فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
135 - 135
مسئلہ ۱۸۲ : ازعلی گڑھ مسئولہ جناب آل احمدخلف سیدصفدرعلی صاحب پیشکارچونگی ۲۴جمادی الاولٰی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے مجمع میں یہ کہاکہ تم گواہ رہو میں نے
فلاں عورت غائب کا اس مردحاضر سے نکاح کردیا اوریہ شخص نکاح کرنے والا اس عورت کاشرعی ولی نہیں ہے اورپھراس عورت کو اس طرح نکاح کردینے کی خبرپہنچی اس عورت نے اس کوقبول ومنظورکرلیا توکیایہ نکاح جائزومکمل ہوجائے گا اوراگرمہر کی تعدادبیان نہیں کی گئی کہ کس قدرمہرواجب ہوگا؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : اگراُس مردحاضرنے اسی وقت قبول کرلیاتھا تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا بشرطیکہ یہ مردحاضر اس عورت کاکفوہو نسب، مذہب، چال چلن، پیشے کسی بات میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے اس عورت کانکاح عورت کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہو، یاعورت کوئی ولی رکھتی ہی نہ ہو، ان صورتوں میں جبکہ عورت نے خبرپاکر اس نکاح کوقبو کرلیا نافذوتام ہوگیا۔
فضولی سے جوتصرف صادرہو جیسے کسی کی شادی کرنایاطلاق دینااور اس کے وقوع کے وقت کوئی اس کی اجازت دینے والا موجودہوتو اس کاانعقاد موقوف ہوجاتاہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتا ب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱)
ردالمحتارمیں ہے:
ای علی اجازۃ من یملک ذٰلک العقد۔۲؎
یعنی اس شخص کی اجازت پرموقوف ہوتاہے جواس عقد کامالک ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتا ب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵)
ہاں اگر جس سے نکاح ہواکفو بمعنی مذکورنہ تھا اورعورت کاکوئی ولی زندہ تھا اوراس نے پیش ازنکاح شخص مذکورکوغیرکفوجان کرصراحۃً ا س نکاح کی اجازت نہ دی تھی تویہ نکاح سرے سے باطل ہوا، عورت کی اجازت سے جائزنہیں ہوسکتا،
درمختارمیں ہے:
یفتی فی غیرالکفوبعدم جوازہ اصلا۳؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم غیرکفو میں اس کے بالکل عدم جواز کافتوی دیاجاتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱۰/ ۱۹۱)
مسئلہ ۱۸۳ : ازبزم حنفیہ خواجگان منزل لاہور مسئولہ محمدعبدالحمیدصاحب قادری رضوی ۲۴جمادی الاولٰی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نامی قمرالدین عرصہ ۴۰یوم سے وفات ہوگیا ہے اب ذیل ورثاء موجود ہیں اس کاترکہ کس طرح تقسیم ہوناچاہئے۔ بینواتوجروا مذہب حنفیہ
قمرالدین
زوجہ اخ اخ اخت اخت اخ الاب
(۱) زوجہ میت کی اس کی تمام پسماندہ جائداد پرقبضہ کربیٹھی ہے۔
(۲) میت نے کس قسم کی کوئی جائداد کے متعلق وصیت نہیں کی ہے۔
(۳) اخ۲ مرحوم بھائی کے مکان میں ہی رہائش پذیراوراس کے تمام کاروبار میں اس کامعاون ومددگار رہاہے، حضرت سلامت اس مسئلہ کولاہور کے کسی مفتی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ لہٰذا بزم حنفیہ لاہورکے معرفت حضرت قبلہ مدظلہ العالی کے دارالافتائے اہلسنت وجماعت میں بھیجاجاتاہے، صورت متنازعہ محظورہے لہٰذا جواب باصواب سے جلدی ممنون فرمایاجائے۔
الجواب : زوجہ کامہرجتنا واجب الاداہے اگرکل متروکہ شوہرکے برابریااس سے زائد ہے تو اس کا کل متروکہ پرقبضہ کرنا ایک دعوی صحیح کی بناء پرہے جب دین جائداد مستغرق ہوتوجب تک ادا نہ کرلے اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔
قال تعالٰی من بعد وصیۃ توصون بھااودین۔۱؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا اس وصیت کے بعد جو تم کرجاتے ہو یاقرض کی ادائیگی کے بعد۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۲)
ہاں وارثوں کویہ حق ہے کہ اگرجائداد دینے پرراضی نہ ہوں مہراپنے پاس سے استحساناً اداکردیں اس وقت عورت کولازم ہوگا کہ جائداد چھوڑدے اورصرف اپناحصہ شرعی لے اوراگر اس کے لئے کوئی مہرواجب الادانہ رہا یاجتنا ہے وہ قدرمتروکہ سے کم ہے توکل جائداد پراس کاقبضہ کرناظلم ہے کہ دین غیرمستغرق مانع ملک ورثہ نہیں۔
جامع الفصولین واشباہ ونظائروغیرہما میں ہے:
لواستغرقھا دین لایملکھا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء امالواداہ من مال نفسہ مطلقا بشرط التبرع اوالرجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین فلایملکھا۔۱؎
اگرقرض میت کے ترکہ کومحیط ہوتوکوئی اس ترکہ کابطور میراث مالک نہیں بنتامگریہ کہ جب قرضخواہ میت کو قرض سے بری کردے یامیت کاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کے ساتھ اس قرض کواداکردے، ہاں اگر کوئی اپنے مال سے اس قرض کو اداکردے بغیرتبرع یا رجوع کی شرط کے، تو اس کے لئے میت پرقرض ثابت ہوجائے گا تواس طرح ترکہ قرض میں مشغول ہوجائے گا۔ چانچہ وارث اس کامالک نہیں بنے گا۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۲۰۴)
نیزاشباہ میں ہے:
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولومستغرقا۔۲؎
وارث کواختیارہے کہ وہ قرض اداکرکے ترکہ کوچھڑالے اگرچہ قرض ترکہ کومحیط ہو(ت)
(۲؎الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۰۵)
خلاصہ میں ہے:
المرأۃ تاخذ مھرھا من الترکۃ من غیررضی الورثۃ ان کانت الترکۃ دراھم اودنانیر وان کانت الترکۃ شیأ یحتاج الی البیع فتبیع ماکان یصلح وتستوفی صداقھا ان کانت الوصیۃ من جہۃ زوجھا اولم تکن۳؎۔
عورت اپنامہروارثوں کی رضامندی کے بغیر ترکہ میں سے لے سکتی ہے اگرترکہ درہموں یا دیناروں کی صورت میں ہو۔ اوراگرترکہ ایسی شیئ ہے جس کوبیچنے کی ضرورت ہے تو وہ اس چیزکو بیچ لے جس میں بیع کی صلاحیت ہے اوراپنامہر پوراوصول کرلے، شوہرکی طرف سے اس کی وصیت ہویانہ ہو۔(ت)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل السابع مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۴۱)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الحموی فی شرح الکنز نقلا عن العلامۃ المقدسی عن جدہ الاشقر عن شرح القدوری للاخصب ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق و الفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان۔۱؎
حموی نے کنزکی شرح میں علامہ مقدسی سے نقل کیاانہوں نے اپنے دادا اشقرسے اخصب کی شرح قدوری کے حوالے سے ذکرکیاکہ خلاف جنس سے اپناحق لینے کاعدم جواز متقدمین کے زمانہ میں تھاکیونکہ وہ حقوق میں شریعت کی اطاعت کرتے تھے۔ اورآج کے دورمیں فتوٰی اس پرہے کہ جس مال سے بھی حق وصول کرنے پرقادر ہو اس کالیناجائزہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۹۵)
بہرحال جس صورت میں یہ ترکہ ورثہ کو پہنچے حسب شرائط فرائض ۸ سہام کئے جائیں دوزوجہ کواوردودوہربھائی اورایک ایک ہربہن کو اوراخ للاب یااخ لاب یعنی چچاہویاسوتیلابھائی وہ کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
نوٹ: جلد۲۵ کتاب المداینات سے شروع ہوکر کتاب الوصایا کے عنوان پرختم ہوئی، جلد۲۶ان شاء اﷲ کتاب الفرائض سے شروع ہوگی۔