Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
132 - 135
مسئلہ ۱۶۸ :   ازاسلام نگرضلع بدایون مرسلہ محمدنوشہ علی صاحب سب اسسٹنٹ سرجن شفاخانہ ۸ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

ہندہ نے اپنی جائداد فروخت کرکے زرثمن اپنی بھانجی کے پاس بطورامانت رکھا اوربارہا اس نے یہ وصیت اپنے دیگررشتہ داروں سے کی کہ میری خوردونوش اورمصارف تجہیزوتکفین کے بعد جس قدرروپیہ باقی رہے اس کو حسب منشاتجویز علمائے دین کسی خیراتی مصرف میں لگادیاجائے اگرمیری وصیت پرعمل نہیں کیاگیا توحشرمیں اس کے خلاف کرنے والوں کے دامنگیر ہوں گی ہندہ مذکورہ کایہی روپیہ ذریعہ اوقات بسری تھا چنانچہ اسی وجہ سے وہ کسی خیراتی کام میں نہ لگاسکی ہندہ کی حالت حیات میں اس کے کچھ رشتہ دار اورورثاء میں سے کسی سے اس کوکچھ امدانہ ملی اب ہندہ فوت ہوئی اس کے ورثاء میں سے دوبھائی اورایک بیوہ بہن اورایک بیوہ بھاوج موجودہیں بھائی دونوں مرفع حال ہیں بہن بیوہ کی خبرگیری اس کاداماد کرتاہے بیوہ بھاوج کاایک سوتیلالڑکاہے جوبہت کم مددکرتاہے۔ دریافت طلب یہ امرہے کہ بحالت مذکورہ بالاوصیت پرکہاں تک عمل ہوگا یاکل ترکہ میں یاجزوترکہ خیرات کردیاجائے گا، اوراس کاصرف کرنے کامجازکون ہوگا، آیاامین یا ورثاء اورصحیح مصرف اس کاکیاہے، اگرورثاء میں سے کسی کوحق پہنچاتو ان کے حصص شرعی کیاہوں گے؟
الجواب : اس کے مال میں سے اگراس پرکچھ قرض ہواداکرکے باقی کی تہائی میں یہ وصیت نافذہوگی باقی دوتہائی بہن بھائی کاحق ہے، دوحصے بھائیوں کے اورایک بہن کا، اورثلث وہاں کے علماء اہلسنت کی صوابدید سے کسی مصرف خیرمیں صَرف کیاجائے اوریہ صرف اس کے ہاتھ سے ہوگا جن کویہ وصیت کی تھی کہ ایساکرنا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۹ :   ازدرگاہ مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز ڈاکخانہ سندیلہ ضلع ہردوئی مرسلہ سیدفراست حسین صاحب یکم جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ فخرالنساء نے وفات پائی اورورثہ ذیل چھوڑے: 

مسماۃ فخرالنساء ناکتخذامرد

خال        خالہ        جدہ یعنی نانی    عم الاب         ابن عم الاب    اخت حقیقیہ

سید واجد علی    صدیقۃ النساء    والدہ سیدواجدعلی    سیدمحمدذکی        سیدفراست حسین    قمرالنساء

لہٰذا صورت مسئولہ میں کون شخص وارث حقدارہے اوراس کاحصہ کتناہے اورکون محجوب الارث ہے نیز یہ امرواضح رہے کہ مسماۃ فخرالنساء کے قبضے میں وہ جائدادہے کہ اس کواس کے والد ریاست حسین نے پہلے اپنی زوجہ رؤف النساء یعنی مادرفخرالنساء کو دین مہرمیں دے دی، پھرمسماۃ رؤف النساء نے اپنے مرض موت میں بذریعہ وصیت نامہ کے سیدواجدعلی کوولی بناکر اپنے ہردودخترمسماہ فخرالنساء وقمرالنساء کودے دی سیدواجد علی ماموں مسماۃ قمرالنساء نے کچہری بندوبست میں بدرخواست وبرضامندی اپنی بنام دختران فخرالنساء وقمرالنساء کے داخل خارج کرادیا۔
الجواب : اگررؤف النساء کے یہی تین وارث تھے دودختر اورایک بھائی، اوررؤف النساء نے دختروں کے نام وصیت کی تووہ کل جائداد اس بناء پر کہ برادرنے اس وصیت کوجائزونافذکیا دونوں دختروں کی مِلک ہوگئی سیدواجدعلی کااس میں کچھ حق نہ رہا۔ حدیث میں ہے:
لاوصیۃ للوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔۱؎
خبردار وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
(۱؎ سنن الدارقطنی  کتاب الفرائض حدیث۴۰۸۱  دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۳۳۷)
اب کہ فخرالنساء نے انتقال کیا نصف یہ جائداد کہ اس کاحصہ ہے اوراس کے علاوہ اورجومتروکہ فخرالنساء ہوحسب شرائط فرائض چھ سہام منقسم ہوکرایک سہم نانی اورتین سہم قمرالنساء اورسیدمحمدذکی کو ملیں گے سیدفراست حسین بوجہ بُعد درجہ اورسیدواجدعلی وصدیقۃ النساء بوجہ ذوی الارحام ہونے کے محروم ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۰ :   ازرائے پورگول بازارسی بی    مرسلہ محمداسمٰعیل بیگ    ۱۰جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی بیوی ہندہ سے زیدکے ایک لڑکا بکرتھا، بکرکی دوبیبیاں شکورن وغفورن تھیں، شکورن سے دولڑکے اورغفورن سے ایک لڑکا بکرکے تھا، بکراپنے والد زیدکی زندگی ہی میں انتقال کرگیا، لڑکے تینوں نابالغ تھے، اسی عرصہ میں زیدکاانتقال بھی ہوگیا، شکورن نے اپنے دونوں لڑکوں کاحصہ جوبکرکے والد زیدکے ترکہ سے انہیں پہنچتاتھا چونکہ دونوں لڑکے نابالغ تھے اس لئے بہ حیثیت ولی جائز، غفورن نے اپنی مِلکوں کوفروخت کردیا، پس دریافت طلب یہ امرہے کہ آیا یہ بیع جائزہے یاکیا؟ اورشکورن اپنے دونوں نابالغ لڑکوں کی طرف سے ازروئے شرع شریف ولی قرارپاسکتی ہے یانہیں؟
الجواب :ماں کواصلاً اختیارنہیں ہے کہ وہ نابالغوں کاحصہ بیع کرے، نہ مال کی ولایت ماں کو ہوتی ہے،
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ ثم قاض۱؎ کما فی الدرالمختار وغیرہ۔
نابالغ کے مال میں اس کاولی اس کاباپ ہے، پھرباپ کاوصی، پھرنابالغ کادادا، پھردادا کا وصی، پھرقاضی۔ جیساکہ درمختاروغیرہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار        کتاب الوکالۃ    ۲/ ۱۰۹،    کتاب الماذون     ۲/ ۲۰۳    مطبع مجتبائی دہلی)
مسئلہ۱۷۱ :   ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی عبدالغنی صاحب بنگال ۱۹صفر۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرباپ اپنی نابالغ لڑکی کامہرقبل شادی کے زوج یاوالی زوج سے اداکرے اوراس مہر کولڑکی کی شادی میں صرف کرے خواہ اپنے پاس سے صرف کرسکتاہے یانہیں اس خیال سے کہ جب لڑکی بالغ ہوگی تولڑکی سے معاف کرالوں گایااداکردوں گا توجائزہوگا یانہیں اوراگرلڑکی بالغ ہو اورلڑکی کے اذن سے صرف کرے توکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : بالغہ کی اجازت سے صرف کرسکتاہے اورنابالغ کی شادی میں بقدر معروف خرچ کرسکتاہے اوراپنے صرف میں بطور قرض اٹھالینے کے جواز میں اختلاف ہے احتیاط بچناہے اگرصرف کرلے گا عوض دے گایالڑکی بالغہ ہوکرمعاف کردے تویہ بھی صحیح ہے۔
ادب الاوصیاء میں ہے:
فی العمدۃ لواستقرض الوصی من مال الصبی یضمن، وعند محمد لایضمن کالاب، وفی قضاء الجامع اخذ الاب مال صغیرہ قرضاً جاز، وفی الخلاصۃ انہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصی، وفی الخانیۃ لیس للوصی قضاء دینہ بمال الیتیم وللاب ان یقضی بہ وذکر شمس الائمۃ السرخسی عدم الجواز للاب ایضا۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
عمدہ میں ہے اگروصی نے نابالغ بچے کے مال سے قرض لیا تواس کاتاوان دے گا۔ اورامام محمدعلیہ الرحمہ کے نزدیک وصی باپ کی طرح تاوان نہیں دے گا۔ قضاء الجامع میں ہے باپ کا بطورقرض اپنے نابالغ بیٹے کامال لیناجائزہے۔ خلاصہ میں ہے کہ مبسوط کی کتاب الرہن میں مذکورہے بے شک باپ وصی کی طرح تاوان دے گا۔ اورخانیہ میں ہے کہ وصی کو یہ اختیار نہیں کہ یتیم کے مال سے اپنا قرض اداکرے اورباپ کوایسا کرنے کااختیار ہے۔ شمس الائمہ سرخسی نے باپ کے لئے بھی عدم جواز کوذکرکیاہے۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
(۱؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین     فصل فی القرض    اسلامی کتب خانہ کراچی۲/ ۷۵۔۱۷۴)
مسئلہ ۱۷۲ :   ازسہمونہ ڈاکخانہ شیش گڈھی ضلع بریلی     مسئولہ عنایت اﷲ صاحب ۱۶بیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ بیوہ لاولد نے کچھ روپیہ ایک شخص کے پاس جمع کیا اورکہاکہ اس روپیہ کوتجارت میں لگاؤ اوراس کامنافع نصف مجھ کودینااورنصف تم اپنے حق محنت میں لینا اوربعد میرے مرنے کے اس روپیہ میں سے میری تجہیزوتکفین کرنا باقی جوبچے وہ خیرخیرات فاتحہ وغیرہ میں صرف کردینا۔ اس کے دوبرس بعد اب مسماۃ ہندہ کاانتقال ہواچونکہ ورثہ میں اولاد توہے نہیں شوہر کاانتقال پہلے ہوچکاصرف ایک بھائی حقیقی متوفی کا اور دوبہنوں کی اولاد بھانجی بھانجے ہیں۔ اب گزارش یہ ہے کہ روپیہ جمع شدہ جوبعدگوروکفن باقی بچاہے وہ بموجب کہنے مسماۃ متوفی کے صَرف کیاجائے یا وہ روپیہ اورگھرکامال اسباب ورثاء موجودہ بھائی بھانجوں پرتقسیم کردیاجائے، اورتقسیم کیاجائے تو ہرایک کا کیاحصہ ہوگا؟
الجواب : کفن دفن بقدر سنت کے بعد جوبچااس کاتہائی خیرات کیاجائے اورزیادہ کی اجازت بھائی سے لی جائے اگرنہ دے یااجازت دینے کے قابل نہ ہومثلاً نابالغ ہوتودوتہائی بھائی کو دیاجائے بھانجی بھانجوں کاکچھ حق نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter