Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
125 - 135
کیاامیرالمومنین مولٰی علٰی وسیدنا عبداﷲ بن مسعود وعامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے عہد کرامت عہد میں بھی بیت المال فاسد تھا۔

ثالثاً احادیث صحاح وحسان سے گزرا کہ خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اصحاب فرائض پررَد فرمایا معاذاﷲ کیازمانہ اقدس میں بھی انتظام بیت المال نہ تھا ایسے مسئلہ جلیلہ کوکہ عہدرسالت وزمانہ صحابہ سے ثابت ومستمرہے آخرزمانہ کے فساد پرمبنی کرناکس درجہ نادانی، اوردانستہ ہوتوکیسی سخت بے ادبی ہے۔ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
فائدہ۲۱: امیرالمومنین عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے رَد علی الزوجین ثابت نہیں وقائع عین موردہرگونہ احتمال ہوتے ہیں شوہر جبکہ چچاکابیٹا اورتنہاوارث ہوکل مال پائے گا نصف فرضاً نصف عصوبۃً اسے رَد سے کیاعلاقہ۔ 

درمختارمیں ہے:
قال عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ یرد علیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت وجزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی۔۳؎
حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا زوجین پر بھی رَد کیاجائے گا۔ مصنف وغیرہ نے ایساہی کہاہے۔ میں کہتاہوں اختیارمیں اس پرجزم کیاہے کہ یہ راوی کاوہم ہے۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار         کتاب الفرائض    باب العول         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۶۱)
رحیق المختوم میں ہے:
بل الذی صح عنہ الرد علی الزوج فقط وتاویلہ ان کان ابن عم فاعطاہ الباقی بالعصوبۃ۔۱؎
بلکہ ان سے جومرتبہ صحت کوپہنچاہے وہ فقط خاوند پرردہے جس کی تاویل یہ ہے کہ وہ خاونداپنی بیوی کاچچازادتھا، چنانچہ آپ نے باقی اس کو بطورعصبہ عطافرمایا۔(ت)
(۱؎ الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم(رسائل ابن عابدین) باب الرد    سہیل اکیڈمی لاہور    ۲/ ۲۳۰)
بلکہ امام ابراہیم نخعی سے منقول کہ صحابہ کرام میں کوئی بھی ردعلی الزوجین کاقائل نہ تھا طحطاوی میں عجم زادہ علی الشریفیہ سے ہے:
نقل عن ابراھیم النخعی انہ لم یکن احد من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول انہ یردعلی الزوجین۲؎ اھاماقولہ خبرالمثبت اولٰی فاقول: الشان اوّلاً فی الثبوت روایۃ واین الثبوت وثانیاً درایۃ لما علمت من تاویلہ۔
ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ اصحاب رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں سے کوئی ایک بھی نہیں کہتاتھا کہ زوجین پررَد کیاجائے گا اھ لیکن اس کاقول کہ خبرمثبت اولٰی ہے۔ تو میں کہتاہوں کہ اوّلاً ثبوت میں روایت ہے، اورکہاں ہے ثبوت۔ ثانیاً درایت ہے جس کی تاویل توجان چکاہے۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الفرائض     باب العول    المکتبۃ العربیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۹۴)
اوربالفرض امیرالمومنین سے منقول ہے تویہ کہ زوجین پربھی رد فرماتے ہیں یہ اصلاً کہیں نہیں کہ اورکوئی رشتہ دارمتوفی نہ ہوتو اس وقت ردعلی الزوجین کرتے ہیں امیرالمومنین کی طرف اس کی نسبت باطل وفریہ محض ہے۔
فائدہ۲۲: عول پرقیاس سے ہمارے علمائے کرام جواب شافی دے چکے۔

 تبیین الحقائق میں ہے :
ادخال النقص علی الزوجین بالعول مما یوافق الدلیل النافی لارثھما لان ارثھما ثبت بالنص علی خلاف القیاس واخذ الزیادۃ مما یخالف الناس فی لارثھما فلایمکن اثباتہ بالقیاس لان ماثبت علی خلاف القیاس یقتصرعلیہ۔۱؎
زوجین پرعول کی وجہ سے کمی کاآنا اس دلیل کے موافق ہے جوزوجین کی میراث کے منافی ہے۔ کیونکہ ان کاوارث بنناخلاف قیاس نص سے ثابت ہے اورزوجین کازائدکولینا اس دلیل کے مخالف ہے جوزوجین کی میراث کے منافی ہے۔ چنانچہ اس کوقیاس سے ثابت کرنا ممکن نہیں کیونکہ جوخلاف قیاس ثابت ہو وہ اپنے مورد پرمنحصررہتاہے۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الفرائض    المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر    ۶/ ۲۴۷)
اسی میں ہے:
الرد علی ذوی السھام اولی من ذوی الارحام لانھم اقرب الاالزوجین فانھما لاقرابۃ لھما مع المیت وارثھما نظیرالدین فان صاحب الدین لایرد علیہ مافضل بعد قضاء الدین فکذا لایرد علیھما مافضل من فرضھما۲؎ اھ اقول: ای واذاضاق المال عن الدیون دخل النقص علی کل دائن بحساب دینہ فکذا الزوجان ینقصان ولایزادان۔
ذوی الفروض پرردذوی الارحام سے اولٰی ہے کیونکہ وہ میت سے زیادہ قرابت رکھتے ہیں سوائے زوجین کے، کیونکہ ا ن کی میت کے ساتھ کوئی قرابت نہیں ہوتی۔ اوران کاوارث بنناقرض کی طرح ہے، تو جس طرح قرض کی ادائیگی سے بچاہوا مال صاحب قرض پرردنہیں کیاجاتا اسی طرح زوجین کے فرضی حصوں سے بچاہوامال ان پردنہیں کیاجائے گا اھ میں کہتاہوں جب ترکہ کامال قرضوں سے کم ہوجائے تو ہرصاحب قرض پر اس کے قرض کے حساب سے کمی واقع ہوتی ہے اسی طرح زوجین کے حصے کم تو ہوجاتے ہیں مگرزائدنہیں ہوتے۔(ت)
(۲؎تبیین الحقائق    کتاب الفرائض    المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر     ۶/ ۲۴۲)
روح الشروح پھرطحطاوی پھرشامی میں ہے:
میراث الزوجین علی خلاف القیاس لان وصلتھما بالنکاح وقد انقطعت بالموت وماثبت علی خلاف القیاس نصا یقتصر علی مورد النص ولانص فی الزیادہ علی فرضھماولما کان ادخال النقص فی نصیبھما میلاللقیاس النافی لارثھما قیل بہ ولم یقل بالرد لعدم الدلیل فظھر الفرق و حصحص الحق۔۱؎
زوجین کی میراث خلاف قیاس ہے کیونکہ ان دونوں کااتصال نکاح کی وجہ سے ہے جوموت کے سبب سے ختم ہوچکاہے۔ اورجوکچھ خلاف قیاس نص سے ثابت ہو وہ موردنص میں منحصر رہتاہے اورزوجین کے فرضی حصوں سے زائد کے بارے میں کوئی نص نہیں۔ جب زوجین کے حصوں میں کمی کاواقع ہونا اس قیاس کی طرف مائل ہے جوان کی میراث کے منافی ہے تو اس کاقول کردیاگیااوررَد کاقول نہیں  کیاگیا کیونکہ اس پردلیل معدوم ہے لہٰذا فرق ظاہر اورحق خوب واضح ہوگیا۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی     کتاب الفرائض    باب العول    المکتبۃ العربیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۹۴)
فائدہ۲۳: اقول: ردعلی الزوجین کاماننا دوطرح ہے، ایک یہ کہ اسے حق اصلی مستقل ردعلی اصحاب السہام النسبیہ ماناجائے، دوسرے یہ کہ اس کاکوئی حق خاص نہیں مال ضائع بلامستحق ہے اورایسے مال کاٹھکانابیت المال مگروہ اب فاسد ونامنتظم ہے لہٰذا بیجامصارف میں صرف ہونے سے یہی بہترہے کہ زوجین کودے دیاجائے کہ میت سے بہ نسبت نرے بیگانوں کے اقرب ہیں، اول کی علت عول پرقیاس ہے کہ جب وقت تنگی انہیں ان کے حق سے کم ملتاہے تو وقت بیشی انہیں بھی اورذوی الفروض کی طرح زائدملناچاہئے کہ الغنم بالغرم نقصان اٹھائیں تونفع بھی پائیں، اوردوم کی علت فساد بیت المال ہے، یہ دونوں علتیں باہم متضاد ہیں جن کا اجتماع محال ہے، پہلی کامقتضٰی ان کااستحقاق ہے اوردوسری کامقتضٰی عدم استحقاق کہ اصل موضع بیت المال مانا اور اس کے فساد کے سبب ایک طرف پھیرا اوربیت المال اسی مال کامحل ہے جس کاکوئی خاص مستحق نہ ہو تو ان دونوں کوجمع کرناجمع بین الضدین ہے، ہمارے علماء نے کہ امیرالمومنین ذی النورین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اس روایت کوثابت نہ مانایاقول عام صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کو اس پر مرجح جانا اورقیاس علی العول کوبے محل بتایا، ردعلی الزوجین نہ ماناانہیں ان کامستحق نہ جانا بیت المال تک جمیع مراتب کو اس پرمرجح رکھا ہاں جب بیت المال میں فسادآیا بضرورت اخیردرجہ انہیں اورایک درجہ بنت معتق وذوی الارحام معتق واولاد رضاعی کودلایا اگرہمارے علماء روایت مذکورہ کوامیرالمومنین سے ثابت مان کر اس مسئلہ میں برخلاف عامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم ان کی تقلید فرماتے یہ قیاس علی العول کوصحیح وماخوذٹھہراتے توفساد بیت المال سے ہرگزتعلیل نہ کرتے نہ ذوالارحام سے لے کرموصی لہ بالزائد تک تمام مراتب نازلہ الرد کو اس پرتقدیم دیتے کہ اب وہ  بالاستقلال مثل فرض باقی کے بھی مستحق ٹھہراتے تومثل فرض اس حق میں بھی تمام نازلات عن الرد  پرمقدم رہتے،
وھذا کلہ واضح جدا عند من الم بالفقہ الماما ونظر بالانصاف ماقدمنا اوالقی السمع وھو شھید۔
یہ سب کچھ اس شخص کے نزدیک خوب واضح ہے جس کو فقہ سے کچھ تعلق ہے اوروہ ماقبل میں مذکورہمارے بیان کوانصاف کی نظرسے دیکھے یاکان لگائے اس حال میں کہ متوجہ ہو۔(ت)
Flag Counter