Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
134 - 135
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۷ :    ازعلی گڈھ محلہ بنی اسرائیل مرسلہ مولوی احسان علی صاحب مدرس ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ

(۱) زیدکابیان ہے کہ میری بیوی ہندہ نے مرض الموت میں چارروزقبل مہرمعاف کردیاہے، اورگواہ میں چارشخص یعنی ایک اپنی حقیقی ماں اورایک حقیقی بہن اور ایک اجنبی مرد اور ایک اجنبی عورت پیش کرتاہوں مہرمعاف ہوایانہیں؟اورگواہی ایسے معاملہ میں کیسے لوگوں معتبرہے؟

(۲) زیدباحلف بیان کرتاہے کہ میری بیوی نے مہرمعاف کردیاہے، عندالشرع اس کاقول صحیح ہے یانہیں؟
الجواب: 

(۱)گواہی ہرمعاملہ میں ثقہ معتمدلوگوں کی معتبرہے، ماں باپ کی گواہی اولاد کے حق میں معتبرنہیں۔ مرض موت میں ہبہ حکم وصیت میں ہے اورزوج وارث ہے اور وارث کے لئے وصیت بے اجازت باقی ورثہ باطل ہے۔ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔۱؎ خبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
 (۱؎ سنن الدارقطنی    کتاب الفرائض    حدیث ۴۰۸۱        دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۳۳۷)
تواگرشہادت کافیہ سے ثابت ہوجائے جب بھی بے اجازت دیگرورثہ جائزنہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲)اصلاً معتبرنہیں،
البیّنۃ علی المدعی والیمین علی من انکر۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم  گواہ مدعی پراورقسم منکرپرہوتی ہے۔(ت)
 (۱؎ کنزالعمال    حدیث ۱۵۲۸۲    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۱۸۷)
مسئلہ ۱۷۸ :    نعمت علی خاں بوڑرھا ازپنڈول بزرگ ڈاک خانہ رائے پورضلع مظفرپور۹محرم الحرام۱۳۳۹ھ

اگرباپ نے بیٹے سے وصیت کی کہ اتناروپیہ یااتنی زمین یاکوئی سامان فلاں کودینا، بیٹے نے نصف یاتہائی یاچوتھائی وصیت اداکیا توبیٹاقیامت کے دن جوابدہ ہوگا یانہیں؟اگربیٹے نے موصی لہ، سے کچھ دے کربقیہ معاف کرالیاتویہ جائزہے یانہیں؟
الجواب: اگروہ وصیت بعدادائے دین مال متروکہ کی تہائی سے زائدنہ تھی توکل کااداکرنا اس پر لازم ہے اورزائد ہے توتہائی تک کااداکرناضروری ہے اس سے اگرکچھ کمی کرے گا ماخوذہوگا اورمعافی دَین کی ہوتی ہے۔
مسئلہ ۱۷۹ :   ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ مسیت خاں    یکم صفرالمظفر۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مسماۃ لاولد عرصہ دراز سے بعارضہ چنددرچندبوجہ تپ کہنہ کے مبتلارہ کرفوت ہوئی اس نے اپنے وارث ایک شوہراورایک بھائی اورایک بہن حقیقی اورایک برادر زادہ اورایک بھتیجی جن کاباپ بموجودگی متوفیہ کے فوت ہوگیا ہے وارث چھوڑے، شوہرنے متروکہ متوفیہ طلب کیاتومتوفیہ کی بہن اوربھائی کہتے ہیں کہ متوفیہ کی یہ وصیت ہے کہ تم مال واسباب ازقسم زیوروزرنقد یعنی جملہ اشیاء البیت کوخود تقسیم کرلیناشوہرکونہ دینا، یہ ظاہرکرنامشارالیہم کاشوہرمتوفیہ کو وراثت سے محروم کرتاہے اگرنہیں کرتاہے توکس قدرشوہراپناحصہ بموجب شرع شریف کے پانے کامستحق ہے اورزیور اثاث البیت متروکہ متوفیہ کاجوہے وہ فراہم کردہ شوہرکاہے اورجومتروکہ متوفیہ کے والد سے پہنچاتھا وہ متوفیہ نے اپنے بھائی کے ہاتھ بیع کردیا اوریہ وصیت کردی کہ اس روپیہ سے میری تجہیزوتکفین کرنا۔

برادرحقیقی ہمشیرحقیقی، بھتیجا جس کاباپ بموجودگی متوفیہ فوت ہوگیا۔ بھتیجی جن کاباپ بموجودگی متوفیہ فوت ہوگیا۔
الجواب : سائل نے بیان کیاہے کہ متوفیہ نے اپنی موت سے چارمہینے پیشتربھائی کے ہاتھ بیع کی وہ اس وقت بھی بعارضہ دق مبتلا تھی اورحالت خطرناک تھی،اگریہ بیان صحیح ہے تووہ بیع معتبرنہیں،
لان البیع من وارث فی مرض الموت لایصح عند الامام  وان کان بمثل القیمۃ۔
اس لئے کہ مرض الموت میں وارث کے ہاتھ بیع امام اعظم کے نزدیک جائزنہیں اگرچہ مثلی قیمت کے ساتھ ہو۔(ت)

زیور واثاث البیت جوشوہرنے بنادیاتھا اگرعورت کومالک نہ کردیاتھا تواس کامالک شوہرہی ہے اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اوراگرمالک کرکے قبضہ دے دیاتھا عورت کاہے جس طرح وہ جہیزکہ باپ کے گھر سے لائی، ان اشیاء کی نسبت بہن اوربھائی کے لئے عورت کی جووصیت بتائی جاتی ہے بے اجازت شوہر باطل ہے،
لحدیث صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔۱؎
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے کہ بیشک اﷲ تعالٰی نے ہرحقدارکو اس کاحق عطافرمادیاہے، خبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الوصایا ۲/ ۴۰    وجامع الترمذی    ابواب الوصایا    ۲/ ۳۳)

(سنن ابن ماجہ         ابواب الوصایاص۱۹۹    وسنن النسائی         کتاب الوصایا    ۲/ ۱۲۹)
ان احکام کے لحاظ سے جوترکہ متوفاۃ کاٹھہرے مع مہراگرذمہ شوہرہو حسب شرائط فرائض چھ حصے ہوکر تین حصے شوہر اوردوسہم برادراورایک بہن کوملے گا بھتیجے بھتیجی کاکچھ حق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۰ :   ازبریلی صدربازار مسئولہ عبدالغفورخاں

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بازاری عورت نے ایک بزرگ کے ہاتھ پراپنے پیشہ سے توبہ کی اورسلسلہ بیعت میں داخل ہوئی اورمرنے تک اس پرقائم رہی اور نیک چلنی کی زندگی بسرکی، بیماری کی حالت میں اس نے یہ وصیت کی کہ اگر میں اسی بیماری میں جانبرنہ ہوں تومیری کل جائداد منقولہ اورغیرمنقولہ اورکل زرنقد میرے مرشد کاحق ہے دوسراکوئی وارث اس کا نہیں وہ جس طورپر چاہیں صرف کریں، اب مسماۃ کاانتقال ہوگیا اس کی جائدادومکان زرنقد ازروئے شرع اسلام کس کوپہنچتاہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب : سائل سے معلوم ہواکہ اس کاکوئی وارث نہیں صرف اس کی ایک ماں سنی جاتی ہے کہ کافرہ ہے اس صورت میں جومال شرعاً اس کامتروکہ ہو وہ تمام وکمال اس کاہے جس کے لئے اس نے وصیت کی یہ مال وہ ہوگا جو اس نے وجہ حلال سے حاصل کیایااگرچہ زرحرام سے خریدا مگر اس پر عقدونقد جمع نہ ہوئے یعنی یہ نہ ہواکہ زرحرام دکھاکرکہاہو اس کے بدلے دے دینا اورپھرثمن میں وہی دیا اورجومال عین حرام اس کے پاس ہے کہ خود زنایاغناکی اُجرت میں اسے ملاوہ اس کی ملک نہیں اس میں وصیت جاری نہ ہوگی وہ فقراء پرتقسیم کیاجائے اورجس کی خریداری میں عقد ونقد زرحرام پرجمع ہوگئے ہوں وہ بھی خبیث ہے لینانہ چاہئے فقراء کودیں۔ و اﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۱ :   ازسگرام پورہ سورت    مسئولہ نورمحمدغلام رسول ۲۹صفر۱۳۳۹ھ

نورمحمد مذکورنے اپنی حیات میں مکان رہن رکھ کرکئی مدت بعد مرحوم لڑکے مذکوراورحاملہ عورت کوچھوڑکرگزرگیا بعدہ، لڑکی پیداہوئی مذکورعورت نے اس مکان کواپنے خاوندکے اجناس میں اسباب کوبیچ کرمکان چھڑایا بعدمذکور عورت نے اس مکان کوبیچ ڈالا، لڑکے اورلڑکی کی پرورش اس کے ماموں نے کی، بعد میں عورت بھی اورلڑکابھی گزرگیا فقط صغیر لڑکی مذکورمریم بی حال عاقلہ بالغہ ہوئی ہے اوراپنے والد کی میراث طلب کرتی ہے، سوال اتناہے کہ ماں کوبچوں کی پرورش کاحق تھا نہ کہ صغیرہ کاورثہ بیچ ڈالنے کا یہ خلاصہ کی شرع موجب ضرورت ہے۔
الجواب : اگرعورت کامہرترکہ کومحیط تھا اوراس نے وہ مکان اپنے مہرمیں لے لیاکہ اورکوئی سبیل اس کے اداکی نہ تھی تووہ بیع جائزہے ورنہ ورثہ کادعوی اس پرپہنچتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter