فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
123 - 135
مگر نسی ماقدمت یداہ کا کیاعلاج۔
فائدہ۱۸: تمام کتب شاہد ہیں کہ اس فتوی متاخرین کی علت فساد بیت المال ہے کہ عبارات سابقہ سے واضح اورخود ان خلافی فتووں نے نادانستہ اسے باربار نقل کیا۔ فتوی سوم وششم و ہفتم سب میں بحوالہ ردالمحتارقنیہ سے ہے:
یفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال۔۱؎
بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے ہمارے زمانے میں زوجین پررَد کافتوٰی دیاجائے گا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰۲)
نیزان میں بحوالہ شامی محقق علامہ تفتازانی سے ہے:
افتی کثیر من المشائخ بالرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام۔۲؎
بہت سارے مشائخ نے زوجین پررَد کافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہوکیونکہ پیشوابگڑچکے ہیں۔(ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰۲)
نیزان سب میں بحوالہ درمختاراشباہ سے ہے:
یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال۳؎۔
بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے ہمارے زمانے میں زوجین پررَد کیاجائے گا۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱)
اﷲ عزوجل عافیت بخشے ہرتھوڑی عقل والابھی ان عبارات کوبنگاہ اولین دیکھتے ہی فوراً سمجھ لیتاکہ زوجین پررَد اس عارض کے سبب ضرورۃً ماناہے اگریہ عارض نہ ہو یعنی بیت المال منتظم ہو توباقیماندہ اسی میں رکھاجائے گا اورزوجین پررَد نہ کیاجائے گا تورَد علی الزوجین موصی لہ بالزائد سے دومرتبہ مؤخر ہوانہ کہ زبردستی اس پرمقدم کردیاجائے
(بلندی اورعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرنہ کسی کوگناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ نیکی کرنے کی قوت، ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورسلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)
فائدہ۱۹: اقول: شافعیہ رحمہم اﷲ تعالٰی کے نزدیک بیت المال وارث ہے ولہٰذا وہ بحالت عدم عصبہ اصحاب فرائض نسبیہ پربھی رَدنہیں کرتے بعد کے مراتب ذوی الارحام ومولٰی الموالاۃ ومقرلہ وموصی لہ بالزائد کاکیاذکرہے، تو ان کے نزدیک مستحقین صرف چارہیں، اصحاب فرائض پھرعصبات نسبیہ پھرسببیہ پھربیت المال۔
کافی میں ہے :
مافضل عن فرض ذوی الفروض ولامستحق لہ یرد علی ذوی الفروض بقدر حقوقھم الاعلی الزوجین عندنا وھوقول عامۃ الصحابۃ رضوان اﷲ تعالٰی علیھم، وقال زید الفاضل لبیت المال ولایردعلیھم و بہ قال مالک والشافعی رحمھم اﷲ تعالٰی وقیل مسألۃ الرد مبنیۃ علٰی مسألۃ ذوی الارحام اذالرد باعتبار الرحم حتی لایرد علی الزوجین لعدم الرحم و عند مالک والشافعی رحمھما اﷲ تعالٰی لم یستحق ذووالارحام شیئا ومصب المال بیت المال فکذا الفاضل عن فرض ذوی الفروض مصبہ بیت المال۱؎ اھ اقول: وعندی الاظھر عکسہ ای تبنی مسألۃ ذوی الارحام علی مسألۃ الرد فان قرابۃ ذوی السھام اقوی فلما تعارض عندھما بیت المال و قدم علی الرد علیھم لم تعارضہ قرابۃ ذی الرحم الاولٰی وکانہ رحمہ اﷲ تعالٰی لذا عبرہ بقیل۔
ذوی الفروض سے جوکچھ بچ جائے اوراس کاکوئی مستحق نہ ہو تو ہمارے نزدیک زوجین کے علاوہ ذوی الفروض پران کے حقوق کے برابر ردکیاجائے گا یہی قول عام صحابہ کرام کا ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جوبچ گیا وہ بیت المال کاہے ذوی الفروض پرردنہیں کیاجائے گا، اوریہی فرمایا امام شافعی اورامام مالک رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہما نے۔ اورکہاگیاہے کہ ردکامسئلہ ذوی الارحام کے مسئلہ پرمبنی ہے کیونکہ ردقرابت ورشتہ داری کے اعتبار سے ہوتا ہے یہاں تک کہ رشتہ داری نہ ہونے کی وجہ سے زوجین پررَد نہیں کیاجاتا امام مالک اورامام شافعی رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیک ذوی الارحام کسی شیئ کے مستحق نہیں اورمال رکھنے کی جگہ بیت المال ہے، یونہی جوذوی الفروض کے فرضی حصوں سے بچ گیا اس کورکھنے کی جگہ بھی بیت المال ہے اھ۔ میں کہتاہوں میرے نزدیک زیادہ ظاہر اس کاعکس ہے یعنی ذوی الارحام کامسئلہ رَد کے مسئلہ پرمبنی ہے کیونکہ ذوی الفروض کی قرابت زیادہ قوی ہے توجب وہ امام شافعی اورامام مالک کے نزدیک بیت المال کے معارض ہے تو بیت المال ذوی الفروض پررَد سے مقدم ہوگیا، ذوی الارحام کی قرابت بدرجہ اولٰی مزاحم نہیں ہوگی گویامصنّف علیہ الرحمہ نے اسی واسطے اسے قِیْلَ سے تعبیرفرمایاہے۔(ت)
وارث بننے کے اسباب قرابت، نکاح، ولاء اوراسلام ہیں پس قرابت تونسبی ذوی الفروض اورنسبی عصبہ کے لئے ہے اورنکاح سببی ذوی الفروض کے لئے ہے اورولاء سببی عصبہ کے لئے ہے اوراسلام بیت المال والوں کے لئے ہے۔(ت)
(۱؎ انوارلاعمال الابرار کتاب الفرائض مطبعۃا لجمالیہ مصر ۲/ ۲)
اسی میں ہے:
قلنا لایرد علی اصحاب الفروض ولایورث ذووالارحام۔۲؎
ہم کہتے ہیں کہ ذوی الفروض پرردنہیں کیاجائے گا اورنہ ذوی الارحام کووارث بنایاجائے گا۔(ت)
(۲؎انوارلاعمال الابرار کتاب الفرائض مطبعۃا لجمالیہ مصر ۲/ ۳)
مگرفساد بیت المال کے وقت وہ بھی ردعلی اصحاب الفروض النسبیہ اوران کے بعد توریث ذوی الارحام کے قائل ہوئے ہیں اوراس کی علت وہی فساد بیت المال بتاتے ہیں ،
سیدعلی السراجی میں ہے :
عندالشافعیۃ ان بیت المال ان کان منتظما یقدم علی ذوی الارحام والرد وان لم ینتظم ردا ولاعلی ذوی الفروض النسبیۃ بنسبۃ فرائضھم ثم یصرف الی ذوی الارحام ولامیراث عندھم اصلا لمولی الموالاۃ ولاللمقرلہ بالنسب علی الغیر ولاللموصی یجمع المال۔۱؎
شافعیہ کے نزدیک بیت المال اگرمنتظم ہوتو وہ ذوی الارحام اوررَد پرمقدم ہوتاہے اوراگروہ منتظم نہ ہوتو پھر اوّلاً نسبی ذوی الفروض پران کے فرضی حصوں کے مطابق رَد کیاجائے گا پھرذوی الارحام کی طرف پھیراجائے گا ان کے نزدیک مولٰی موالاۃ اورنسب کے اقراروالے شخص اورکل مال کے موصٰی لہ کے لئے کوئی میراث نہیں۔(ت)
ان کثیرامن اصحاب الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ منھم ابن سریج خالفوہ وذھبوا الٰی توریث ذوی الارحام وھو اختیار فقہائھم للفتوی فی زماننا لفساد بیت المال وصرفہ فی غیرالمصارف۔۲؎
امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بہت سارے اصحاب جن میں ابن سُریج بھی ہیں نے اس کی مخالفت کی اوروہ ذوی الارحام کو وارث بنانے کی طرف گئے ہیں اوریہی ہمارے زمانے میں فتوٰی کے لئے ان کے فقہاء کامختارہے۔ بیت المال کے فاسِدہونے کی وجہ سے اورمصارف کے غیرمیں اس کے خرچ ہونے کی وجہ سے۔(ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الفرائض بولاق مصر ۶/ ۲۴۲)
انوارشافعیہ میں ہے :
ان لم ینتظم ای بیت المال فالصحیح المرجح المفتی بہ ان یرد الفاضل منھم علیھم ویورث ذووالارحام ان فقدوا۔۳؎
اگربیت المال منتظم نہ ہو تو صحیح راجح مفتٰی بہ قول یہ ہے کہ ذوی الفروض سے بچاہوا انہیں پر رَد کیاجائے گا اوراگر وہ مفقود ہوں تو ذوی الارحام کو وارث بنایاجائے گا۔(ت)
(۳؎ الانوار لاعمال الابرار کتاب الفرائض مطبعۃ الجمالیۃ مصر ۲/ ۲)
توفساد بیت المال کے وقت مسئلہ رَدمیں ہمارا ان کااتفاق ہوگیا ہم تورَدمانتے ہی تھے اوراب بوجہ فساد وہ بھی ماننے لگے یہ معنی ہیں عبارت درمختار :
ان فضل عن الفروض ولاعصبۃ یردالفاضل علیھم اجماعا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین۔۱؎
اگرذوی الفروض سے کچھ بچ جائے اورکوئی عصبہ موجودنہ ہوتوبچاہوا بالاجماع ذوی الفروض پرلوٹادیاجائے گا بوجہ بیت المال کے فاسد ہونے کے سوائے زوجین کے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۱)
توفساد بیت المال علت اتفاق ہے نہ کہ ہمارے نزدیک ذی سہم نسبی پررَد کی علت جسے ادنٰی طالب علم بھی نہ کہے گا، پھرعلت ہے توصرف اتفاق شافعیہ کی ورنہ مالکیہ سے منقول کہ بحال فساد بھی ردنہیں کرتے۔
لاجرم ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لفساد بیت المال علۃ لقولہ اجماعا ولایظھر لان المشھور من مذھب مالک انہ لبیت المال و ان لم یکن منتظما۔۲؎
مصنّف کاقول ''بوجہ فساد بیت المال'' علت ہے اس کے قول اجماعاً کی اوریہ ظاہر نہیں کیونکہ امام مالک کے مذہب سے مشہورہے کہ ذوی الفروض کے فرضی حصوں سے بچاہوا مال بیت المال کاہے اگرچہ بیت المال منتظم نہ ہو۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰۲)
طحطاوی علی الدرالمختارمیں ہے:
قولہ اجماعا لفساد بیت المال ھذہ العلۃ غیرظاھرۃ بالنظرللقول بالرد عندنا فان الرد عندنا مقدم علی بیت المال وان کان منتظما وان کان علۃ لقولہ اجماعا لایظھر ایضا لان القول بالرد حینئذ قول بعض الشافعیۃ والمشھور من مذھب المالکیۃ انہ لبیت المال وان لم یکن منتظما۔۳؎
ماتن کاقول ''بالاجماع بوجہ فساد بیت المال'' یہ علت ہمارے نزدیک رَد کے قول کی طرف نظر کرتے ہوئے ظاہرنہیں کیونکہ ہمارے نزدیک ردبیت المال پرمقدم ہے اگرچہ بیت المال منتظم ہو اوراگریہ ماتن کے قول اجماعاً کی علت ہو تو بھی ظاہرنہیں کیونکہ اس صورت میں ردکاقول بعض شافعیہ کاقول ہے، اورمالکیہ کے مذہب سے مشہوریہ ہے کہ وہ بیت المال کے لئے ہے اگرچہ بیت المال منتظم نہ ہو۔(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃالعربیہ کوئٹہ ۴/ ۳۹۴)