Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
128 - 135
جواب استفتائے چیف کورٹ بہاولپور
 (ا) اجنبی کے نام وصیت ثلث متروکہ بعداداء دین تک مطلقاً نافذہے اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں اورزائدعلی الثلث میں بے اجازت ورثہ نافذ نہیں اگروارث احدالزوجین کے سواہو اوراگرصرف احدالزوجین وارث ہوتو ثلث تک وصیت اجنبی تقدیماً نافذہوگی پھرباقی کاربع یانصف زوجہ یازوج کودے کر مابقی میں بقیہ وصیت اجنبی نافذکریں گے اگرچہ زوجہ یازوج اجازت نہ دے، رہی وصیت وارث وہ بے اجازت ورثہ مطلقاً نافذنہیں اوراگرتنہا وہی وارث ہوتواس کے لئے وصیت صحیح ہے، پھراگراس کے ساتھ کسی اجنبی کے لئے وصیت بھی نہیں تووارث اگرغیرزوج وزوجہ ہے توکل مال بحکم میراث لے لے گا اسے وصیت کی حاجت نہیں، اور اگرزوج یازوجہ ہے توپہلے اپنافرض لے کرباقی میں اس کی وصیت عمل کرے گی اب بھی کچھ بچاتو اسی کوبحکم ردملے گا۔ اوراگرکسی اجنبی کے لئے بھی وصیت ہے تواگراس نے وصیت وارث کو قبول کرلیا حق تقدم کہ وصیت اجنبی کوملتاساقط ہوگیا ورنہ اجنبی کی وصیت ثلث مال تک اول نافذکرکے باقی سے وارث کومیراث دیں گے اگروہ وارث غیراحدالزوجین ہے کل باقی ارثاً لے لے گا اورخود اس کے لئے جووصیت تھی نفاذکامحل نہ پائے گی، اوراگراحدالزوجین ہے تو اس باقی سے اس کا فرض ربع یانصف دے کراس کے بعد جوبچے اس میں اس کی وصیت اوراگراجنبی کی وصیت ہنوزناتمام رہی تھی تو اس کے ساتھ بھی دونوں حسب حصص نافذ ہوں گے ان سے کچھ نہ بچاتوظاہرورنہ جوباقی رہا احدالزوجین کوبحکم رددے دیں گے۔
 (ب) اس کاجواب سوال اول میں آگیا۔

(ج) اس کے بھی فقرہ اول کاجواب ہوگیا، اوردوم کاجواب کہ بعدادائے دین جس قدربھی باقی بچے خواہ اس کی وصیت اجنبی کے لئے کی یانہ کی اس سب کاثلث نفاذوصیت اجنبی میں لحاظ کیاجائے گا وصیت نافذ انہیں اشیاء میں ہوگی جن کی وصیت اس کے لئے کی ہے ان کے ماوراء  اور کسی شیئ سے کچھ نہ پائے گا ہاں وصیت حصہ شائعہ مثل ربع مال وغیرہ کی ہے توجملہ متروکہ بعدادائے دَین میں بقدر وصیت حصہ دارہوگا۔

(د) وصیت اجنبی بمازادعلی الثلث ردعلی الزوجین پرشرعاً باجماع ائمہ حنفیہ مقدم ہے اقوال اقتباس شدہ میں جوخلل وزلل ہیں اوپرواضح ہوچکے۔

(ہ) اس کامفصل جواب شافی ووافی افادہ ثانیہ عشرہ میں گزرا اورنصوص صریح سے ثابت کردیا کہ متاخرین کے نزدیک بھی ردعلی الزوجین کامرتبہ وصیت زائدہ سے دودرجے مؤخرہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
جواب استفتائے ججی خانپور

(۱) ہاں یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اوراس سے جواز وصیت پرکوئی اثرخلاف نہیں پڑتا۔

(۲) اگرثابت ہوکہ مدعیہ بعد وفات شوہروصیت شاہ محمد کوقبول کرچکی تھی جیساکہ شاہ محمدکادعوی ہے توبے اعتراض مدعیہ محض نامسموع اورشاہ محمد کے لئے وصیت اپنی اخیر حد تک جائزونافذ ورنہ اعتراض کااتنااثرہوگا کہ ثلث کل مال بعداداء الدین کی حد تک صرف مکانات واثاث البیت میں وصیت شاہ محمد نافذکرکے باقی کل مال مکان واسباب وغیرہ سب کاربع زوجہ کودیں گے پھرصرف باقی مکانات واثاث البیت شاہ محمد کوبحکم وصیت ملیں گے باقی جوکچھ بچا سب زوجہ کاہوگا وصیۃً خواہ ردّاً۔

(۳) ان زیوروں سے مدعاعلیہ کوکسی حال کوئی ذرہ نہیں مل سکتا وہ تمام وکمال عالم خاتون کے ہیں انہیں چھوڑکر باقی تمام مال کے لحاظ سے جواب نمبر۲ کاحکم جاری کریں گے مگرمکانات واثاث البیت کے سواکوئی اور زیورمتروکہ بھی شاہ محمد کے پاس ہے جیساکہ دعوی زوجہ ہے تو اس میں سے شاہ محمد کوحصہ نہ دیں گے اس کاحصہ صرف مکانات واثاث البیت میں ہوگا۔

(۴) اخراجات تجہیزوتکفین کابارترکہ خواہ عالم خاتون کے حصے پرہونے کایہاں کچھ ثبوت نہیں بلکہ صورت روداد سے ظاہرکہ وہ صرف ایک تبرع تھا کہ شاہ محمدنے اپنے محسن کے ساتھ اس کی درخواست پرکیا۔

(۵) ہاں وہ وصیت شرعاً جائزومؤثرہے اوراسے ایک حصہ مکان بحکم جواب نمبردوم وراثۃً ملنا اس کے نفاذ کاکچھ مانع نہیں۔ پس اگرمدعیہ اعتراض سے پہلے وصیت مدعاعلیہ کوقبول کرچکی تھی توجملہ مکانات واثاث البیت کامالک شاہ محمدخاں ہے اوردوثلث مکانات میں حق وآسائش عالم خاتون کوتاوقتیکہ وہ نکاح ثانی نہ کرے اوراگرمدعیہ نے اس کی وصیت کونہ ماناتھا توثلث کل مال کے حد تک مکانات واثاث البیت کاحصہ شاہ محمدکو ایک ربع عالم خاتون کو ملے گا ان دونوں حصص کے بعد جوحصہ مکانات بچا اس میں وقت مذکورتک عالم خاتون کوحق سکونت بحکم وصیت ہوگا۔
 (۶) ہاں ظروف میں بھی وصیت استعمال زوجہ کے لئے جائزہوئی اگرچہ بروئے جواب نمبر۲ کچھ حصہ ظروف کی وہ مالک مستقل ہوجائے اورحق متوفی میں رہنے کی شرط اس وصیت میں نہ تھی یہ وصیت تاحیات زوجہ نافذرہے گی اگرچہ وہ نکاح ثانی کرلے اوراس کانفاذ اسی طورپر ہوگا کہ بحال قبول وصیت دوثلث کل ظروف ورنہ بعداخراج وصیت تاحدثلث مال واخراج حصہ ربع باقی میں نافذہوگی اوربہرحال خاص موقع محفل امامین شہیدین کہ جس قدرظروف کہ شاہ محمدکوضرورت ہواتنے اس وقت خا ص میں اس وصیت زوجہ سے مستثنٰی ہوں گے۔

(۷) جوحصہ مال میں جس کاہے اس کے عین سے ا س کودیاجائے گا قیمت لینادینا صرف رضامندی ہردوفریق پرمنحصرہے اس میں حاکم کوکسی چیزکااختیارنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
حکم اخیر

(۱) (سماعہ عہ) کہ وہ زیورتمام وکمال عالم خاتون کے ہیں شاہ محمدخاں کااس میں کچھ حق نہیں اور ازانجاکہ وہ  ان میں ملک عالم خاتون تسلیم کرکے عالم خاتون کوتسلیم کرچکا اب وہ نفاذ وصیت شاہ محمد خاں کے لئے ثلث مال میں محسوب بھی نہ ہوں گے۔

(۲) وہی زیور حسب اقرار زوجہ مہرزوجہ میں ہیں اس سے زائد کسی تفتیش کی حاکم کوحاجت نہ بلادعوی قضاکی اجازت۔

(۳) خرچ تجہیزوتکفین شاہ محمدخاں نے تبرعاً کیالہٰذا ترکہ اس بار سے بھی بری ہوا اب نہ رہی مگر عالم خاتون کے میراث اورمکانات اثاث البیت میں مدعی ومدعاعلیہ دونوں کی وصیت مدعیہ کا دعوی کہ شاہ محمد کے پاس ترکہ کے اورزیوربھی ہیں شاہ محمد کادعوی کہ مدعیہ بعدوفات شوہراس کی وصیت کوقبول کرچکی ہے، اب چارصورتیں ہیں:

اوّل: دونوں دعوے ثابت ہوں مثلاً شاہ محمد نے اورزیوروں کااقرارکرلیا یاعالم خاتون نے اسے گواہوں سے ثابت کردیا یاشاہ محمدپرقسم رکھی اوروہ قسم کھانے سے انکارکرگیا یونہی عالم خاتون نے قبول وصیت بعد وفات شوہرکااقرار کرلیایاشاہ محمد نے اسے گواہوں سے ثابت کردیایا عالم خاتون پرقسم رکھی اور وہ قسم کھانے سے انکارکرگئی۔

دوم: دونوں بے ثبوت رہیں۔

سوم: عالم خاتون کادعوی ثابت ہو اورشاہ محمدخاں کاپایہ ثبوت کونہ پہنچے۔

چہارم: اس کاعکس۔
صورت اولٰی میں جملہ مکانات واثاث البیت کامالک شاہ محمدخاں ہے اوران کے دوثلث سے انتفاع کاحق عالم خاتون کوہے مکانات سے تانکاح ثانی اوراثاث البیت سے مطلقاً اگرچہ نکاح ثانی کرلے صرف ظروف بقدرضرورت محفل امامین رضی اﷲ تعالٰی عنہما اس وقت خاص میں مستثنٰی ہیں بہرحال اثاث البیت سے کوئی چیز مطلقاً جب تک عالم خاتون زندہ ہے اوردوثلث مکانات سے جب تک وہ نکاح نہیں کرتی شاہ محمدخاں بیچ نہیں سکتا، رہا وہ دوسرازیور کہ شاہ محمدکے پاس ہے اس کی تنہا مالک عالم خاتون ہے ربع فرضاً باقی رداً۔

صورت ثانیہ میں مکانات واثاث البیت کاایک سدس عالم خاتون کا پانچ سدس شاہ محمدخاں کے ہیں اورنصف مکانات واثاث البیت سے حسب تفصیل مذکور صورت اولٰی عالم خاتون کوحق انتفاع ہے اوراسی تفصیل سے اس نصف کے بیع کا شاہ محمدخاں کواختیارنہیں۔

صورت ثالثہ میں مکانات واثاث البیت اوروہ زیور دوم سب کی قیمت لگاکر اس کے ثلث کے حد تک شاہ محمدکو مکانات واثاث البیت سے دیاجائے باقی مکانات واثاث البیت اورکل زیور دوم ان سب کاربع عالم خاتون وراثۃً پائے اس کے بعد مکانات واثاث البیت میں حصہ رہا اس کے رقبہ کامالک شاہ محمدخاں اوربتفصیل سابق اس کی منفعت کی مالک عالم خاتون اورتین ربع باقیماندہ زیوردوم عالم خاتون کوبحکم رد۔

صورت رابعہ کاحکم مثل صورت اولٰی ہے سوائے حکم زیوردوم کہ وہ اس صورت میں موجودنہیں۔

تنبیہ: ظاہرمرادیہ کہ متوفی کے ذمہ اورکوئی دَین نہیں اس بناپریہ تمام تفاصیل ہیں اوراگر اوربھی دَین ہوتواب یہ تحقیق بھی لازم ہوگی کہ وہ پہلے زیور کہ (سماعہ عہ) کابتایاگیا عالم خاتون کے  مقدارحصہ سے زائدہے یانہیں اس تقدیرپر تقسیم میں بہت تبدیل راہ پائے گا اگریہ صورت ظاہرہوتواس دَین کی تعداد اورمہرمثل کی مقدار اس کے متعلق تمام امورکی تحقیق کے بعد صورت موجودہ بتاکر سوال کرناچاہئے۔
وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمدواٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین وبارک وسلم اٰمین والحمدﷲ ربّ العٰلمین۔

توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔ اوراﷲ تعالٰی ہمارے سردارومالک محمدمصطفی اورآپ کے تمام آل واصحاب پردرود، سلام اور برکت نازل فرمائے، آمین۔ اورتمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں جوتمام جہانوں کاپروردگارہے۔(ت)
Flag Counter