| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
مسئلہ ۱۶۱ : ازشہربریلی مرسلہ اہلیہ کلاں حکیم اکرام الدین صاحب مرحوم معرفت عبداﷲ ملازم محلہ کٹرہ بروزشنبہ بتاریخ ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ حضرت مولوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی بعدسلام مسنون کے یہ عرض ہے کہ جناب والا سے مجھے ایک سوال کاجواب حاصل کرنامقصود ہے یہ کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو کسی ضرورت کے پوراکرنے کوبطریق قرض کچھ زیوردیااوریہ کہاکہ یہ زیوررہن کرکے اپناکام انجام دے لوبعد کو واگزاشت کراکے دے دیناکچھ عرصہ کے بعد یعنی واگزاشت زیور سے قبل دائن یعنی مالک زیور کاانتقال ہوگیا مدیون کوایک ثالث شخص کی زبانی یہ دریافت ہواہے کہ دائن قبل انتقال کے یہ وصیت کی ہےکہ اگرمیراانتقال ہوجائے توزیورواگزاشت کرنے کے بعد یہ زیورمجھ دائن کے بیٹے کونہ دیاجائے بلکہ میرے پوتے کودیاجائے۔ اطلاعاً یہ بھی عرض ہے کہ دائن کی وصیت بیان کرنے والے ایک معمولی شخص ہیں کچھ مقدس یا ابراربرگزیدہ شخص نہیں پھربھی ممکن ہے کہ دائن نے بعالم بدحواسی وہ وصیت کردی ہو مریض کے مرض کی شدت میں یامرنے سے کچھ وقت پہلے حواس درست نہیں رہتے ہیں اکثراوقات ایساہوتاہے، یہ بھی اطلاع کرنے کی ضرورت ہے کہ دائن کاپسرجو ہے وہ شراب خوارنہیں ہے قماربازنہیں ہے کسی طرح کی بدچلنی یاآوارگی کی بھی بالکل شہرت نہیں ہے بجائے اس کے بہت غریب اورتنگدست آدمی ہے، مرحوم کاپوتاجو ہے وہ بعمرپانزادہ سالہ ہے اورسعادت مندنیک چلن نہیں ہے اس کی آوارگی سے یہ ضروراندیشہ ہے کہ اگریہ زیور دائن کے پوتے کودیاجائے گا توضرور ضائع کردے گا، زیورقیمتی کم وبیش پانچسوروپے کا ہے، اس ہفتہ میں زیورواگزاشت ہوگیاہے اب یہ زیور دائن کے پسرکودیناچاہئے یاکہ پوتے کو؟ جواب مناسب مع دستخط ومہرمرحمت فرمایاجائے، فقط۔
الجواب : جس نے زیور عاریت لیاتھا اسے چاہئے مالک زیور کے سب وارثوں کو جمع کرکے ان کے سپردکردے، اوراگرصرف ایک بیٹاہی اس کا وارث ہے تو اسی کو دے دے وہ وصیت اس شخص سے تعلق نہیں رکھتی، نہ یہ اسے بطورخود نافذکرنے کاکچھ اختیاررکھتاہے خصوصاً اس حالت میں کہ وہ ابھی پایہ ثبوت کوبھی نہیں پہنچی، ایک شخص اور وہ بھی ثقہ نہیں، وہ وصیت اگرمالک نے واقع میں کی ہے تو جسے کی ہے توایساکرناوہ وصی ہوااس کے ذمہ اس کی فکرہے ورثہ اگر صرف اس بیان پر وصیت تسلیم کرلیں اورسب عاقل بالغ ہوں ثلث مال میں نافذکریں اوراگرنہ مانیں تو اسے گواہان شرعی سے ثبوت دیناہوگا بے ثبوت نافذنہ کی جائے گی یہ وصیت اگرخودہی عاریۃً لینے والے کوکی ہے تو اس کے لئے یہی حکم ہے۔وھوتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۲ : ازضلع نینی تال موضع درؤ اشفاق حسین خاں روزشنبہ بتاریخ ۲۶رجب ۱۳۳۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ مورث عثمان خان مرحوم نے ایک رقم بخیال مصرف خیر ایک عزیزامین صاحب کے امانت رکھ دی تھی جس کو بارہ برس گزرگئے ہنوزآدھی رقم موجودہے اسی زمانہ میں عثمان خاں مرحوم کے مرنے کے بعد ہی ایک لڑکے اوردوبیٹی مرنے سے کام خراب ہوگیااب ایک نورچشم اندھی اوردوپوتی اورایک بہوزندہ موجودہیں پردہ نشین اندھی لاوارث بیٹی وبہوخواہش ظاہرکرتی ہیں کہ ہمارے باپ کی خیراتی رقم امانت شدہ سے ہمارے اورہمارے دوسرے بچوں نابالغ کے خیرات میں ہے مزورمش( عہ) معلوم ہوجائے تودوسروں کی خیرات اوردردرکی امداد سے بچیں، اب امین صاحب چراغ سحری صدسالہ نے بوجہ پیری وپیرانہ سالی اپنے جملہ کاراپنے سعادت مندبرخوردار کے تفویض فرماکر امیدکرلی ہے کہ مثل امین صاحب کے نیک کاموں مصرف خیرکی رقم ضروریات تعمیرمسجدوں وبیاہ شادیوں میں محتاجوں کوحسب ضرورت آئندہ تقسیم کردی جائے گی لہذا اس رقم مصارف خیر سے مورث اعلٰی کی بیٹی پردہ نشین اپنی اوراپنی بھتیجیوں کی تعلیم وخوردنوش کےواسطے بمدخیرات خیرات مانگتی ہیں امین صاحب اس معاملہ رقم مصرف خیر کوعلماء کی رائے پرچھوڑتے ہیں پس بمقابلہ امانت دائمی ورفتہ رفتہ مستحسن طریقہ پرخرچ وصرف ہونے کے برخلاف ان بچوں کے ترتیب وتعلیم قرآن حقیقی اندھی لاوارث بیٹی نمازی پردہ نشین کی صرف طعام وبیوہ بہوباعصمت کی خورش وصرف بطریقہ خیرات میں رقم خرچ وواپس دے دینے سے امین صاحب مخدوم مواخذہ گیرخداورسول کے نہیں ہوسکتے ہیں، بیّنواتوجروا۔
عہ: اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ الجواب : عثمان خاں نے اگروہ رقم امین صاحب کے پاس خیرات کرنے کے لئے امانت رکھی اوراس کے ساتھ کوئی لفظ وصیت کانہ تھا کہ بعد میرے جومال بچے وہ بھی یونہی خیرات ہویاہواکرے جب توعثمان خاں کے مرتے ہی وہ مدباطل ہوگئی اورباقیماندہ جس قدررقم تھی وارثان عثمان خاں کی مِلک ہوگئی اب امین کوجائزنہیں کہ کوئی پیسہ بے ان کی اجازت صحیحہ کے خیرات کرے اورلازم ہے کہ باقی تمام رقم وارثان عثمان کوواپس دے اوراگرالفاظ وصیت تھے توان لفظوں کی تفصیل اور یہ کہ باقیماندہ رقم املاک عثماں خاں بعدادائے دَین کے قدرثلث سے زائدہے یانہیں، زائد ہے توکس قدر، اوربعدعثمان خاں امین نے اس میں سے کچھ خرچ کیایانہیں، کیاتوکس قدر، اور باجازت یابلااجازت، ان سب باتوں کی تفصیل اوریہ بھی کہ عثمان خاں پر کوئی دَین تھایانہیں، اور تھاتوکس قدر۔ ان سب باتوں کی تفصیل معلوم ہونے پر جواب دیاجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۳ : ازنینی تال موضع وڈاکخانہ کچہا یک شنبہ ۲۶رجب ۱۳۳۶ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اٹھارہ سوروپیہ عمرکے پاس جمع کرکے اپنے حقیقی بھتیجے اورحقیقی داماد سے کہاکہ جس وقت دوہزارروپیہ ہوجائیں گے تو اس وقت رقم مذکورہ سے کوئی جائداد خریدکرکے وقف کردوں گا، اس پربرادرزادہ نے بخیال دوراندیشی سے کہاکہ اس رقم موجودہ سے آج ہی کسی مدرسہ اسلامیہ کی امدادفرمائیے تاکہ آپ کے روبرو یہ رقم خرچ ہوجائے، تب زیدنے جواب دیاکہ رقم ہنوزپوری نہیں ہے، پھرزیدنے بیٹے سے کہاکہ چھوٹا لڑکا میراجو اس وقت خواندگی میں ہے بشرط نیک چلنی وسعادتمندی کے رقم مذکورکواس کے سپردکردوں گاتاکہ بعد موت میری کے فی سبیل اﷲ آمدنی اس روپیہ کی خرچ کرتارہے اوراصل روپیہ قائم رکھے درصورت بدچلنی کے جائدادخریدکرکے خانہ کعبہ کے نام کردوں گا۔ ہنوزمشرط مختلف خیالات اورتنہا کی ہوئی وصیت اورتعداد رقم دوہزارروپے پورے نہ کرسکے تھے کہ زیدصاحب کاانتقال ہوگیا اورتعدادی انیس سوپچیس روپے کی رقم کارِخیر کے سوادوسرے جائدا ملک توسوروپے کے خریدشدہ ذاتی اورمتروکہ خوشدامن زیدوسالی لاولد وزوجہ منکوحہ خودقیمتی صدسوروپیہ کے مالک بن کراپنی حیات میں ثبات عقل کے ساتھ مبلغ پندرہ سوروپیہ کے کل جائداد ملک سہ برخورداران بالغ ونابالغ کے نام بسبب بخل وبیم حق رسی مردونورچشمان شادی شدہ کے تحریررجسٹری کرادی تحریرشدہ جائداد اوررجسٹری کے ڈھائی تین اندازاً زیادہ سے زیادہ چارسال کے بعد سب سے بڑالڑکا میرااس کے شرعی حصہ سے جومتروکہ تھا پھر دوبارہ ہمشیریں کوجبریہ محروم رکھاگیا، اب زید کی حقیقی بیٹی نابینانمازی عمرپچپن سالہ اورسالی کا لڑکا عمرپینتالیس برس اورلڑکی سالی کی عمرپچاس برس بحلف نائب رسول اﷲ کے سامنے شہادت دینے کوتیارہیں اوربیان کرتے ہیں کہ چشم دیدگفتگو وزوجہ ہندہ زمانہ علالت ونیزعلالت سے قبل بصورت رضامندی وبصورت مناقشہ ماں باپ زندہ ومُردہ عورت یگانہ وغیرہ وعزیز سے روبرومیرے یامیرے باپ کے سامے یاہمارے یاہمارے خالوپھوپا کے بالمشافہ لینے زیدکے روبرو ہمیشہ ہمیشہ یہ دریافت ہوتارہے کہ رقم عدم معافی قرض دی مہرکے جوتعدادی پانچہزاروپیہ پچاس اشرفی محمدشاہی بتلاتے ہیں دوسراقرضہ زرنقد کسی دوسرے شخص کازیدپرنہ تھا جن کے بالعوض زیدنے اپنی زندگی میں بامیددائمی چراغ روشن خیالی سے انفیاط حقوق نورچشمان کرکے صرف مردفرزندوں کوکل اپنی جائداد ملک معافی پرمثل ذات خودمالک اصلی بنادیاتھا اورخودسرپرست اورولی بن کرآمدنی ملک فرزندان اپنے قبضہ میں اورآمدنی پیشہ ملازمت سے مبلغ دوہزارروپے کی رقم پوری نہ کرسکتے تھے کہ فوت ہوگئے حضورکے فتوی کے جواب میں پرسش دین کے جواب میں حلفاً دریافت حال کرکے واقعات اصلی لکھے گئے لیکن زیدصاحب نے اپنی زندگی یابیماری میں کوئی خاص مجمع جمع کرکے یاکسی بالغ بیٹابیٹی کے مشورہ سے یادیگرشہادت معتبرورثاء یاعزیز ورثاء کی موجودگی میں حالات مذکورہ وتذکرہ وصیت میں اپنی اصلی اصل رائے ظاہرمصرف خیرنہیں کی ہاں صرف عمرصاحب سے زیدنے چندمزید روپے کے جمع کرنے کے ہنگامہ(عہ) تذکرہ کردیاتھا کہ اس مال جمع کوکارخیر میں خرچ کردینا عمرصاحب نے اس زیدکے قول کوبطور وصیت تصورکرکے دوثلث روپیہ وارثان زیدکو اورایک ثلث روپیہ سے کچھ روپے حصہ بلااجازت وارثان مذکوردوایک کام میں مثل جدید مسجدبنانے میں اورسیدصاحب کی لڑکی کے مصارف جہیزمیں اورچاہ بنانے میں خرچ کردیا، اب یہ فعل عمرصاحب کاجائزہے یانہیں، اوروصیت اس قسم کی درست ہے یانہیں، بقیہ روپیہ ثلث کابعد عرصہ بارہ برس کے بھی یعنی نیک کاموں میں خرچ کرنے سے بچاہوا اب قریب قریب تین سوپچیس روپیہ کے عمرصاحب کے پاس موجودہے اس روپے کوپانے کے واسطے مورث اعلٰی زیدکی بیٹی اندھی اوردوپوتے بعمرایک سال وہفت سالہ ہیں مصرف خیرسے اپنے رفع محتاجی کے واسطے خیرات مانگتی ہے محتاجی وپریشانی کے سبب موجودہ عدالت کے خرچ وصرف جدابجائے جھگڑا عدالت سے وامیں۔ منجملہ اصلی رقم ثلث مبلغ چھ سوپچاس کے اب تین سوپچیس باقی ہیں۔ حقدارزیدکی نورچشمی نابینا، زیدکے فرزند خالد کی بیوہ، اولادحقیقی تین بچے ہفت سالہ وایک سالہ دوسرابچہ، دوسرازیدکافرزند بکرلاوارث مرازوجہ سے دین شرعی وصول کیا۔ صرف اتنے ہی حقدار موجودہیں، اس زمانہ میں جبکہ زیدکاروپیہ تقسیم ورثاء پرہوناچاہئے تھاتوصرف کے فرزند خالدوبکرونورچشمی زندہ تھے۔ روپیہ ثلث بھی محض مصروفیت(عہ۱) زبانی پر تقسیم ہوکر باقی رہا اب وہ پارسال جملہ فوت ہوگئے۔
عہ: اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ عہ۱: اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ الجواب: یہ سوال متعددبار آیا اورہربار مختلف اورخود اس بارکہ سب سے مشورہ سے لکھاجانا بیان کیا اس ایک ہی پرچہ میں اختلاف ہے۔ اوپرلفظ یہ ہیں کہ خرچ کردوں گا اورآخرمیں کہ خرچ کرنا سائل نے وقت استفسار بیان کیاکہ یہ صرف عمرو مدعی وصیت کابیان ہے اور وہ بھی اتناہی بیان کرتا ہے کہ یہ کہاتھا کہ خرچ کردینا، اس سے زائد لفظ اضافت معتبرہ فی الایصال(عہ) نہ تھا صورت واقع اگریہ ہے تووہ وصیت نہ ہوئی وہ تمام وکمال روپیہ بعدمرگ زیدوارثان زیدکی ملک ہواان میں سے جس عاقل بالغ نے عمروکے ان تصرفات کواپنی طرف سے جائزرکھا ہوفبہا اوراگرعمرو کے بیان سے دھوکہ کھاکروصیت سمجھ کراجازت دی ہوتو وہ اجازت بھی معتبرہ نہیں کہ غلط گمان کی بناء پر ہے ولاعبرۃ بالظن البین خطأہ۱؎(جس کی خطا ظاہرہو اس میں ظن کااعتبارنہیں۔ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السابعۃ عشرہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۳)
عہ۲: کذا فی الاصل ولعل الصواب فی الایصاء۔ازہری غفرلہ
اورجوعاقل وبالغ نہ تھا اس کی اجازت توکسی طرح معتبرنہیں، صرف اس پہلی صورت کے سوا یعنی جس عاقل بالغ نے نہ بربنائے وصیت بلکہ ازطرف خود اجازت دی ہو اس کے حصہ کے سوا باقی تمام ورثاء کے حصص اس روپے سے کہ عمرونے مساجد وغیرہ میں صَرف کیا ان کاتاوان دینا عمروپر فرض ہے اوربقیہ جوتین سوپچیس رہ گیاہے لازم ہے کہ وارثان کو دے ورنہ حق العباد میں گرفتاررہے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم