Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
22 - 135
اقول :  قدروی ھذا الحدیث عنہ العوام عند النسائی، واللیث عند الطحاوی وابواسحٰق الشیبانی عندھما، وقرۃ العجلی عند الطحاوی، وابن ابی شیبۃ فارتفعت جھالۃ العین ولم یذکر بجرح قط البتۃ فغایتہ ان کان مستورا لاسیماوھو من القرون المشہود لھا بالخیرالتابعین والمستورمقبول عندنا والجمہور کمابیّنّاہ فی ''الھاد الکاف فی حکم الضعاف'' فالحدیث لاینزل ان شاء اﷲ عن درجۃ الحسن۔ حدیث ابی مسعود اعلہ بیحیٰی بن یمان قال لایحتاج بحدیثہ لسوء حفظہ وکثرۃ خطائہ ۱؎،
اقول : (میں کہتاہوں) یہ حدیث اس سے عوام نے روایت کی نزدیک امام کسائی کے، اورلیث نے روایت کی امام طحاوی کے نزدیک، اورابواسحق شیبانی نے روایت کی ان دونوں کے نزدیک، اورقرۃ العجلی نے روایت کی امام طحاوی اورابن ابی شیبہ کے نزدیک، تواس طرح جہالت عین مرتفع ہوگئی اورجرح بالکل ذکرنہ کی گئی، روایت اس کی یہ ہے کہ وہ مستور ہے خصوصاً وہ ان زمانوں میں ہے جن کے لئے غیر کی شہادت دی گئی یعنی تابعین سے، اورمستور ہمارے نزدیک اورجمہور کے نزدیک مقبول ہے، جیساکہ ہم نے اس کو ''الھاد الکاف فی حکم الضعاف'' میں بیان کیا۔ چنانچہ ان شاء اﷲ العزیز یہ حدیث درجہ حسن سے نہیں گرے گی۔ امام نسائی نے یحیٰی بن یمان کے سبب سے حدیث ابی مسعود کی تعلیل کرتے ہوئے کہاکہ حافظہ کی کمزوری اور کثرت خطاء کی وجہ سے یحیٰی کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی،
  (۱؎ سنن النسائی   کتاب الاشربۃ    ذکرالاخبار التی اعتل بہاالخ   نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی     ۲ /۳۳۳)
اقول :  یحیٰی من رجال مسلم والاربعۃ، قال الحافظ، صدوق عابد یخطیئ کثیرا وقد تغیر۲؎اھ  وقد تابعہ الیسع بن اسمٰعیل عن زید بن الحباب عن سفیٰن قال ابن الجوزی والیسع ضعیف۳؎ قلت قال فی المیزان ضعفہ الدار قطنی۴؎ اھ  وھو کما تری جرح مجرد حدیث ابن عباس من طریق القاسم بن بھرام، قال ابن الجوزی تفرد بہ قال ابن حبان لایجوز الاحتجاج بہ بحال۱؎اھ  قلت فانما منع الاحتجاج وھذا اوھاھن فیما اعلم حدیث الحارث عن علی اعلہ فجرحہ بعبدالرحمٰن بن بشر قال مجھول فی الروایۃ و النسب وحدیثہ غیر محفوظ وانما یروی ھذا عن ابن عباس من قولہ ۲؎اھ  وقال الذی لایعرف والخبر منکر۳؎اھ  امّا الطریق المطول فاوھن واوھی فیہ ابن الفرات کذبہ احمد وابوبکر بن ابی شیبۃ وقال  خ  منکرالحدیث۴؎ ثم مدارہ علی الحارث وفیہ مالایجھل حدیث ابن عباس المذکور اٰخرا، اقول :  لعل المحفوظ موقوف ھکذا رواہ الحفاظ عن ابن عباس قولہ کما ستسمع ان شاء اﷲ تعالٰی نعم ان ثبت الرفع بطریق جیّد فلک ان تقول زیادۃ ثقۃ فتقبل و یعضدہ مرسل عبداﷲ بن شداد المار حدیث  زید الشھید لم اقف علی  اول سندہ فاﷲ تعالٰی اعلم امازید عن آبائہ الکرام فمن اصح الاسانید۔
اقول : (میں کہتاہوں) یحیٰی بن یمان امام مسلم اوراصحاب سنن اربعہ کے رجال میں سے ہے، حافظ نے کہاکہ وہ صدوق عابد ہے خطا زیادہ کرتا ہے اوروہ متغیرہوا الخ اس کی متابعت کی یسع بن اسمٰعیل نے زیدبن حباب کے حوالے سے جس نے سفیان سے نقل کیا، ابن جوزی نے کہاکہ یسع ضعیف ہے۔ قلت (میں کہتاہوں) میزان میں کہاکہ دارقطنی نے اس کو ضعیف قراردیاالخ اور وہ جیساکہ تودیکھتاہے کہ جرح مجردہے، حدیث ابن عباس بطریق قاسم بن بہرام ہے، ابن جوزی نے کہاکہ وہ اس میں متفرد ہے، ابن حبان نے کہاکہ کسی حال میں اس سے استدلال جائزنہیں اھ  قلت (میں کہتاہوں) اس سے استدلال کومنع کیاگیا اورمیرے علم کے مطابق یہ کمزورعلت ہے  وہ حدیث جو حارث نے علی سے لی اس کی تعلیل کی گی اور اس پرجرح کی گئی، عبدالرحمن بن بشرکے سبب سے کہاکہ وہ روایت ونسب میں مجہول ہے اوراس کی حدیث غیرمحفوظ ہے، اوریہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ان کاقول روایت کرتاہے الخ اورکہاکہ یہ معروف نہیں اورحدیث منکرہے الخ اورکہاکہ یہ معروف نہیں اور حدیث منکر ہے الخ رہاطریق طویل وہ انتہائی کمزور اورضعیف ہے اس میں ابن فرات ہے جس کو امام احمد اورابوبکر بن ابی شیبہ نے جھوٹاکہا۔ خ  نے کہاکہ منکر الحدیث ہے، پھراس کامدارحارث پرہے اوراس میں وہ ہے جومجہول نہیں۔ ابن عباس کی دوسری مذکور حدیث، اقول : (میں کہتاہوں) شایدمحفوظ موقوف ہے، یونہی حفاظ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ان کاقول  روایت کیاجیساکہ عنقریب ان شاء اﷲ توسنے گا، ہاں اگراس کا مرفوع ہونابطریق جیّد ثابت ہوجائے تویہ کہہ کرثقہ راوی نے زائد بات کی ہے لہٰذامقبول ہے، اور اس کی تائید عبداﷲ بن شداد کی مرسل حدیث کرتی ہے۔ حدیث زیدشہید کی سند کے اول پر میں واقف نہیں ہوا، اﷲتعالٰی خوب جانتاہے لیکن زید کی روایت اس کے آباء کرام سے صحیح ترین سندوں میں سے ہے۔
 (۲؎ تقریب التہذیب     حرف الباء     ترجمہ ۷۷۰۷        دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۲ /۳۰۹)

(۳؎ العلل المتناہیۃ     کتاب الاشربۃ     تحت حدیث ۱۱۲۴        دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور    ۲ /۱۸۷)

(۴؎ میزان الاعتدال     ترجمہ الیسع بن اسمٰعیل     ۹۷۸۴    دارالمعرفۃ بیرت        ۴ /۴۴۵)

(۱؎ العلل المتناہیہ    کتاب الاشربہ    تحت حدیث ۱۱۲۳   دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور    ۲ /۱۸۶)

(۲؎ نصب الرایہ    کتاب الاشربہ    تحت الحدیث التاسع     المکتبۃ الاسلامیہ        ۴ /۳۰۶)

(۳؎ میزان الاعتدال     ترجمہ عبدالرحمن بن بشر الغطفانی     ۴۸۲۱    دارالمعرفۃ بیرت    ۲/ ۵۵۰)

(۴؎تہذیب التہذیب    ترجمہ محمد بن الفرات ۶۴۸   دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن   ۹ /۳۹۷ )
حدیث  ابی ھریرۃ اقول :  فیہ مسلم بن خالد شیخ الامام الشافعی وثقہ ابن حبان وابن معین وقال مرۃ ضعیف وقال ابن عدی حسن الحدیث وقال خ منکرالحدیث ۱؎ وجملۃ القول فیہ، کما فی التقریب فقیہ صدوق کثیر الاوھام۲؎، قلت والعامۃ کالبخاری وابن المدینی وابی حاتم وابی داؤد والناجی علٰی تضعیفہ ومع ذاک فلیس ممن یسقط حدیث ابی موسٰی اقول :  فیہ شریک ولاعلیک من شریک الرجل من رجال مسلم والاربعۃ والبخاری فی التعالیق وقد وثقہ یحیٰی بن معین قال النسائی لیس بہ بأس، وقال الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ کان شریک حسن الحدیث اماما فقیھا ومحدثا مکثرا لیس فی الاتقان کحماد بن زید ۱؎ الخ
حدیث ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اقول :  (میں کہتاہوں) اس میں مسلم بن خالد ہے جوامام شافعی علیہ الرحمہ کاشیخ ہے، ابن حبان اورابن معین نے اس کو ثقہ قراردیا، اورایک مرتبہ کہاکہ ضعیف ہے۔ ابن عدی نے کہاحسن الحدیث ہے، خ نے کہا منکرالحدیث ہے، ان کے بارے میں تمام قول ہیں جیساکہ تقریب میں ہے کہ وہ فقیہ، صدوق اورزیادہ وہم  والاہے، قلت (میں کہتاہوں) عام محدثین کرام جیسے بخاری، ابن المدینی، ابوحاتم ، ابوداؤد اورناجی اس کوضعیف قراردیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ساقط الاعتبارنہیں ہے۔ حدیث ابوموسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اقول :  (میں کہتاہوں) اس میںشریک ہے وہ امام مسلم، اصحاب اربعہ اورتعالیق میں امام بخاری کے رجال میں سے ہے۔ یحیٰی بن معین نے اس کو ثقہ قراردیا۔ نسائی نے کہا اس میں کوئی خرابی نہیں۔ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں کہاکہ شریک حسن الحدیث، امام، فقیہ، محدث اور مالدار شخص تھا مگراتقان میں حماد بن زید کی مثل نہیں تھا الخ۔
 (۱؎ میزان الاعتدال     ترجمہ مسلم بن خالد ۸۴۸۵        دارالمعرفۃ بیروت    ۴ /۱۰۲)

(تہذیب التہذیب  ترجمہ مسلم بن خالد ۲۲۸        دارالمعرفۃ بیروت   ۱۰ /۱۲۹)

(۲؎ تقریب التہذیب     حرف المیم     ترجمہ مسلم بن خالد ۶۶۴۶    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲ /۱۷۸)

(۱؎ تذکرۃ الحفاظ     ترجمہ شریک بن عبداﷲ۶۳        دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن     ۱ /۲۱۴)
وفی تھذیب التھذیب قال العجلی کوفی ثقۃ وکان حسن الحدیث، قال عبدالرحمٰن وسألت ابی عن شریک وابی الاحوص ایھما احب الیک قال شریک وقد کان لہ اغالیط وقال ابن عدی الغالب علٰی حدیثہ الصحۃ، وقال ابن سعد کان ثقۃ مامونا کثیرا الحدیث وکان یغلط، وقال ابوداؤد ثقۃ یخطی عن الاعمش وقال ابراھیم الحری کان ثقۃ وقال معٰویۃ بن صالح سألت احمد بن حنبل عنہ فقال کان عاقلا صدوقا محدثا شدیدا علی اھل الریب والبدع ۲؎ الخ لاسیما وروایتہ ھٰھنا عن ابی اسحٰق و قدقال الامام احمد بن حنبل شریک فی ابی اسحٰق اثبت من زھیر واسرائیل وزکریا قال وسمع منہ قدیما۳؎ وقال یحیٰی بن معین شریک فی ابی اسحٰق احب الینا من اسرائیل ۴؎ و لامعجز فی السند سوی ھذا غیران الفضیل برمرزوق یرویہ عن ابی اسحٰق وفیہ قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اشربا ولاتشربا مسکرا تا بعہ عبداﷲ بن رجاء عن اسرائیل عن ابی اسحٰق اوعن شریک عنہ علی اختلاف النسخ رواھما الطحاوی ۱؎ ۔
اورتہذیب التہذیب میں ہے عجلی کوفی نے کہاکہ شریک ثقہ اورحسن الحدیث ہے۔ عبدالرحمن نے کہاکہ میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ شریک اورابوالاحوص میں سے آپ کو زیادہ پسند کون ہے توانہوں نے کہاشریک، حالانکہ اس کی کئی غلطیاں بھی ہیں۔ ابن عدی نے کہا اس کی حدیث پرغالب صحت ہے۔ ابن سعد نے کہاکہ وہ ثقہ، مامون اورکثیرالحدیث ہے حالانکہ وہ غلطی کرتاہے۔ ابوداؤد نے کہاکہ وہ ثقہ ہے اوراعمش سے روایت میں خطاکرتا ہے۔ ابراہیم حربی نے کہاثقہ ہے۔ معاویہ بن صالح نے کہامیں نے امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ سے اس کے بارے  میں پوچھا تو انہوں نے فرمایاکہ وہ عاقل، صدوق، محدث اورشک وبدعت والوں پرسخت ہے الخ خصوصاً یہاں پر اس کی ابواسحاق سے روایت۔ اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا شریک ابواسحق کے بارے میں اثبت ہے بنسبت زہیر، اسرائیل اورزکریا کے، حالانکہ اس سے بہت پہلے سناہے یحیٰی بن معین نے کہاکہ شریک ابواسحق کے بارے میں میرے نزدیک اسرائیل سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس کوسوائے س کے سندمیں کوئی عاجزکرنے والانہیں۔ مگرفضیل بن مرزوق نے اس کو ابواسحق سے روایت کیااورا س میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاکہ پیواورنشہ کی حدتک مت پیو۔ اس کی متابعت کی عبداﷲ بن رجاء نے انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابواسحق سے روایت کی، یاشریک نے ابواسحاق سے روایت کی یعنی نسخوں میں اختلاف ہے۔ ان دونوں کو امام طحاوی نے روایت کیا۔
 (۲؎ تہذیب التہذیب    ترجمہ شریک بن عبداﷲ الکوفی ۵۷۷    دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن     ۴ /۳۳۵ تا ۳۷)

(۳؎تہذیب التہذیب    ترجمہ شریک بن عبداﷲ الکوفی  ۵۷۷    دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن    ۴ /۳۳۴)

(۴؎ میزان الاعتدال     ترجمہ شریک بن عبداﷲ الکوفی  ۳۶۹۷    دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۲۷۱)

(۱؎ شرح معانی الآثار     کتاب الاشربۃ     باب مایحرم من النبیذ    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲ /۳۶۰)
Flag Counter