Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
131 - 135
مسئلہ ۱۶۴ :   مسئولہ شیخ محمدانعام الٰہی صاحب سوداگر لیمپ صدربازار میرٹھ ۵صفر۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ نے اپنی بیماری میں اپناجملہ زرنقد وزیورواسباب وغیرہ جوذاتی تھا اور بوقت شادی دیاگیاتھا وہ اورجوشوہر زیدکے یہاں سے شادی میں چڑھایاگیاتھا جس کو زیدنے دین مہرمیں نہیں دیا اورنہ ہبہ کیاوہ کل کا کل اپنے برادرحقیقی وغیرہ کو وصیت کرکے فوت ہوگئی، اب عندالشرع شوہر اپنے مال کا جوبطریق رسم ورواج کے چڑھایاگیاتھا جس کو اس نے ہبہ نہیں کیاتھا مالک ہے یانہیں؟ اور زوجہ کے مال میں سے شوہر کاحصہ ہے یانہیں؟ اورمسماۃ متوفیہ لاولد کی وصیت کل مال میں اپنے شوہرکے جاری ہوسکتی ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجرپائیے۔ت)
الجواب : چڑھاوے کاحکم اس قوم کی رسم ورواج پرموقوف ہے اگر ان میں عرف یہ ہے کہ عاریۃً چڑھاتے ہیں اور زوجہ کی ملک نہیں کرتے تو وہ چڑھاوے کی مالک نہیں اور اس میں اس کی وصیت باطل ہے مگریہ کہ شوہرنے صراحۃً تملیک کردی ہوکہ میں نے تجھے اس کامالک کردیایاتجھے ہبہ کردیا اوراگروہاں عرف یہ ہوکہ بطورتملیک ہی چڑھاتے ہیں توزوجہ بعد قبضہ مالک ہوگئی اوراس میں اسی کااختیارہے مگریہ کہ شوہرنے صراحۃً نفی تملیک کرکے چڑھایاہوکہ میں تجھے اس کامالک نہیں کرتا مِلک میری ہی رہے گا، لاولد زوجہ کے ترکہ میں شوہرکانصف ہے مگردَین ووصیت کے بعد وصیت تہائی مال میں بے اجازت ورثہ نافذ ہوگی مگرعورت کاباپ یادادا اس کے بعد رہا توبھائی کے حق میں وصیت جائزہے ورنہ بے اجازت ورثہ اصلاً جائزنہیں کہ وہ خود وارث ہے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ نافذنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۵:  مرسلہ مستجاب خاں صاحب از ریواڑی ضلع گوڑگانوں ۹صفر۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ زید حج کوجاتے وقت حاجی علی جان والوں کے پاس سے سات سوروپیہ کی ہنڈوی لکھوالے گا اوران کی بہی میں یہ الفاظ لکھواگیاکہ اگرمیں یہ روپیہ ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا تومسماۃ ثمرالنساء بیگم کوجومیری حقیقی بھاوج ہے برمکان مولوی محمدسعیدکوچہ پنڈت دہلی میں روپیہ مل جائے اورزبانی بھی مولوی محمدسعیدصاحب سے اوردوتین شخصوں سے کہہ گیاکہ میں نے فلاں صاحب کے یہاں سے سات سوروپے کی ہنڈوی لکھوالی ہے اوربہی میں مذکورہ بالابیان لکھوادیاہے اس کے بعد وہ جب حج کوگیاتواثنائے راہ میں زیدموت ہوگیاچونکہ متوفی کنوارا ولاولدتھا اورحقیقی بھتیجابھی نہیں چھوڑاتھا اس لئے زیدکے متروکہ مال کے اس کے چچازاد، بھتیجے عصبہ ہونے کی وجہ سے سرکاری سرٹیفکیٹ حاصل کرکے قابض ومالک ہوگئے، جائدادمتروکہ حسب ذیل ہے:
 (۱) مکان مالیتی تقریباً دوہزارروپیہ

(۲) دوہزارروپے نقدجوبنک میں جمع تھے۔

(۳) پانچسوروپے جو ڈاک خانہ میں جمع تھے۔

میزان کل چارہزارپانچ سوروپے۔

مبلغ سات سوروپے جوزیدکی بھاوج نے حاجی علی جان والوں کے یہاں سے بَہی کی تحریر کے مطابق وصول کئے تھے ان کابھی مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ہماراہی حق ہے اب سوال صرف یہ ہے کہ آیا عندالشرع وہ عصبات مذکورہ ان سات سوروپے کے مستحق ہیں یابہی کی تحریراورزبانی دوتین شہادتوں کے سبب مسماۃ مذکور ثمرالنساء بیگم اس کی مالک حقدارہے کیونکہ ہنڈوی کی رقم مذکورہ رقومات کی نسبت ایک تہائی سے کم ہے۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : زیدکاوہ لکھوانا کہنا نہ مرض الموت میں تھانہ اس میں اپنے بعدکاذکر ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا معنی موت میں متعین نہیں لہٰذا کسی طرح وصیت کی حد میں نہیں آسکتا فلاں کومل جائے ہبہ وودیعت دونوں کومحتمل اورودیعت اقل تووہی متعین، معہذا اوراگرہبہ صریح ہوتا جب بھی قبضہ ثمرالنساء بعد موت واہب ہواتوموت قبل قبضہ سے ہبہ باطل ہوگیا،
فی الدرالمختار من موانع الرجوع والمیم موت احدالعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل۔۱؎
درمختار موانع الرجوع میں ہے کہ میم سے مراد  واہب اورموہوب لہ میں سے ایک کی موت ہے سپردگی کےبعد، اوراگرسپردگی سے قبل موت واقع ہوئی توہبہ باطل ہوجائے گا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب الہبۃ    باب الرجوع فی الہبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۱)
بہرحال اس سات سومیں ثمرالنساء بیگم کاکوئی حق نہیں واجب ہے کہ ورثہ کوواپس دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۶ :    مسئولہ مادی حسین صاحب بریلی محلہ ذخیرہ ۱۴شعبان ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے بعزم حج بیت اﷲ شریف اپنی حقیت ملک کو فروخت کیا اوراپناسکونتی مکان زید (اپنے ہمشیرزادہ) کی لڑکیوں کے نام نصف نصف باضابطہ لکھ دیا اورقبل روانگی اپنی حقیت کی قیمت میں سے مبلغ پچاس روپیہ اس نیت سے کہ زیدمذکورکی کنواری دخترکے نکاح میں کام آئیں گے زوجہ عمرو کے پاس بطورامانت چھوڑے اوریہ کہاکہ میں آئی یانہ آئی یہ روپیہ زید کی کنواری لڑکی کے عقد کے صرف کاہے اس کی خبر زیدکونہ کرنا اگرکسی نوع سے اس روپیہ کی خبر اس کوہوبھی جائے تواس کوہرگزنہ دیاجائے وعلاوہ ازیں چھ عدد بالیاں طلائی زید مذکورکی بڑی دخترکے پاس ہندہ نے چھوڑیں جس کاعلم پورے طورپرنہیں کہ کس غرض سے چھوڑیں، آیا اس کوہبہ کردیں یاکیاکریں، کوئی کہتاہے کہ زید کی دونوں لڑکیوں کی ہیں، کوئی کہتاہے کہ ہندہ اپنی موت حیات اورفاتحہ درودکے واسطے چھوڑگئی ہے، زیدکی بڑی لڑکی کہتی ہے کہ مجھے دے ڈالی ہیں میں مالک ہوں، غرض اس کے بعد ہندہ ہمراہ زید مذکورمعہ اس کی کنواری دخترکے مکہ معظمہ زادھا اﷲ شرفاًوتعظیماً چلی گئی بعدحج مدینہ طیبہ جاکرہندہ نے قضا کی اورزیدمع اپنی کنواری دخترکےواپس وطن آیا ہندہ نے اپنی وفات کے بعد دو چچیرے بھائی چھوڑے جن میں سے ایک بھائی کاانتقال ہوگیا اوراس نے دوپسر اورایک دختر منکوحہ اپنے وارث چھوڑے، زیدمذکور کی دخترکاعقد اس کے نانادادی کے صرف سے ہوگیا کیونکہ عجلت کی وجہ سے زوجہ عمروسے ہندہ متوفی کے امانتی روپیہ کابروقت نکاح زیدکی لڑکی کے بندوبست نہ ہوسکا جواس دم کام آتا اب زوجہ عمروسے ہندہ متوفیہ کے روپیہ کی ہرطرف سے مانگ ہے زیدکہتاہے کہ ہندہ کاروپیہ مجھے دینااس معنی کرکہ ہندہ نے اس کوطفولیت سے پالا اورپرورش کیاہے اورزیدکی لڑکی مذکورہ کہتی ہے کہ مجھے ملناچاہئے اس لئے کہ میری شادی کے واسطے ہندہ چھوڑگئی تھی۔ اورہندہ کے چچیرے بھائی متوفی کے وارث کہتے ہیں کہ ہم ہندہ متوفیہ کے متروکہ پانے کے بذریعہ اپنے پدرمتوفی کے مستحق ہیں اگرہندہ متوفیہ کاروپیہ دیاجائے تو ہم کودیاجائے، صورت مسطورہ میں ہندہ متوفیہ کاروپیہ کس کوملناچاہئے اوربالیان مذکورہ بالاکاکیاکرناچاہئے؟فقط۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب: فقط نیت سے کچھ نہیں اوریہ الفاظ کہ میں آئی یانہ آئی یہ روپیہ زیدکی کنواری لڑکی کے عقد کے صرف کاہے یہ بھی حد وصیت میں نہیں آتے صرف اسی قصدونیت کااظہارکرتے ہیں بالیاں کہ وہ زیدکی بڑی لڑکی کے پاس چھوڑگئی صرف اس کے کہنے سے کہ مجھے دے ڈالی ہیں اس کی نہیں ہوسکتیں جب تک گواہان شرعی سے ثبوت نہ ہوگا لہٰذا وہ پچاس روپیہ اوربالیاں سب متروکہ ہندہ ہیں حسب شرائط فرائض اس کے چچازادبھائی موجود اوردوسرے بھائی کی اولاد وزوجہ کوہرایک کو بقدراس کے حصے کے دئیے جائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۷ :   مسئولہ حاجی محمدنوراﷲ     ازمحلہ قاضی ٹولہ بریلی ۲۴شوال ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ مرض الموت میں ابراء دین یاہبہ مال یازوجہ کو مرض الموت میں انتقال کے چندروز قبل معاف کردینامہرکادرست ونافذہے یانہیں؟ دیوبندی وتھانوی وغیرہم کہتے ہیں کہ اس کابھی نفاذثلث سے ہوگا۔ بینواتوجروا۔
الجواب : مرض الموت میں ابراء یاہبہ مال کاہو یادین کا، وصیت ہے۔ اوروصیت وارث کےلئے بے اجازت دیگرورثہ باطل ہے، اورشوہروارث ہے۔
درمختارباب اقرارالمریض میں ہے:
ابراؤہ (ای المریض) مدیونہ وھو مدیون غیرجائز ای لایجوز ان کان اجنبیا وان وارثا فلایجوز مطلقا سواء کان المریض مدیونا اولا۔۱؎
مریض کااپنے مقروض کوقرض سے بری کرنا جبکہ خودمریض مقروض ہو، ناجائزہے یعنی اگرمقروض اجنبی ہو اوراگروہ مقروض اس مریض کاوارث ہوتومطلقاً ناجائزہے چاہے مریض مقروض ہویانہ ہو۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب الاقرار    باب اقرار المریض     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۱۳۶)
ہاں اگرشوہر وقت موت زن وارث نہ رہے مثلاً عورت کوطلاق دے دی پھروہ مرگئی تواب یہ ابراء وہبہ ثلث سے نافذہوگا وارث ہونے نہ ہونے میں وقت موت مورث کااعتبارہے۔
درمختارکتاب الوصایامیں ہے:
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ علی عکس اقرار المریض للوارث۔۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم
کسی کے وارث یاغیروارث ہونے کااعتبارمورث کی موت کے وقت ہوگا نہ کہ وصیت کے وقت۔ یہ حکم وارث کے لئے مریض کے اقرار کے برعکس ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۱۸)
Flag Counter