Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
129 - 135
مسئلہ ۱۵۹: ازشہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمراحمدسوداگر پارچہ بنارسی ۴ربیع الاول ۱۳۳۴ھ

ہندہ کے نہ ماں باپ بھائی بہن نہ اورکوئی رشتہ دارہے جوسوائے زیدکے وارث ہو، ہندہ کے پاس ذاتی اس کااسباب پندرہ بیس روپیہ کاتھا اوردوتین سوروپیہ کااسباب زیدکادیاہواہے جوزیدکے پاس ہے، زید سے ہندہ نے اپنے مال کی بابت کچھ نہ کہا، زیدنے ہندہ سے کہاکہ تم منت مانوکہ اچھے ہونے پرمیں کنواں بنواؤں گی اگرتم مرجاؤگی تومیں کنواں اورمرمت مسجد کرادوں گا تمہارے مال میں سے ایک حبّہ نہ لُوں گا میں جودے چکاوہ تمہاراہے میں وہ ان شاء اﷲ خیرات کردوں گا بلکہ اپنے پاس سے اورجومجھ کومیسرہوگا لگادوں گا، ہندہ نے اورشخصوں سے کہاکاش میں مرجاؤں تومیراکل مال بیچ کر مسجدیاکنواں بنادیناکہ مجھ کوہمیشہ ثواب ملتارہے، زید سے اس وجہ سے نہ کہا کہ زیدخود کہاکرتاتھا کہ میں تمہارا مال خیرات کردوں گا، پس اس صورت میں زید وہ مال بیچ کر کنواں اوریامرمت مسجدکراسکتا ہے یانہیں کیونکہ سوائے زید کے اس کاکوئی وارث نہیں ہے، کنواں بنوادینے کازیادہ ثواب ہے یامرمت مسجدکا؟ مردہ کوکس سے زیادہ ثواب ملے گا؟ اور کس سے اُسے زیادہ نفع ہوگا؟ کیاحکم شریعت ہے؟
الجواب: جومال ہندہ کا تھا وہ توتھا ہی جو زیدنے بنواکردیااس کی بھی ہندہ مالک ہوگئی، بعد وفات ہندہ اس کے نصف کازیدوراثۃً مالک ہوا، اگر اس کی وصیت کوقائم رکھتاہے اوریہی  اسے چاہئے کہ وہ وعدہ کرچکاہے وعدہ خلافی نہ چاہئے جب تووہ کل مال حسب وصیت صرف کردے ورنہ نصف صرف کرناضرورہوگا مسجد کی اصل عمارت اگراپنی بقا کےلئے محتاج مرمت ہے تو وہ ہی کنویں سے افضل ہے اوراگرمرمت گچکاری اورسفیدی سے مرادہے توکنواں اس سے افضل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ :   ازکاٹھیاواڑ دھوراجی محلہ سپاہی گران مرسلہ حاجی عیسٰی خان محمدصاحب ۲۹ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ

یہ وصیت نامہ قابل عمل ہے یانہیں؟ اگرقابل عمل نہیں ہے تویہ لوگ جن کوفیصلہ کرنے کے واسطے کرگیاہے کیاکرناچاہئے اگراس وصیت نامہ پرعمل نہ کرادیں تومقدمہ کورٹ کوجائے گا اگرحقدار کمی بیشی پرباہم راضی ہوجائیں تو عمل کرایاجائے موصی کومرے ہوئے چھ سات برس کاعرصہ ہوگیا اس درمیان میں خوردونوش اورایک لڑکی کی شادی اسی مال سے ہوئی۔ اس کی کیاصورت ہے اور وہ لڑکی بالغہ ہے شریعت کے مطابق تقسیم پرحصہ زوجہ کوکم ملتاہے اور وصیت کے مطابق ٹھیک ملتا ہے وہ وصیت پرراضی ہے اس صورت میں اس کوزیادہ دے کر باقی حصہ سب شریعت کے مطابق ہوں تو بہ جائزہے جن کوموصی وصیت کرگیا اورحکم مقررکرگیا ہے عدم جواز کی صورت میں ان کوکیاکرناچاہئے، کنارہ کشی یاحکم کرنا؟ علاتی بھائی کے مال سے حصہ ترکہ مثل حقیقی کے ہے یاکم وبیش؟
الجواب: ملاحظہ وصیت نامہ سے ظاہرکہ حاجی محمدنورمحمدصاحب نے اپنی زوجہ آئی حور اوردودختر آمنہ و حلیمہ اوربرادرزادے چھوڑکر انتقال کیااوراپنے مال میں ایک طویل وصیت کی جس کاخلاصہ یہ ہے کہ چارچارہزارچارچارسوروپے دونوں دختروں کودئیے جائیں فرزندعائشہ کے نام جو رقم کمپنی میں جمع ہے اس کی لڑکی حلیمہ کو دی جائے میری جائداد منقولہ وغیرمنقولہ زوجہ کودی جائے جب اس کاانتقال ہوجائے اس کے بعد ہزارہزارروپے لڑکیوں کواوردئیے جائیں اوربقیہ ملکیت بھتیجوں پربرابرتقسیم کردی جائے اور میری روح کو ثواب پہنچانے کی غرض سے ہزارروپیہ مدرسہ کو دیاجائے بعد انتقال زوجہ یہ تین ہزاروضع کرکے باقی کل بھتیجوں کو دینے کے لئے مختاروں کو حکم کرتاہوں چھ شخصوں بلکہ سات یعنی زوجہ کو بھی اپناوصی کیاکہ لکھاکہ مختاروں یعنی اوصیائے مذکورین کوآئی حور کی زندگی میں اس کی صلاح کے موافق عمل کرنا چاہئے نیزلکھامیری زوجہ کے مشورہ سے 

صرف کریں۔

اب یہاں تین قسم کی وصیتیں ہیں:
اوّل: حلیمہ بنت عائشہ کے نام اس کا حکم یہ ہے کہ عائشہ حاجی محمد کی بیٹی کہ اس کے سامنے انتقال کرگئی جیساکہ عبارت وصیت نامہ سے مفہوم ہوتا ہے جورقم کمپنی میں اس کے نام سے جمع ہے اگر وہ رقم عائشہ کی ذاتی تھی جب تو بعد وفات عائشہ حاجی محمداس میں سے صرف اپنے حصہ پدری کامالک ہوا اگر عائشہ نے وارث یہی دختر حلیمہ اورباپ چھوڑے تو بعد عائشہ نصف رقم حاجی محمد کی ہوئی اور اگرعائشہ کے اوروارث بھی رہے مثل شوہروغیرہ توحساب فرائض سے جوحصہ حاجی محمدکانکلے بہرحال یہ وصیت کہ حاجی محمد نے حلیمہ بنت عائشہ کے لئے کی وہ صرف اس حصہ پر نافذہوگی جو اس روپے میں حاجی محمدکاہوا اوراگروہ رقم عائشہ کی ذاتی نہ تھی بلکہ حاجی محمدنے اپنے مال سے اس کے نام جمع کی تھی تو اس میں دوصورتیں ہیں اس وقت اگرعائشہ نابالغہ تھی توکل رقم عائشہ کی ہوگئی،
فان الجمع باسمہا تملیک ھذا عرفا وھبۃ الاب للصغیر تتم بمجرد الایجاب۔
بیشک اس کے نام سے جمع کرنا عرف کے اعتبارسے تملیک ہے، اورنابالغ کے لئے اس کے باپ کاہبہ فقط ایجاب سے تام ہوجاتاہے۔(ت)

یونہی اگربالغہ تھی اورجمع کرنے سے پہلے حاجی محمد نے عائشہ کو وہ رقم دے کر قبضہ کراکر اس کے بعد جمع کی جب بھی کل رقم عائشہ کی ہوئی ان صورتوں کابھی وہی حکم ہوگاجوعائشہ کے ذاتی مال ہونے میں تھا اوراگرعائشہ اس وقت بالغہ تھی اوراسے بے قبضہ دلائے یہ رقم اس کے نام جمع کردی اورتاوفات عائشہ باذن پدر اس کے قبضہ میں نہ آئی توہبہ باطل ہوگیا،
لان موت احدالعاقدین قبل التسلیم یبطلھا کما فی الدر۱؎
وغیرہ۔ کیونکہ سپردگی سے پہلے عاقدین میں سے کسی ایک کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے، جیساکہ دروغیرہ میں ہے(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب الہبۃ        باب الرجوع فی الہبۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۱۶۱)
اس صورت میں وہ کل رقم ملک حاجی محمد ہے اور وہ سب حلیمہ بنت عائشہ کے لئے وصیت ہے۔

دوم: ہزارروپے مدرسہ کے لئے، یہ وصیت اگرچہ اس نے انتقال زوجہ کے بعد رکھی مگروصیت قابل اضافت بزمانہ آئندہ ہے
لانہا لاتکون الامضافۃ لما بعدالموت
 (کیونکہ وصیت نہیں ہوتی مگر اس حال میں کہ وہ موت کے بعد کی طرف منسوب ہو۔ت)
درمختارمیں ہے:
ماتصح اضافتہ الی الزمان المستقبل الایصاء والوصیۃ۔۱؎
جس کی نسبت آئندہ زمانے کی طرف صحیح ہوتی ہے وہ ایصاء ووصیت ہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار        کتاب البیوع    باب المتفرقات    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۵۴)
تو اس کانفاذبعد انتقال زوجہ ہی ہوگا۔ یہ دونوں وصیتیں یعنی جورقم بنام عائشہ جمع ہے کل یا اس میں سے جوحصہ حاجی محمدہو اورہزارروپے مدرسہ کے یہ مجموع اگرحاجی محمدکے ثلث مال سے زائدنہیں تمام وکمال بے اجازت ورثہ نافذہوں گے ورنہ تاحدثلث، اوراگر ان کامجموعہ ثلث مال سے بھی بڑھتاہوتوثلث مال حاجی محمد، ان دونوں وصیتوں پرحصہ رسدتقسیم ہوگا۔

سوم: باقی وصیتیں دونوں دختروں اورزوجہ کے نام ابتداءً اوربعد موت زوجہ دونوں دختروں اوربھتیجوں کے لئے، یہ سب وصیتیں وارث کے لئے ہیں اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ اصلاً مقبول نہیں۔
کما فی الکتب قاطبۃ وفی الحدیث ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ۲؎ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔۳؎
جیساکہ تمام کتابوں میں ہے۔ حدیث میں ہے کہ بیشک اﷲ تعالٰی نے ہرحقدار کو اس کا حق عطافرمادیا، خبردار وارث کے حق میں وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤ    کتاب الوصایا۲/ ۴۰    وجامع الترمذی    ابواب الوصایا    ۲/ ۳۳)

(سنن ابن ماجہ         ابواب الوصایاص۱۹۹    وسنن النسائی         کتاب الوصایا ۲/ ۱۲۹)

(۳؎ سنن الدارقطنی    کتاب الفرائض    حدیث ۴۰۸۱        دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۳۳۷)
پس اگرورثہ اس وصیت پرراضی نہ ہوں توثلث متروکہ میں حلیمہ بنت عائشہ اورمدرسہ کی وصیتیں حسب تفصیل بالانافذکرکے جومقدارحلیمہ بنت عائشہ کے لئے وصیت ٹھہرے اسے دے دیں اورجوحصہ مدرسہ کاثابت ہو یعنی مجموع ہردووصیت مدرسہ وحلیمہ بنت عائشہ ثلث مال سے زائد نہ ہونے کی حالت میں پورے ہزارروپے ورنہ بحساب حصہ رسد جتنا روپیہ مدرسہ کاٹھہرے اس کے لئے محفوظ رکھیں کہ اس کانفاذ بعد انتقال زوجہ ہوگا بقیہ جائداد منقولہ وغیرمنقولہ سب حسب فرائض تقسیم کردیں، یوں کہ اس میں آٹھواں حصہ زوجہ کا اوردوثلث آمنہ وحلیمہ بنت موصی کے باقی بھتیجوں کا۔ اگراس پرناراضی ہوتو مختاروں کوخلاف حکم شرع کرنےکاکوئی اختیارنہیں۔ مقدمہ کورٹ کوجائے خواہ کچھ ہو، بحال عدم اجازت دیگرورثہ مختاروں کویہ بھی جائزنہیں کہ زوجہ کو اس کے حق شرعی سے زیادہ دیاتو باقیوں پر مطابق شرعی تقسیم کریں بلکہ جب ایک وارث کو اس کے حق شرعی سے زائد دے کرباقی حصے مطابق شرعی تقسیم کب ہوئی کہ شریعت سے ان کازائد تھا اوردیاکم۔ مختاران مذکورین وصی ہیں حَکم نہیں نہ بے رضائے فریقین کوئی حکم بن سکتاہے اگرچہ موصی اسے حکم بناتاکہ موصی کونزاع ورثہ فیصل کرنے کے لئے کسی کوحکم بنانے کااختیارنہیں۔
اذ لیس لہ علیھم ولایۃ الحکم لاسیما بعد الموت فکیف یولی علیھم غیرہ للحکم۔
کیونکہ موصی کوخود ان پرحَکم کی ولایت حاصل نہیں خصوصاً موت کے بعد، تو وہ کسی دوسرے کو ان پرحکم کاولی کیسے بناسکتاہے۔(ت)

لہٰذا اگر ورثہ راضی نہ ہوں مختاروں کو کنارہ کشی لازم ہے اپنی طرف سے کچھ حکم نہیں کرسکتے ہاں ورثہ سب عاقل بالغ ہوں اورآپس میں جیسی کمی بیشی پرچاہیں راضی ہوجائیں تو وہ اس کااختیار رکھتے ہیں اس کے مطابق عمل کرایاجائے لان الحق لھم ولاحجر علیھم من الشرع(کیونکہ حق ان کاہے اوران پرشرع کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ت)
Flag Counter