Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
21 - 135
کامل ابن عدی میں ہے  :
حدثنا ابوالعلاء الکوفی بمصر ثنامحمد بن الصباح الدولابی نانصربن المجدر قال کنت شاھدا حین ادخل شریک ومعہ ابوامیّۃ الذی رفع الی المھدی ان شریکا حدثہ عن الاعمش عن سالم عن ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال استقیموا لقریش ما استقاموا لکم فاذا ازاغوا عن الحق فضعوا سیوفکم علی عواتقکم فقال المھدی لشریک حدثت بھذا قال لاقال ابوامیۃ علیّ المشی الٰی بیت اﷲ تعالٰی وکل مالی فی المساکین صدقۃ ان لم یکن حدثنی فقال شریک علیّ مثل الذی علیہ ان کنت حدثتہ قال فکانّ المھدی رضی فقال ابوامیۃ یا امیرالمومنین عندک ادھی العرب انما یعنی علیہ مثل الذی علیہ من الثیاب قل لہ فلیحلف مثل الذی حلفت فقال صدقت احلف کما حلف فقال شریک قد حدثتہ فقال ویل علی شارب الخمر یعنی الاعمش وکان یشرب المصنف لوعلمت موضع قبرہ لاحرقتہ قال شریک لم یکن یھودیا کان رجلا صالحا ۱؎الخ۔
ہمیں ابوالعلاء کوفی نے مصرمیں حدیث بیان کی انہوں نے کہاکہ ہمیں حدیث بیان کی محمدبن صباح دولابی نے انہوں نے کہاکہ ہمیں نصربن مجدر نے خبردی کہ میں اس وقت حاضرتھا جب شریک کوداخل کیاگیا اس کے ساتھ ابوامیّہ تھا جس نے مہدی کے پاس مقدمہ دائر کیاتھا کہ شریک نے اسے اعمش سے انہوں نے سالم سے انہوں نے ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاقریش کے لئے سیدھے رہو جب تک وہ تمہارے لئے سیدھے رہیں جب وہ حق سے ٹیڑھے ہوجائیں توتم اپنی تلواریں اپنے کندھوں پررکھ لو۔ مہدی نے شریک سے کہا تونے یہ حدیث بیان کی؟ اس نے کہانہیں، ابوامیہ نے کہامجھ پربیت اﷲ شریف کی طرف جانالازم ہے اورمیراسارا مال مسکینوں پرصدقہ ہے اگر اس نے مجھے یہ حدیث بیان نہ کی ہو، شریک نے کہا مجھ پر اسی کی مثل ہے جو اس پر ہے اگرمیں نے اس کویہ حدیث بیان کی ہو۔ راوی نے کہاگویاکہ مہدی شریک کی بات پر راضی ہوگیا۔ ابوامیہ نے کہا اے امیرالمومنین! آپ کے پاس عرب کاسب سے بڑاچالاک شخص موجودہے اس نے جوکہاہے کہ مجھ پر اس کی مثل ہے جواس پر ہے اس قول سے اس کی مراد کپڑے ہیں آپ اسے حکم دیں کہ وہ میری طرح قسم کھائے۔ مہدی نے کہا تو نے سچ کہا، اورمہدی نے شریک کوکہا تم قسم کھاؤ جیساکہ ابوامیہ نے قسم کھائی، توشریک نے یہ کہاکہ میں نے یہ حدیث بیان کی ہے، تواس نے کہاشراب پینے والے یعنی اعمش پرہلاکت ہواور وہ ایسی شراب پیتاتھا جس کانصف جل کرخشک ہوجاتا اگرمجھے اس کی قبر کی جگہ معلوم ہوتی تومیں اس کوجلادیتا، شریک نے کہا وہ یہودی نہیں تھا وہ ایک نیک مرد تھاالخ۔(ت)
(۱؎ الکامل فی ضعفاء الرجال  ابن عدی شریک بن عبداﷲ بن الحارث بن شریک بن عبداﷲ نخعی الخ دارالفکرللطباعۃ النشر  ۴ /۱۳۳۷)
صحیح بخاری شریف میں ہے :
رای عمروابوعبیدۃ ومعاذبن جبل شرب الطلاء عل الثلث وشرب البراء وابوجحیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھماعلی النصف۲؎اھ ۔
حضرت عمر، ابوعبیدہ اورمعاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہم ایسی طلاء کوحلال سمجھتے جس کادوتہائی جل کر ایک تہائی رہ جائے جبکہ حضرت براء اورابوجُحیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما وہ طلاء پیتے جس کانصف جل کرخشک ہوگیاالخ۔
(۲؎ صحیح البخاری     کتاب الاشربۃ     باب الباذق ومن نہی عن کل مسکر الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۸۳۸)
تقدمت اسانید الثلثۃ الاول ووصل الاخیرین ابن ابی شیبۃ کما فی العمدۃ۔
پہلی تینوں حدیثوں کی سندیں گزرچکیں اورآخری دونوں کوابن ابی شیبہ نے موصول فرمایا جیساکہ عمدہ میں ہے۔
اضافہ افاضۃ :
نزیدک عدۃ أبحاث تفیدک بعون اﷲ تعالٰی:
اضافہ افاضہ: ہم تیرے لئے چندبحثوں کااضافہ کرتے ہیں جواﷲ تعالٰی کی توفیق سے تجھے فائدہ دیں گی:
الاوّل تقدم تسعۃ احادیث من المرفوع وروی العقیلی من طریق عبدالرحمٰن بن بشر الغطفانی عن ابی اسحٰق عن الحارث عن علی کرم اﷲ وجھۃ قال سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الاشربۃ عام حجۃ الوداع فقال حرم اﷲ الخمر بعینھا والسکر من کل شراب۱؎ واخرجہ مطولا من طریق محمد بن الفرات الکوفی عن ابی اسحٰق السبیعی وفیہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتی بقعب نبیذ فذاقہ فقطب وردہ فقام الیہ رجل من اٰل حاطب فقال یارسول اﷲ ھذا شراب اھل مکۃ قال فصب علیہ الماء حتی رغا ثم شرب فقال حرمت الخمر بعینھا والسکر من کل شراب۲؎(فتلک عشرۃ کاملۃ) و قداخرج ھذا الکلام من دون القصۃ اعنی حرمت الخمر بعینھا الخ ابوالقاسم الطبرانی فی معجمہ الکبیر عن سعید بن المسیّب عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وتقدم بوجھین مرسل و متصل من مسند الامام عن ابن شداد وعن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کانت اثنی عشر حدیثا منھا الصحیح ومنھا الحسن وجل بقیتھا لیس فیھا مایسقطھا عن درجۃ الاعتبار وحیز الانجیار والحسن ولولغیرہ کاف للاحتجاج فکیف وقد وجد لذاتہ،
پہلی بحث :  نومرفوع حدیثیں گزرچکی ہیں، اور عقیلی نے بطریق عبدالرحمن بن بشر غطفانی ابواسحق سے انہوں  نے حارث سے انہوں نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ، سے روایت کی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حجۃ الوداع والے سال شرابوں کے بارے میں سول کیا توآپ نے فرمایا اﷲ تعالٰی نے خمر کوبعینہٖ حرام فرمایا اورہرشراب نے نشہ کو حرام فرمایا، اورعُقیلی نے طوالت کے ساتھ بطریق محمد بن فرات کوفی ابواسحق سبیعی سے اس کی تخریج کی۔اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں نبیذ کا ایک بڑاپیالہ لایاگیا آپ نے اسے چکھا تیوری چڑھائی اوراسے لوٹادیا۔ آپ کی خدمت میں آل حاطب سے ایک شخص کھڑا ہوا اورکہا یارسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیک وسلم! یہ مکہ والوں کی شراب ہے۔ راوی نے کہاکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے اس پرپانی انڈیلا یہاں تک کہ اس میں جھاگ آگئی پھراسے پی لیا اورفرمایا خمر بعینہٖ حرام ہے  اورہرشراب سے نشہ حرام ہے۔ یہ دس حدیثیں مکمل ہوگئیں۔ اس کلام کی قصہ مذکورہ ''یعنی شراب بعینہٖ حرام ہے الخ'' کے بغیر تخریج کی ابوالقاسم طبرانی نے اپنی معجم کبیرمیں سعیدبن مسیب سے، انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے، اور مسندامام اعظم کے حوالے سے دووجہیں یعنی ''مرسل ومتصل'' ابن شداد اور ابن عباس سے گزرچکیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمائی، توا س طرح یہ بارہ حدیثیں ہوگئیں، ان میں سے بعض صحیح اوربعض حسن ہیں، اورباقی متعدد وہ ہیں جن میں کوئی ایسی چیزنہیں پائی گئی جو ان کو درجہ اعتبارسے ساقط کردے، اورحسن اگرچہ لغیرہٖ ہو استدلال کے لئے کافی کافی ہوتی ہے، تو پھرکیاحال ہوگا جبکہ حسن لذاتہٖ پائی جائے،!
 (۱؎ الضعفاء الکبیر    ترجمہ عبدالرحمن بن بشر۹۱۴    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲ /۳۲۴)

(۲؎الضعفاء الکبیر  ترجمہ محمدبن فرات الکوفی ۱۶۸۱    دارالکتب العلمیۃ بیروت   ۴ /۲۴۔۱۲۳)
ونشیر الٰی بعض تفاصیل ماھنا حدیث ابن عمر اعلہ النسائی بعبد الملک بن نافع قال لیس بالمشہور ولایحتج بحدیثہ۱؎ اقول :  فلم یقل لایکتب وقال فی التقریب ۲؎ مجہول وکذا قالہ ابوحاتم والبیھقی، قال الامام البدر بعد نقل کلامھما قلت و ذکرہ ابن حبان فی الثقات من التابعین۳؎ اھ ،
ہم اس کی کچھ تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہیں: حدیث ابن عمر کی امام نسائی نے عبدالملک بن نافع کے سبب سے تعلیل فرمائی اورکہاکہ وہ مشہورنہیں اوراس کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی اقول :  (میں کہتاہوں کہ) امام نسائی نے یوں نہیں کہاکہ اس کی حدیث لکھی نہیں جاتی، تقریب میں ہے کہ وہ مجہول ہے، ابوحاتم اوربیہقی نے یوں ہی کہا۔ امام بدرنے ان دونوں کاکلام نقل کرنے کے بعدکہا قلت (میں کہتاہوں کہ) ابن حبان نے اس کو ثقہ تابعین میں ذکرکیاہےاھ،
 (۱؎ سنن النسائی     کتاب الاشربۃ    ذکرالاخبارالتی اعتل بہا الخ   نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی     ۲ /۳۳۲)

(۲؎ تقریب التہذیب     حرف العین     ترجمہ عبدالملک بن نافع ۴۲۳۸   دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۶۲۱)

(۳؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ     کتاب الاشربۃ     المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ    ۴ /۳۴۴)
Flag Counter