(۷۵تا۷۸) موصٰی لہ بالزائد کامرتبہ ہرغیروارث سے مقدم ہے اورزوجین ماورائے ربع ونصف میں وارث نہیں کما فی الفائدۃ الرابعۃ عشر (جیساکہ چودھویں فائدہ میں ہے۔ت) ان چاروں نے عکس کیا۔
(۷۹تا۸۲) چاروں نے تصریحات کتب معتمدہ کاصریح خلاف کیا کما فی الفوائد الثلثۃ الاخیرۃ(جیساکہ آخری تین فوائدمیں ہے۔ت)
(۸۳تا۸۶) چاروں نے ردعلی الزوجین کوسب وارثوں سے مؤخر اورموصی لہ بالزائد پرمقدم کیا کما فی الفائدۃ السابعۃ عشر (جیساکہ سترہویں فائدہ میں ہے۔ت) یہ ترتیب نوساختہ متقدمین متاخرین تمام عالم میں کسی کے مسلک پرمنطبق نہیں۔
(۸۷تا۸۹) فتوٰی ۱ نے اسی ترتیب ایجادی کاحوالہ درمختار اورردالمحتار وغیرہ پررکھا، عبارت فائدہ۱۷ میں گزری اورتوضیح مراد عنقریب آتی ہے یہ ان تینوں پرافتراء ہے اس ترتیب کا نشان نہ درمختارمیں ہے نہ ردالمحتار میں نہ وغیرہ میں۔
(۹۰تا۹۲) فتوی۱ کاقول مذکوربعدادائے حصہ وصیت جس قدربچے سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ درمختار وردالمحتار وغیرہ میں صاف لکھاہے۔ اقول: حصہ وصیت سے مراد وصیت بالغۃً مابلغت ہے یاصرف ثلث مال تک، اول عین مراد اورخود اپنے فتوی کا راد ہے واقعی ثلث یانصف یاا س سے بھی زائد جتنی وصیت موصٰی لہ کی ہے وہ ثلث تک ترجیحاً نافذ ہوگی پھرزوجہ اپنا فرض پائے گی پھرباقی وصیت تمام وکمال نافذکریں گے اس کے بعد بھی اگرکچھ بچے اورکوئی مستحق نہ ہو تو یہ باقیماندہ زوجہ پررَد کریں گے یہاں کہ شاہ محمد کے لئے وصیت قدرثلث سے بہت زائد تھی صرف مقدار ثلث پر محدود کرکے دوتہائی زوجہ کو دلادینا باطل محض ہوا اوربرتقدیر ثانی اگر مراد وہ صورت ہے کہ وصیت ہی ثلث سے زائد نہ ہوجب بھی صحیح اورخود اپنے فتوٰی کاردنجیح ہے واقعی تہائی سے زیادہ وصیت ہی نہ کی ہوتوجتنی وصیت ہے موصی لہ کو، پھراحدالزوجین کاحصہ مقررہ اس کودے کرباقی کاجب کوئی مستحق نہیں احدالزوجین پررد کردیں گے مگریہاں تو وصیت ثلث سے زائدتھی وہ زوجہ پرکیونکر ردہوئی، اوراگرمرادعام ہے کہ اگرچہ وصیت ثلث سے زائد یاجمیع مال کی ہوصرف ثلث وصیت دیں گے باقی سب زوجہ کوپہنچائیں گے ربع فرضاً وباقی رداً اوربے شک یہی مراد مفتی ہے تویہ قطعاً باطل محض اوردرمختار وردالمحتار اوروغیرہ تینوں پرافتراہے کسی کتاب معتمدمیں ہرگزصاف نہیں لکھاکہ وصیت زائد علی الثلث اور زوجہ ہوتووصیت صرف ثلث تک نافذکرکے باقی سب زوجہ کو دیں گے۔
(۹۳تا۱۰۱) فتوی۳ وفتوی۶ وفتوی۸ ہرایک نے تین عبارتیں نقل کیں جوصریح اس کا رَد تھیں اورنادانستہ انہیں اپنی سندبنایا
کما فی الفائدۃ الثانیۃ عشر
(جیساکہ بارہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۲، ۱۰۳) فتوی۶، ۸ نے ردعلی الزوجین کومرتبہ رد مان کر رد کی چارصورت مجمع علیہا سے جن میں خلاف کی بواصلاً کسی کتاب متقدم یامتأخر میں نہیں دوصورتیں صاف کردیں
کما فی الفائدۃ الخامسۃ عشر
(جیساکہ پندرھویں فائدہ میں ہے۔ت) فتوی۸ میں تو اس کی تصریح ہے اورفتوی۶ نے قیاس علی العول پربڑا زوردیا، اوراس سے مرتبہ رَد میں رکھنا صاف لازم
کما فی الفائدۃ الثالثۃ والعشرین
(جیساکہ تئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۴، ۱۰۵) فتوی۶، ۸ پرلازم کہ زوج وزوجہ کے ساتھ تمام ذوی الارحام کوہمیشہ محروم کریں اوریہ اجماع حنفیہ کے خلاف ہے کما فی الفائدۃ السادسۃ عشر(جیساکہ سولہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۶، ۱۰۷) بااینہمہ فتوی۶، ۸ کاماننا کہ متوفی کے اقارب سے کوئی بھی موجودہوتو زوجین پررد نہ کریں گے صریح تناقض ہے کما فی الفائدۃ السابعۃ عشر(جیساکہ سترہویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۸) فتوی۶ کابرخلاف مذہب وبرخلاف عامہ صحابہ کرام روایت منسوبہ امیرالمومنین ذی النورین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے استناد مخدوش ہے کما فی الفائدۃ الحادیۃ والعشرین (جیساکہ اکیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۰۹، ۱۱۰) فتوی۶ کابرخلاف مذہب قیاس علی العول پراعتماد محض مردود، ائمہ مذہب کے روشن جوابوں سے آنکھیں بند کرکے خودحکم مذہب کوبے وجہ اوراس پرعمل کو روایت ودرایت دونوں کے برخلاف کہناسخت ودریدہ دہنی وجسارت مطرود۔ کما فی الفائدۃ الثانیۃ والعشرین (جیساکہ بائیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۱) فتوی۶ کاقول کہ اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہوتو بچاہوا ترکہ احدالزوجین کودیں گے یہی قول حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول ہے امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ پرافتراء کی حد کو پہنچاہے امیرالمومنین سے اس قید کے ساتھ ہرگز یہ کہیں منقول نہیں۔ کما فی الفائدۃ الحادیۃ والعشرین(جیساکہ اکیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۲) فتوی۸ کاقول کہ درمختار سے معلوم ہوتاہے کہ اس میں ردعلی الفروض النسبیہ کی دلیل میں بھی فسادبیت المال ہی کوپیش کیا ہے محض نافہمی ہے۔ کما فی الفائدۃ التاسعۃ عشر(جیساکہ انیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۳) فتوی۸ کازعم مذکور کہ ذوالفروض النسبیہ پرردکی علت ہمارے مذہب میں بھی فسادبیت المال ہے محض باطل وخیال محال ہے کما فی الفائدۃ العشرین والثالثۃ والعشرین(جیساکہ بیسویں اورتئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۴، ۱۱۵) فتوی۸کاقول کہ درمختارکی عبارت سے صاف معلوم ہوتاہے کہ متاخرین رَدہی کے درجہ میں رَد علی الزوجین کے قائل ہیں جہل بعیدبھی ہے اورظلم شدیدبھی۔ کما فی الفائدۃ الرابعۃ والعشرین(جیساکہ چوبیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۱۶) فتوی۸ کاقول مجھے کسی ایسی روایت کاعلم نہیں جس سے یہ ثابت ہوکہ موصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہو تو ردعلی الزوجین ہوگا ورنہ نہیں اورمیرے خیال میں یہ کسی کامذہب نہیں اپنی سخت ناواقفی کااظہار اورکمال نادانی کااقرارہے جو اس کے خیال میں کسی کامذہب نہیں قطعاً وہی مسلک متاخرین ہے اورجواس کے خیال میں مختارمتأخرین ہے قطعاً کسی حنفی کامسلک نہیں کما ظھروزھر اظھروازھر من الشمس والقمر(جیساکہ ظاہروروشن ہوااورسورج وچاندسے بڑھ کر ظاہراورروشن ہواہے۔ت)
(۱۱۷تا۱۲۱) فتوی۴ نے جو پانچ عبارات درمختار وردالمحتار پیش کیں سب بے محل وناکافی تھیں کما فی الفائدۃ السادسۃ والعشرین(جیساکہ چھبیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۲۲) فتوی۴ کی عبارت اخیرہ سے استنباط ہرگزنہیں کمافیھا۔
(۱۲۳) فتوی۴ کاقول سیدناامیرالمومنین ذی النورین کی حدیث اوران سے بیان وجہ ردعلی الزوجین کااگرچہ درمختار میں اس کاماعلیہ اورشامی میں جواب مبین ہے تاہم قطع النظر ان دونوں امروں کے ہم کوبالراس والعین منظورہے مگر رد علی الزوجین کاموقع ملحوظ نہ کرنا اورموصی لہ بجمیع المال سے مقدم رکھنا خلاف عقل ونقل ہے جب اسے مذہب امیرالمومنین مان لیا اوراسے اورعول پرقیاس کوبالراس والعین منظورکرلیا تواب ردعلی الزوجین آپ ہی مرتبہ رد میں آگیا اوراسے مان کراسے موصٰی لہ بالزائد سے مؤخرٹھہرانا ہی خلاف عقل ونقل ہے کما فی الفائدۃ الثالثۃ والعشرین(جیساکہ تئیسویں فائدہ میں ہے۔ت)
(۱۲۴) فتوی۴ کاقول ہمارے فقہاء نے ردعلی الزوجین کی علت مراراً یہ بیان فرمائی ہے لفساد بیت المال وہ قول اورقیاس عول تسلیم کرکے اس کے جواب میں یہ تعلیل پیش کرناخلط مبحث وجمع بین الضدین ہے کمافیھا۔
تنبیہ: اگرچہ فتوی۴ نے بھی جا بجاموصی لہ بجمیع المال سے بحث کی اوراسی کانام لیا جس سے ظاہر کہ شاہ محمدکاموصی لہ بالجمیع ہونا اسے بھی مسلم حالانکہ اس کاثبوت نہیں کما تقدم (جیسے کہ پیچھے گزرا۔ت) مگرازانجاکہ فتوی۴ مقدمہ دائرہ کابیان احکام نہیں کرتا وہ صرف ایک بحث تقدیم وتاخیر ردعلی الزوجین پرتقریرہے جس پر شاہ محمد کے موصی لہ بجمیع یا بالزائد دون الکل ہونے سے کچھ اثرنہیں پڑتا اورممکن کہ وہ اس نے مشائعۃً للخصوم لکھاہو لہٰذا یہ اس کے اغلاط میں معدودنہ ہوا۔
الحمدﷲ تحقیق اپنے ذروہ علیا کوپہنچی اورتمام مسائل متعلقہ کاانکشاف منتہٰی کو۔ اب بتوفیقہ تعالٰی جواب سوالات کی طرف توجہ کریں اورصرف بیان حکم پرقناعت اکثرحکم کی دلیل وسند افادات میں واضح ہوچکی،وﷲ الحمد۔