Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
20 - 135
وفی بعض روایات المسند ابوحنیفۃ عن ابی عون عن عبداﷲ بن شداد عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رواہ  الحارثی من طریق محمد بن بشر عن الامام وفی اخری ابوحنیفۃ عن عون بن ابی جُحَیفۃ عن ابن عباس ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فذکرہ رواہ طلحۃ من طریق یحیی الیمانی وحماد ابن الامام عن الامام وھٰکذا اوردہ العلاء ابن اتر کما فی الجوھر النقی قال المرتضٰی والمحفوظ فی مسند الامام ماذکرناہ  اولاً  ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم عن علقمۃ قال رأیت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ وھو یاکل طعاما ثم دعا بنبیز فشرب فقلت رحمک اﷲ تشرب النبیذ والامۃ تقتدی بک فقال ابن مسعود رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یشرب النبیذ لولا انی رأیتہ یشربہ ماشربتہ ۱؎۔
مسندکی بعض روایات میں یوں ہے کہ امام ابوحنیفہ نے ابوعون سے انہوں نے عبداﷲ ابن شداد سے اورانہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی، اس کوحارِثی نے بطریق محمدبن بشر امام صاحب سے روایت کیا۔ دوسری سند میں یوں ہے امام ابوحنیفہ نے عون بن ابی جُحَیفہ سے اورانہوں نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ بیشک نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا، پھر وہی حدیث ذکرکی، اس کوطلحہ نے بطریق یحیٰی یمانی وحماد ابن امام ابوحنیفہ امام صاحب سے روایت کیا۔ اسی طرح علاء ابن اتر نے اس کو وارد کیاجیسا کہ جواہرالنقی میں ہے، مرتضٰی نے کہامسندامام اعظم میں محفوظ وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکرکیا۔ امام ابوحنیفہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے روایت کی، علقمہ نے کہاکہ میں نے عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوکھانا تناول فرماتے ہوئے دیکھا، پھرانہوں نے نبیذ منگوائی اوراسے پیا تومیں نے کہا اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے آپ نبیذپیتے ہیں حالانکہ اُمّت آپ کی اقتداء کرتی ہے، ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہمانے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کونبیذ پیتے ہوئے دیکھا اگرمیں نے آپ کونبیذپیتے ہوئے نہ دیکھاہوتومیں اس کونہ پیتا۔
 (۱؎ مسندالامام الاعظم    کتاب الاطعمۃ والاشربۃ الخ     نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی     ص۰۲ ۔ ۲۰۱)
ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم انہ قال قول الناس کل مسکر حرام خطؤمن الناس انما اراد وان یقولوا السکر حرام من کل شراب۲؎۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے روایت کی، ابراہیم نے کہاکہ  لوگوں کا یہ قول لوگوں کی خطاہے کہ ہرنشہ آورحرام ہے، اس سے مرادیہ ہے کہ وہ یوں کہیں ہرشراب سے نشہ حرام ہے۔
 (۲؎ جامع المسانید     الباب الثلاثون فی الحدود   المکتبۃ الاسلامیہ سمندری فیصل آباد    ۲ /۱۸۹)
ابوحنیفۃ عن حماد عن انس بن مالک انہ کان ینزل علی ابی بکر بن ابی موسٰی الاشعری بواسط فیبعث برسول الی السوق یشتری لہ النبیذ من الخوابی ۱؎، ابوحنیفۃ عن حماد قال کنت اتقی النبیذ فدخلت علٰی ابراھیم وھو  یطعم  فطعمت معہ فناولنی قدحا فیہ نبیذ  فلما رأی اتقائی منہ قال حدثنی علقمۃ عن عبداﷲ بن مسعود انہ کان ربما طعم عندہ  ثم دعا بنبیذ لہ تنبذہ لہ سیرین ام  ولدہ فشرب وسقانی ۲؎۔
امام ابوحنیفہ  سے حماد سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ وہ ابوبکر بن ابوموسٰی اشعری کے پاس واسط میں اترے توانہوں نے بازار میں قاصدبھیجا تاکہ وہ ان کے لئے خوابی سے نبیذ خریدے۔ امام ابوحنیفہ نے حماد سے روایت کی حماد نے کہامیں نبیذ سے  پرہیزکرتا تھا میں ابراہیم کے پاس گیا  وہ کھاناکھارہے تھے میں نے ان کے ساتھ کھاناکھایا مجھے انہوں نے ایک پیالہ دیاجس میں نبیذتھی جب انہوں نے مجھے اس سے بچتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا مجھے علقمہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث بیان کی کہ وہ (علقمہ) بسااوقات ابن مسعود کے ساتھ کھاناکھاتے، پھرانہوں نے نبیذطلب فرمائی جوسیرین نے ان کے لئے تیار کی تھی جوان کی ام ولد ہے، انہوں نے نوش فرمایا اور مجھے بھی پلایا،
 (۱؎ و۲؂  جامع المسانید    الباب الثلاثون فی الحدود    المکتب الاسلامیہ سمندری فیصل آباد     ۲ /۱۹۱ ۔ ۱۹۰)
ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم انہ قال کتب عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ الٰی عماربن یاسر رضی اﷲ تعالٰی عنھما وھو عامل لہ علی الکوفۃ اما بعد فانہ انتھی الیّ شراب من الشام من عصیر العنب وقد طبخ وھو عصیر قبل ان یغلی حتی ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ فذھب شیطانہ وبقی حلوہ وحلالہ فھو شبیہ بطلاء الابل فمر من قبلک فیتوسعوا بہ شرابھم ۱؎ قلت وروی عبدالرزاق (عہ) حدثنا معمر بن عاصم عن الشعبی قال کتب عمربن الخطاب الی عماربن یاسر امابعد فانھا جاءتنا اشربۃ من قبل الشام کانھا طلاء الابل قد طبخ حتی ذھب ثلثاہ الذی فیہ خبث الشیطان وریح جنونہ وبقی ثلثہ فاصطنعہ وامر من قبلک ان یصطنعوہ۲؎ ورواہ الخطیب فی تلخیص المتشابہ عن الشعبی عن حبان الاسدی قال اتانا کتاب عمر فذکرہ بلفظ ذھب شرہ وبقی خیرہ فاشربوہ ۱؎، ابوحنیفہ عن حماد عن ابراھیم انہ قال فی الرجل یشرب النبیذ حتی یسکر قال القدح الاخیر الذی سکر منہ ھو الحرام۲؎۔
امام ابوحنیفہ نے حماد سے اورانہوں نے ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عماربن یاسر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف خط لکھاجبکہ وہ کوفہ کے عامل تھے، امابعد! میرے پاس شام سے انگور کے رَس کی شراب پہنچی جس کو پکایاگیا ہے دراں حالیکہ وہ پکانے سے انگورکا شیرہ تھی یہاں تک کہ اس کادوتہائی جل گیا اورایک تہائی باقی رہ گیاتواس کاشیطان چلاگیا توا س کی مٹھاس وحلت باقی رہی گئی، اور وہ اونٹوں کے طلاء کے مشابہ ہے تم اپنی طرف سے حکم دے دوکہ لوگ اپنی شرابوں میں گنجائش پیداکریں۔میں کہتاہوں امام عبدالرزاق نے روایت کیاکہ ہمیں معمرنے عاصم سے اورانہوں نے شعبی سے حدیث بیان کی کہ حضرت عمرابن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عماربن یاسر کوخط لکھاامابعد! بیشک ہمارے پاس شام کی طرف سے کچھ شرابیں آئی ہیں گویاکہ وہ اونٹوں کاطلاء ہیں جنہیں پکایاگیا یہاں تک کہ اس کادوثلث جل گیا جس میں خبث شیطان اوراس کے جنون کی بوتھی باقی ایک تہائی رہ گیا، اس کوبناؤ اور لوگوں کوبنانے کااپنی طرف سے حکم  دو، اوراس کو تلخیص المتشابہ میں خطیب نے شعبی سے اورانہوں نے حِبان اسدی سے روایت کیاحِبان نے کہاکہ ہمارے پاس حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کاخط آیا اس میں حِبان نے یہ لفظ ذکر کیا ہے کہ اس کاشر زائل ہوگیا اورخیرباقی رہا لہٰذا تم اس کو پیو۔ امام ابوحنیفہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے روایت کیاانہوں نے اس  شخص کے بارے میں فرمایا جو نبیذپیتایہاں تک کہ اسے نشہ آجاتا، فرمایا آخری پیالہ جس سے نشہ ہوا وہ حرام ہے۔(ت)
عہ :  ھٰکذا اعزاہ لعبد الرزاق الامام البدر فی البنایۃ، والامام خاتم الحفاظ فی الجامع الکبیر ووقع فی تعلیقات مؤطا الامام محمد لبعض المعاصرین عزوہ لابن ابی شیبۃ وکانہ شبہ علیہ احد المصنفین بالاٰخر۱۲منہ۔
عہ : اور امام بدرالدین عینی نے بنایہ میں اور امام عسقلانی نے جامع الکبیر میں اس کوعبدالرزاق کی طرف منسوب کیاجبکہ مؤطاامام محمد کی تعلیقات میں ایک معاصر (علامہ عبدالحی لکھنوی) نے اس کو ابن ابی شیبہ کی طرف منسوب کیا، ہوسکتاہے علامہ لکھنوی کومصنف عبدالرزاق اورمصنف ابن ابی شیبہ میں اشتباہ ہوگیاہو۱۲منہ(ت)
 (۱؎ جامع المسانید    الباب الثلاثون فی الحدود    المکتب الاسلامیہ سمندری فیصل آباد    ۲ /۱۹۱)

(۲؎ المصنف لعبدالرزاق    کتاب الاشربۃ     حدیث ۱۷۱۲۰    المجلس العلمی     ۹ /۲۵۵)

(۱؎ تلخیص المتشابہ    حدیث ۱۰۵۲        دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۵۱۵)

(۲؎ جامع المسانید     الباب الثلاثون فی الحدود   المکتبۃ الاسلامیہ سمندری     ۲ /۱۹۲)
عقودالجواہرمیں ہے :
فی مصنّف ابن ابی شیبۃ حدثنا علی بن مُسھر عن سعید بن ابی عروبۃ عن قتادۃ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان ابا عبیدۃ ومعاذ بن جبل واباطلحۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم کانوا یشربون من الطلاء ماذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ ۳؎ قلت ورواہ ایضا ابومسلم الکجی وسعید بن منصور فی سننہ کما فی العمدۃ قال ابوبکر حدثنا وکیع عن الاعمش عن میمون (ھو ابن مھران) عن ام الدرداء قالت کنت اطبخ لابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ الطلاء ماذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ۴؎۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ہمیں علی بن مسہر نے سعیدبن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے اورانہوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث بیان کی حضرت انس نے فرمایا کہ ابوعبیدہ، معاذبن جبل اورابوطلحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ایساطلاء پیتے جس کادوثلث جل کرایک ثلث باقی رہتا۔ میں کہتاہوں کہ اس کوابومسلم الکجی اور سعیدبن منصور نے بھی اپنی سنن میں روایت کیاجیساکہ عمدہ میں ہے۔ ابوبکر نے کہاہمیں وکیع نے اعمش سے انہوں نے ام درداء سے حدیث بیان کی، ام درداء نے کہاکہ میں ابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے طلاء پکاتی جس کادوتہائی جل کرایک تہائی باقی رہ جاتا۔
 (۳؎ المصنف لابن ابی شیبہ   کتاب الاشربہ    حدیث ۴۰۳۹    ادارۃ القرآن    ۸ /۱۷۰)

(۴؎المصنف لابن ابی شیبہ   کتاب الاشربہ   حدیث ۴۰۴۱    ادارۃ القرآن   ۸ /۱۷۱)
حدثنا ابن فضیل عن عطاء بن السائب عن ابی عبدالرحمٰن قال کان علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یرزقنا الطلاء فقلت لہ ماھیأتہ قال ابواسود یاخذہ احدنا باصبعہ ۱؎ حدثنا وکیع عن سعید بن اوس عن انس بن سیرین قال کان انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سقیم البطن فامرنی ان اطبخ لہ طلاء حتی ذھب ثلثاہ وبقی ثلثہ فکان یشرب منہ الشربۃ علی اثر الطعام۲؎ حدثنا ابن نمیر ثنا اسمٰعیل عن مغیرۃ عن شریح ان خالد بن الولید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا یشرب الطلاء بالشام۔۳؎۔
ہمیں ابن فضیل نے عطابن سائب سے انہوں نے عبدالرحمن سے حدیث بیان کی کہ حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہمیں طلاء پلاتے، میں نے کہا اس کی ہیئت کیاہوت؟ ابواسود نے کہاکہ ہم میں سے کوئی ایک اس کو اپنی انگلی کے ساتھ لے سکتاتھا (یعنی وہ بہت گاڑھا ہوتاتھا) ہمیں وکیع نے سعیدبن اوس سے انہوں نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوئے تومجھے حکم دیاکہ میں ان کے لئے طلاء پکاؤں یہاں تک کہ وہ دوتہائی جل کرایک تہائی باقی رہ جاتا توآپ اس میں سے کچھ کھانے کے بعد نوش فرماتے۔ ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اسمٰعیل نے مغیرہ سے انہوں نے شریح  سے حدیث بیان کی کہ حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ تعالٰی عنہ شام میں طلاء پیاکرتے تھے(ت)
(۱؎ المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب الاشربۃ    حدیث ۴۰۶۱   ادارۃ القرآن کراچی     ۸ /۱۷۶)

(۲؎المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب الاشربۃ    حدیث ۴۰۴۶     ادارۃ القرآن کراچی    ۸ /۱۷۲)

(۳؎المصنف لابن ابی شیبہ     کتاب الاشربۃ    حدیث ۴۰۵۸     ادارۃ القرآن کراچی    ۸ /۱۷۵)
سنن دارقطنی میں ہے  :
حدثنا محمد بن احمد بن ھارون نا احمد بن عمربن بشر ناجدی ابراھیم بن قرۃ نا القاسم بن  بھرام ثنا عمر وبن دینار عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال مر  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی قوم بالمدینۃ قالوا یارسول اﷲ ان عندنا شرابا  لنا  افلانسقیک منہ قال بلٰی فاتی بعقب اوقدح غلیظ فیہ نبیذ فلما  اخذہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  وقربہ الٰی فیہ قطب قال فدعا الذی جاء بہ فقال خذہ فاھرقہ فلما ان ذھب بہ  قالوا یارسول اﷲ ھذا شرابنا ان کان حراما لم نشربہ فدعا بہ فاخذہ ثم دعا  بماء فصبّہ علیہ ثم شرب وسقی  وقال اذاکان  ھٰکذا فاصنعوا  بہ ھکذا۔ ۱؎۔
ہمیں محمدبن احمد بن ہارون نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث بیان کی کہ  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مدینہ میں ایک قوم پرگزرے انہوں نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیک وسلم! ہمارے پاس بنائی ہوئی ایک شراب ہے کیا اس میں سے ہم آپ کونہ پلائیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کیوں نہیں۔ آپ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیاگیا جس میں تیزنبیذ تھی، جب آپ نے اس کوپکڑا اورمنہ کے قریب کیاتوتیوری چڑھائی اوراس شخص کوبلایا جولایا تھا، اورفرمایا اس کولے جاؤ  اور انڈیل دو۔ جب وہ شخص اس نبیذ کولے کرچلاگیا لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! یہ ہماری شراب اگرحرام  ہے توہم اس کونہ پئیں، نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کودوبارہ طلب فرمایا  اسے پکڑا  پھرپانی منگواکر اس میں ڈالا پھر پیا اورپلایا اور فرمایا جب نبیذ ایسی ہو تو اس کے ساتھ اس طرح کیاکرو۔(ت)
 (۱؎ نصب الرایۃ  بحوالہ الدارقطنی     کتاب الاشربۃ     احادیث فی الباب الخ     المکتبۃ الاسلامیہ ۴ /۳۰۹)
اُسی میں ہے :
عن وکیع عن شریک عن فراس عن الشعبی ان رجلا شرب من اداوۃ علی بصفین فسکر فضربہ الحد۔۲؎
وکیع سے شریک سے فراس سے شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صفین میں حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے برتن سے شراب پی تو اسے نشہ ہوگیا آپ نے اس پرحد لگائی۔(ت)
 (۲؎ سنن الدارقطنی     کتاب الاشربۃ     حدیث ۸۰    دارالمحاسن لطباعۃ القاہرہ     الجزئالرابع ص۲۶۱)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے :
حدثنا عبدالرحیم بن سلیمٰن عن مجالد عن الشعبی عن علیّ نحوہ وقال فضربہ ثمانین۔۳؎
ہمیں عبدالرحیم بن سلیمان نے مجالد سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے علی سے ایسے ہی حدیث بیان کی اورکہا حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے اسّی کوڑے لگائے۔(ت)
 (۳؎ المصنّف ابن ابی شیبہ     کتاب الحدود    النبیذ من رأی فیہ حداً    حدیث ۸۴۵۵    ادارۃ القرآن کراچی  ۹ /۵۴۵)
Flag Counter