Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
126 - 135
فائدہ۲۴: اقول: درمختار میں اول اپنے ائمہ کامذہب بیان فرمایاکہ زوجین پرردنہیں پھر یہ کہ امیرالمومنین سے رَدمنقول ہوا، پھر یہ کہ امیرالمومنین سے اس کے ثبوت میں کلام ہے، پھر یہ کہ فساد بیت المال کے باعث ہمارے زمانہ میں ان پررَد کردیں گے، اس سے صاف معلوم ہواکہ ہمارے علماء ردعلی ذوی الفروض النسبیہ کے درجہ میں اوران کے ساتھ ردعلی الزوجین کے ہرگزقائل نہیں کہ وہ درجہ استحقاق کاہے اوریہ درجہ اس مال کاہے کہ ضائع وبلامستحق ہو کما علمت ماقدمنا (جیساکہ توجان چکاہے اس بیان سے جس کوہم پہلے ذکرکرچکے۔ت) مستحق ونامستحق کوایک درجہ میں ٹھہرادینا کیساباطل فاحش ہے نیزعبارت درمختار سے صاف معلوم ہواکہ ہمارے علماء ردعلی الزوجین کوسب میں اخیر مرتبے یعنی بیت المال منتظم سے بھی پیچھے رکھتے ہیں کہ بحال فساد انہیں دیتے ہیں، روشن ہواکہ فساد نہ ہوتوانہیں نہ دیاجائے گا بلکہ بیت المال ہی میں رکھاجائے گا عبارت درمختارمیں یہ دوقاہردلیلیں نہ ہوتیں جب بھی ہمارے علماء کااجماع ہے کہ القران فی الذکر لایستلزم القران فی الحکم (ذکرمیں اقتران کوحکم میں اقتران لازم نہیں۔ت) تمام کتب میں اسے تعلیلات فاسدہ سے ٹھہرایا ہے نہ کہ ان روشن براہین کے ہوتے ہوئے یہاں ذکر کرنے سے یہ گمان فاسدلیجانا کہ علماء ردعلی الزوجین کو ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ہی کے درجے میں اور اسی کے ساتھ مانتے ہیں ورنہ یہاں بیان نہ آتا یہ اوّلاً سخت جہل شدید ہے کہ ادنٰی طالبعلم سے بھی بعیدہے۔ ثانیاً اب معنی عبارت درمختاریہ ہوں گے کہ ازانجاکہ بیت المال فاسد ہوگیا لہٰذا علماء نے ردعلی الزوجین اصلی مرتبہ رَدمیں رکھ دیااورذوی الارحام ومن تحتہم سب پرمقدم کردیا یعنی فاسد توہوگا بیت المال اورمارے جائیں گے ذوی الارحام ومولی الموالاۃ ومقرلہ وموصٰی لہ بالجمیع سب کے سب، گناہ ہوگا ایک سے اورپکڑے جائیں گے پانچ، یہ کون سی شریعت ہے، بفضلہ تعالٰی درمختارتوایسے جنون سے منزّہ ہے زیادہ کیاگزارش ہو۔
فائدہ ۲۵: اقول: بفضلہ تعالٰی یہ مسئلہ ہم نے ایسے طورسے بیان کیاجس میں کسی عاقل کو اصلاً جائے ریب نہ رہے ایسے دلائل قاہرہ کے بعد زیادہ ترتصریح کی حاجت نہیں ہوتی اوراگراب بھی ہوس باقی ہو تو حاشیہ درمختار میں سیدعلامہ طحطاوی کاقول ادنٰی ذی فہم کوکافی ووافی۔
فرماتے ہیں :
الذخیرۃ ان الفاضل من سھام الزوجین لایوضع فی بیت المال بل یدفع الیھما لانھما اقرب الی المیت من جہۃ السبب من غیرھما وکذا الابن والبنت من الرضاع انتھی روح الشروح وفی حاشیۃ المولٰی عجم زادہ عن الخانیۃ ذکرالامام عبدالواحد الشھید فی فرائضہ ان الفاضل عن سہام الزوج والزوجۃ لایوضع فی بیت المال بل یدفع الیھما لانھما اقرب الناس الی المیت من جھۃ السبب فکان الدفع الیھما اولٰی من غیرھما انتھی وقولہ لایوضع فی بیت المال کقول الذخیرۃ السابق یدل علی ان الدفع الیھما متعین لا ان الدافع مخیربین الدفع الیھما والی بیت المال کما توھمہ اٰخرا لعبارۃ بل ربما یکون المراد انھما اولی من نحو الجیران لما جری بینھما من الزوجیۃ۱؎۔(ملخصا)
ذخیرہ میں ہے زوجین کے فرضی حصوں سے بچ جانے والا مال بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا بلکہ زوجین کودے دیاجائے گا کیونہ وہ بنسبت غیرکے، سبب کی جہت سے میت کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہیں۔ یہی حکم رضاعی بیٹے اور رضاعی بیٹی کا ہے انتہی روح الشروح۔ مولٰی عجم زادہ کے حاشیہ میں خانیہ سے منقول ہے، امام عبدالواحد شہیدنے اپنے فرائض میں ذکرکیاکہ خاوند اوربیوی کے فرضی حصوں سے بچاہوامال بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا بلکہ ان ہی کو دے دیاجائے گاکیونکہ وہ سبب کی جہت سے میت کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہیں بنسبت غیرکے، لہٰذا ان کودینا غیرکودینے سے اولٰی ہے انتہی۔ امام عبدالواحد کاقول مثل ذخیرہ کے قول کے کہ ''بیت المال میں نہیں رکھاجائے گا'' اس بات کی دلیل ہے کہ زوجین کودینامتعین ہے۔ ایسانہیں کہ انہیں دینے یابیت المال میں رکھنے کااختیارہے جیساکہ عبارت کے آخرسے وہم ہوتاہے بلکہ بسااوقات مراد یہ ہوتی ہے کہ زوجین پڑوسیوں کی بنسبت اولٰی ہیں کیونکہ ان میں زوجیت کاتعلق جاری ہواہے۔(ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الفرائض    المکتبۃ العربیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۷۲)
زوجین کودینا اوروں کودینے سے اولٰی بتانے سے جویہ احتمال پیداہواکہ اگرزوجین کونہ دیں اوربیت المال فاسد میں دے دیں جب بھی جائزہو اگرچہ خلاف اولٰی ہوکہ ان کودیناصرف اولٰی ہی تھا اس کے رفع کو اسی عبارت امام عبدالواحد شہید کاسباق اورنص ذخیرہ پیش کیاکہ نہیں بلکہ انہیں کودیاجائے بیت المال فاسد میں رکھنے کی اجازت نہیں اب اولویت کے لئے مفضل علیہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوئی توہمسائے بتائے اوّلاً اگرزوجین پررد، مرتبہ رد میں ہوتا تو خاص مراتب مستحقین میں چارموجودتھے خصوصاً ذوی الارحام، توانہیں سے اولویت کیوں نہ بتائی جاتی خارج المراتب سے ہمسایوں کولانے کے لئے کیامعنی تھے۔ ثانیاً زوجین کے ہوتے ہوئے ہمسایوں کودینے کااگرجواز نہ ہوتاتو تفضیل اولویت کو بیت المال سے پھیرکر ہمسایوں پررکھنا ہوتاکہ یہاں بھی وہی ایہام رہاتو واجب کہ زوجین کے ہوتے جائزہوکہ ان پرردنہ کریں اورہمسایوں کودے دیں اگرچہ زوجین پر رَداولٰی ہے اوربداہۃً معلوم کہ ہمسائے میراث میں مستحق نہیں تواگرزوجین مستحق رد ہوتے جیران کودینا حلال نہ ہوتا لیکن حلال ہے توزوجین مستحق رَد نہیں اورموصی لہ قطعاً مستحق ہے اورمستحق کی نامستحق پرتقدیم بدیہی۔
فائدہ۲۶: اس سے بھی سیری نہ ہو تومستصفی پھرمعراج الدرایہ پھرعلامہ شامی کاارشاد:
الفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدم المستحق لعدم بیت المال اذ الظلمۃ لایصرفونہ الی مصرفہ۔۱؎
آج کے زمانہ میں فتوٰی اس پرہے کہ زوجین پرردکیاجائے گاکیونکہ بیت المال کے نہ ہونے کی وجہ سے مستحق معدوم ہے اس لئے کہ ظالم حکمران بیت المال کو اس کے مصرف پر خرچ نہیں کرتے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الفرائض    باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۵۰۲)
صریح جزئیہ ہے زوجین پر رد اس وقت بتاتے ہیں جب کوئی مستحق نہ ہو اورشک نہیں کہ موصی لہ بالزائد مستحقین سے ہے اگراس میں بھی شک ہوتو یہی علامہ شامی موصی لہ بالزائد کی نسبت فرماتے ہیں :
ان المراد انہ یاخذ الزائد بطریق الاستحقاق۱؎۔
مرادیہ ہے کہ وہ بطور استحقاق زائدمال کو لے گا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الفرائض    باب العول        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۸۸ )
توصاف روشن ہواکہ موصی لہ بالزائد کے ہوتے ردعلی الزوجین نہ ہوگا۔ فتوی۴ نے کہ یہ عبارت درمختار:
ثم مولی الموالاۃ ولہ الباقی بعد فرض احدالزوجین۔۲؎
پھرمولی الموالاۃ اوروہ زوجین کے فرضی حصے سے بچ جانے والامال لے گا۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار        کتاب الفرائض    باب العول       مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۵۳ )
اوریہ عبارات شامی پیش کیں کہ ذوی الارحام کوفرمایا:
یاخذون کل المال اومابقی عن احد الزوجین لعدم الرد علیھما۔۳؎
وہ کل مال لیں گے یازوجین کے فرضی حصوں سے بچ جانے والامال لیں گے کیونکہ ان پرردنہیں ہوتا۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار           کتاب الفرائض    باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/  ۴۸۷)
مولی الموالاۃ کوفرمایا:
ان وجداحد الزوجین فلہ الباقی عن فرضہ۔۴؎
اگرزوجین میں سے کوئی ایک موجودہوتو اس کے فرض حصہ سے جوباقی بچاوہ مولی الموالاۃ کوملے گا۔(ت)
 (۴؎ردالمحتار           کتاب الفرائض    باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۷ )
مقرلہ کو فرمایا:
اذا کان احد الزوجین فیعطی مافضل بعد فرضہ۔۵؎
اگرزوجین میں سے کوئی ایک موجودہے تواس کو فرضی حصہ دے کرجوبچ گیا وہ مقرلہ کودیاجائے گا۔(ت)
 (۵؎ردالمحتار           کتاب الفرائض    باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۷ )
یہ البتہ کافی نہ تھیں اورمخالف کوان پرصریح گنجائش تھی کہ یہ قول ائمہ متقدمین پرہے جوزوجین پررَدنہیں مانتے الاتری الی قولہ لعدم الرد علیھما (کیاتو اس کے قول کونہیں دیکھتا کہ زوجین پررَدنہیں۔ت)
اسی طرح مقرلہ کی نسبت یہ ارشاد علامہ شامی پیش کیا :
یکون ھذا الاقرار وصیۃ معنی۔۱؎
یہ اقرارمعنی کے اعتبارسے وصیت ہوگا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الفرائض        داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۸)
اوراس سے استنباط کیاکہ وصیت بالزائد ردعلی الزوجین پرمقدم ہے اس کابھی اوّلاً وہی جواب تھا، واقول: ثانیاً یہ اقراراگرچہ قضاءً معنی وصیت میں ہوا اس لئے کہ اس کانسب ثابت نہ ہو اورنہ درجہ نسب میں جاکر مزاحم ورثہ ہوتا کما فی الدرالمختار(جیساکہ درمختار میں ہے۔ت) مگروصیت اجنبی محض سے ضرور اقوی ہے کہ دیانۃً احتمال صدق مقر رکھتا ہے ولہٰذا اسے ایک نوع قرابت گنتے ہیں۔
سیدعلی السراجیہ ومجمع الانہرودرمختار وفتح المعین وغیرہا میں ہے:
وانما اخر ذٰلک عن المقر لہ بناء علی ان لہ نوع قرابۃ بخلاف الموصی لہ۔۲؎
تہائی سے زائدمال کے موصی لہ کومقرلہ سے مؤخر اس لئے کیاکہ مقرلہ کوایک قسم کی قرابت حاصل ہے بخلاف موصی لہ کے۔(ت)
 (۲؎ الشریفیۃ شرح السراجیۃ        مقدمۃ الکتاب    مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہورص۱۱)
لاجرم وباجماع حنفیہ موصی لہ بالزائد سے اقوی اوراس پرمرجح وبالاہے توردعلی الزوجین پراس کی تقدم تقدیم وصیت بالزائد کومستلزم نہیں لیکن کلام مذکور مستصفی کسی طرح اس تاویل کو قبول نہیں کرتا کہ یہ مذہب متقدمین کے موافق ہے یہاں توخاص مسلک متاخرین ہی بیان فرمارہے ہیں توقطعاً واضح ہواکہ متاخرین اگرچہ ردعلی الزوجین کے قائل ہوئے مگرجبکہ موصی لہ بالزائد بھی نہ ہو ورنہ عدم ردعلی الزوجین پرحنفیہ کرام کااجماع ہے اسانید پیش کردئیے فتوی۴ میں صرف ایک یہی سند مستصفی مصفی ومستصفی ہے۔
فائدہ۲۷: اقول: اگراس سے بھی تسکین نہ ہوتو حاشیہ درمختار میں علامہ سیدطحطاوی کا ارشاد لیجئے، عبارت مذکورہ درمختار
یردعلیھم اجماعا لفساد بیت المال۳؎
 (بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے بالاجماع ان پررَد کیاجائے گا۔ت) پرفرماتے ہیں :
محل ھذا التعلیل القول بالرد علی الزوجین وبنات المعتق وارحامہ فانہ اذا لم یکن من مراتب المستحقین الابیت المال فان ھٰؤلاء یقدمون علیہ لہذہ العلۃ۔۱؎
اس تعلیل کامحل زوجین، معتق کی بیٹیوں اوراس کے ذوی الارحام پرردکاقول ہے کیونکہ جب مستحقین کے مراتب میں سے کوئی نہ رہا سوائے بیت المال کے تویہ مذکورہ لوگ بیت المال پرمقدم ہوں گے۔(ت)
 (۳؎ الدرالمختار        کتاب الفرائض    باب العول    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۶۱)

(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الفرائض باب العول     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۹۴)
کیسی صریح تصریح ہے کہ اصحاب فرائض بلکہ تجہیزوتکفین سے بیت المال تک جتنے مراتب بیان کئے گئے ان میں سے بیت المال کے سوا کوئی مرتبہ موجودنہ ہوتو اس وقت متاخرین کے نزدیک زوجین پررَد کرتے ہیں موصی لہ بالزائد کابھی ان مراتب میں ہونا ایسی بات نہیں جس میں کوئی آنکھوں والاشبہہ کرسکے، توصاف روشن ہواکہ موصٰی لہ بالزائد بھی اگرنہ ہوگا توسب سے اخیردرجے زوجین پررد کریں گے، اب اتناباقی رہ گیاکہ کتاب میں صاف نام لے کر لکھاہوتا کہ شاہ محمد کی وصیت زائدہ عالم خاتون پر رَد سے مقدم ہے ایساجزئیہ البتہ نہیں مل سکتا نسأل اﷲ السلامۃ(ہم اﷲ تعالٰی سے سلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)
Flag Counter