| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
مسئلہ ۱۷۳ : ازآگرہ محلہ قرولپاڑہ مکان ۱۷۹۵ ۱۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں منجملہ اپنے زرنقد واثاث البیت کے کچھ زرنقد اپنے حقیقی بھائی خالد کے نام جمع کیا جس محکمہ میں وہ ملازم تھا اورجیساکہ اس محکمہ کاقاعدہ تھاکہ تمہارے فوت ہوجانے کے بعد یہ روپیہ کس کودیاجائے ہرسال اس محکمہ کے قواعد کے مطابق ہمیشہ تصدیق کرتارہا جس کے نام یہ روپیہ میں نے جمع کردیاہے اسی کویہ روپیہ ملے تخمیناً دس سال بعد زیدکاانتقال ہوگیا۔ زیدنے ایک زوجہ سعیدہ اوردونابالغ لڑکے رشیدوعزیز چھوڑے نیزچاربھائی حقیقی مع خالد چھوڑے رشیدچند روز بعد مرگیا جواثاث البیت اورزرنقد بقدر ( سما۶۰۰)کے وزیوروغیرہ پرزوجہ تنہاقابض ہوگئی وہ روپیہ جوزیدنے خالد کے نام جمع کیاتھا اس کا مالک وہ حقیقی بھائی خالدہے یازوجہ یالڑکا؟
الجواب : زیدکے کل متروکہ سے اول دین مہراوردیگردیون اگراس کے ذمہ ہوں اداکئے جائیں اگر کچھ باقی نہ رہے تو نہ خالد کچھ پائے گانہ کوئی وارث، اوراگربعدادائے مہرودیون کچھ باقی بچے تو اس کی تہائی میں یہ وصیت جواس نے خالد کے نام کی ہے بلارضائے دیگرورثہ نافذہوگی، اوراسی طرح اور وصیت اگر اس نے کسی کے نام کی وہ بھی اسی ثلث میں شریک ہوگا، بعدادائے دیون جوباقی بچے اس کے ثلث سے یہ روپیہ جوبنام خالد اس نے جمع کیاہے زائدنہیں توتمام وکمال زرجمع شدہ خالد کودیاجائے گاجبکہ اوروصیت اس کے معارض نہ ہو ورنہ حصہ رسدبانٹ دیں گے، اوراگریہ روپیہ اس کوکافی نہیں توادائے مہرودیون کے بعد جتنی تہائی ہو اتنی میں وصیتیں نافذہوں گی زیادہ پر ورثہ راضی نہ ہوں تو وہ نہ دلائی جائے گی۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۴ : ازبمبئی پوسٹ۱۶ماہم مرسلہ عبدالمجیدصاحب دہلوی ۱۶جمادی الآخر۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی جائداد کے کرایہ کی آمدنی میں یہ وصیت کی کہ کچھ رقم معین مکہ شریف ومدینہ شریف وبغداد شریف کے سادات کو دی جائے اورباقی رقم میں چند ایام مقررہ میں طعام پکاکر مساکین کوکھلایاجائے اورکچھ رقم معین دومسجدوں میں دی جائے مگربعد فوت زید کے اس جائداد کے متولیان یہ کرتے ہیں کہ بجائے سادات کے امیروں کی سفارش سے اس رقم کوواسطے شادی کردینے ان لڑکیوں کے جن کے والدین غریب ہیں دیتے ہیں وردیگررقم معین کودومسجدوں میں دیتے ہیں اورباقی رقم معین میں چند ایام مقررہ میں طعام پکارکر تھوڑا مساکین میں اورتھوڑا ذی ثروت لوگوں کوکھلاتے ہیں۔ زید کی وصیت کے بموجب کیاجائے وہ درست ہے یاجومتولیان کرتے ہیں وہ درست ہے؟ جوکارخیر ہو، موافق حکم شریعت جواب عنایت ہو۔
الجواب : جورقم اس نے دونوں مسجدوں کے لئے معین کی ہے وہ انہیں کودی جائے گی، جو رقم اس نے مساکین کے کھانے کے لئے معین کی ہے اس میں سے اہل ثروت کودینادرست نہیں، اورجو رقم سادات حرمین طیبین وبغدادمقدس کے لئے معین کی ہے اگرانہیں بلادطیبہ کے سادات مساکین کوبھیجی جائے توبہترہے ورنہ یہاں کے مساکین پربھی صرف ہوسکتی ہے قیدبلاد کااتباع ضروری نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۷۵ : ازقصبہ ادرن ضلع قلابہ علاقہ کولین احاطہ بمبئی مرسلہ ابراہیم صاحب موتی ۱۲رمضان۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں تین ہزارچھ سوتیس روپے کی وصیت حسب ذیل طریقہ پرکی: (۱)اپنی زوجہ کی فاتحہ خوانی پرسالانہ تین سوروپے خرچ کرنا۔ (۲)خودکی فاتحہ پر سالانہ تین سوروپیہ۔ (۳)قرآن شریف کے پڑھنے والوں کوایک سوتیس روپے سالانہ دیاجانا۔ (۴)ماہ محرم میں مولودشریف پڑھوانا اوربارہویں محرم کوکھاناکھلانے پرخرچ کرنا، سالانہ پانچسوروپیہ۔ (۵)گیارہویں شریف کے مہینے میں مولودشریف پڑھوانا اورکھاناکھلانے پرخرچ کرنا سالانہ پانچسوروپے۔ (۶) رمضان میں روٹی پاؤ وغیرہ مسجد میں بھیجنے پر خرچ کرنا سالانہ ایک سو پچیس روپے۔ (۷)حاجیوں کوبرائے بیت اﷲ شریف دینافی حاجی ؎ پانچ حاجیوں کوجس پرسالانہ خرچ ایک سوپچاس۔ (۸)ما سالانہ مکہ مکرمہ بھیجنا۔ (۹)مامہ عہ روپے سالانہ مدینہ طیبہ۔ (۱۰) بغدادمقدس کوسالانہ قا۔ (۱۱)حضرت پیربابا ملنگ صاحب کی درگاہ پرجوپہاڑہے پچاس روپیہ سالانہ۔ (۱۲)مہایم شریف سالانہ مہ۔ (۱۳)میلاد شریف صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیاز اورکھانا کھلانے پرخرچ کرنا سالانہ ایک ہزارروپیہ۔ اوپرلکھی ہوئی رقمیں جس جس مہینے میں خرچ کرنے کی ہیں یہ اس میں خرچ ہوسکتی ہیں یابعد بھی جائزہیں یاناجائز؟ اورجورقم میلادالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کھانے کی ہے اگر اس میں سے کچھ رقم بچالی جائے اورکسی اچھے کاموں میں صرف کی جائے مثلاً مساکین ویتیم وبیوہ اورعلمائے دین وغیرہا کوتوجائزہے یانہیں؟ اوردوسری جوچھوٹی چھوٹی رقمیں ہیں مثلاً قرآن عظیم پڑھنے والوں کی اس میں اگربڑی رقموں سے لے کرخرچ کردیں توجائزہے یاکیا، وصیت کرنے والے نے جس وقت وصیت کی اس وقت حالات اورتھی اورموجودہ حالت اورہے یعنی اس وقت قحط سالی اورہرایک شیئ گراں، اگرموجودہ حالت کومدنظررکھ کرغرباء وغیرہا کوبجائے کھاناکھلانے کے اگرنقد روپیہ دیاجائے توجائزہے یاکیا؟
الجواب : صورت مستفسرہ میں اصل حکم یہ ہے کہ سالانہ تین ہزارچھ سوتیس روپے امورخیر وسبیل اﷲ میں صرف ہوجانا لازم ہے وہ خاص صورتیں کہ زیدنے مقررکیں ان کی تعیین لازم نہیں ان مہینوں میں ہو یا ان کے غیرمیں کھاناکھلاناہو یامساکین کونقددینا، کچھ رقم بچاکر ہویاکل، انہیں مقامات کوبھیجیں یایہاں۔ ہم نے جدالممتارتعلیقات ردالمحتارکتاب الصوم میں اس بیان کومبسوط لکھاہے وہیں سے چندحوالوں کاالتقاط کافی ہے۔
فی وصایا الھندیۃ اوصی ان یباع ھذا العبد ویتصدق بثمنہ علی المساکین جازلھم ان یتصدقوا بنفس العبد، ولوقال اشترعشرۃ اثواب وتصدق ثمنھا، وعن محمد لواوصی بصدقۃ الف درھم بعینھا فتصدق الوصی مکانھا من مال المیت جاز، رجل اوصی بان یتصدق بشیئ من مالہ علی فقراء الحاج ھل یجوز ان یتصدق علٰی غیرھم من الفقراء، قال الشیخ الامام ابونصر یجوز ذٰلک کما روی عن ابی یوسف فی رجل اوصی ان یتصدق علی فقراء مکۃ قال یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء وعلیہ الفتوی، وفی النوازل لواوصی ان یتصدق فی عشرۃ ایام فتصدق فی یوم جازکذا فی الخلاصۃ۱؎ و یتأتی اکثر ھذا المسائل متناً وشرحاً وحاشیۃ فی الایمان والوصایا۔
ہندیہ کے کتاب الوصایا میں ہے کسی شخص نے وصیت کی کہ اس کایہ غلام بیچ کراس کے ثمن مسکیوں پرصدقہ کئے جائیں تووصیوں کے لئے جائزہے کہ وہ خود غلام کوصدقہ کردیں۔ اوراگرکہاکہ دس کپڑے خریدکران کوصدقہ کرو۔ پھروصی نے دس کپڑے خریدلئے تواسے اختیارہے کہ وہ کپڑے بیچ دے اوران کے ثمنوں کوصدقہ کردے۔ امام محمدعلیہ الرحمہ سے منقول ہے کہ اگرکسی نے ہزارمعین درھم صدقہ کرنے کی وصیت کی وصی نے ان کی جگہ میت کے مال میں سے صدقہ کردیا تو جائزہے۔ ایک شخص نے اپنے مال میں سے حاجی فقراء پرکچھ صدقہ کرنے کی وصیت کی توان کے علاوہ دیگرفقراء پرصدقہ کرنا جائزہے یانہیں، شیخ امام ابونصر نے فرمایایہ جائزہے جیساکہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے اس شخص کے بارے میں منقول ہے جس نے فقراء مکہ پرصدقہ کرنے کی وصیت کی۔ امام ابویوسف نے فرمایا کہ ان کے علاوہ دیگرفقراء پرصدقہ کرنابھی جائزہے۔ اوراسی پرفتوی ہے۔ نواز ل میں ہے اگرکسی نے دس دن صدقہ کرنے کی وصیت کی اوروصی نے ایک ہی دن میں صدقہ کردیاتوجائزہے۔ خلاصہ میں یونہی ہے۔ ان میں سے اکثرمسائل متن، شرح اورحاشیہ کے اعتبارسے کتاب الایمان اورکتاب الوصایا میں آتے ہیں۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۴)
مگرحق یہ ہے کہ نظر بحال زمانہ تعیین وتحدیدنہ ہونے کی حالت میں دستبردبعض متولیان سے بچنادشوارہے اورجواز مخالفت جوازموافقت کا نافی نہیں اوران نیازمندیوں کااظہار جوموصی نے ان وصایا میں ذکرشریف ومزارات طیبہ سے مرعی رکھا اوراس کامرعی رہنا ہی انسب، میلاد مقدس کے عوض اورکسی کارخیر میں صرف کردیں تو مسلمانوں کوذکرشریف کانفع کب پہنچا، اس کے بعد زوجہ کے قبورپرتلاوت قرآن عظیم سے جونزول رحمت اوران امتیوں کے لئے انس وطمانیت ہو وہ بغیر اس کے کیونکرہوگا، تومناسب یہی ہے کہ جن طرق کی اس نے وصیت کی وہی جاری رہیں، ہاں ان سے اہم مصرف کی ضرورت ہو توبنگرانی ارباب دین ودیانت ان میں سے بچاکر اس میں سے صرف کریں اورانہیں بھی بقدر میسرجاری رکھیں۔واﷲ تعالٰی اعلم