطریق طلحہ ایامی اورایک دوسری روایت کی بطریق شیبانی تخریج کی، دونوں ہی ابوبردہ سے مروی ہیں، اوربطریق اسرائیل تخریج کی اسرائیل نے ابواسحاق سے، اوراس نے ابوبردہ سے روایت کی، اس میں یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ پی اورنشے کی حدتک مت پی،
(۲؎ صحیح البخاری کتاب المغازی باب بعث ابوموسٰی ومعاذالی الیمن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۲۲) (۳؎ سنن النسائی کتاب الاشربہ تحریم کل شراب اسکر نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۲۵)
ومن طریق ابی بکر بن ابی موسٰی عن ابیہ وفیہ قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتشرب مسکرا فانی حرمت کل مسکر۱؎ وقد علمت ان لاتنافی بین ھٰذہ وبین روایۃ اشربا ولاتسکرا فان المسکر ھو المسکر بالفعل کما ان القاتل ھو القاتل بالفعل لامن یقدرعلیہ ویصح منہ فاذن تتوافق الآثار ولاتتضاد کما سمعت من کلام الامام الطحاوی حدیث القیسی اقول : ھذا حدیث حسن رجالہ کلھم ثقات ۔ قال فی المیزان اما محمّد بن خزیمۃ شیخ الطحاوی فمشھور ثقۃ۲؎ اھ ونص فی التقریب فی بقیۃ الرجال انھم ثقات غیران قال فی عثمان الموذن من رجال البخاری ثقۃ تغیر فصار تلقن ۳؎اھ وقد نص المحقق علی الاطلاق فی باب الشھید من الفتح ان الآخذ من المختلط اذا لم یعلم متی اخذ منہ لم ینزل الحدیث عن الحسن۴؎ حدیث قیس بن حَبتَر عن ابن عباس اقول : حدیث حسن صحیح لامغمز فیہ اصلا رجالہ کلھم ثقات اجلاء۔ حدیث ابن مسعود من اصح الاحادیث واجلھا مروی بلسلۃ الذھب کما تری وﷲ الحمد۔
اوربطریق ابوبکر بن ابوموسٰی بحوالہ تخریج کی، اس میں یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا نشہ کی حد تک مت پی اس لئے کہ میں نے ہرنشہ آورکوحرام کردیاہے۔ تحقیق تجھے معلوم ہوگیاکہ اس روایت میں اوردوسری روایت میں جس میں حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاکہ پیو اور نشہ میں مت آؤکوئی منافات نہیں، اس لئے کہ نشہ آور وہی ہے جوبالفعل نشہ آور ہو، جیساکہ قاتل وہی ہے جوبالفعل قاتل ہو نہ کہ وہ جو قتل پرقادرہو۔ تو اس طرح آثارمیں باہم موافقت ہوگئی اورکوئی تضادنہ رہا، جیساکہ امام طحاوی کے کلام سے تونے سنا۔حدیث قیسی اقول : (میں کہتاہوں) یہ حدی حسن ہے، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ میزان میں کہاکہ محمدبن خزیمہ جو امام طحاوی کاشیخ ہے وہ مشہور اورثقہ ہے الخ۔ تقریب میں باقی رجال کے بارے میں تصریح کی گئی کہ وہ ثقہ ہیں، مگر عثمان الموذن کے بارے میں کہاکہ وہ امام بخاری کے رجال میں ہے ثقہ ہے متغیرہوگیا تھا اسے تلقین کی جاتی تھی الخ۔ محقق علی الاطلاق نے فتح کے باب میں الشہید میں تصریح کی کہ مختلط سے حدیث لینے والا اگریہ نہ جانے کہ کب، اس سے حدیث لی تو وہ حدیث حسن کے درجہ سے نہیں گرتی۔ حدیث قیس بن حَبتَر بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما، اقول : (میں کہتاہوں) حدیث حسن صحیح ہے اس میں کوئی عیب نہیں ا س کے تمام رجال بلندمرتبہ ثقہ ہیں۔ حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ صحیح ترین اورعظیم ترین احادیث میں سے ہے جو بطور سلسلۃ الذھب مروی ہے جیساکہ تودیکھتاہے اوراﷲ تعالٰی ہی کے لئے حمد ہے۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ تفسیرالبتع والمرز نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۲۵) (۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ محمدبن خزیمہ ۷۴۸۶ دارالمعرفۃبیروت ۳ /۵۳۷) (۳؎ تقریب التہذیب ترجمہ عثمان ب الہیثم ۴۵۴۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۶۶) (۴؎ فتح القدیر )
الثانی : الآثار فی الباب عن امیرالمؤمنین قدتواترت ولم تقدر الخصوم علی ردھا فعدلوا الٰی التاویل وادعاء الرجوع اما التاویل فاسند النسائی عن ابن المبارک ماتقدم من قولہ من قبل ان یشتد واسند عن عتبۃ بن فرقد قال کان النبیذ الذی یشربہ عمر بن الخطاب قد خُلِل ۱؎ ۔
دوسری بحث : اس باب میں امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تواتر کے ساتھ آثار منقول ہیں۔ مخالفین ان کے رَد پر قادرنہیں، لہٰذا انہوں نے تاویل کی طرف عدول کیا اور رجوع کا دعوی کیا ،رہی تاویل تو وہ یوں کہ امام نسائی نے ابن مبارک سے امیرالمومنین کے اس قول مذکورکے بارے میں بیان کیاکہ اس سے مراد یہ ہے کہ قبل اس کے کہ وہ سخت ہوجائے۔ اورعتبہ بن فرقد سے بیان کیاکہ جونبیذ حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ پیتے تھے وہ سرکہ بنالی گئی ہوتی۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکراخبار التی اعتل بہا الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۳)
اقول : من نظر الآثار التی اتت عن امیرالمومنین کالشمس تیقن ان لامساغ لھٰذین التاویلین فیھا اصلا وان لم تکن فیھا جلائل تصریحات الاشتداد لکان حسبک مافی المؤطا من قول عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ احللتھا واﷲ ۲؎ فای مساغ کان لھذا لوکان لم یشتد او تخلل واما ادعاء الرجوع فقال النسائی مما یدل علی صحۃ ھٰذا حدیث السائب فذکر ما اسند مالک عن ابن شھاب عن السائب بن یزید ان عمر بن الخطاب خرج علیھم فقال انی وجدت من فلان ریح شراب فزعم انہ شراب الطلاء وانا سائل عما شرب فان کان مسکرا جلدتہ فجلدہ عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ الحد تامّا ۱؎ اھ ورواہ ایضا الشافعی وعبدالرزاق وابن وھب وابن جریر والطحاوی والبیھقی وتبعہ الزرقانی فی شرح المؤطا فقال تحت حدیث محمود بن لبید المار عن المؤطا کان عمرا جتھد فی تلک المرۃ ثم رجع عنہ فحد ابنہ فی شرب الطلاء کما مر ۲؎ اھ ،
اقول : (میں کہتاہوں) جس نے ان آثار میں نظر کی جوامیرالمومنین سے سورج کی طرح واضح طورپرمنقول ہیں وہ یقین کرلے گا کہ ان دونوں تاویلوں کی ان میں گنجائش نہیں اگرچہ اس میں نبیذ کی شدّت کے بارے میں عظیم تصریحات نہ بھی ہوتیں، تومجھے عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا مؤطا میں منقول وہ قول کفایت کرتاکہ انہوں نے امیرالمومنین سے کہاکہ بخدا کیا آپ نے اس کو حلال کردیا، اگروہ نبیذ سخت نہ ہوئی یاسرکہ بن چکی ہوئی تو اس قول کی کیاگنجائش بنتی۔ رہارجوع کادعوٰی توامام نسائی نے کہاکہ اس کے صحیح ہونے کی دلیل حدیث سائب ہے، اس کے بعد پھروہ حدیث ذکرفرمائی جس کومالک نے ابن شہاب انہوں نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اﷲ عنہ ان کے ہاس آئے اور فرمایا کہ میں نے فلاں سے شراب کی بو پائی ہے اور گمان کیا کہ وہ شراب طلاء ہےاگر وہ نشہ آور ہوئی تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس پرمکمل حد جاری فرمائی الخ، اور اس کوامام شافعی، عبدالرزاق، ابن وہب، ابن جریر، طحاوی اور بیہقی نے بھی روایت کیا، اورزرقانی نے شرح مؤطا میں اس کی پیروی کرتے ہوئے اس حدیث محمودبن لبید کے تحت فرمایاجوکہ مؤطا کے حوالے سے گزرگئی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس مرتبہ اس بارے میں اجتہاد فرمایاتھا پھر اس سے رجوع فرمالیا، چنانچہ طلاء کے پینے پرحدجاری فرمائی، جیساکہ گزراالخ۔
(۲؎ مؤطاالامام مالک کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی تحریم الخمر مہرمحمدخانہ کراچی ص۶۹۵) (۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ۲ /۳۳۱) (۲؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک کتاب الاشربہ جامع تحریم الخمر تحت حدیث ۱۶۴۵ دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۱۷۴)
اقول : رحم اﷲ ابا عبدالرحمٰن کان مذھب امیرالمؤمنین تحلیل القلیل والحد فی الکثیر اما سمعت الٰی قولہ فی جواب المعتذر انما شربتہ من قربتک انما جلدناک لسکرک فان جلد فی السکر فاین الدلیل علی حرمۃ القلیل و لیت شعری متی رجع وقد شربہ فی طعنتہ التی انتقل فیھا الٰی الفراد لیس العُلٰی کما تقدم من حدیث عمروبن میمون۔
اقول : (میں کہتاہوں) اﷲ تعالٰی ابوعبدالرحمن پررحم فرمائے۔امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کامذہب یہ تھاکہ قلیل حلال ہے اورحدکثیر میں جاری فرمائی۔ کیاتونے امیرالمومنین کاوہ جواب نہیں سنا جوآپ نے اس شخص کودیا جس نے یہ عذر پیش کیاتھا کہ میں نے آپ کے مشکیزے سے شرا ب پی ہے، جواب یہ تھاکہ ہم نے تجھے نشہ کی وجہ سے کوڑے لگائے ہیں تو اس میں قلیل کی حرمت پردلیل کہاں سے آئی، کاش میراعلم حاضرہو آپ نے رجوع کب فرمایاحالانکہ آپ نے اسے نیزے کے اس زخم کے موقع پرنوش فرمایاجس زخم میں آپ فردوس اعلٰی کی طرف منتقل ہوگئے جیساکہ حدیث عمروبن میمون کے حوالہ سے گزرچکا۔
الثالث : حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما حرمت الخمر بعینھا والسکر من کل شراب، اخرجہ النسائی فقال اخبرنا ابوبکر بن علی اخبرنا القواریری ثنا عبدالوارث قال سمعت ابن شبرمۃ یذکرہ عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال حرمت الخمر قلیلھا وکثیرھا والسکر من کل شراب ۱؎ وھو کما تری سند نظیف نفیس، ابوبکر ھو احمد بن علی بن سعید ثقۃ حافظ، والقواریری عبیداﷲ بن عمربن میسرۃ ثقۃ ثبت من رجال الشیخین، وعبدالوارث ھو ابن سعید بن ذکوان ثقۃ ثبت من رجال الستۃ، وابن شبرمۃ ثقۃ فقیہ من رجال مسلم، وعبداﷲ بن شداد ثقۃ فقیہ جلیل من رجال الستۃ ولد علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم ومثلہ اوانظف واجود ماقدمنا من سند الامام الطحاوی، فھد ھو ابن سلیمٰن بن یحیٰی ثقۃ، وابونعیم ھوالفضل بن دُکین ثقۃ ثبت من رجال الستہ من کبار شیوخ خ، بینہ الحافظ ابوکر بن ابی خیثمۃ اذا روی ھٰذا الحدیث فی تاریخہ فقال حدثنا ابونعیم الفضل بن دُکّین ثنا مسعرعن ابی عون کما سیأتی، ومسعر من لایجھل ثقۃ ثبت فاضل فقیہ من رجال الستۃ، وابوعون ھو محمد بن عبیداﷲ الثقفی ثقۃ من رجال الستۃ الا ابن ماجۃ، وعبداﷲ عبداﷲ بیدان ابا عبدالرحمٰن حاول ان یخدشہ، فاتی بوجھین احدھما ان ابی شبرمۃ لم یسمعہ عن عبداﷲ بن شداد اخبرنا ابوبکر بن علی ثنا سریج بن یونس ثنا ھشیم عن ابن شبرمۃ قال حدثنی الثقۃ عن عبداﷲ بن شداد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال حرمت الخمر بعینھا قلیلھا وکثیرھا والسکر من کل شراب۱؎اھ ۔
تیسری بحث: حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کہ خمربعینہٖ حرام کی گئی اورہرشراب سے نشہ حرام ہے۔ امام نسائی نے اس کی تخریج کی، چنانچہ فرمایا ہمیں ابوبکر بن علی نے خبردی انہوں نے کہاہمیں قواریری نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں عبدالوارث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ میں نے ابن شبرمہ کوعبداﷲ بن شداد بن الہاد سے بحوالہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما ذکرکرتے ہوئے سنا، ابن عباس نے کہاکہ خمرکا قلیل وکثیر حرام کردیاگیا اور ہرشراب سے نشہ حرام ہے، اور وہ جیساکہ تو دیکھتا ہے صاف ستھری عمدہ سند ہے ۔ابوبکر احمد بن علی بن سعیدثقہ اورحافظ ہے۔ قواریری عبیداﷲ بن عمربن میسرہ ثقہ، ثبت اورشیخین کے رجال میں سے ہے۔ عبدالوارث ابن سعید بن ذکوان ثقہ، ثبت اور اصحاب صحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ ابن شبرمہ عبداﷲ ابوشبرمہ ثقہ، فقیہ اورامام مسلم کے رجال میں سے ہے۔ عبداﷲ بن شدادثقہ، فقیہ جلیل اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوا، اور اس کی مثل یا اس سے زیادہ نظیف اورزیادہ جیدامام طحاوی کی وہ سندہے جسے ہم پہلے ذکرکر آئے۔ فہدابن سلیمان بن یحیٰی ثقہ ہے۔ ابونعیم فضل بن دکین ثقہ، ثبت، صحاح ستہ کے رجال اوربڑے شیوخ میں سے ہے، ''خ'' اس کو حافظ ابوبکر بن خیثمہ نے بیان کیا جب انہوں نے اپنی تاریخ میں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ابونعیم فضل بن دکین نے حدیث بیان کی انہوں نے مسعرسے انہوں نے ابوعون سے، جیساکہ عنقریب آئے گا۔ مسعروہ ہے جومجہول نہیں ثقہ، ثبت، فاضل، فقیہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔ ابوعون محمدبن عبیداﷲ ثقفی ثقہ اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے سوائے ابن ماجہ کے، اورعبداﷲ عبداﷲ ہے مگرجب ابوعبدالرحمن نے ارادہ کیاکہ اس پرعیب لگائے تو وہ دو وجہیں لایا جن میں سے ایک یہ ہے کہ ابن ابی شبرمہ نے اس کو عبداﷲ بن شداد سے نہیں سنا۔ ہمیں خبردی ابوبکر بن علی نے، انہوں نے کہاہمیں حدیث بیان کی سریج بن یونس نے اورانہیں بیان کی ہشیم نے ابن شبرمہ سے انہوں نے کہاکہ مجھے حدیث بیان کی ثقہ نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے انہوں نے فرمایا کہ خمربعینہٖ یعنی قلیل وکثیرحرام کردی گئی اور ہرشراب سے نشہ حرام کیاگیاالخ۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۱) (۱؎ سنن النسائی کتاب الاشربہ ذکراخبار التی اعتل بہا الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۱)