Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
124 - 135
فائدہ۲۰: قول ذی سہم نسبی پر رَد کی علت ہمارے نزدیک فسادبیت المال ٹھہرانا افسدفاسدات ہے، اولا ہمارے ائمہ کے نزدیک وہ کوئی امرعارضی نہیں کہ بضرورت ماناگیا بلکہ عصوبت کے بعد حق راجح قول مستقل ہے کہ قرابت ذوی الارحام پربھی مقدم ہے نہ کہ دیگر مراتب نازلہ۔ ہمارے علماء نے اسے آیت واحادیث وارشادات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت فرمایاہے نہ کہ فسادبیت المال کی ناچاری سے۔
تبیین الحقائق میں ہے :
لناقولہ تبارک وتعالٰی واولوالارحام بعضھم اولٰی ببعض فی کتاب اﷲ وھو المیراث فیکون اولٰی من بیت المال ومن الزوجین الافیما ثبت لھما بالنص وکان ینبغی ان یکون ذلک لجمیع ذوی الارحام لاستوائھم فی ھذا الاسم الا ان اصحاب الفرائض قدموا علٰی غیرھم من ذوی الارحام لقوۃ قرابتھم الاتری انھم یقدمون فی الارث فکانوا احق بہ ومن حیث السنۃ ماروی ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دخل علی سعد یعودہ فقال یارسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم ان لی مالا ولایرثنی الاابنتی الحدیث ولم ینکر علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حصرالمیراث علی ابنتہ ولولا ان الحکم کذٰلک لانکر علیہ ولم یقرّہ علی الخطا لاسیما فی موضع الحاجۃ الی البیان وکذا روی ان امرأۃ اتت الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقالت یارسول اﷲ انی تصدقت علی امی بجاریۃ فماتت امی وبقیت الجاریۃ فقال وجب اجرک ورجعک الیک فی المیراث جعل الجاریۃ راجعۃ الیھا بحکم المیراث وھذا ھوالرد۔۱؎
ہماری دلیل اﷲ تبارک وتعالٰی کایہ ارشادہے ''اوررشتہ والے اﷲ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں الآیۃ''۔ اوروہ میراث ہے چنانچہ ان پررد، بیت المال سے اولٰی ہوگا اورزوجین سے بھی اولٰی ہوگا سوائے اس کے جو زوجین کے لئے نص سے ثابت ہے اورچاہئے کہ بچے ہوئے کارَد تمام رشتہ داروں کے لئے برابرہو کیونکہ اس نام میں سب برابرہیں مگر اصحاب فرائض باقی رشتہ داروں پراپنی قرابت کی قوت کی وجہ سے مقدم ہیں۔ کیاتونہیں دیکھتا کہ وہ میراث میں مقدم ہیں تو وہ رَد کے بھی زیادہ حقدارہوں گے اوریہ حکم سنت سے بھی ثابت ہے۔ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے توانہوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیک وسلم میرا کچھ مال ہے اورسوائے میری ایک بیٹی کے میراکوئی وارث نہیں(الحدیث) انہوں نے اپنی بیٹی پرمیراث کومنحصرکیااورنبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پرانکار نہیں فرمایا۔ اگرحکم ایسانہ ہوتا تو آپ ضرور انکارفرماتے اورانہیں خطاپربرقرار نہ رہنے دیتے خصوصاً جبکہ بیان کی ضرورت ہو۔ یونہی مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اورکہایارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیک وسلم میں نے اپنی ماں پرایک لونڈی صدقہ کی اب میری ماں فوت ہوگئی اوروہ لونڈی باقی رہ گئی تو آپ نے فرمایا تیرااجرثابت ہوچکا اوروہ لونڈی میراث میں تیری طرف لوٹ آئی۔ تو آپ نے بطورمیراث وہ لونڈی اس کی طرف لوٹائی، اور یہی رَدہے۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الفرائض     المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر    ۶/ ۶۴۷)
اقول:  پہلی حدیث صحیح بخاری کی ہے اوردوسری حدیث عبدالرزاق نے مصنف اورسعیدابن منصور نے سنن اورابن جریر نے تہذیب الآثار میں اور بریدہ بن الخصیب الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے اوراس کے لفظ یہ ہیں
: فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لک اجرک وردھا علیک المیراث۔۲؎
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لئے تیرااجرثابت ہے اور وہ لونڈی میراث نے تیری طرف لوٹادی۔
 (ت) (۲؎ کنزالعمال    برمزعب، ص وابن جریر فی التہذیب     حدیث ۳۰۷۰۶    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱/ ۸۳)
یہ لفظ، لفظ مذکور تبیین سے ادل علی المقصود ہیں کمالایخفی (جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت) علامہ سیدشریف نے آیت کریمہ سے استدلال کرکے حدیث اول سے اورزیادہ نفیس وجہ سے استدلال کیااوربعض اوراحادیث جلیلہ زائدکیں، فرماتے ہیں:
وایضا لما دخل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی سعد بن ابی وقاص یعودہ قال سعد اما انہ لایرثنی الا ابنۃ لی فاوصی بجمیع مالی قال لاقال فاوصی بنصفہ قال لاالحدیث الٰی ان قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الثلث خیروالثلث کثیر فقد ظھران سعدا اعتقدان البنت ترث جمیع المال ولم ینکر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومنعہ عن الوصیۃ بمازاد علی الثلث مع انہ لاوارث لہ الاابنۃ واحدۃ فدل ذٰلک علی صحۃ القول بالرد اذلولم تستحق الزیادۃ علی النصف بالرد تجوزلہ الوصیۃ بالنصف وفی حدیث عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورّث الملاعنۃ ای جمیع المال عن ولدھا ولایکون ذٰلک الابطریق الردوفی حدیث واثلۃ بن الاسقع انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال تحرز المرأۃ میراث لقیطھا وعتیقھا والابن الذی لوعنت بہ۔۱؎
جب نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی عیادت کرنے تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہاسوائے ایک بیٹی کے میراکوئی وارث نہیں، کیامیں اپنے تمام مال کی وصیت کردوں؟ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاکہ نہیں۔ انہوں نے عرض کی: نصف کی وصیت کردوں؟ آپ نے فرمایا:نہیں(الحدیث)یہاں تک کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: تہائی بہترہے اورتہائی بہت ہے۔ اس حدیث سے ظاہرہواکہ حضرت سعدرضی اﷲ تعالٰی عنہ کااعتقاد تھاکہ بیٹی تمام مال کی وارث بن سکتی ہے اور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انکارنہیں فرمایا اورآپ نے تہائی مال سے زائد کی وصیت سے انہیں منع فرمایاباجودیکہ سوائے ایک بیٹی کے ان کاکوئی وارث نہیں تھا، تویہ دلیل ہے اس بات پرکہ ردکاقول صحیح ہے کیونکہ اگروہ بیٹی بذریعہ ردنصف سے زائد کی مستحق نہ ہوتی تو ان کے لئے نصف کی وصیت جائزہوتی۔ عمروبن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعان والی عورت کو اپنی ولد کے تمام مال کاوارث بنایا۔ اوریہ بذریعہ رَد ہی ہوسکتاہے۔ اورواثلہ بن اسقع کی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاکہ عورت اپنے لقیط یعنی جوبچہ اسے گمشدہ ملاہے اوراپنے آزاد شدہ غلام یالونڈی اوراپنے اس بیٹے جس کے سبب اس عورت کے ساتھ لعان کیاگیاکی میراث کوسمیٹ لیتی ہے۔(ت)
(۱؎ الشریفۃ شرح السراجیۃ    باب الرد    مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور    ص۷۵)
ثانیاً سراجیہ وتبیین وعامہ کتب حنفیہ میں ہے:
ھو قول عامۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم وبہ اخذ اصحابنا۔۲؎
عام صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کاوہی قول ہے اورہمارے اصحاب نے اسی سے اخذ کیاہے۔(ت)
 (۲؎ تبیین الحقائق     کتاب الفرائض    المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر    ۶/ ۲۴۷)
اقول: امام سفٰین ثوری کتاب الفرائض اورعبدالرزاق مصنّف اورسعیدبن منصور سنن میں عامرشعبی سے راوی:
قال کان علی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ یرد علٰی کل ذی سھم سھمہ الا الزوج والمرأۃ۔۳؎
حضرت علی مرتضٰی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا ہرذی فرض پر اس کاحصہ رَد کیاجائے گا سوائے شوہراوربیوی کے۔(ت)
 (۳؎ المصنف لعبدالرزاق     کتاب الفرائض   حدیث ۹۱۱۲۸   المجلس العلمی بیروت    ۱۰/ ۲۸۶)
سعیدبن منصور وبیہقی انہیں سے راوی:
ان علیارضی اﷲ تعالٰی عنہ قال فی ابن الملاعنہ ترک اخاہ وامہ لامہ الثلث ولاخیہ السدس ومابقی فھو ردعلیھما بحساب ماورثا۔۴؎
بیشک حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے لعان والی عورت کے ایسے بیٹے کے بارے میں فرمایاجو ایک بھائی اورماں چھوڑکرمرگیاکہ اس کی ماں کاحصہ کل مال سے تہائی ہے جبکہ بھائی کاحصہ چھٹاہے اورجوباقی بچا وہ ان دونوں پران کے میراث والے حصہ کے حساب کے مطابق رَد ہوگا۔(ت)
 (۴؎ السنن الکبری     کتاب الفرائض    باب میراث ولدالملاعنۃ    دارصادربیروت۶/ ۲۵۸)
امام اجل طحاوی سویدبن غفلہ سے راوی:
ان رجلا مات وترک ابنۃ وامرأۃ ومولاہ قال سوید انی جالس عند علی کرّم اﷲ تعالٰی وجھہ اذجاءتہ مثل ھذہ القصّۃ فاعطی ابنتہ النصف وامرأتہ الثمن ثم رد مابقی علٰی ابنتہ ولم یعط المولی شیئا۔۱؎
ایک مرد فوت ہوا جس کے پسماندگان میں ایک بیٹی ایک بیوی اورایک اس کاآزاد کیاہواغلام ہے، حضرت سویدنے کہاکہ میں حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے پاس بیٹھاہواتھا کہ آپ کے پاس ایک خاتون ایساہی قصہ لے کرآئی توآپ نے مرنے والے شخص کی بیٹی کونصف اوراس کی بیوی کوآٹھواں حصہ دیا، پھرجوبچ گیا وہ اس کی بیٹی پررَد فرمادیا اوراس کے آزاد شدہ غلام کوکچھ نہیں دیا۔(ت)
 (۱؎ شرح معانی الآثار     کتاب الفرائض    باب مواریث ذوی الارحام    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۷۱)
بیہقی نے اسے مختصراً روایت کیا:
کان علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یعطی الابنۃ النصف والمرأۃ الثمن ویرد مابقی علی الابنۃ۔۲؎
حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ مرنے والے کی بیٹی کوکل مال کانصف اوربیوی کوکل مال کاآٹھواں حصہ دیتے تھے اورباقی کو بیٹی پرردفرمادیتے تھے۔(ت)
 (۲؎ السنن الکبرٰی     کتاب الفرائض    باب المیراث بالولاء  دارصادربیروت  ۶/ ۲۴۲)
سعیدبن منصورنے امام شعبی سے روایت کی:
انہ قیل لہ ان اباعبیدۃ ورث اختا المال کلہ فقال الشعبی من ھو خیر من ابی عبیدۃ قد فعل ذٰلک کان عبداﷲ بن مسعود یفعل ذٰلک۔۳؎
حضرت ابوعبیدہ کے بارے میں امام شعبی کوکہاگیاکہ انہوں نے بہن کوکل مال کاوارث بنایاہے توامام شعبی نے فرمایاکہ جوابوعبیدہ سے بہترہے اس نے ایساکیاہے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایساکرتے تھے۔(ت)
(۳؎ کنزالعمال    برمزص    حدیث ۳۰۵۶۸    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱/ ۴۶)
سنن بیہقی میں ہے:
عن جریر عن المغیرۃ عن اصحابہ فی قول زید بن ثابت وعلی بن ابی طالب وعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہم اذا ترک المتوفی اباہ ولم یترک احدا غیرہ فلہ المال۔۱؎
جریر نے مغیرہ سے انہوں نے آپ کے اصحاب سے حضرت زیدبن ثابت، حضرت علی بن ابی طالب اورحضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اس قول کے بارے میں روایت کیاہے کہ جب مرنے والا باپ کوچھوڑجائے اوراس کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑے توتمام مال باپ کا ہوگا۔(ت)
 (۱؎ السنن الکبرٰی    کتاب الفرائض    باب ترتیب العصبۃ    دارصادربیروت۶/ ۲۳۸)
عبدالرزاق نے حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
انہ قضی فی ام واخ من ام، لاخیہ السدس ومابقی لامہ۔۲؎
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ماں اوراخیافی بھائی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ بھائی کو چھٹاحصہ اورباقی سب ماں کوملے گا۔(ت)
 (۲؎ المصنف لعبدالرزاق    کتاب الفرائض    باب الخالۃ العمۃ الخ     حدیث ۱۹۱۱۷    المجلس العلمی بیروت ۱۰/ ۲۸۴)
Flag Counter